صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْمَدْحِ · حديث 5771
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، يَقُولُ وَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عُمَارَةَ، وَلَّيْتَ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَمْ يُوَلِّ، وَلَكِنْ عَجِلَ سَرَعَانُ الْقَوْمِ فَرَشَقَتْهُمْ هَوَازِنُ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِرَأْسِ بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَهُوَ يَقُولُ: «[ص:85] أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ، أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ»
حضرت براء ؓ کے بار ے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا اے ابو عمارہ آپ غزوہ حنین کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ‘ تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک میرا تعلق ہے ‘ تو میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ نبی اکرمﷺ نے پیٹھ نہیں پھیری تھی البتہ لوگوں میں سے کچھ جلد باز لوگ جب ہوازن قبیلے کے تیروں کے نشانے پر آئے‘ تو (و ہ پیچھے ہٹ گئے) اس وقت حضرت ابو سفیان بن حارثؓ نے نبی اکرمﷺ کے سفید خچر کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور نبی اکرمﷺ فرما رہے تھے :میں نبی ہوں یہ بات جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔
فَأَشْهَدُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← إِمَّا ← يَا أَبَا عُمَارَةَ، وَلَّيْتَ يَوْمَ حُنَيْنٍ؟ ← وَجَاءَهُ رَجُلٌ ← الْبَرَاءِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Praise door · Hadith 5771
