Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5567

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ وَدَمٌ نَبَتَا عَلَى سُحْتٍ النَّارُ أَوْلَى بِهِ، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، النَّاسُ غَادِيَانِ: فَغَادٍ فِي فَكَاكِ نَفْسِهِ فَمُعْتِقُهَا، وَغَادٍ مُوبِقُهَا، يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، الصَّلَاةُ قُرْبَانٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، [ص:379] وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يَذْهَبُ الْجَلِيدُ عَلَى الصَّفَا»

حضرت کعب بن عجرہ ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اے کعب بن عجرہ ! ایسا گوشت اور خون جنت میں داخل نہیں ہوں گے جن کی نشو ونما حرام پر ہوئی ہو آگ ان کے زیادہ لائق ہے ۔ اے کعب بن عجرہ! لوگ دو طرح کی حالت میں نکلتے ہیں۔ ایک شخص اپنے آپ کو رہاکروا کے خود کو آزاد کروا لیتا ہے اور ایک خود کو غلام بنوا لیتا ہے‘‘۔ اے کعب بن عجرہ! نماز قربت کے حصول کا باعث ہے صدقہ برہان ہے روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہ کو یوں ختم کر دیتا ہے ‘ جس طرح کوئی قوت والا شخص صفا پر جاتا ہے۔

کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ بَشِيرٍ، ← عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي جَمِيلَةَ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5567

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5568

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ بَانَكَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا عَائِشَةُ إِيَّاكِ وَمُحَقَّرَاتِ الْأَعْمَالِ، فَإِنَّ لَهَا مِنَ اللَّهِ طَالِبًا»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرمﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے عائشہ صدیقہؓ! بظاہر چھوٹے نظر آنے والے ( گناہوں سے ) بچنے کی کوشش کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے حوالے سے بھی باز پرس ہو گی۔

عَائِشَةَ ← عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ، ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← سَعِيدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ بَانَكَ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 5568

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5569

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْحَرَامِ سُتْرَةً مِنَ الْحَلَالِ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ اسْتَبْرَأَ لِعِرْضِهِ وَدِينِهِ، وَمَنْ أَرْتَعَ فِيهِ كَانَ كَالْمُرْتِعِ إِلَى جَنْبِ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي الْأَرْضِ مَحَارِمُهُ»

حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ۔ ’’ اپنے اور حرام کے درمیان حلال کے ذریعے رکاوٹ بنا لو جو شخص ایسا کر لے گا وہ اپنی عزت اور دین کو محفوظ کر لے گا اور جو شخص اس میں چرنے کی کوشش کرے گا ‘ تو وہ چراگاہ کے پہلو میں چرنے والا ہو گا اور اس بات کا احتمال موجود ہے ‘ وہ چراگاہ کے اندر داخل ہو جائے ہر بادشاہ چراگاہ ہوتی ہے ۔ زمین میں اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← عبد الله بن عياش القتباني، ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 5569

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5570

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، عَبْدَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا عَلِيُّ إِنَّ لَكَ كَنْزًا، وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا، فَلَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ»

حضرت علی بن ابو طالب ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا: اے علی! تمہارا ایک خزانہ ہے اور تم دو قزنوں والے ہو۔ ایک نظر کے بعد دوسری نظر نہ اٹھاؤ کیونکہ تمہیں پہلی کا حق حاصل ہے ‘ لیکن دوسری کا حق حاصل نہیں ہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الطُّفَيْلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، عَبْدَانُ،

Hadith 5570

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5571

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَبِي الزَّرْقَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ: «سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفُجَاءَةِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «الْأَمْرُ بِصَرْفِ الْبَصَرِ أَمَرُ حَتْمٍ عَمَّا لَا يَحِلُّ، وَهُوَ مُقِرُّونٌ بِالزَّجْرِ عَنْ ضِدِّهِ وَهُوَ النَّظَرُ إِلَى مَا حَرُمَ»

حضرت جریر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ سے اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اپنی نگاہ کو پھیر لوں ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نظر کو پھیرنے کا حکم لازمی طور پر ہے ‘جو اس چیز کے بارے میں ہے ‘ جوجائز نہیں ہے اور یہ اس کی متضاد سے ممانعت کے ہمراہ ملا ہوا ہے اور وہ چیز یہ ہے ‘ جسے حرام قرار دیا گیا ہو اس کی طرف ( دیکھنا منع ہے )

ضِدِّهِ وَهُوَ النَّظَرُ إِلَى مَا حَرُمَ» ← أَبُو حَاتِمٍ «الْأَمْرُ بِصَرْفِ الْبَصَرِ أَمَرُ حَتْمٍ عَمَّا لَا يَحِلُّ، وَهُوَ مُقِرُّونٌ ← نَظْرَةِ الْفُجَاءَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي. ← سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ← جَرِيرٌ ← اَبِیْ زُرْعَۃَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِیْرٍ، ← عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، ← يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← زيد بن أبي الزرقاء ← هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Hadith 5571

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5572

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً، فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ فَقَضَى حَاجَتَهُ وَخَرَجَ، وَقَالَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا أَقْبَلَتْ، أَقْبَلَتْ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً أَعْجَبَتْهُ فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک خاتون کو دیکھا ( وہ آپ کو اچھی لگی ) آپ سیدہ زینب ؓ کے ہاں تشریف لائے آپﷺ نے اپنی خواہش کو پورا کیا پھر آپﷺ ( گھر سے باہر ) تشریف لائے اور ارشاد فرمایا : عورت جب آتی ہے ‘تو شیطان کی شکل میں آتی ہے ۔ جب کوئی شخص کسی عورت کو دیکھے اسےاچھی لگی ‘ تو اسے اپنی بیوی کے پاس جانا چاہئے کیونکہ اس کی بیوی کے پاس بھی وہی کچھ ہوتا ہے ‘جو اس عورت کے پاس ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 5572

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5573

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ الْجُبْلَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ الَّتِي تُعْجِبُهُ فَلْيَرْجِعْ إِلَى أَهْلِهِ حَتَّى يَقَعَ بِهِمْ، فَإِنَّ ذَلِكَ مَعَهُمْ»

حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ جب کوئی کسی ایسی عورت کو دیکھے جو اسےا چھی لگے ‘ تو اس شخص کو اپنی بیوی کے پاس جانا چاہئے اور اس کے ساتھ صحبت کرنی چاہئے کیونکہ اس کے پاس بھی وہی ( لطف اور قربت ہو گی) ‘‘۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَدَقَةَ الْجُبْلَانِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Hadith 5573

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5574

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، [ص:386] عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عُرْيَةِ الرَّجُلِ، وَلَا تَنْظُرُ الْمَرْأَةُ إِلَى عُرْيَةِ الْمَرْأَةِ، وَلَا يُفْضِي الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فِي الثَّوْبِ، وَلَا تُفْضِي الْمَرْأَةُ إِلَى الْمَرْأَةِ فِي الثَّوْبِ»

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ کوئی شخص دوسرے شخص کی شرماگاہ کی طرف نہ دیکھے اور کوئی عورت کسی دوسری عورت کی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھے کوئی مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ ( برہنہ ہو کر ) ایک ہی کپڑے میں نہ لیٹے اور کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ ( برہنہ ہو کر ) ایک ہی کپڑے میں نہ لیٹے ‘‘۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، [ص:386] ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 5574

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5575

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ نَبْهَانَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا وَمَيْمُونَةُ، عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يَسْتَأْذِنُ، وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ ضُرِبَ الْحِجَابُ، فَقَالَ: «قُومَا» فَقُلْنَا: إِنَّهُ مَكْفُوفٌ وَلَا يُبْصِرُنَا، قَالَ: «أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا لَا تُبْصِرَانِهِ؟! » * قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا «لَفْظَةُ اسْتِخْبَارٍ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنْ نَظَرِهِمَا إِلَى الرَّجُلِ الَّذِي كُفَّ، وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ النِّسَاءَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِنَّ النَّظَرُ إِلَى الرِّجَالِ إِلَّا أَنْ يَكُونُوا لَهُنَّ بِمَحْرَمٍ، سَوَاءٌ كَانُوا مَكْفُوفَيْنِ أَوْ بُصَرَاءَ»

سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں : میں اور میمونہ ؓ نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھیں ۔ اسی دوران ابن ام مکتوم آئے۔ انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی یہ حجاب مانگی یہ حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد کی بات ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم دونوں اٹھ جاؤ ہم نے عرض کی: یہ ‘ تو نابینا ہے یہ ہمیں نہیں دیکھ سکتے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا تم دونوں نابینا ہو کیا تم دونوں اسے نہیں دیکھو گی ۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) ’’ کیا تم نابینا ہو ‘‘۔ یہاں پر لفظی طور پر خبر معلوم کی جا رہی ہے ‘ لیکن اس کے ذریعے مراد اس بات کی ممانعت کرنا ہے ‘ وہ دونوں خواتین اس مرد کی طرف دیکھیں جو نابینا ہے اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے ‘ خواتین کے لئے بھی مردوں کی طرف دیکھنا حرام ہے البتہ محرم مردوں کا حکم مختلف ہے اور یہ حرمت برابر ہے خواہ وہ لوگ نابینا ہوں یا بینا ہوں۔

وَمَيْمُونَةُ، عِنْدَ النَّبِيِّ فَجَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يَسْتَأْذِنُ، وَذَلِكَ بَعْدَ ← كُنْتُ ← أُمِّ سَلَمَةَ ← نبهان ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5575

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5576

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ نَبْهَانَ، حَدَّثَهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ، قَالَتُ: فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرَ بِالْحِجَابِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «احْتَجِبَا مِنْهُ» فَقَالَتَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: أَلَيْسَ هُوَ أَعْمَى فَمَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا، قَالَ [ص:390] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ؟ «

سیدہ اما سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ وہ اور سیدہ میمونہ ؓ نبی اکرمﷺ کے پاس موجود تھیں۔ سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں : ہم نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھیں ہوئی تھیں۔ اس دوران ابن ام مکتوم آ گئے وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد کی بات ہے۔ سیدہ ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم دونوں اس سے پردہ کرو ان دونوں نے عرض کی:یا رسول اللہﷺ! کیا یہ نابینا نہیں ہے یہ ‘ تو ہمیں دیکھ بھی نہیں سکیں گے‘ اور ہمیں پہچان بھی نہیں سکیں گے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا:کیا تم دونوں اسےنہیں دیکھ رہی ہو۔

أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ وَمَيْمُونَةُ، ← ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ نَبْهَانَ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 5576

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5577

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى عَنِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى فَرْجِ امْرَأَتِهِ، فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْهَا عَطَاءً، فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْهَا عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: «كُنْتُ اغْتَسِلُ أَنَا وَحِبِّي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ، تَخْتَلِفُ فِيهِ أَكُفُّنَا» وَأَشَارَتْ إِلَى إِنَاءٍ فِي الْبَيْتِ قَدْرَ سِتَّةِ أَقْسَاطٍ

عتبہ بن ابو حکیم بیان کرتے ہیں: انہوں ے سلیمان بن موسیٰ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو اپنی بیوی کی شرم گاہ کی طرف دیکھتا ہے ‘ تو سلیمان نے بتایا میں نے اس بارے میں عطا سے دریافت کیا تھا ‘ تو انہوں نے بتایا میں نے اس بارے میں سیدہ عائشہ صدیقہؓ سے دریافت کیا تھا ‘ تو سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے بتایا میں اور میرے محبوب نبی اکرمﷺ ایک ہی برتن کے ذریعے غسل کرتے تھے جس میں ہماری ہتھیلیاں آگے پیچھے داخل ہوتی تھیں۔ سیدہ عائشہ ؓ نے گھڑی میں موجود ایک برتن کی طرف اشارہ کر کے یہ بات بتائی جس کی مقدار 6 قسط ( جتنی تھی)

کُنْتُ أَغْتَسِلُ ← سَأَلْتُ عَنْهَا عَائِشَةَ، ← سَأَلْتُ عَنْهَا عَطَاءً، ← الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى فَرْجِ امْرَأَتِهِ، ← عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5577

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5578

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ، دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، قَالَ: فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ، قَالَ: فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ، وَقَعَدَ ثَلَاثَةٌ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، فَرَجَعَ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا، فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلِقُوا، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ، فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينُ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ} [الأحزاب: 53] إِلَى قَوْلِهِ {إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا} [الأحزاب: 53]»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرمﷺ نے سیدہ زینب بنت جحشؓ کے ساتھ شادی کی ‘ تو آپ نے لوگوں کی دعوت کی لوگوں نے کھانا کھا لیا‘ تو بیٹھ کر بات چیت کرنے لگے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے یوں ظاہر کیا جسے آپ اٹھنے لگے ہیں ‘ لیکن لوگ اس کے باوجود نہیں اٹھے جب آپ ﷺ نے یہ صورت حال دیکھی‘ تو آپﷺ کھڑے ہو گئے۔ حاضرین میں سے بھی کچھ لوگ کھڑے ہو گئے ‘لیکن تین پھر بھی بیٹھے رہے۔ نبی اکرمﷺ ( باہر سے ہو کر ) واپس تشریف لائے ‘تو وہ لوگ پھر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپﷺ پھر واپس تشریف لے گئے‘ تو وہ لوگ اٹھے اور چلے گئے ۔ میں آیا اور میں نے نبی اکرمﷺ کو اس بارے میں بتایا: وہ لوگ چلے گئے ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ تشریف لائے ‘ یہاں تک کہ آپﷺ گھر کے اندر داخل ہو گئے۔ میں اندر داخل ہونے لگا ‘ تو آپﷺ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ( اس موقع پر ) یہ آیت نازل کی تھی۔ ’’ اے ایمان والوں! تم نبی اکرمﷺ میں اس وقت تک داخل نہ ہو‘ جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے ’’ بے شک یہ چیز اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی ہے‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَبُو مِجْلَزٍ ← أَبِي ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5578

chevron_left Previous
1234…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr