Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5855

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، [ص:166] حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْحَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر موجود ہو‘‘۔

«لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا طَلْحَةَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، [ص:33] ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5855

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5856

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ: [ص:167] أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْبَحَ يَوْمًا وَاجِمًا، قَالَتْ مَيْمُونَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَنْكَرْتُ هَيْئَتَكَ مُنْذُ الْيَوْمِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ وَعَدَنِي أَنْ يَلْقَانِيَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَلْقَنِي، أَمَا وَاللَّهِ مَا أَخْلَفَنِي»، قَالَ: فَظَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَهُ ذَلِكَ عَلَى ذَلِكَ، ثُمَّ وَقَعَ فِي نَفْسِهِ جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ فُسْطَاطٍ لَهُ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً، فَنَضَحَ مَكَانَهُ، فَلَمَّا أَمْسَى لَقِيَهُ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: «قَدْ كُنْتَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَلْقَانِيَ الْبَارِحَةَ» قَالَ: أَجَلْ، وَلَكِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ، وَلَا صُورَةٌ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ ؓ نے مجھے یہ بات بتائی ایک دن نبی اکرمﷺ پریشان تھے سیدہ میمونہ ؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آج آپﷺ کا مزاج درست محسوس نہیں ہو رہا نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جبرائیل نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ گزشتہ رات مجھ سے ملیں گے ‘ لیکن وہ مجھ سے نہیں ملے اللہ کی قسم وہ ‘ تو میرے ساتھ وعدہ خلافی نہیں کرتے ۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ سارا دن نبی اکرمﷺ نے اسی عالم میں گزار دیا پھر آپﷺ کے ذہن میں کتے کے پلے کا خیال آیا جو آپ کے پلنگ کے نیچے تھا آپﷺ کے حکم کے تحت اسے باہر نکال دیا گیا پھر آپﷺ نے اپنے دست مبارک میں پانی لے کر اس جگہ پر چھڑ کا جب شام ہوئی ‘ تو حضرت جبرائیل ؑ آپﷺ سے ملنے کے لئے آئے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نے مجھ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ گزشتہ رات مجھ سے ملنے کےلئے آؤ گے ‘ تو حضرت جبرائیل ؑ نے عرض کی : جی ہاں ‘ لیکن ہم ( فرشتے ) کسی ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتایا تصویر موجود ہو۔

[ص:167] أَخْبَرَتْنِي مَيْمُونَةُ، زَوْجُ النَّبِيِّ ← ابْنِ السَّبَّاقِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5856

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5857

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ زَمَنَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَأْتِيَ الْكَعْبَةَ فَيَمْحُوَ كُلَّ صُورَةٍ فِيهَا، فَلَمْ يَدْخُلْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مُحِيَتْ كُلُّ صُورَةٍ فِيهَا»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے حضرت عمر بن خطاب ؓ کو فتح مکہ کے موقع پر بطاء میں یہ حکم دیا کہ وہ خانہ کعبہ کے پاس آجائیں اور اس میں موجود ہر تصویر کو مٹا دیں نبی اکرمﷺ خانہ کعبہ کے اندر اس وقت تک داخل نہیں ہوئے‘ جب تک اس میں موجود تمام تصویریں مٹا نہیں دی گئیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ مَعْقِلٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ← الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5857

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5858

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَخَلَ الْبَيْتَ وَجَدَ فِيهِ [ص:169] صُورَةَ إِبْرَاهِيمَ وَصُورَةَ مَرْيَمَ، قَالَ: «أَمَّا هُمْ لَقَدْ سَمِعُوا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ، هَذَا إِبْرَاهِيمُ مُصَوِّرٌ، فَمَا بَالُهُ يَسْتَقْسِمُ؟ »

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے ‘ تو آپﷺ کو اس میں حضرت ابراہیم ؑ اور سیدہ مریمؓ کی تصویریں ملیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جہاں تک ان لوگوں کو تعلق ہے ‘ تو یہ لوگ یہ بات جانتے ہیں ‘ فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر موجود ہو یہ حضرت ابراہیم ؑ کی تصویر موجود ہے یہ بھلا کب پانسہ کھیلا کرتے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← کُرَیْبٍ مَوْلٰی ابْنِ عَبَّاسٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5858

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5859

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو هُرَيْرَةَ دَارًا لِسَعِيدٍ، أَوْ لِمَرْوَانَ، فَرَأَى مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ فِي الْجِدَارِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ أَظْلَمُ [ص:170] مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ كَخَلْقِي؟ فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةً، أَوْ لِيَخْلُقُوا ذَرَّةً» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلْيَخْلُقُوا حَبَّةٍ، أَوْ لِيَخْلُقُوا ذَرَّةً»، مِنْ أَلْفَاظِ الْأَوَامِرِ الَّتِي مُرَادُهَا التَّعْجِيزُ «

ابو زرعہ بیان کرتے ہیں: میں اور حضرت ابو ہریرہؓ سعید یا شاید مراوان ( نامی حکمران) کے گھر میں داخل ہو ئے ‘ تو حضرت ابو ہریرہؓ نے دیوار پر تصویر بنی دیکھی ‘تو انہوں نے بتایا نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ اس شخص سے زیادہ ظالم اور کون ہو گا ‘ جو میری مخلوق کی طرح تخلیق کرنے کی کوشش کرتاہے ان لوگوں کو چاہئے کہ وہ ایک دانہ بنا دیں ‘ یا ایک ذرّہ پیدا کر دیں‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : انہیں چاہئے کہ وہ ایک دانہ بنا دیں ‘ یا ایک ذرہ پیدا کر دیں یہاں پہ الفاظ امر کے ہیں ‘ لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے : مقابل کو عاجز قرار دیا جائے۔

وَأَبُو هُرَيْرَةَ دَارًا لِسَعِيدٍ، أَوْ لِمَرْوَانَ، فَرَأَى مُصَوِّرًا يُصَوِّرُ فِي الْجِدَارِ، فَقَالَ: ← دَخَلْتُ ← أَبِي زُرْعَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5859

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5860

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَعَهُ، قَالَتْ: فَقَطَّعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ، فَقَالَ رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ يُقَالُ لَهُ: رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ: أَمَا سَمِعْتَ أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْكُرُ أَنَّ [ص:171] عَائِشَةَ قَالَتْ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا؟ قَالَ ابْنُ الْقَاسِمِ: لَا، قَالَ: لَكِنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ «

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: انہوں نے ایک پردہ لٹکا یا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ۔ نبی اکرمﷺ گھر میں داخلے ہوئے ‘ تو آپﷺ نے اسے اتار دیا سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں: میں نے اسے کاٹ کر دو تکیے بنا لیے ۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے ( حدیث بیان کرنے والے محدث ) سے کہا: آپ نے ابو محمد کو یہ بات ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا کہ سیدہ عائشہ ؓ نے یہ بات بتائی ہے نبی اکرمﷺ نے ان تکیوں کے ساتھ ٹیک بھی لگائی تھی ‘ تو قاسم کے صاحبزادے نے کہا: جی نہیں تاہم میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے قاسم کے صاحبزادے کی مراد قاسم بن محمد تھے۔

يُرِيدُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ← لَكِنِّي قَدْ ← ابْنُ الْقَاسِمِ: لَا، ← فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا؟ ← أَبَا مُحَمَّدٍ يَذْكُرُ أَنَّ [ص:171] عَائِشَةَ ← رَجُلٌ فِي الْمَجْلِسِ يُقَالُ لَهُ: رَبِيعَةُ بْنُ عَطَاءٍ مَوْلَى بَنِي زُهْرَةَ: أَمَا ← فَقَطَّعْتُهُ وِسَادَتَيْنِ، ← عَائِشَةَ، أَنَّهَا نَصَبَتْ سِتْرًا فِيهِ تَصَاوِيرُ، فَدَخَلَ النَّبِيُّ فَنَزَعَهُ، ← أَنَّ أَبَاهُ ← أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5860

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5861

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى الصُّوَرَ فِي الْبَيْتِ - يَعْنِي [ص:172] الْكَعْبَةَ - لَمْ يَدْخُلْ، وَأَمَرَ بِهَا فمُحِيَتْ، وَرَأَى إِبْرَاهِيمَ، وَإِسْمَاعِيلَ بِأَيْدِيهِمَا الْأَزْلَامُ، فَقَالَ: «قَاتَلَهُمُ اللَّهُ، وَاللَّهِ مَا اسْتَقْسَمَا بِالْأَزْلَامِ قَطُّ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ نے گھر میں ( یعنی خانہ کعبہ کے اندر ) تصویریں دیکھیں ‘ تو آپﷺ اس کے اندر تشریف نہیں لے گئے آپﷺ کے حکم کے تحت انہیں مٹا دیا گیا آپﷺ نے اس میں تصویر دیکھی کہ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کے ہاتھ میں پانسے کے تیر ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو برباد کرے اللہ کی قسم ان دونوں صاحبان نے کبھی پانسہ نہیں کھیلا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5861

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5862

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ وَحَوْلَهُ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا، فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ كَانَ مَعَهُ وَيَقُولُ: «جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا»

حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ مسجد میں داخل ہوئے ‘ تو اس وقت اس کے اردگرد تین سو ساٹھ بت تھے نبی اکرمﷺ نے اپنے ہاتھ میں موجود چھڑی کے ذریعے انہیں مارنا شروع کیا آپﷺ یہ پڑھتے جا رہے تھے۔ حق آ گیا اور باطل رخصت ہو گیا بے شک باطل نے رخصت ہی ہونا تھا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي مَعْمَرٍ ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5862

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5863

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:174] عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَكُنَّ يَأْتِينِي صَوَاحِبِي، فَكُنَّ إِذَا رَأَيْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقَمِعْنَ مِنْهُ، فَكَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيَّ يَلْعَبْنَ مَعِي

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ‘ میں گڑیا کے ساتھ کھیلا کرتی تھی میری سہیلیاں میرے پاس آ جاتی تھیں جب وہ نبی اکرمﷺ کو دیکھتی تھیں ‘ تو اٹھ کر چلی جاتی تھیں ۔ نبی اکرمﷺ انہیں میرے ساتھ کھیلنے کے لئے میرے طرف بھیج دیتے تھے۔

«كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ، [ص:184] ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Double-sided door · Hadith 5863

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5864

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ بِاللُّعَبِ، [ص:175] فَرَفَعَ السِّتْرَ، وَقَالَ: «مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ » فَقُلْتُ: لُعَبٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «مَا هَذَا الَّذِي أَرَى بَيْنَهُنَّ»؟ قُلْتُ: فَرَسٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «فَرَسٌ مِنْ رِقَاعٍ لَهُ جَنَاحٌ»؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَلَمْ يَكُنْ لِسُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ خَيْلٌ لَهَا أَجْنِحَةٌ؟ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺمیرے ہاں تشریف لائے میں اس وقت گڑیان کے ساتھ کھیل رہی تھی نبی اکرمﷺ نے پردہ ہٹایا اور دریافت کیا : اے عائشہ ؓ ! یہ کیا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! یہ گڑیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تمہارے درمیان جو چیز ہے یہ کیا ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! یہ گھوڑا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا کپڑے سے بنے ہوئے گھوڑے کے پر ہوتے ہیں ۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے عرض کی: کیا حضرت سلیمان ؑ کے گھوڑے کے پر نہیں تھے ‘ تو نبی اکرمﷺ مسکرا دیئے۔

«مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟ فَقُلْتُ: لُعَبٌ ← أَلْعَبُ بِاللُّعَبِ، [ص:175] فَرَفَعَ السِّتْرَ، ← دَخَلَ عَلَيَّ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← أَبِي النَّضْرِ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Double-sided door · Hadith 5864

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5865

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف لاتے تھے میں اس وقت گڑیا کے ساتھ کھیل رہی ہوتی تھیں۔

«كَانَ النَّبِيُّ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ» ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Double-sided door · Hadith 5865

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5866

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ، وَتَجِيءُ صَوَاحِبِي فَيَلْعَبْنَ مَعِي، فَإِذَا رَأَيْنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُمْنَ مِنْهُ، فَكَانَ يُدْخِلُهُنَّ إِلَيَّ فَيَلْعَبْنَ مَعِي»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : میں گڑیا کے ساتھ کھیل رہی ہوتی تھی میری سہیلیاں آ جاتی تھیں اور میرے ساتھ کھیلتی تھیں جب وہ نبی اکرمﷺ کو دیکھتی تھیں ‘ تو اٹھ کر چلی جاتی تھیں ۔ نبی اکرمﷺ انہیں میرے پاس بھیج دیتے تھے ‘ تو وہ میرے ساتھ کھیلا کرتی تھیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Double-sided door · Hadith 5866

chevron_left Previous
1…24252627
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr