Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5579

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ فِي هَذِهِ الْآيَةِ {لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ} [الأحزاب: 53] قَالَ: «بَنَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِ نِسَائِهِ، فَصَنَعَ طَعَامًا، فَأَرْسَلَنِي، فَدَعَوْتُ رِجَالًا فَأَكَلُوا، ثُمَّ قَامَ فَخَرَجَ فَأَتَى بَيْتَ عَائِشَةَ، ثُمَّ تَبِعْتُهُ فَدَخَلَ فَوَجَدَ فِي بَيْتِهَا رَجُلَيْنِ، فَلَمَّا رَآهُمَا رَجَعَ وَلَمْ يُكَلِّمْهُمَا، فَقَامَا وَخَرَجَا، وَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى [ص:393] طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ}» [الأحزاب: 53]

حضرت انس بن مالکؓ اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے ) ‘‘ تم لوگ نبی اکرمﷺ گھروں میں اس وقت تک داخل نہ ہو ‘ جب تک تمہیں کھانے کی اجازت نہ دی جائے‘‘۔ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اپنی ایک زوجہ محترمہ کے ساتھ شادی کے بعد ( ولیمے کی دعوت میں ) کھانا تیار کروایا۔ آپﷺ نے مجھے بھیجا میں کچھ افراد کو بلا کر لے آیا۔ ان لوگوں نے کھانا کھایا پھر نبی اکرمﷺ اٹھے اور باہر تشریف لے گئے۔ آپﷺ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ کے گھر کے پاس تشریف لائے میں بھی آپﷺ کے پیچھےآیا۔ نبی اکرمﷺ گھر کے اندر داخل ہوئے ‘ تو آپﷺ کو گھر میں دو مرد ملے‘ جب آپﷺ نے ان دونوں کو دیکھا ‘ تو آپﷺ واپس تشریف لے گئے آپﷺ نے ان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی۔ وہ دونوں اٹھے اور گھر سے باہر چلے گئے۔ اس موقع پر حجاب کے حکم سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی: ’’ اے ایمان والو ! نبی کے گھر وں میں اس وقت تک داخل نہ ہو ‘ جب تک تمہیں کھانےکے لئے اجازت نہ دی جائے اور تم برتن کی طرف دیکھ نہ رہے ہو‘‘۔

فِي هَذِهِ الآيَةِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ ← شَرِيکٍ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَحْمُودٍ السَّعْدِيُّ،

Hadith 5579

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5580

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُصَافِحِ امْرَأَةً قَطُّ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے کبھی کسی خاتون کے ساتھ مصافحہ نہیں کیا۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مالک بن أنس ← مَعْن بن عيسی ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 5580

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5581

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، [ص:394] عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النِّسَاءِ قَطُّ إِلَّا بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا، وَمَا مَسَّتْ كَفُّهُ كَفَّ امْرَأَةٍ قَطُّ، وَمَا كَانَ يَقُولُ لَهُنَّ إِذَا أَخَذَ عَلَيْهِنَّ إِلَّا قَدْ بَايَعْتُكُنَّ كَلَامًا»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ خواتین سے صرف اسی چیز کی ( بیعت ) لیتے تھے پھر جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے نبی اکرمﷺ کی ہتھیلی نے کسی خاتون کی ہتھیلی کو نہیں چھوا۔ جب آپﷺ نے ان خواتین سے بیعت لے لیتے تھے ‘ تو آپﷺ ان سے یہ فرماتے تھے کہ میں نے کلام کے ذریعے تم سے بیعت لے لی ہے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Hadith 5581

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5582

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، [ص:395] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ، وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے یہ آیت بات ارشاد فرمائی ہے۔ ’’ کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ اور کوئی عورت کسی کے ساتھ مباشرت نہ کرے‘‘۔

«لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ، وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ» ← ابْنِ عَبَّاسٍ، يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ ← عِكْرِمَةَ، [ص:395] ← سِمَاكٍ، ← اِسْرَائِیْلُ ← أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5582

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5583

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، [عَنِ الطفَاوِيّ] * عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ [ص:396] الْمَرْأَةَ، وَلَا الرَّجُلُ الرَّجُلَ إِلَّا الْوَالِدُ الْوَلَدَ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ جسم نہ ملائے البتہ والد اپنی اولاد کا جسم ساتھ لگا سکتا ہے‘‘۔

«لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ [ص:396] الْمَرْأَةَ، وَلَا الرَّجُلُ الرَّجُلَ إِلَّا الْوَالِدُ الْوَلَدَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الطُّفَاوِيُّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5583

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5584

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، يَقُولُ: «جَاءَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى مَنْزِلِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ يَلْتَمِسُهُ، فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهِ، ثُمَّ رَجَعَ فَوَجَدَهُ، فَلَمَّا دَخَلَ كَلَّمَ فَاطِمَةَ فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: مَا أَرَى حَاجَتَكَ إِلَّا إِلَى الْمَرْأَةِ، قَالَ: أَجَلْ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَدْخُلَ عَلَى الْمُغِيبَاتِ» أَبُو صَالِحٍ هَذَا اسْمُهُ مِيزَانٌ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ ثِقَةٌ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ وَعَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَرَوَى عَنْهُ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ مَا رَوَى عَنْهُ غَيْرُ هَذَيْنِ، وَلَيْسَ هَذَا بِصَاحِبِ الْكَلْبِيِّ فَإِنَّهُ وَاهٍ ضَعِيفٌ» *

ابو صالح بیان کرتے ہیں: حضرت عمرو بن العاصؓ حضرت علی بن ابو طالبؓ کو تلاش کرتے ہوئے ان کی گھر آئے وہ انہیں مل سکے پھر وہ واپس چلے گئے پھر جب ان کی ملاقات حضرت علیؓ سے ہوئی اور وہ ( حضرت علیؓ کے ساتھ سیدہ فاطمہؓ کے گھر ) آئے ‘ تو انہوں نے سیدہ فاطمہ ؓ کے ساتھ بات چیت کی۔ حضرت علیؓ نے ان سے کہا میرا یہ خیال ہے ‘ آپ کو ا س خاتون کے ساتھ کوئی کام تھا۔ انہوں نے جواب دیا۔ جی ہاں نبی اکرمﷺ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے ‘ ہم کسی ایسی خاتون کے پاس جائیں‘ جس کا شوہر موجود نہ ہو۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) ابو صالح نامی راوی کا نام میزان ہے یہ اہل بصرہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ثقہ ہے ۔ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ اور حضرت عمرو بن العاص ؓ سے حدیث کا سماع کیا ہے ‘ جب کی ان کے حوالے سے سلمان تیمی اور محمد بن حجادہ نے روایات نقل کی ہے ۔ ان کے حوالے سے ان دو راویوں کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی۔ یہ صاحب کلبی کے شاگرد نہیں ہے کیونکہ کلبی کا جو شاگرد ہے وہ ضعیف ہے ۔

أَبَا صَالِحٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5584

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5585

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ حَدَّثَهُ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ دَخَلُوا عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ وَهِيَ تَحْتَهُ يَوْمَئِذٍ فَرَآهُمْ فَكَرِهَ ذَلِكَ، وَذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: لَمْ أَرَ إِلَّا [ص:399] خَيْرًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَرَّأَهَا مِنْ ذَلِكَ» ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: «لَا يَدْخُلَنَّ رَجُلٌ بَعْدَ يَوْمِي هَذَا عَلَى مُغِيبَةٍ إِلَّا وَمَعَهُ رَجُلٌ»

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں: بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سیدہ اسماء بنت عمیس ؓ کے ہاں آئے۔ حضرت ابو بکرؓ میں داخل ہوئے سیدہ اسماء ان کی اہلیہ تھیں۔ حضرت ابو بکرؓ نے جب ان لوگوں کو دیکھا ‘ تو انہیں یہ بات اچھی نہیں لگی۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرمﷺ سے کیا اور ساتھ یہ بات بیان کی کہ میری رائے اچھی ہے ‘ لیکن ( مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ا س عورت کو اس سے بری کر دے گا ‘ پھر نبی اکرمﷺ مبنر پر کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : آج کے دن کے بعد کوئی شخص کسی ایسی عورت کے پاس نہ جائے جس کا شوہر موجود نہ ہو البتہ اس کے شوہر کے ساتھ جا سکتا ہے۔

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 5585

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5586

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِي مِثْلِ مَقَامِي هَذَا، فَقَالَ: «أَحْسِنُوا إِلَى أَصْحَابِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ حَتَّى يَحْلِفَ الرَّجُلُ عَلَى الْيَمِينِ قَبْلَ أَنْ يُسْتَحْلَفَ عَلَيْهَا، وَيَشْهَدَ عَلَى الشَّهَادَةِ قَبْلَ [ص:400] أَنْ يُسْتَشْهَدَ عَلَيْهَا، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنَالَ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الِاثْنَيْنِ أَبْعَدُ، أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ، أَلَا وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ تَسُوؤُهُ سَيِّئَتُهُ، وَتَسُرُّهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ»

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں : ’’ جابیہ ‘‘ کے مقام پر حضرت عمر بن خطاب ؓ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے یہ بتایا: جس طرح میں ( خطبہ دینے کی لئے ) کھڑا ہوا ہوں۔ اسی طرح نبی اکرمﷺ بھی کھڑے ہوئے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے ساتھیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا پھر ان کے بعد والوں کے ساتھ بھی اس کے بعد جھوٹ پھیل جائے گا‘ یہاں تک کہ آدمی قسم پر حلف اٹھا لے گا۔ اس سے پہلے کہ اس سے حلف مانگاہ جائے اور گواہی پیش کر دے گا اس سے پہلے کہ اس سے گواہی طلب کی جائے تم میں سےجو شخص جنت میں داخل ہونا چاہتا ہو وہ ( مسلمانوں کی ) جماعت کو لازم پکڑلے کیونکہ شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتاہے وہ دو آدمیوں سے زیادہ دور ہوتاہے ۔ خبر دار! کوئی شخص کی( اجنبی عورت) کے ساتھ تنہائی میں نہ رہے کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا۔ خبر دار ! تم میں سے جس شخص کو برائی بری لگے ‘ اور اچھائی اچھی لگے وہ مومن ہے۔

خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، بِالْجَابِيَةِ، فَقَالَ: ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5586

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5587

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ فِي بَيْتٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ»

حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: ’’ کوئی شخص کسی ( نا محرم ) عورت کے ساتھ گھر میں نہ ہو ‘ ماسوائے اس کے ‘ کہ اس کا شوہر یا کوئی محرم بھی موجود ہو‘‘۔

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هُشَيْمٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5587

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5588

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَدْخُلُوا عَلَى النِّسَاءِ» فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْوُ الْمَوْتُ»

حضرت عقبہ بن عامرؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ خواتین کے پاس نہ جاؤ ایک انصاری نے عرض کی: یا رسول اللہ,ﷺ! دیور کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: دیور موت ہے‘‘۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ أَنَّهُ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 5588

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5589

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ مُقَاتِلٍ الشَّيْخُ الْفَاضِلُ الصَّالِحُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَعْبَدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ: «لَا تُسَافِرَنَّ امْرَأَةٌ إِلَّا بِذِي مَحْرَمٍ، وَلَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا بِذِي مَحْرَمٍ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ۔ کوئی عورت محرم کے بغیر ہرگز سفر نہ کرے اور کوئی مرد ( اجنبی ) عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ جائے البتہ اس عورت کا محرم ساتھ ہو ‘ تو ( حکم مختلف ہے ) ‘‘

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أبا معبد ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ مُقَاتِلٍ الشَّيْخُ الْفَاضِلُ الصَّالِحُ،

Hadith 5589

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5590

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَبِيتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ امْرَأَةٍ فِي بَيْتٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ نَاكِحًا أَوْ ذَا مَحْرَمٍ»

حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ کوئی شخص کسی عورت کے ہاں اس کے گھر میں رات ہرگز بسر نہ کرے ‘ ماسوائے اس صورت کے ‘ کہ اس عورت کا شوہر یا محرم عزیز ( بھی گھر میں موجود ہو)‘‘

جَابِرٍ ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5590

chevron_left Previous
1234…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr