Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5591

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الدُّنْيَا فَقَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَاتَّقُوهَا، وَاتَّقُوا النِّسَاءَ» ثُمَّ ذَكَرَ نِسْوَةً ثَلَاثَةً مِنْ [ص:404] بَنِي إِسْرَائِيلَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ، وَامْرَأَةً قَصِيرَةً لَا تُعْرَفُ، فَاتَّخَذَتْ رِجْلَيْنِ مِنْ خَشَبٍ، وَصَاغَتْ خَاتَمًا فَحَشَتْهُ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ، فَإِذَا مَرَّتْ بِالْمَسْجِدِ أَوْ بِالْمَلَأِ قَالَتْ بِهِ، فَفَتَحَتْهُ فَفَاحَ رِيحُهُ «

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے دنیا کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا: دنیا سرسبز اور میٹھی ہے۔ تم لوگ اس سے بچنے کی کوشش کرو اور بطور خاص خواتین کے معاملے میں احتیاط کرو پھر نبی اکرمﷺ نے بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی تین خواتین کا ذکر کیا جن میں سے دو طویل القامت تھیں اور ایک چھوٹے قد کی تھی جو نمایاں نہیں ہوتی تھی۔ اس نے لکڑی سے نبی ہوئی دو جوتیاں بنوائیں اور ایک انگوٹھی بنوائی جس میں عمدہ ترین خوشبو بھر ی جب وہ مسجد کے پاس سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے ) لوگوں کے گروہ کے پاس سے گزری ‘ تو اس نے اس انگوٹھی کو کھول دیا جس کے نتیجے میں اس کی خوشبو پھیل گئی۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْمُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5591

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5592

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ امْرَأَةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ قَصِيرَةً، فَاتَّخَذَتْ لَهَا نَعْلَيْنِ مِنْ خَشَبِ فَكَانَتْ تَمْشِي بَيْنَ امْرَأَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ تَطَاوَلُ بِهِمَا، وَاتَّخَذَتْ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ وَحَشَتْ تَحْتَ فَصِّهِ أَطْيَبَ الطِّيبِ الْمِسْكَ، فَكَانَتْ إِذَا مَرَّتْ بِالْمَجْلِسِ حَرَّكَتْهُ فَيَفُوحُ رِيحُهُ»

حضرت ابو سعدی خدری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ نبی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی ایک عورت چھوٹے قد کی تھی۔ اس نے لکڑی سے بنے ہوئے جوتے بنوائے وہ جب دو طویل عورتوں کے درمیان چلتی تھی ‘ تو اس وجہ سے لمبی محسوس ہوتی ہے اس نے سونے کی انگوٹھی بنوائی اور اس نے نگینے کے نیچے مشک کی بہترین خوشبو بھر لی۔ جب وہ کسی محفل کے پاس سے گزرتی تھی ‘ تو اس انگوٹھی کو حرکت دیتی تھی جس کے نتیجے میں اس کی خوشبو پھیل جاتی تھی‘‘۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← مُسْتَمِرُّ بْنُ الرَّيَّانِ، ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5592

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5593

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ*، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: أَرِنِي الْمَكَانَ الَّذِي [ص:406] رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُهُ مِنْكَ، قَالَ: فَكَشَفَ عَنْ سُرَّتِهِ، فَقَبَّلَهَا، فَقَالَ: شَرِيكٌ: لَوْ كَانَتِ السُّرَّةُ مِنَ الْعَوْرَةِ مَا كَشَفَهَا

شَرِيكٌ: لَوْ كَانَتِ السُّرَّةُ مِنَ الْعَوْرَةِ مَا كَشَفَهَا ← سُرَّتِهِ، فَقَبَّلَهَا، ← فَكَشَفَ ← لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: أَرِنِي الْمَكَانَ الَّذِي [ص:406] رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ يُقَبِّلُهُ مِنْكَ، ← كُنْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ ← عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← شَرِيکٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5593

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5594

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ التَّمِيمِيُّ جَالِسٌ، فَقَالَ: الْأَقْرَعُ: [ص:407] إِنَّ لِيَ عَشَرَةً مِنَ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا قَطُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے حضرت امام حسن بن علیؓ کا بوسہ لیا اس وقت اقراع بن حابس تمیمی بھی وہاں بیٹھا ہوا تھا۔ اقرع نے کہا: میرے ‘ تو دس بچے ہیں۔ میں نے ان میں سے کبھی کسی کا بوسہ نہیں لیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5594

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5595

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى [ص:408] الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَتُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ؟ فَمَا نُقَبِّلُهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا أَمْلِكُ لَكَ أَنْ نَزَعَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِنْ قَلْبِكَ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘تو اس نے کہا: کیا آپ لو گ بچوں کو بوسہ یتے ہیں ۔ ہم ‘تو انہیں بوسہ نہیں دیتے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل سے رحمت کو الگ کر لیا ہے‘ تو پھر میں تمہارے لئے کیا کر سکتا ہوں۔

أَتُقَبِّلُونَ الصِّبْيَانَ؟ فَمَا نُقَبِّلُهُمْ، ← جاءَ أعرابيٌّ إلى النبيِّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى {ص:280} الذُّهْلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5595

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5596

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْلِعُ لِسَانَهُ [ص:409] لِلْحُسَيْنِ، فَيَرَى الصَّبِيُّ حُمْرَةَ لِسَانِهِ، فَيَهَشُّ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ: أَلَا أَرَى تَصْنَعُ هَذَا بِهَذَا، وَاللَّهِ لَيَكُونُ لِيَ الِابْنُ قَدْ خَرَجَ وَجْهُهُ وَمَا قَبَّلْتُهُ قَطُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ حضرت امام حسینؓ کو اپنی زبان کا باہر نکا ل کر دکھاتے تھے وہ بچہ جب آپ کی زبان کی سرخی دیکھتا ‘ تو خوش ہوتا ‘ عینیہ بن حصن نے آپ کی خدمت میں عرض کی مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ آپ اس کے ساتھ یہ طرزِ عمل کر رہے ہوں گے۔ اللہ کی قسم! میرا بھی بیٹا ہے ‘ لیکن میں نے اسے کبھی بوسہ نہیں دیا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔

اللَّهِ لَيَكُونُ لِيَ الِا بْنُ قَدْ خَرَجَ وَجْهُهُ وَمَا قَبَّلْتُهُ قَطُّ، ← لَهُ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ: أَلَا أَرَى تَصْنَعُ هَذَا بِهَذَا، ← كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُدْلِعُ لِسَانَهُ لِلْحُسَيْنِ، فَيَرَى الصَّبِيُّ حُمْرَةَ لِسَانِهِ، فَيَهَشُّ إِلَيْهِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5596

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5597

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:410] يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ*، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتَ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ نِسَائِكُمْ فَلَا تَدْخُلِ الْحَمَّامَ» قَالَ: فَنَمَيْتُ بِذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلَافَتِهِ، فَكَتَبَ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنْ سَلَ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ حَدِيثِهِ، فَإِنَّهُ رِضًا، فَسَأَلَهُ ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ، فَمَنَعَ النِّسَاءَ عَنِ الْحَمَّامِ

حضرت ابو ایوب انصاریؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے پڑوسی کی عزت افزائی کرنی چاہئے جو شخص اللہ تعالیٰ اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ تہبند پہن کو حمام میں داخل ہو جو شخص اللہ تعالیٰ اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسےبھلائی کی بات کہنی چاہئے یا خاموش رہنا چاہئے اور تمہاری خواتین میں سے جو اللہ تعالیٰ اورآخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو وہ حمام میں داخل نہ ہو‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عمر بن عبد العزیز کے عہد خلافت میں یہ بات لکھ کر انہیں بھجوائی ‘ تو انہوں نے ابو بکر بن محمد کو خط لکھا کہ محمد بن ثابت سے ان کی نقل کردہ احادیث کے بارے میں دریافت کرو کیونکہ وہ پسندیدہ راوی ہے ۔ ابو بکر بن محمد نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا پھر انہوں نے عمر بن عبد العزیز کو خط میں لکھا ‘ تو عمر بن عبد العزیز نے خواتین کے حمام میں جانے پر پابندی عائد کر دی۔

اَبِیْ اَیُّوْبَ الْاَنْصَارِیِّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُوَيْدٍ الْخَطْمِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← [ص:410] يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ← عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5597

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5598

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ، وَإِنَّهَا إِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ، وَإِنَّهَا لَا تَكُونُ إِلَى وَجْهِ اللَّهِ أَقْرَبَ مِنْهَا فِي قَعْرِ بَيْتِهَا»

حضرت عبد اللہ ؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ عورت چھپانے کی چیز ہے ‘ جب وہ نکلتی ہے ‘ تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ سب سے زیادہ مقرب اس وقت ہوتی ہے ‘ جب وہ اپنے گھر کے اندرونی حصے میں ہو‘‘۔

النَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5598

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5599

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ، فَإِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ، وَأَقْرَبُ مَا تَكُونُ مِنْ رَبِّهَا إِذَا هِيَ فِي قَعْرِ بَيْتِهَا»

حضرت عبد اللہ ؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ عورت چھپانے کی چیز ہے ‘ جب وہ نکلتی ہے ‘ تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ سب سے زیادہ مقرب اس وقت ہوتی ہے ‘ جب وہ اپنے گھر کے اندرونی حصے میں ہو‘‘۔

النَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5599

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5600

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ [ص:414] الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اشْتَكَى، وَاشْتَكَى أَصْحَابُهُ، وَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ وَبِلَالٌ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَتِهِمْ، فَأَذِنَ لَهَا، فَقَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ ... وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَسَأَلَتْ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ، فَقَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ ... إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فَوْقِهِ وَسَأَلَتْ بِلَالًا، فَقَالَ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً ... بِفَجٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ فَأَتَتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْهُ بِقَوْلِهِمْ، فَنَظَرَ إِلَى السَّمَاءِ، فَقَالَ: » اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ وَأَشَدَّ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا، وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى مَهْيَعَةَ «[ص:415] وَهِيَ الْجُحْفَةُ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ‘ تو آپﷺ بیمار ہو گئے ۔ آپﷺ کے اصحاب بھی بیمار ہو گئے۔ حضرت ابو بکرؓ کے غلام عامر بن فہیرہ اور حضرت بلالؓ بیمار ہو گئے۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے ان کی عیادت کے لئے ان کے ہاں آنے کی اجازت مانگی ۔ ان کو اجازت مل گئی ‘ تو انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ سے کہا آپﷺ کاکیا حال ہے۔ انہوں نے جواب دیا: ہر شخص اپنے گھر میں موجود ہوتا ہے‘ حالانکہ موت اسکے جوتے کے تسمے سے بھی قریب ہوتی ہے ۔ سیدہ عائشہ ؓ نے عامر بن فہیرہ سے دریافت کیا ‘ تو انہوں نے جواب دیا: میں نے موت کا ذائقہ چکھنے سے پہلے ہی اس کو محسوس کر لیاہے او ر بزدل شخص طبعی موت مرتا ہے۔ سیدہ عایشہ صدیقہؓ نے حضرت بلالؓ سے مزاج دریافت کیا ‘ تو انہوں نے جواب دیا۔ ’’ ہائے افسوس کیا میں کسی ایسے راستے میں رات بسر کروں گا جب میرے ارد گرد اذخر اور جلیل ( مکہ کی مخصوص گھاس ) ہو گی‘‘۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ان حضرات کے جوابات کے بارے میں آپ کو بتایا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور یہ دعا کی۔ ’’ اے اللہ‘ تو مدینہ منورہ ہمارے نزدیک اسی طرح محبوب کر دے جس طر ح ‘ تو نے ہمیں مکہ محبوب کیا تھا بلکہ اس سے زیادہ شدید محبوب کر دے اے اللہ ! یہاں کے صاع اور مد میں ہمارے لئے برکت رکھ دے اور یہاں کی وباء کو مہیعہ کی طرف منتقل کر دے‘‘۔ ( روی بیان کرتے ہیں )اس سے مراد جحفہ ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، ← أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5600

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5601

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، [ص:416] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لِلنِّسَاءِ وَسَطُ الطَّرِيقِ» قَالَ الشَّيْخُ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » لَيْسَ لِلنِّسَاءِ وَسَطُ الطَّرِيقِ «لَفْظَةُ إِخْبَارٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ شَيْءٍ مُضْمَرٍ فِيهِ، وَهُوَ مُمَاسَّةُ النِّسَاءِ الرِّجَالَ فِي الْمَشْيِ، إِذْ وَسَطُ الطَّرِيقِ الْغَالِبُ عَلَى الرِّجَالِ سُلُوكُهُ، وَالْوَاجِبُ عَلَى النِّسَاءِ أَنْ يَتَخَلَّلْنَ الْجَوَانِبَ حَذَرَ مَا يُتَوَقَّعُ مِنْ مُمَاسَّتِهِمْ إِيَّاهُنَّ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ خواتین کو راستے کے درمیان میں چلنے کا حق نہیں ہے‘‘۔ شیخ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ خواتین کو راستے میں چلنے کا حق نہیں ہے ۔‘‘ اس سے مراد لفظی چور پر اطلاع دینا ہے ‘ لیکن اصل مرا د اس چیز سے منع کرنا ہے ‘ جو اس میں پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ خواتین چلتے ہوئے مردوں کے ساتھ چلیں کیونکہ عام طور پر راستے کے درمیان میں مرد ہی چلتے ہیں ‘ تو خواتین کے لئے یہ بات لازم ہے ‘ وہ راستے کے اطراف میں علیحدہ ہو کر چلیں تاکہ وہ مردوں کے ساتھ لگنے سے بچ سکیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، [ص:416] ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5601

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5602

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ «أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، وَقَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةَ، أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلمہ ؓ نے نبی اکرمﷺ سے پچھنے لگوانے کی اجازت مانگی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ابو طیبہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ سیدہ ام سلمہ ؓ کو پچھنے لگا دے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات بھی بیان کی تھی کہ یہ صاحب سیدہ ام سلمہ ؓ کے رضاعی بھائی تھے یا یہ کوئی ایسے لڑکے تھے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الليثي ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5602

chevron_left Previous
12345…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr