Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الشِّعْرِ وَالسَّجْعِ · حديث 5783

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشْعَرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَتْ بِهَا الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نےا رشاد فرمایا: کسی بھی عرب نے جو سب سے بہترین شعر کہا ہے وہ لبید کا یہ مصرعہ ہے۔ ’’ خبر دار ! اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز فانی ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of poetry and acoustics · Hadith 5783

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الشِّعْرِ وَالسَّجْعِ · حديث 5784

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَشْعَرُ بَيْتٍ قَالَتْهُ الْعَرَبُ كَلِمَةُ لَبِيدٍ: أَلَا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلٌ وَكَادَ أُمَيَّةُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ أَنْ يُسْلِمَ «

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: سب سے بہترین شعر جو کسی عرب نے کہا : ہے وہ لبید کا یہ کلمہ ہے ۔ ’’ خبر دار اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر چیز فانی ہے ‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ نے یہ بھی فرمایا ) امیہ بن ابو صلت مسلمان ہونے کے قریب پہنچ چکا تھا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْمُلَائِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of poetry and acoustics · Hadith 5784

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الشِّعْرِ وَالسَّجْعِ · حديث 5785

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ فِرْيَةً اثْنَانِ: شَاعِرٌ يَهْجُو الْقَبِيلَةَ بِأَسْرِهَا، وَرَجُلٌ انْتَفَى مِنْ أَبِيهِ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: لوگوں میں سب سے بڑے جھوٹے دو قسم کے لوگ ہیں ایک وہ شاعر جو کسی قبیلے کی ہجو کرتا ہے اور ایک وہ شخص جو اپنے با پ سے( اپنے نسب کی) نفی کرتاہے۔

عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← يُوسُفَ بْنِ مَاهَكٍ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of poetry and acoustics · Hadith 5785

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الشِّعْرِ وَالسَّجْعِ · حديث 5786

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أُنْزِلَ فِي الشِّعْرِ مَا قَدْ [ص:103] أُنْزِلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَكَأَنَّمَا تَرْمُونَهُمْ نَضْحَ النَّبْلِ»

حضرت کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! شعر کے بارے میں جو حکم نازل ہونا تھا وہ ‘ تو ہو گیا ہے (اب آپﷺ کیا فرماتے ہیں ) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مومن شخص اپنی تلوار اور اپنی زبان کے ذریعے جہاد کرتا ہے اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ ( ان کی ہجو کر کے ) گویا انہیں نیزے مارتے ہو۔

قُلْتُ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of poetry and acoustics · Hadith 5786

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الشِّعْرِ وَالسَّجْعِ · حديث 5787

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَكَيْفَ بِنِسْبَتِي»؟ فَقَالَ حَسَّانُ: لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَسَلِّ الشَّعَرَةِ مِنَ الْعَجِينِ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : حضرت حسان بن ثابت ؓ نے نبی اکرمﷺ سے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت مانگی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میرے نسب کا کیا بنے گا حضرت حسانؓ نے عرض کی: میں آپﷺ کو ان میں سے یوں نکالوں گا ‘ جس طرح آٹے میں بال نکالا جاتا ہے۔

حَسَّانُ: لَأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَسَلِّ الشَّعَرَةِ مِنَ الْعَجِينِ ← رَسُولُ اللَّهِ «فَكَيْفَ بِنِسْبَتِي»؟ ← اسْتَأَذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللهِ فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of poetry and acoustics · Hadith 5787

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الشِّعْرِ وَالسَّجْعِ · حديث 5788

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، أَخُو مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ مَكَّةَ قَامَ أَهْلُ مَكَّةَ سِمَاطَيْنِ»، قَالَ: وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ يَمْشِي وَيَقُولُ: خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ ... الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَنْزِيلِهِ ضَرْبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ ... وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ يَا رَبِّ إِنِّي مُؤْمِنٌ بِقِيلِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ، أَتَقُولُ الشِّعْرَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْ، يَا عُمَرُ، لَهَذَا أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ النَّبْلِ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرمﷺ مکہ میں داخل ہوئے‘ تو اہل مکہ دونوں اطراف میں کھڑے ہو گئے راوی بیان کرتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ چلتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہے تھے۔ ’’ اے کافروں کی اولاد تم نبی اکرمﷺ کے راستے سے ہٹ جاؤ آج ہم قرآن کے حکم کے مطابق تمہیں ماریں گے ایسی ضرب لگائیں گے جو سر کو تن سے جدا کر دے گی اور دوست کو دوست سے جدا کر دے گی اے میرے پروردگار بے شک میں تیرے فرمان پر ایمان رکھتا ہوں ‘‘۔ حضرت عمرؓ نے ان سے کہا: اے ابن راوحہ ! کیا تم نبی اکرمﷺ کے سامنے شعر کہہ رہے ہو‘ تو نبی اکرمﷺ نےفرمایا: اے عمر! اسے کرنے دو یہ اشعار ان ( کفار) کے لئے نیزے لگنے سے زیادہ سخت ( تکیف دہ ) ہیں ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الضُّبَعِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، أَخُو مُحَمَّدٍ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of poetry and acoustics · Hadith 5788

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الشِّعْرِ وَالسَّجْعِ · حديث 5789

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدَا ... عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدَا فَأَجَابَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ ... فَأَكْرِمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں: غزوہ خندق میں موقع پر انصار نے یہ اشعار پڑھے ۔ ’’ ہم و ہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کی بیعت کی ہے کہ ‘ جب تک ہم زندہ رہے جہاد کرتے رہیں گے ‘‘۔ تو نبی اکرمﷺ نے انہیں جواب دیتے ہوئے یہ شعر پڑھا۔ ’’ زندگی صرف آخرت کی زندگی ہے ( اے اللہ ) ‘ تو انصارو مہاجرین کی عزت افزائی کر ‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← شُعْبَةُ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of poetry and acoustics · Hadith 5789

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْمِزَاحِ وَالضَّحِکِ · حديث 5790

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، [ص:107] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ يُقَالُ لَهُ زَاهِرُ بْنُ حَرَامٍ، كَانَ يُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْهَدِيَّةَ، فَيُجَهِّزُهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ زَاهِرًا بَادِينَا، وَنَحْنُ حَاضِرُوهُ»، قَالَ: فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبِيعُ مَتَاعَهُ، فَاحْتَضَنَهُ مِنْ خَلْفِهِ وَالرَّجُلُ لَا يُبْصِرُهُ، فَقَالَ: أَرْسِلْنِي مَنْ هَذَا؟ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ، فَلَمَّا عَرَفَ أَنَّهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يُلْزِقُ ظَهْرَهُ بِصَدْرِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَشْتَرِي هَذَا الْعَبْدَ»؟ فَقَالَ زَاهِرٌ: تَجِدُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ كَاسِدًا، قَالَ: «لَكِنَّكَ عِنْدَ اللَّهِ لَسْتَ بِكَاسِدٍ»، أَوْ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ أَنْتَ عِنْدَ اللَّهِ غَالٍ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : دیہات سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جسے زاہر بن حرام کہا جاتا تھا وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں تحفہ پیش کیا کرتا تھا ‘ پھر جب وہ وا پس جانے لگتا تھا ‘ تو نبی اکرمﷺ بھی اسے سازو سامان دیا کرتے تھے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: زاہری ہمارا دیہاتی ہے اور ہم اس کے شہری ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ اس کے پاس تشریف لائے وہ اس وقت ( بازار میں کھڑا ) اپنا سامان فروخت کر رہا تھا نبی اکرمﷺ نےپیچھے سے اسے اپنے بازؤں کے حلقے میں لے لیا وہ شخص آپﷺ کو نہیں دیکھ سکا اس نے کہا: آپ مجھے چھوڑ دیں کون ہے ؟ جب اس نے مڑکر دیکھا اور اسے پتہ چلا کہ یہ نبی اکرمﷺ ہیں ‘ تو اس نے اپنی پشت نبی اکرمﷺ کے سینے کے ساتھ لگا دی۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا اس غلام کو کون خریدے گا زاہری نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپﷺ مجھے بہت کم قیمت پائیں گے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم کم قیمت نہیں ہو ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم قیمتی ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of banter and laughter · Hadith 5790

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْمِزَاحِ وَالضَّحِکِ · حديث 5791

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِهَابٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: رَأَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَارِيَةً يَتِيمَةً عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ شِبْتِ، لَا أَشَبَّ اللَّهُ قَرْنَكِ»، فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: لَقَدْ دَعَوْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى يَتِيمَتِي أَنْ لَا يُشِبَّ اللَّهُ قَرْنَهَا، فَوَاللَّهِ لَا تَشِبُّ أَبَدًا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ، أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَ رَبِّي عَهْدًا: أَيُّمَا أَحَدٍ مِنْ أُمَّتِي دَعَوْتُ عَلَيْهِ لَيْسَ مِنْ أَهْلِهَا أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا، أَوْ قُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ »

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے سیدہ ام سلیم ؓ کے ہاں ایک یتیم لڑکی دیکھی سیدہ ام سلیمؓ حضرت انس بن مالکؓ کی والدہ ہیں نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا؛ تمہارے سفید بال آ گئے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تمہاری چٹی کو سفید نہ کرے۔ سیدہ ام سلیمؓ نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپﷺ نے میری یتیم بچی کے لئے یہ دعا کی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کی چٹیا کو سفید نہ کرے ۔ اللہ کی قسم!ْ یہ تو کبھی سفید نہیں ہو گی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے ام سلیم! کیا تم یہ بات نہیں جانتی کہ میں نے اپنے پروردگار سے یہ عہد لیا ہے ‘ میں اپنی امت کے جس بھی فرد کے لئے دعائے ضرر کروں اور وہ اس کا مستحق نہ ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ اس دعا کو اس کے حق میں طہارت کے حصول کا ذریعہ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب کے حصول کا ذریعہ بنا دے گا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← مُؤَمَّلُ بْنُ اِھَابٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of banter and laughter · Hadith 5791

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْمِزَاحِ وَالضَّحِکِ · حديث 5792

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، وَمُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا»

حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو میں جابتا ہوں اگر تم جان لو ‘ تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو‘‘۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ، وَمُوسَى بْنِ أَنَسٍ، ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of banter and laughter · Hadith 5792

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْمِزَاحِ وَالضَّحِکِ · حديث 5793

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جو میں جانتا ہوں اگر تم جان لو‘ تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← عَقِیلٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ السَّلَامِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of banter and laughter · Hadith 5793

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْمِزَاحِ وَالضَّحِکِ · حديث 5794

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ [ص:111] وَهُوَ يَذْكُرُ النَّاقَةَ، وَمَنْ عَقَرَهَا، فَقَالَ: «{إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا} [الشمس: 12] انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَارِمٌ عَزِيزٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ، مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ» ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ، فَقَالَ: «أَلَا لِمَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ، وَلَعَلَّهُ يُضَاجِعُهَا فِي آخِرِ يَوْمِهِ» ثُمَّ وَعَظَهُمْ فِي الضَّحِكِ مِنَ الضَّرْطَةِ، فَقَالَ: «أَلَا لِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ؟! »

حضرت عبد اللہ بن زمہ ؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرمﷺ کو خطبہ کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا نبی اکرمﷺ نے(حضرت یونس ؓ کی ) اونٹنی اور اس کے پاؤں کاٹنے والے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے ) ’’ جب ان میں سے بد بخت ترین شخص اٹھا ‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ نے فرمایا) اس اونٹنی کے لئے وہ شخص اٹھا جو اپنے قبیلے میں ابو زمعہ کی طرح نمایاں طاقت ور اور بہتر حیثیت رکھتا تھا ‘ پھر نبی اکرمﷺ نے خواتین کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا خبر دار کوئی شخص اپنی بیوی کی پٹائی اس طرح کیوں کرتا ہے ‘ جس طرح غلام کو مارا جاتا ہے ‘ جب کہ اسی دن کے آخری حصے میں اس نے اسی عورت کے ساتھ ہی لیٹنا ہوتا ہے پھر نبی اکرمﷺ نے ہوا خارج ہونے پر ہنسنے کے حوالے سے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا خبر دار کوئی شخص ایسی بات کیاں ہنستا ہے ‘جو وہ خود کرتا ہے۔

النِّسَاءِ. ← "انْبَعَثَ لَهَا رَجُلٌ عَارِمٌ عَزِيزٌ مَنِيعٌ فِي رَهْطِهِ مِثْلُ أَبِي زَمْعَةَ" ثُمَّ ← فِي خُطْبَتِهِ وَهُوَ يَذْكُرُ النَّاقَةَ، وَمَنْ عَقَرَهَا، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter of banter and laughter · Hadith 5794

chevron_left Previous
1…192021…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr