Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِئْذَانِ · حديث 5807

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثًا، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، وَكَأَنَّهُ كَانَ مَشْغُولًا، فَرَجَعَ أَبُو مُوسَى، فَفَرَغَ عُمَرُ، فَقَالَ: أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ؟ ائْذَنُوا لَهُ، قِيلَ: إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ، فَدَعَا بِهِ فَقَالَ: كُنَّا نُؤْمَرُ بِذَلِكَ، فَقَالَ: لَتَأْتِيَنِّي عَلَى ذَلِكَ بِالْبَيِّنَةِ، فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسِ الْأَنْصَارِ، فَسَأَلَهُمْ، فَقَالُوا: لَا يَشْهَدُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا أَصْغَرُنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَانْطَلَقَ بِأَبِي سَعِيدٍ، فَشَهِدَ لَهُ، فَقَالَ خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ «أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ، وَلَكِنْ سَلِّمْ مَا شِئْتَ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے حضرت عمرؓ کے ہاں اندر آنے کے لئے تین مرتبہ اجازت مانگی انہیں اجازت نہیں ملی حضرت عمرؓ شاید اس وقت مصروف تھے ‘ تو حضرت موسیٰ اشعری ؓ واپس چلے گئے جب حضرت عمرؓ فارغ ہوئے ‘ تو انہوں نے دریافت کیا : کیا میں نے عبد اللہ بن قیس کی آواز نہیں سنی تھی تم لوگ اسے اندر آنے کےلئے کہو۔ حضرت عمرؓ کو بتایا گیا وہ ‘ تو واپس چلے گئے ہیں حضرت عمرؓ نے انہیں بلوایا ( اور دریافت کیا ) ‘ تو حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے بتایا ہمیں اسی بات کا حکم دیا گیا ہے حضرت عمرؓ نے کہا: آپ اس پرکوئی ثبوت لے کر آئیں ‘ تو حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ انصار کی محفل میں تشریف لے گئے ‘ ان سے اس بارے میں دریافت کیا ‘ تو ان لوگوں نے کہا: آپ کے حق میں اس بارے میں گواہی وہ شخص دے گا ‘ جو ہم میں سب سے کم سن ہے اور وہ ابو سعید خدری ہے ‘ تو حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ حضرت ابو سعید خدری ؓ کو ساتھ لے کر گئے انہوں نے حضرت عمرؓ کے سامنے اس بات کی گواہی دی ( کہ ایسا ہی ہے ) ‘تو حضرت عمرؓ نے فرمایا نبی اکرمﷺ کا یہ حکم مجھ سے مخفی رہا بازار میں خریدو فروخت نے مجھے اس سے غافل کر دیا تاہم تم جو چاہو تسلیم کرو ( یا تم جیسے چاہو سلام کرو) ۔

عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The chapter on asking for permission · Hadith 5807

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِئْذَانِ · حديث 5808

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَقَقْتُ الْبَابَ، فَقَالَ: «مَنْ ذَا»؟ فَقُلْتُ: أَنَا، فَقَالَ: «أَنَا أَنَا» مَرَّتَيْنِ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے دروازہ کھٹکھٹایا آپﷺ نے دریافت کیا کون ہے میں نے عرض کی: میں ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے دو مرتبہ فرمایا میں ہوں، میں ہوں گویا کہ نبی اکرمﷺ نے اس بات کو نا پسند کیا۔

مَرَّتَيْنِ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ ← فَقَالَ: ← أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فَدَقَقْتُ الْبَابَ، فَقَالَ: «مَنْ ذَا»؟ فَقُلْتُ: ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The chapter on asking for permission · Hadith 5808

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِئْذَانِ · حديث 5809

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ حُجْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِهِ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ»

حضرت سہل بن سعد ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کے حجرہ مبارک میں جھانک کر دیکھا نبی اکرمﷺ کے دست مبارک میں ایک کنگھی تھی جس کے ذریعے آپﷺ اپنے سر کو کھجا رہے تھے ‘ نبی اکرمﷺ نے اسے دیکھا ‘ تو ارشاد فرمایا اگر مجھے یہ پتہ ہوتا کہ تم اس طرح جھانک رہے ہو‘ تو میں یہ کنگھی تمہاری آنکھ میں چھبو دیتا اجازت لینےکا حکم اس لئے دیا گیا تاکہ ( گھر والوں پر ) نگاہ نہ پڑے۔

بِيَدِهِ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَرَآهُ النَّبِيُّ ← اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ حُجْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The chapter on asking for permission · Hadith 5809

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5810

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، يَقُولُ: كُنَّا فِي مَجْلِسِ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَأَتَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ بِعَصًا حَتَّى وَقَفَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ، هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ، فَإِنْ أُذِنَ لَكَ، وَإِلَّا فَارْجِعْ»؟ قَالَ أُبَيٌّ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَرَجَعْتُ، ثُمَّ جِئْتُهُ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُهُ أَمْسِ، فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَقَالَ: قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ، فَلَوِ اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ؟ قَالَ: اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَوَاللَّهِ لَأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ أَوْ لَتَأْتِيَنِّي بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا، قَالَ: فَقَالَ أُبَيٌّ: وَاللَّهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَحْدَثُنَا سِنًّا، قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ، فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں :ہم لوگ حضرت ابی بن کعبؓ کی محفل میں موجود تھے اسی دوران حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ عصا ہاتھ میں لے کر تشریف لے آئے اور ٹھہر گئےانہوں نے کہا: میں آپ لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ میں سے کسی نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے‘ تین مرتبہ اجازت مانگی جائے ‘ اگر تمہیں اجازت مل جاتی ہے ‘ تو ٹھیک ہے ورنہ واپس چلے جاؤ۔ حضرت اُبی ؓ نے دریافت کیا: کیا ہوا حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے بتایا میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کے ہاں اندر آنے کے لئے گزشتہ شام تین مرتبہ اجازت مانگی مجھے اجازت نہیں ملی ‘ تو میں واپس آ گیا پھر میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا جب میں ا ن کے پاس آیا ‘تو میں نے انہیں بتایا: گزشتہ شام میں آپ کے پاس آیا تھا میں نے تین مرتبہ سلام کیا پھر میں واپس چلا گیا ‘ تو حضرت عمر ؓ نے بتایا ہم نے آپ کی آواز سن لی تھی‘ لیکن ہم اس وقت کچھ مصروف تھے اگر آپ اجازت لیتے رہتے ‘ یہاں تک کہ آپ کو اجازت مل جاتی ( تو یہ مناسب ہوتا ) ‘ تو حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے کہا: میں نے دوسری طرح اجازت لی جس طرح میں نے نبی اکرمﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم یا ‘ تو آپ اس بارے میں اپنے ساتھ کوئی گواہ لے کر آئیں ورنہ ہم آپ کی پشت پر سزا عائد کریں گے۔ راوی کہتے ہیں : تو حضرت اُبیؓ نے کہا: اللہ کی قسم آپ کےہمراہ وہ شخص اٹھ کر جائے گا ‘ جو ہم میں سب سے کم سن ہو۔ اے ابو سعید تم اٹھو ۔ راوی کہتے ہیں: تو میں کھڑا ہوااور میں حضرت عمرؓ کے پاس آیا میں نے بتایا :میں نے بھی نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:

عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5810

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5811

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رَسُولُ الرَّجُلِ إِلَى الرَّجُلِ إِذْنُهُ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک شخص کا دوسرے شخص کی طرف پیغام رساں کو بھیجنا اس کی طرف سے اجازت ( شمار ہو گا )‘‘۔

«رَسُولُ الرَّجُلِ إِلَى الرَّجُلِ إِذْنُهُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← أَيُّوبَ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5811

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5812

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَسَمَّوْا بِاسْمِي، [ص:130] وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’میرے نام کے مطابق نام رکھ لو ‘ لیکن میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو يُونُسَ، ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5812

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5813

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، قَالَ: [ص:131] حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَائِمًا بِالْبَقِيعِ، فَنَادَى رَجُلٌ آخَرُ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَمْ أَعْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّمَا دَعَوْتُ فُلَانًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَسَمَّوْا بِاسْمِي، وَلَا تَكَنَّوْا بِكُنْيَتِي»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ بقیع میں کھڑے ہوئےتھے ایک شخص نے بلند آواز میں دوسرے کو مخاطب کیا : اے ابو القاسم ! نبی اکرمﷺ متوجہ ہوئے ‘ تو اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں نے آپﷺ کو نہیں بلایا میں نے فلاں شخص کو بلایا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ میرے نام کے مطابق نام رکھ لو ‘ لیکن میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← [ص:149] ← النُّفَيْلِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، بِحِرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5813

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5814

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میرے نام اور کنیت کو جمع نہ کرو ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5814

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5815

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، بِالْفُسْطَاطِ قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ «نَهَى أَنْ يَجْمَعَ أَحَدٌ اسْمَهُ وَكُنْيَتَهُ، فَيُسَمَّى مُحَمَّدٌ أَبَا الْقَاسِمِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کوئی شخص نبی اکرمﷺ کے نام اور آپﷺ کی کنیت کو جمع کرے اور اس کا نام ابو القاسم محمد رکھا جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ، بِالْفُسْطَاطِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5815

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5816

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَنَّيْتُمْ فَلَا تَسَمَّوْا بِي، وَإِذَا سَمَّيْتُمْ بِي، فَلَا تَكَنَّوْا بِي» *

حضرت جابر ؓ روایت کرتےہیں ‘ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: ’’ جب تم کنیت اختیار کرو ‘ تو میرے نام کے مطابق نام نہ رکھو اور جب تم میرے نام کے مطابق نام رکھو ‘ تو میری کنیت کے مطابق کنیت اختیار نہ کرو‘‘۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5816

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5817

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزَّارُ، بِوَاسِطَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجْمَعُوا بَيْنَ اسْمِي وَكُنْيَتِي، أَنَا أَبُو الْقَاسِمِ، اللَّهُ يُعْطِي، وَأَنَا أَقْسِمُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ ابْنُ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ وَأَبِيهِ، وَهُمَا ثِقَتَانِ، وَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نےا رشاد فرمایا: ’’ میرے نام اور کنیت کو جمع نہ کرو میں ابو القاسم ہوں اللہ تعالیٰ عطا کرتاہے اور میں تقسیم کرتا ہوں‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) یہ روایت ابن عجلان نے مکبری کے حوالے سے اور ان کے والد دونوں سے سنی ہے یہ دونوں راوی ثقہ ہیں اور اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← جَدِّي تَمِيمُ بْنُ الْمُنْتَصِرِ، ← الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزَّارُ، بِوَاسِطَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5817

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5818

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَحَسِّنُوا أَسْمَاءَكُمْ»

حضرت ابو درراء ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ قیامت کے دن تم لوگوں کو تمہارے ناموں اور تمہارے باپ دادا کے ناموں سے بلایا جائے گا ‘ تو تم لوگ اپنے نام اچھے رکھو ‘‘۔

«إِنَّكُمْ تُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَسْمَائِكُمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِكُمْ، فَحَسِّنُوا أَسْمَاءَكُمْ» ← النَّبِيِّ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زَكَرِيَّا، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ← هُشَيْمٌ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5818

chevron_left Previous
1…212223…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr