Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5867

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ إِذْ دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصَا فَحَصَبَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُمْ [ص:177] يَا عُمَرُ»

حضرت ابو ہریرہل ؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ کچھ حبشی اپنے جنگی ہتھیاروں کے ساتھ کرتب دکھا رہے تھے اسی دوران حضرت عمرؓ آ گئے انہوں نے ان کی طرف کنکریاں پھینکیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عمر انہیں کرنے دو ۔

رَسُولُ اللَّهِ «دَعْهُمْ [ص:177] يَا عُمَرُ» ← بَيْنَمَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ إِذْ دَخَلَ عُمَرُ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصَا فَحَصَبَهُمْ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5867

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5868

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَقَالَ: «دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ»، قَالَتْ: وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ وَأَنَا جَارِيَةٌ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْعَرِبَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ «

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ حضرت ابو بکرؓ ان کے ہاں آئے اس وقت ان کے پاس دو لڑکیا بیٹھی ہوئی تھیں جو گانا گا رہی تھیں یہ عید کے موقع کی بات ہے۔ نبی اکرمﷺ نے کپڑے کے ذریعے چہرہ ڈھانپا ہوا تھا حضرت ابو بکر ؓ نے ان لڑکیوں کو ڈانٹا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: اے ابو بکر ! ان دونوں کو گانے دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: مجھے نبی اکرمﷺ کے بارے میں یہ بات یاد ہے ‘ آپﷺ نے اپنی چادر کے ذریعے مجھے اوٹ میں لیا ہوا تھا اور میں ان حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو کرتب دکھا رہے تھے میں اس وقت کم سن لڑکی تھی ‘ تو تم خود اندازہ کر لو کہ ایک کم سن کڑکی جس کی عمر بھی زیادہ نہ ہو ( اسے اس طرح کے کرتب دیکھنے میں کتنی دلچسپی ہو گی)

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 5868

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5869

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ*، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، [ص:179] عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، دَخَلَ عَلَيْهَا فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ وَتَضْرِبَانِ بِالدُّفِّ، فَسَبَّهُمَا وَخَرَقَ دُفَّيْهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُمَا، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : حضرت ابو بکرؓ ایام تشریق میں ان کے ہاں آئے ان کے پاس دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی گا رہی تھیں اور دف بجا رہی تھیں حضرت ابو بکرصدیق ؓ نے دونوں کو ڈانٹا اور ان دونوں کی دف کو پھاڑ دیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: انہیں کرنے دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← إسحاق بن راشد ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Hadith 5869

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5870

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ*، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْحَبَشَةَ كَانُوا يَزْفِنُونَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَتَكَلَّمُونَ بِكَلَامٍ لَا يَفْهَمْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا يَقُولُونَ»؟ قَالُوا: مُحَمَّدٌ عَبْدٌ صَالِحٌ «

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: حبشی لوگ نبی اکرمﷺ کے سامنے کرتب دکھایا کرتے تھے وہ ایسی باتیں کرتے تھے جو سمجھ نہیں آتی تھیں ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا یہ کیا کہہ رہے ہیں ‘ تو لوگوں نے بتایا: یہ کہہ رہے ہیں : حضرت محمدﷺ ایک نیک بندے ہیں۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5870

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5871

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، دَخَلَ عَلَيْهَا فِي أَيَّامِ عِيدٍ وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ، وَتُدَفِّفَانِ، وَتَضْرِبَانِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَغَشٍّ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَالَ: «دَعْهُنَّ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ، وَتِلْكَ أَيَّامُ مِنًى»، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ، وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا جَارِيَةٌ. «قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: » فَهَذَا آخِرُ جَوَامِعِ الْإِبَاحَاتِ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْلَيْنَاهَا بِفُصُولِهَا، وَقَدْ بَقِيَ فِي هَذَا الْقِسْمِ أَحَادِيثُ بَدَّدْنَاهَا فِي سَائِرِ الْأَقْسَامِ، كَمَا بَدَّدْنَا مِنْهَا فِي هَذَا الْقِسْمِ عَلَى مَا أَصَّلْنَا الْكِتَابَ عَلَيْهِ، وَإِنَّمَا نُمْلِي بَعْدَ هَذَا الْقِسْمِ الْقِسْمَ الْخَامِسَ مِنْ أَقْسَامِ السُّنَنِ [ص:181] الَّتِي هِيَ أَفْعَالُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفُصُولِهَا، وَأَنْوَاعِهَا إِنِ اللَّهُ قَضَى ذَلِكَ وَشَاءَهُ، جَعَلَنَا اللَّهُ مِمَّنْ هُدِيَ لِسَبِيلِ الرَّشَادِ، وَوُفِّقَ لِسُلُوكِ السَّدَادِ، وَشَمَّرَ فِي جَمْعِ السُّنَنِ وَالْأَخْبَارِ، وَتَفَقَّهَ فِي صَحِيحِ الْآثَارِ، وَآثَرَ مَا يُقَرِّبُ إِلَى الْبَارِي جَلَّ وَعَلَا مِنَ الْأَعْمَالِ عَلَى مَا يُبَاعِدُ مِنْهُ فِي الْأُصُولِ، إِنَّهُ خَيْرُ مَسْئُولٍ «

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: حضرت ابو صدیق ؓ عید کے دنوں میں ان کے ہاں آئے ‘ تو ان کے پاس دو لڑکیا بیٹھی ہوئی گانا گا رہی تھیں اور دف بجا رہی تھیں ۔ نبی اکرمﷺ چہرے پر کپڑا لے کر لیٹے ہوئےتھے ۔ حضرت ابو بکرؓ نے ان دونوں لڑکیوں کو ڈانٹا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹایا اور ارشاد فرمایا: اے ابو بکرصدیق ! انہیں کرنے دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں ( سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں ) یہ منیٰ کے مخصوص دن تھے ( یعنی بڑی عید کا موقع تھا) سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: مجھے نبی اکرمﷺ کے بارے میں یہ بات یاد ہے ‘ آپﷺ نے اپنی چادر کے ذریعے مجھے اوٹ میں لیا ہوا تھا اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی جو مسجد میں کرتب دکھا رہے تھے میں اس وقت کم سن لڑکی تھی۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ سے منقول اباحات کے بارے میں روایات کا یہ آخری حصہ ہے ‘ جسے ہم نے مختلف فصلوں میں املاء کروایا ہے اس قسم سے تعلق رکھنے والی کچھ احادیث باقی رہ گئی ہیں ‘ جنہیں ہم دیگر اقسام میں ذکر کر دیں گے جس طرح ہم نے انہیں اس قسم میں ذکر کیاہے ‘ جو اس بنیادی طریقہ کار کے مطابق ہے ‘ جس کے مطابق ہم نے کتاب ترتیب دی ہے۔ اس قسم کے بعد ہم سنن کی پانچویں قسم املاء کروائیں گے ‘ اور یہ نبی اکرمﷺ کے وہ افعال ہیں جو ان کی فصول اور انواع کے ہمراہ املاء کروائے جائیں گے اگر اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ دیا اور اس نے یہ چاہا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جن کی رہنمائی سیدھے راستے کی طرف کی گئی اور درست راستے کی توفیق دی گئی اور جنہوں نے سنن اور اخبار کو جمع کرنے کا ارادہ کیا اور مستند روایات کا فہم حاصل کیا اور اس چیز کو ترجیح دی جو اعمال انہیں باری تعالیٰ کی بارگاہ میں مقرب کر سکتے ہیں اور اس چیز پر ترجیح دی جو اصول میں اس سے دور کرتے ہیں بیشک وہ ( یعنی اللہ تعالیٰ ) سب سے بہتر مسؤول ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 5871

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5872

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص پانسہ کھیلتا ہے وہ اللہ اوراس کے رسول کی نا فرمانی کرتا ہے‘‘۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، ← مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 5872

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5873

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا [ص:183] ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الثَّوْرِيَّ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَكَأَنَّمَا غَمَسَ يَدَهُ فِي لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ»

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جو شخص پانسہ کھیلتا ہے گویا کہ وہ اپنا ہاتھ خنزیر کے گوشت اور خون مین لت پت کر سکتا ہے‘‘۔

أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← الثَّوْرِيُّ ← [ص:183] ابْنُ وَهْبٍ، ← أَبُو الطَّاهِرِ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 5873

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5874

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً فَقَالَ: «شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «اللَّاعِبُ بِالْحَمَامِ لَا يَتَعَدَّى لَعِبُهُ مِنْ أَنْ يَتَعَقَّبَهُ بِمَا يَكْرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا، وَالْمُرْتَكِبُ لِمَا يَكْرَهُ اللَّهُ عَاصٍ، وَالْعَاصِي يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ لَهُ: شَيْطَانٌ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَوْلَادِ آدَمَ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ} [الأنعام: 112] فَسَمَّى الْعُصَاةَ مِنْهُمَا شَيَاطِينَ، وَإِطْلَاقُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الشَّيْطَانِ عَلَى الْحَمَامَةِ لِلْمُجَاوَرَةِ، وَلِأَنَّ الْفِعْلَ مِنَ الْعَاصِي بِلَعِبِهَا تَعَدَّاهُ إِلَيْهَا»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو کبوتر کے پیچھے دوڑتے ہوئے دیکھا ‘ تو فرمایا ایک شیطان دوسرے شیطان کے پیچھے جا رہا ہے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) کبو تر کے ساتھ کھیلنے والے شخص کا فعل آگے بڑھ کر ایسی صورت حال لے آتا ہے ‘جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہو ‘ تو جو شخص کسی ایسی چیز کا مرتکب ہوتاہے ‘ جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہو وہ شخص گنہگار ہوتا ہے اور گنہگار شخص کو شیطان کہنا جائز ہے اگر چہ اس کا تعلق اولاد آدم سے ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ ’’ انسانوں اور جنات سے تعلق رکھنے والے شیاطین ‘‘۔؛ تو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں طبقوں میں سے گنہگار کے لئے لفظ شیطان استعمال کیا ہے اسی طرح نبی اکرمﷺ نے کبوتر کےلئے لفظ شیطان مجاورت کے طور پر استعمال کیا ہے کیونکہ یہاں پہ گنہگار شخص کا فعل اسی کبوتر سے متعلق ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَامٍ الْجُمَحِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5874

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْغِیبَۃِ · حديث 5875

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَزَوَّجْتُهَا، قَالَتْ فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عُرْسِهَا، فَلَمْ يَسْمَعْ غِنَاءً وَلَا لَعِبًا، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ، هَلْ غَنَّيْتُمْ عَلَيْهَا «؟ أَوَ لَا تُغَنُّونَ عَلَيْهَا»؟ ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ يُحِبُّونَ الْغِنَاءَ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: ایک انصار ی لڑکی میری زیر پرورش تھی میں نے اس کی شادی کروا دی۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ ا س کی شادی کے دن میرے ہاں تشریف لائے آپﷺ کو گانے وغیرہ کی کوئی آواز سنائی نہیں دی ‘ تو آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ صدیقہؓ ! کیا تم نے اس کی شادی کےلیے گانا وغیرہ نہیں گایا ؟ کیا تم لوگ اس پر گانا نہیں گاو ٔ گی ؟ پھر آپﷺ نےارشاد فرمایا: انصار گانے کو پسند کرتے ہیں۔

«إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ يُحِبُّونَ الْغِنَاءَ» ← يَا عَائِشَةُ، هَلْ غَنَّيْتُمْ عَلَيْهَا أَوَ لَا تُغَنُّونَ عَلَيْهَا»؟ ثُمَّ ← فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَ عُرْسِهَا، فَلَمْ يَسْمَعْ غِنَاءً وَلَا لَعِبًا، ← كَانَ فِي حِجْرِي جَارِيَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَزَوَّجْتُهَا، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← إِسْحَاقَ بْنِ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← عَمِّي، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الزُّهْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 5875

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْغِیبَۃِ · حديث 5876

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِدُفَّيْنِ، وَتُغَنِّيَانِ فِي أَيَّامِهِمَا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَتِرٌ بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبَهُ وَقَالَ: «دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ» قَالَتْ عَائِشَةُ: وَلَمَّا قَدِمَ وَفْدُ الْحَبَشَةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامُوا يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي [ص:187] أَسْأَمُ، فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَأَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: دَخَلَ عُمَرُ، وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ، فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْهُمْ يَا عُمَرُ، فَإِنَّهُمْ هُمْ بَنُو أَرْفِدَةَ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: حضرت ابو بکرؓ ان کے ہاں آئے اس وقت ان کے پاس وہ لڑکیاں بیٹھی ہوئی دف بجا کر گانا گا رہی تھیں ۔ نبی اکرمﷺ اپنے چہرے پر کپڑا ڈال کر آرام فرما رہے تھے۔ حضرت ابو بکرؓ نے ان دونوں لڑکیوں کو ڈانٹا ‘ تونبی اکرمﷺ نے اپنا کپڑا ہٹایا او ر فرمایا: اے ابو بکر انہیں کرنے دو کیونکہ یہ عید کے دن ہیں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : جب حبشیوں کا وفد نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو وہ لوگ مسجد میں کھڑے ہو کر کرتب دکھانے لگے میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ نے مجھے اپنی چادر کی اوٹ میں کر لیا میں ان لوگوں کودیکھتی رہی وہ لوگ مسجد میں کرتب دکھا دہے تھے ‘ یہاں تک کہ میں ہی اکتا گئی تم لوگ خود اندازہ کر لو کہ ایک ایسی لڑکی جس کی عمر کم ہو اسے اس طرح کے کھیل کو دیکھنے کا کتنا شوق ہو گا۔ زہری بیان کرتے ہیں: سعید بن مسیّب نے مجھے یہ بات بتائی ہے : حضرت ابو ہریرہؓ نے یہ بات بیان کی ہے حضرت عمرؓ ( مسجد میں ) داخل ہوئے اس وقت حبشی لوگ مسجد میں کرتب دکھا رہے تھے ۔ حضرت عمر ؓ نے انہیں ڈانٹا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے عمرؓ! انہیں کرنے دو کیونکہ یہ بنوار فدہ ہیں ۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 5876

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْغِیبَۃِ · حديث 5877

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْهَبَّارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ [ص:188] جَوَارِي الْأَنْصَارِ تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمِزْمَارُ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ لِكُلَّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا عِيدُنَا»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: حضرت ابو بکرؓ میرےہاں تشریف لائے اس وقت میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں بیٹھی ہوئی گانا گا رہی تھیں جو جنگ بعاث کے موقع پر انصار کے طرز عمل کے بارے میں تھا حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کیا نبی اکرمﷺ کے گھر میں شیطان کے آلات موجود ہیں؟ یہ عید کے دنوں کے بات ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے ابو بکر! ہر قوم کی ایک مخصوص عید ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبُو أُسَامَةَ ← عبيد بن إسماعيل الهباري، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 5877

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْغِیبَۃِ · حديث 5878

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنِ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ، قَالَتْ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيَّ صَبِيحَةَ عُرْسِي، فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي كَمَجْلِسِكَ مِنِّي، فَجَعَلَتْ جُوَيْرِيَاتٌ لَنَا يَضْرِبْنَ بِدُفٍّ لَهُنَّ، وَيَنْدُبْنَ مَنْ قُتِلَ مِنْ آبَائِي يَوْمَ بَدْرٍ إِلَى أَنْ قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: وَفِينَا نَبِيٌّ يَعْلَمُ مَا فِي غَدٍ ................... فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعِي هَذَا وَقُولِي مَا كُنْتِ تَقُولِينَ»

سیدہ ربیع بنت معوذؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ تشریف لائے آپﷺ میری شادی کی صبح ہمارے ہاں آئے ‘ تو میرے بستر پر تشریف فرما ہوئے جس طرح تم میرے پاس بیٹھے ہوئے ہو ‘ تو انصار کی کچھ لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور غزوہ بدر کے موقع پر شہید ہونے والے اپنے آباؤ اجداد کی تعریفیں کر رہی تھیں اور ان میں سے ایک لڑکی نے یہ مصرع بھی پڑھ دیا۔ ’’ ہمارے درمیان ایک ایسا نبی موجود ہے ‘جو کل جو کچھ ہوناہے اس کے بارے میں بھی جانتا ہے‘‘۔ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اسے چھوڑ دو اور وہی گاؤ جو پہلے گا رہی تھیں۔

الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ ← خَالِدُ بْنُ ذَکْوَانَ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 5878

chevron_left Previous
1…24252627
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr