Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5843

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَتْ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَعِنْدِي نَمَطٌ فِيهِ صُورَةٌ، فَوَضَعْتُهُ عَلَى سَهْوَتِي، قَالَتْ: فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَبَذَهُ، وَقَالَ: «أَتَسْتُرِينَ الْجِدَارَ»؟ فَجَعَلْتُهُ وِسَادَتَيْنِ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْتَفِقُ عَلَيْهِمَا

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ سفر سے واپس تشریف لائے میرے پاس ایک پردہ تھا جس پر تصویر بنی ہوئی تھی میں نے اس کو اطاق پر لٹکا دیا تھا سیدہ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے اسے پکڑ کر کھینچا اور فرمایا: کیا تم دیوار پر پردہ کر رہی ہو۔ میں نے اس کپڑے کے دو سرہانے بنا دیئے پھر میں نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا کہ آپﷺ اس پر آرام فرما ہوئے ہیں ( یعنی آپﷺ نے اس سے منع نہیں کیا )

فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ فَاجْتَبَذَهُ، ← قَدِمَ النَّبِيُّ مِنْ سَفَرٍ وَعِنْدِي نَمَطٌ فِيهِ صُورَةٌ، فَوَضَعْتُهُ عَلَى سَهْوَتِي، ← عَائِشَةَ ← أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَتْ فِي حِجْرِ عَائِشَةَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، ← أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5843

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5844

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنِ الصُّوَرِ فِي الْبَيْتِ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے گھروں میں تصویریں لگانے سے منع کیا ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5844

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5845

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، [ص:156] عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ، فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْبَابِ فَلَمْ يَدْخُلْ، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ، وَإِلَى رَسُولِهِ، فَمَاذَا أَذْنَبْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَمَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ»؟ فَقَالَتِ: اشْتَرَيْتُهَا لَكَ، تَقْعُدُ عَلَيْهَا وَتَوَسَّدُهَا، فَقَالَ: «إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَهُمْ: أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ»، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّوَرُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْبَيْتُ الَّذِي يُوحَى فِيهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَكُونَ رَجُلٌ فِي بَيْتٍ، وَفِيهِ صُورَةٌ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ حَافِظَاهُ مَعَهُ، وَهُمَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، وَكَذَلِكَ مَعْنَى قَوْلِهِ: [ص:157] «لَا تَصْحَبِ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا كَلْبٌ أَوْ جَرَسٌ»، يُرِيدُ بِهِ رُفْقَةً فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ يَخْرُجَ الْحَاجُّ وَالْعُمَّارُ مِنْ أَقَاصِي الْمُدُنِ وَالْأَقْطَارِ يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ عَلَى نَعَمٍ وَعِيسٍ بِأَجْرَاسٍ وَكِلَابٍ ثُمَّ لَا تَصْحَبُهَا الْمَلَائِكَةُ وَهُمْ وَفْدُ اللَّهِ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : انہوں نے ایک پردہ خریدا جس میں تصوریں بنی ہوئی تھیں جب نبی اکرمﷺ نے اس کو دیکھا ‘ تو آپﷺ دروازے پر ٹھہر گئے آپﷺ گھر کے اندر تشریف نہیں لائے میں نے آپﷺ کے چہرے پر ناراضگی کے اثرات محسوس کر لئے ۔ سیدہ عائشہ ؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی بارگاہ میں توبہ کرتی ہوں میں نے کیا گناہ کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ پردہ کہاں سے آیا ہے ۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے عرض کی: یہ میں نے آپﷺ کےلئے خریدا ہے ‘ تاکہ آپﷺ اس پر تشریف فرما ہوں اور اس کے ساتھ ٹیک لگائیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ان تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے دن عذاب دیا جائے گا ان سے یہ کہا جائےگا تم نے جو تخلیق کیا تھا اسے زندہ کرو۔ پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک جس گھر میں تصویریں موجود ہوں فرشتے اس میں داخل نہیں ہوتے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) اس بات کا امکان موجود ہے‘ یہ وہ گھر ہو ‘ جس میں نبی اکرمﷺ پر وحی نازم ہوتی تھی اب یہ بات ناممکن ہے ‘ کوئی شخص گھر میں موجود ہو اور اس میں تصویر بھی موجود ہو ‘ تو آدمی کے ساتھ موجود حفاظت والے فرشتے گھر کے اندر نہ جائیں ‘ حالانکہ وہ دونوں بھی فرشتے ہی ہیں اسی طرح نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان: ’’ فرشتے ایسے سواروں کے ساتھ نہیں ہوتے جن میں کتا یا گھنٹی موجود ہو ‘‘ اس کے ذریعے نبی اکرمﷺ کی مراد یہ تھی کہ جو سوار سفر میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں اب یہ بات نا ممکن ہے ‘ حاجی یا عمرہ کرنے والے لوگ دور دراز کے شہروں سے جدا نہ ہوں اور وہ اونٹوں اور جانوروں پر سوار کر بیت عتیق آنےکا قصد کریں ان کے ہمراہ گھنٹیاں اور کتے بھی ہوں اور پھر فرشتے ان کے ساتھ نہ آئیں ‘ حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، [ص:324] ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5845

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5846

أَخْبَرَنَا ابْنُ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِشْكَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي عَمِلْتُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يُعَذَّبُ الْمُصَوِّرِينَ لِمَا صَوَّرُوا»، قَالَ: فَذَهَبَ الرَّجُلُ وَزَعَمَ أَنَّ لَهُ عِيَالًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَا تُصَوِّرْ شَيْئًا فِيهِ رُوحٌ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ‘ایک شخص ان ک پاس آیا اور بولا میں یہ تصویریں بناتا ہوں ‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے بتایا نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ تصویریں بنانے والوں کو تصویریں بنانے کی وجہ سے عذاب دے گا‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : وہ شخص چلا گیا اس نے یہ بیان کیا تھا کہ اس کے بال بچے ہیں ( جن کے لئے وہ اس طریقے سے روزی کماتا ہے )‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا تم کوئی ایسی تصویر نہ بناؤ جو کسی جاندار چیز کی ہو۔

ابْنُ عَبَّاسٍ: «لَا تُصَوِّرْ شَيْئًا فِيهِ رُوحٌ» ← فَذَهَبَ الرَّجُلُ وَزَعَمَ أَنَّ لَهُ عِيَالًا ← فَقَالَ النَّبِيُّ «إِنَّ اللَّهَ يُعَذَّبُ الْمُصَوِّرِينَ لِمَا صَوَّرُوا»، ← جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي عَمِلْتُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← عَوْفٌ، ← شُعْبَةُ، ← قُرَادٌ أَبُو نُوحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَیْنِ بْنِ اِشْکَابِ ← ابْنُ مُكْرَمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5846

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5847

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَهِيَ مُسْتَتِرَةٌ بِقِرَامٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَهْوَى إِلَى الْقِرَامِ، فَهَتَكَهُ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ الَّذِينَ يُشَبِّهُونَ بِخَلْقِ اللَّهِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ ان کے ہاں تشریف لائے ‘ تو انہوں نے ایک پردہ لٹکایا ہوا تھا جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں ‘ تو نبی اکرمﷺ کے چہرۂ مبارک کا رنگ تبدیل ہو گیا آپﷺ اس پر دے کی طرف بڑھے اور آپﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اسے اتار دیا پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: بے شک قیامت کے دن شدید عذاب ان لوگوں کو ہو گا ‘ جو اللہ کی مخلوق کی تصویریں بناتے ہیں۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5847

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5848

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي رَجُلٌ مَعِيشَتِي مِنْ هَذِهِ التَّصَاوِيرِ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةٍ، فَإِنَّ اللَّهَ يُعَذِّبُهُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهِ الرُّوحَ، وَلَيْسَ بِنَافِخٍ»، فَاصْفَرَّ لَوْنُهُ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ لَابُدَّ فَعَلَيْكَ بِالشَّجَرِ وَمَا لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ

سعید بن ابو حسن بیان کرتے ہیں: میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا میں ایک ایسا شخص ہوں ‘ جس کی روزی کامدار تصویریں بنانے پر ہے ‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے بتایا میں نے حضرت محمد ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’جو شخص تصویر بناتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے یہ عذاب دے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا‘‘۔ یہ سن کر اس شخص کا رنگ زرد ہو گیا ‘ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا اگر تم نے ضرور تصویریں بنانی ہیں ‘ تو تم درختوں کی بنا لو یا کسی ایسی چیز کی بنا لو جس میں روح نہیں ہوتی ۔

مُحَمَّدًا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← إِنِّي رَجُلٌ مَعِيشَتِي مِنْ هَذِهِ التَّصَاوِيرِ، ← كنت عند ابن عباس فأتاه رجل ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ← عَوْفٌ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5848

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5849

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ إِسْحَاقَ، مَوْلَى آلِ الشِّفَاءِ، أَخْبَرَهُ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ، عَلَى أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ نَعُودُهُ قَالَ: فَقَالَ لَنَا أَبُو سَعِيدٍ: أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ أَوْ صُورَةٌ» يَشُكُّ إِسْحَاقُ أَيُّهُمَا قَالَ أَبُو سَعِيدٍ

رافع بن اسحاق بیان کرتے ہیں : میں اور عبد اللہ بن ابو طلحہ حضرت ابو سعید خدری ؓ کی خدمت میں ان کی عیادت کے لئے حاضر ہوئے ‘ تو حضرت ابو سعید خدری ؓ نے ہمیں بتایا : اللہ کے رسول نے ہمیں یہ بات بتائی ہے۔ ’’ بے شک فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تماثیل یا تصویر موجود ہو‘‘۔ یہ شک اسحاق نامی راوی کو ہے کہ حضرت ابو سعید ؓ نے ان دونوں میں سے کونسا لفظ بیان کیا تھا۔

إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5849

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5850

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ [ص:161] رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ» قَالَ بُسْرٌ: ثُمَّ اشْتَكَى فَعُدْنَاهُ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ سِتْرٌ، وَإِذَا فِيهِ صُورَةٌ، فَقُلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ الْخَوْلَانِيِّ: أَلَمْ يُخْبِرْنَا، وَيَدَعُ الثَّوْبَ؟ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: أَلَمْ تَسْمَعْهُ؟ قَالَ: «إِلَّا رَقْمًا فِي ثَوْبٍ؟ »

نبی اکرمﷺ کے صحابی حضرت ابو طلحہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ بے شک فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر موجود ہو ‘‘۔ بسر نامی راوی بیان کرتے ہیں: بعد میں وہ بیمار ہو گئے ہم ان کی عیادت کرنے کے لئے گئے ‘ تو ان کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا ہوا تھا جس میں تصویر بنی ہوئی تھی میں نے عبید اللہ خولانی سے کہا: کیا انہوں نے ہمیں ( تصویر کے بارے میں ) حدیث نہیں سنائی تھی اور یہ کپڑے انہوں نے لگا دیا ہے‘ تو عبید اللہ نے کہا: کیا تم نے انہیں یہ کہتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ کپڑے پر نقش و نگار کا حکم مختلف ہے ( یعنی اس کی اجازت ہے)

أَبِي طَلْحَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ← بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ← بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5850

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5851

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ، قَالَ: فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، قَالَ: فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا، فَنَزَعَ نَمَطًا تَحْتَهُ، فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ: لِمَ تَنْزِعْهُ؟ فَقَالَ: إِنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ، وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ، فَقَالَ سَهْلٌ: أَلَمْ يَقُلْ: «إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ»؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي

عبید اللہ بن عبد للہ بیان کرتے ہیں: وہ حضرت ابو طلحہ انصاری ؓ کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کےلئے گئے راوی کہتے ہیں :تو ہم نے حضرت سہل بن حنیف ؓ کو ان کےپاس پایا راوی کہتے ہیں : حضرت ابو طلحہ ؓ نے ایک شخص کو بلایا اس نے ان کے نیچے سے بچھونا نکال لیا ‘ تو حضرت سہل بن حنیف ؓ نے ان سے دریافت کیا آپ نے اسے کیوں نکالا ہے انہوں نے بتایا اس میں تصویر بنی ہوئی ہیں اور ان کے بارے میں نبی اکرمﷺ نے جو بات ارشاد فرمائی وہ آپﷺ جانتے ہیں ‘ تو حضرت تسہل نے کہا : کیا نبی اکرمﷺ نے یہ نہیں فرمایا کپڑے پر بنے ہوئے نقش ونگار کا حکم مختلف ہے ‘ تو حضرت ابو طلحہؓ نے کہا: جی ہاں ‘ لیکن میں اپنے اطمینان کے لئے( اسے بھی نکال رہا ہوں)

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← أَبِي النَّضْرِ مَوْلَی عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5851

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5852

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبِي اشْتَرَى حَجَّامًا، فَأَتَى بِمَحَاجِمِهِ فَكُسِرَتْ، فَسَأَلْتُهُ [ص:163] عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ ثَمَنِ الدَّمِ، وَثَمَنِ الْكَلْبِ، وَكَسْبِ الْبَغِيِّ، وَلَعَنَ الْوَاشِمَةَ، وَالْمُسْتَوْشِمَةَ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ، وَلَعَنَ الْمُصَوِّرَ»

عون بن ابو جحیفہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو کو دیکھا انہوں نے پچھنے لگانے والا ایک غلام خریدا وہ اپنے پچھنے لگانے کے آلات لے کر آیا ‘ تو انہیں توڑ دیا گیا میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے بتایا بے شک نبی اکرمﷺ نے خون ( یعنی پچھنے لگانے ) کی قیمت کتے کی قیمت فاحشہ عورت کی آمدن ( استعمال کرنے سے ) منع کیا ہے اور آپﷺ نے جس گودنے والی عورت اور گدوانے والی عورت ، سود کھانے والے شخص اور کھلانے والے شخص پر لعنت کی ہے اور آپﷺ نے تصویر بنانے والے پر لعنت کی ہے۔

ذَلِكَ، فَقَالَ: ← رَأَيْتُ أَبِي اشْتَرَى حَجَّامًا، فَأَتَى بِمَحَاجِمِهِ فَكُسِرَتْ، فَسَأَلْتُهُ [ص:163] ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5852

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5853

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي بَيْتِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتْرٌ مُصَوِّرٌ فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ادْخُلْ، فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ تَمَاثِيلُ، فَإِنْ كُنْتَ لَابُدَّ جَاعِلًا فِي بَيْتِكَ، فَاقْطَعْ رُءُوسَهَا أَوِ اقْطَعْهَا وَسَائِدَ، وَاجْعَلْهَا بُسُطًا»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل ؑ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرمﷺ کے گھر میں ایک پردہ تھا جس میں تصویر یں بنی ہوئی تھیں ۔ نبی اکرمﷺ نے کہا: اندر آ جائیں ‘ تو انہوں نے عرض کی: ہم ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں موجود ہوں اگر آپﷺ نے انہیں اپنےگھر میں ضرور استعمال کرنا ہے‘ تو آپﷺ ان کے سر کاٹ دیں ‘ یا انہیں کاٹ کر تکیے بنا لیں ‘ یا انہیں بچھونے بنا لیں۔

مُجَاهِدٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5853

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5854

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ الْبَارِحَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ، وَكَانَ فِي الْبَيْتِ سِتْرٌ فِيهِ تَمَاثِيلُ، وَكَانَ فِي الْبَيْتِ كَلْبٌ، فَأَمَرَ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ أَنْ يُقْطَعَ، وَأَمَرَ بِالسِّتْرِ الَّذِي فِيهِ التِّمْثَالُ أَنْ يُقْطَعَ رَأْسُ التِّمْثَالِ، وَجُعِلَ مِنْهُ وِسَادَتانِ، وَأَمَرَ بِالْكَلْبِ فَأُخْرِجَ، وَكَانَ الْكَلْبُ جَرْوًا لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمْ، قَالَ: ثُمَّ أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَمَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: میں گزشتہ رات آپ کے پاس آیا تھا ‘ لیکن میں اس لئے آپ کے گھر میں داخل نہیں ہو سکا کیونکہ گھر میں آدمی کی تصویر موجود تھی ( راوی کہتے ہیں : ) گھر میں ایک پردہ تھا جس میں تصویر بنی ہوئی تھی اور گھر میں ایک کتا بھی تھا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے تصویر کے سر کے بارے میں حکم دیاکہ اسے کاٹ دیا جائے اور جس پردے میں تصویریں بنی ہوئی تھی آپﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اس میں تصویروں کے سر کاٹ دیئے جائیں اور اس کپڑے کے ذریعے تکیے بنا لئے جائیں آپﷺ کے حکم کے تحت کتے کو باہر نکال دیا گیا وہ کتے کا بچہ تھا جس کے ساتھ حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین ؓ کھیلا کرتے تھے وہ ان کےپلنگ کے نیچے تھا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: پھر جبرائیل میرے پاس آئے اس کے بعد وہ مسلسل مجھے پڑوسی کے بارے میں تلقین کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ مجھے یوں محسوس ہوا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گی۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← مُجَاهِدًا، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5854

chevron_left Previous
1…24252627
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr