Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّعْذِیبِ · حديث 5603

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَجِيبُوا الدَّاعِيَ، وَلَا تَرُدُّوا الْهَدِيَّةَ، وَلَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «عُمَرُ وَيَعْلَى وَمُحَمَّدٌ بَنُو عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيِّ كُوفِيُّونَ ثِقَاتٌ»

حضرت عبد اللہ ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ دعوت قبول کرو تحفے کو واپس نہ کرو اور مسلمانوں کی پٹائی نہ کرو‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) عمر، یعلیٰ اور محمد نامی راوی یہ سب عبیدہ طنافسی کے بیٹے ہیں یہ کوفہ کے رہنے والے ہیں اور ثقہ ہیں۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← عُمَرُ بْنُ عُبَیْدٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5603

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّعْذِیبِ · حديث 5604

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب کوئی شخص کسی کی پٹائی کرے ‘ تو ( دوسرے شخص ) کے چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Hadith 5604

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّعْذِیبِ · حديث 5605

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، [ص:420] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا ضَرَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَجْتَنِبِ الْوَجْهَ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «يُرِيدُ بِهِ صُورَةَ الْمَضْرُوبِ، لِأَنَّ [ص:421] الضَّارِبَ إِذَا ضَرَبَ وَجْهَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ ضَرَبَ وَجْهًا خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب کوئی شخص ( کسی دوسرے کی) پٹائی کرے ‘ تو اس کے چہرے ( پر مارنےسے ) اجتناب کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی صورت کے مطابق پیدا کیا ہے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) اس کے ذریعے مراد یہ ہے : جس شخص کی پٹائی ہو رہی ہے اس کی شکل ( حضرت آدم علیہ السلام کی صورت کے مطابق ہے ) کیونکہ جب مارنے والا شخص اپنے مسلمان بھائی کے چہرے پہ مارتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اس کی صورت کے مطابق پیدا کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ، [ص:420] ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 5605

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّعْذِیبِ · حديث 5606

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، أُتِيَ بِقَوْمٍ قَدِ ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، أَوْ قَالَ: زَنَادِقَةٍ، مَعَهُمْ كُتُبٌ، فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ فَأَلْقَاهُمْ فِيهَا بِكُتُبِهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: أَمَّا أَنَا لَوْ كُنْتُ لَمْ أُحَرِّقْهُمْ، لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ» وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ»

عکرمہ بیان کرتے ہیں: حضرت علیؓ کے پاس کچھ لوگ لائے گئے جو اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) زندیق ہو گئے تھے۔ ان کے ہمراہ ان کی تحریریں بھی تھیں۔ حضرت علیؓ کے حکم کے تحت آگ جلائی گئی اور انہیں ان کی تحریروں سمیت آگ میں ڈال دیا گیا ۔ اس بات کی اطلاع حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کو ملیؒ‘ تو انہوں نے فرمایا: اگر میں ہوتا ‘ تو میں انہیں جلاتا نہیں ‘ کیونکہ نبی اکرمﷺ نے اس سے منع کیا ہے ‘ لیکن میں انہیں قتل کروا دیتا کیونکہ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔ ( جلانے سے منع کرنے کی روایت یہ ہے )‘‘ تم لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب ک مطابق عذاب نہ دو ۔ ‘‘ ( اور ان کو قتل کرانے کی دلیل یہ حدیث ہے ) ’’ جو شخص اپنا دین تبدیل کر لے اسے قتل کر دو ‘‘۔

إِمَّا ← فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ فَأَلْقَاهُمْ فِيهَا بِكُتُبِهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ، ← زَنَادِقَةٍ، مَعَهُمْ ← الْإِسْلَامِ، أَوْ ← عِكْرِمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا، أُتِيَ بِقَوْمٍ قَدِ ارْتَدُّوا ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5606

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّعْذِیبِ · حديث 5607

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَتْحِ الْعَائِدِيُّ، بِسَمَرْقَنْدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ [ص:422] عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَمَانَا بِالنَّبْلِ * فَلَيْسَ مِنَّا»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو شخص ہمیں تیر مارے وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ [ص:422] عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَتْحِ الْعَائِدِيُّ، بِسَمَرْقَنْدَ،

Hadith 5607

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّعْذِیبِ · حديث 5608

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ کسی بھی ذی روح چیز کو ( نشانے بازی کے لئے) نشانہ نہ بناؤ ۔ ‘‘

«لَا تَتَّخِذُوا شَيْئًا فِيهِ الرُّوحُ غَرَضًا» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 5608

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّعْذِیبِ · حديث 5609

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشْجَعِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى، سَمِعَهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الدَّابَّةِ»

حضرت ابو ایوب انصاریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے جانور کو باندھ کر ( اس پر نشانہ بازی کرنے ) سے منع کیا ہے۔

صَبْرِ الدَّابَّةِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، ← عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى، سَمِعَهُ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشْجَعِ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Hadith 5609

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّعْذِیبِ · حديث 5610

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى، أَنَّهُ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأُتِيَ بِأَرْبَعَةِ أَعْلَاجٍ مَعَ الْعَدُوِّ، فَأَمَرَ بِهِمْ فَقُتِلُوا صَبْرًا بِالنَّبْلِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ [ص:425] أَبَا أَيُّوبَ، فَقَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ قَتْلِ الصَّبْرِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ كَانَتْ دَجَاجَةٌ مَا صَبَرْتُهَا» فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَالِدٍ، فَأَعْتَقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ

عبید بن یعلیٰ بیان کرتے ہیں :ہم لوگ عبد الرحمٰن بن خالد بن ولید کے ہمراہ ایک جنگ میں شریک ہوئے ۔ وہاں دشمن کے ہمراہ چار اونٹ لائے گئے ‘ تو عبد الرحمٰن بن خالد کے حکم کے تحت انہیں باندھ کر نیزوں کے ذریعے قتل کر دیا گیا ۔ اس بات کی اطلاع حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کو ملی‘ تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرمﷺ کو باندھ کر قتل کرنے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ کوئی مرغی بھی ہوتی ‘ تو میں اسے بھی باندھ کر ( نشانہ بازی نہ کرتا) جب اس بات کی اطلاع عبدالرحمٰن بن خالد کو ملی ‘ تو انہوں نے چار غلام آزاد کئے۔

عُبَيْدِ بْنِ تِعْلَى، أَنَّهُ ← بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 5610

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّعْذِیبِ · حديث 5611

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الدَّوْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا لَقِيتُمْ هَبَّارَ بْنَ الْأَسْوَدِ وَنَافِعَ بْنَ عَبْدِ الْقَيْسِ فَحَرِّقُوهُمَا بِالنَّارِ» ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعْدَ [ص:426] ذَلِكَ: «لَا يُعَذِّبُ بِالنَّارِ إِلَّا اللَّهُ وَلَكِنْ إِذَا لَقِيتُمُوهُمَا فَاقْتُلُوهُمَا»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب تمہارا احبار بن اسود اور فافع بن قبد قیس سے سامنا ہو ‘ تو ان دونوں کو آگ میں جلا دینا اس کے بعد نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایاا: آگ کے ذریعے عذاب صرف اللہ تعالیٰ دے سکتا ہے۔ جب تمہارا ان دونوں سے سامنا ہو ‘ تو تم ان دونوں کو قتل کر دینا ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ الدَّوْسِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 5611

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّعْذِیبِ · حديث 5612

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْكَلَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، وَجَدَ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ وَهُوَ عَلَى حِمْصَ، شَمَّسَ نَاسًا مِنَ النَّبَطِ فِي أَخْذِ الْجِزْيَةِ، فَقَالَ: هِشَامُ بْنُ حَكِيمٍ: مَا هَذَا يَا عِيَاضُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا»

عروہ بیان کرتے ہیں: ہشام بن حکیم نے عیاض بن غنم کو پایا وہ حمص کے گورنر تھے ۔انہوں نے جزیہ کی وصولی کے لئے کچھ لوگوں کو دھوپ میں کھڑا کیا ہوا تھا ‘ تو ہشام بن حکیم نے کہا: اے عیاص ! یہ کیا ہے؟ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ( قیامت کے دن ) عذاب دے گا ‘ جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیتے ہیں‘‘۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْكَلاَعِيُّ

Hadith 5612

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّعْذِیبِ · حديث 5613

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ، مَرَّ بِعُمَيْرِ بْنِ سَعْدٍ وَهُوَ يُعَذِّبُ النَّاسَ فِي الْجِزْيَةِ فِي الشَّمْسِ، فَقَالَ: يَا عُمَيْرُ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا»، قَالَ: اذْهَبْ فَخَلِّ سَبِيلَهُمْ. قَالَ: أَبُو حَاتِمٍ: «سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ عُرْوَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، وَهُوَ يُعَاتِبُ عِيَاضَ بْنَ غَنْمٍ عَلَى هَذَا الْفِعْلِ، وَسَمِعَهُ أَيْضًا مِنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ حَيْثُ عَاتَبَ عُمَيْرَ بْنَ سَعْدٍ عَلَى هَذَا الْفِعْلِ سَوَاءٌ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ» * [فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ] قال الشيخ: قلت: بل المحفوظ الطريق الأولى - انظر المصدر السابق.

عروہ بیان کرتے ہیں: حضرت حکیم بن حزام ؓ ، عمیر بن سعد کے پاس سے گزرے جو جزیہ کہ وجہ سے لوگوں کو دھوپ میں کھڑا کرنے کا سزا دے رہے تھے ۔ حضرت حکیم بن حزام نے فرمایا: اے عمیر میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا‘ جو دنیا میں دوسرے لوگوں کو عذاب دیتے ہیں‘‘۔ حضرت حکیم نے فرمایا تم جاؤ اور انہیں چھوڑ دو۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) عروہ نے یہ ہدایت ہشام بن حکیم سے سنی ہے ‘ جو عیاض بن غنم کو ایسا کرنے پر ڈانٹ رہے تھے اور انہوں نے یہ ہدایت حضرت حکیم بن حزام ؓ سے بھی سنی ہے ۔ جنہوں نے عمیر بن سعد کو ایسا کرنے پر ڈانٹا تھا ‘ تو یہ دونوں طرق محفوظ ہیں۔

عُرْوَةَ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5613

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی التَّعْذِیبِ · حديث 5614

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّ نَمْلَةً قَرَصَتْ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُحْرِقَتْ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: أَنْ قَرَصَتْكَ نَمْلَةٌ أَهْلَكْتَ أُمَّةً مِنَ الْأُمَمِ تُسَبِّحُ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک چیونٹی نے کسی نبی کو کاٹ لیا ‘ تو ان کے حکم کے تحت چیونٹیوں کی بستی کو آگ لگا دی گئی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی: چیونٹی نے تمہیں کاٹا تھا ‘ تو تم نے ایک پوری امت کو ہلاک کر دیا جو تسبیح بیان کرتی تھی‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 5614

chevron_left Previous
1…456…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr