Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ · حديث 5795

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا، فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًا أَوْ إِنَّ بَعْضَ الْبَيَانِ سِحْرٌ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: مشرق کی طرف دو آدمی آئے اور دونوں نے خطبہ دیا ان دونوں کا بیان لوگوں کو بہت پسند آیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کچھ بیان جادو ہوتے ہیں ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) بعض بیان جادو ہوتے ہیں ۔

قَدِمَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا، فَعَجِبَ النَّاسُ لِبَيَانِهِمَا، ← ابْنِ عُمَرَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Season · Hadith 5795

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ · حديث 5796

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ، بِدِمَشْقَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ*، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْبَيَانُ مِنَ اللَّهِ، وَالْعِيُّ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَلَيْسَ الْبَيَانُ كَثْرَةَ الْكَلَامِ، وَلَكِنَّ الْبَيَانَ الْفَصْلُ فِي الْحَقِّ، وَلَيْسَ الْعِيُّ قِلَّةَ الْكَلَامِ، وَلَكِنْ مَنْ سَفِهَ الْحَقَّ» * [عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ] قال الشيخ: قال الذهبي في «المغني»: «قال الدارقطني: متروك الحديث، وقال البيهقي: منسوب إلى الوضع».

حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ بیان اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور عیی شیطان کی طرف سے ہے بیان سے مراد بکثرت کلام کرنا نہیں ہے بلکہ بیان سے مراد حق کے درمیان فصل پیدا کرنا ہے اور عیی سے مراد کم گفتگو کرنا نہیں ہے بلکہ حق کے معاملے میں بے و قوفی کا مظاہرہ کرنا ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ1 اللَّهِ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ ← مُوسَى بْنُ سَهْلٍ3 الرَّمْلِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Season · Hadith 5796

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ · حديث 5797

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، [ص:114] عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِئَةِ، وَلَا يَكَادُ أَنْ يُوجَدَ فِيهَا رَاحِلَةٌ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ لوگوں کی مثال ایک سو ایسے اونٹوں کی مانند ہے جن میں سے سواری کے لئے کوئی نہیں ملتا ‘‘۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، [ص:343] ← ابْنِ شِهَابٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Season · Hadith 5797

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ · حديث 5798

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ، فَاسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ: مَنْدُوبٌ، فَرَكِبَهُ، فَرَجَعَ، وَقَالَ: «مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ، وَإِنْ وَجَدْنَاهُ لَبَحْرًا»

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں خوف پھیل گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے حضرت ابو طلحہؓ کا گھوڑا عارضی استعمال کے لئے لیا جس کا نام مندوب تھا نبی اکرمﷺ اس پر سوار ہوئے ( اور مدینہ منورہ کا چکر لگا کر ) واپس تشریف لائے آپﷺ نے ارشا دفرمایا: ہمیں خطرے کی کوئی چیز نظر نہیں آئی ہم نے ( اس گھوڑے کو تیز رفتاری میں ) سمندر کی طرح پایا ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Season · Hadith 5798

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ · حديث 5799

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتِ: اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي قُعَيْسٍ، بَعْدَمَا نَزَلَ الْحِجَابُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا آذَنُ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ فِيهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي قُعَيْسٍ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا يَمْنَعُكِ أَنْ تَأْذَنِي لِعَمِّكِ»؟ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيْسَ هُوَ الَّذِي أَرْضَعَنِي، إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ عَمُّكِ، ائْذَنِي لَهُ تَرِبَتْ يَمِينُكِ» [ص:117] قَالَ عُرْوَةُ: فَلِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: «حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعِ مَا تُحَرِّمُونَ مِنَ النَّسَبِ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : ابو قعیس کے بھائی افلح نے حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد ایک مرتبہ اندر آنے کی اجازت مانگی ‘ تو میں نے کہا: اللہ کی قسم میں انہیں اس وقت تک اجازت نہیں دوں گی ‘ جب تک ان کے بارے میں نبی اکرمﷺ سے اجازت نہیں لیتی۔ سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ میرے ہاں تشریف لائے میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! ابو قعیس کے بھائی افلح نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی ‘ تو میں نے انہیں اس وقت تک اجازت دینے سے انکار کر دیا‘ جب تک میں آپ سے اجازت نہیں لیتی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم نے اپنے چچا کو اندر آنے کی اجازت کیوں نہیں دی ۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! مجھے مرد نے دودھ نہیں پلایا تھا مجھے اس کی بیوی نے دودھ پلایا تھا ۔ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: وہ تمہارا چچا ہے تم نے اسے اجازت دے دینی تھی تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ عروہ بیان کرتی ہیں : اسی وجہ سے سیدہ عائشہ صدیقہؓ یہ فرماتی تھیں : رضاعت کی وجہ سے تم لوگ ان چیزوں کو بھی حرام سمجھو ‘ جنہیں نسب کی وجہ سے حرام قراد دیتے ہو۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← کَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمَذْحِجِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Season · Hadith 5799

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ · حديث 5800

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَائِقٌ يَسُوقُ، فَأَتَى عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم ؓ نبی اکرمﷺ کی ازواج کے ہمراہ تھیں ایک شخص ان کے اونٹ لے کر جا رہا تھا نبی اکرمﷺ اس کے پاس آ ئے اور ارشاد فرمایا: اے انجثہ ! آرام سے چلنا تم شیشے لے کر جا رہے ہو۔

«يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ» ← كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ وَسَائِقٌ يَسُوقُ، فَأَتَى عَلَيْهِ النَّبِيُّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Season · Hadith 5800

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ · حديث 5801

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ» قَالَ قَتَادَةُ: «- يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ -»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ کا ایک حدی خواں تھا جس کا نام انجثہ تھا اس کی آواز خوبصورت تھی نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے انجثہ ! آرام سے چلنا تم شیشوں کو توڑ نہ دینا۔ قتادہ کہتے ہیں : اس سے مراد کمزور خواتین تھیں۔

قَتَادَةُ يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ» ← كَانَ لِلنَّبِيِّ حَادٍ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Season · Hadith 5801

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ · حديث 5802

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحَلَبِيُّ، بِدِمَشْقَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عُبَيْدُ بْنُ هِشَامٍ الْحَلَبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ، وَكَانَ سَائِقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلیم ؓ نبی اکرمﷺ کی ازواج کے ہمراہ سفر کر رہی تھیں ایک شخص ان کے اونٹوںکو ہانک کر لے جا رہا تھا نبی اکرمﷺ نے فرمایا: آرام سے چلو تم شیشے لے کر جا رہے ہو۔

«رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ» ← كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ فِي مَسِيرٍ، وَكَانَ سَائِقٌ يَسُوقُ بِهِنَّ، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبِيهِ ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أبو نعيم عبيد بن هشام الحلبي، ← سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْحَلَبِيُّ بِدِمَشْقَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Season · Hadith 5802

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ · حديث 5803

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَأَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي مَسِيرٍ لَهُ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ: أَنْجَشَةُ، وَهُوَ يَحْدُو، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَنْجَشَةُ، رُوَيْدًا سَوْقَكَ الْقَوَارِيرَ - يَعْنِي النِّسَاءَ -»

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ ایک سفر کر رہےتھے آپﷺ کے ہمراہ ایک سیاہ فام غلام تھا جس کا نام انجشہ تھا وہ حدی پڑھتا تھا نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا: اے انجشہ آرام سے تم شیشوں کو لے کر جا رہے ہو نبی اکرمﷺ کی مراد یہ تھی کہ خواتین کو لے کر جا رہے ہو۔

أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَنَسٍ، وَأَيُّوبَ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Season · Hadith 5803

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ · حديث 5804

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، [ص:121] قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ كَهْمَسِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ» «وَكَانَ ابْنُ بُرَيْدَةَ يُصَلِّي قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ»

حضرت عبد اللہ بن مغفلؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’ دو اذانوں ( یعنی اذان اور اقامت ) کے درمیان نماز ادا کی جائے گی یہ حکم اس شخص کے لئے ہے ‘ جو ( اس دوران نماز ادا کرنا ) چاہے ‘‘۔ ( راوی بیا ن کرتے ہیں ) عبد اللہ بن بریدہ نامی راوی مغرب سے پہلے بھی دو رکعات ادا کیا کرتے تھے۔

النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← کهمس بن الحسن ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، [ص:91] ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Season · Hadith 5804

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ فَصْلٌ · حديث 5805

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: «مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَيْنِ: التَّمْرُ، وَالْمَاءُ»

حضر ت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ہماری خوراک صرف دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں کھجور اور پانی۔

«مَا كَانَ لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَيْنِ: التَّمْرُ، وَالْمَاءُ» ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Season · Hadith 5805

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِئْذَانِ · حديث 5806

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا مُوسَى، اسْتَأْذَنَ عَلَى عُمَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَرَجَعَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ، فَقَالَ: مَا رَدَّكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدُكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، فَلْيَرْجِعْ»، فَقَالَ: لِتَجِئْنِي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ، وَإِلَّا، قَالَ حَمَّادٌ: تَوَعَّدَهُ قَالَ: فَانْصَرَفَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَأَتَى مَجْلِسَ الْأَنْصَارِ فَقَصَّ عَلَيْهِمُ الْقِصَّةَ: مَا قَالَ لِعُمَرَ، وَمَا قَالَ لَهُ عُمَرُ، فَقَالُوا: لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَصْغَرُنَا، فَقَامَ مَعَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَشَهِدَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّا لَا نَتَّهِمُكَ، وَلَكِنَّ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَدِيدٌ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الْأَمْرُ بِالرُّجُوعِ لِلْمُسْتَأْذِنِ إِذَا كَانَ الشَّرْطُ مَوْجُودًا، وَهُوَ عَدَمُ الْإِذْنِ وَاجِبٌ، وَمَتَى وُجِدَ الشَّرْطُ وَهُوَ الْإِذْنُ بَطُلَ الْأَمْرُ بِالرُّجُوعِ»

عبد اللہ بن ابو سلمہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے حضرت عمرؓ کے ہاں اندر آنے کےلئے تین مرتبہ اجازت مانگی جب نہیں ملی ‘ تو وہ واپس چلے گئے اس بات کی اطلاع حضرت عمرؓ کو ملی‘ تو انہوں نے دریافت کیا آپﷺ واپس چلے گئے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے بتایا میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ جب کوئی شخص تین مرتبہ اجازت مانگے اور اسے اجازت نہ ملے‘ تو اسے واپس چلے جانا چاہئے ‘‘۔ اس پر حضرت عمرؓ نے کہا: یا ‘ تو آپ اس پر کوئی گواہ لے آئیں ورنہ پھر ( یہاں حماد نامی راوی نے یہ کہا کہ حضرت عمرؓ نے انہیں سزا دینے کا کہا) راوی بیان کرتے ہیں : حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ وہاں سےواپس آئے اور مسجد میں آ گئے وہ انصار کی محفل کے پاس تشریف لائے اور انہیں سارا واقعہ بیان کیا جو حضرت عمرؓ کو انہوں نے بیان کیا اور جو حضرت عمرؓ نے ان سے کہا ‘ تو ان لوگوں نے کہا: آپ کے ساتھ وہ شخص اٹھ کر جائے گا ‘ جو ہم میں کم سن ہو‘ تو حضرت ابو سعید خدری ؓ اٹھ کر گئے اور انہوں نے اس بات کی گواہی دی ‘ تو حضرت عمرؓ نے کہا: ہم نے آپ پر کوئی الزام عائد نہیں کیا تھا ‘ لیکن نبی اکرمﷺ کے حوالے سے منقول حدیث کا معاملہ ہوتا ہے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) اجازت لینے والے کےلئے واپس جانے کا حکم ہونا اس صورت میں ہے‘ جب شرط موجود ہو اور وہ یہ کہ اجازت کا نہ ہونا واجب ہو ‘ لیکن جب شرط پائی جائے گی اور وہ اجازت دینا ہے ‘ تو پھر واپس جانے کا حکم کا لعدم تصور ہو گا۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The chapter on asking for permission · Hadith 5806

chevron_left Previous
1…202122…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr