صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5567
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ وَدَمٌ نَبَتَا عَلَى سُحْتٍ النَّارُ أَوْلَى بِهِ، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، النَّاسُ غَادِيَانِ: فَغَادٍ فِي فَكَاكِ نَفْسِهِ فَمُعْتِقُهَا، وَغَادٍ مُوبِقُهَا، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، الصَّلَاةُ قُرْبَانٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، [ص:379] وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يَذْهَبُ الْجَلِيدُ عَلَى الصَّفَا»
حضرت کعب بن عجرہ ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے کعب بن عجرہ ! ایسا گوشت اور خون جنت میں داخل نہیں ہوں گے جن کی نشو ونما حرام پر ہوئی ہو آگ ان کے زیادہ لائق ہے ۔ اے کعب بن عجرہ! لوگ دو طرح کی حالت میں نکلتے ہیں۔ ایک شخص اپنے آپ کو رہاکروا کے خود کو آزاد کروا لیتا ہے اور ایک خود کو غلام بنوا لیتا ہے‘‘۔ اے کعب بن عجرہ! نماز قربت کے حصول کا باعث ہے صدقہ برہان ہے روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہ کو یوں ختم کر دیتا ہے ‘ جس طرح کوئی قوت والا شخص صفا پر جاتا ہے۔
کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ بَشِيرٍ، ← عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← أَبُو يَعْلَى
Hadith 5567
