صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْغِیبَۃِ · حديث 5759
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ»؟ قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ»، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا أَقُولُ؟ قَالَ: «فَإِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ»
حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ کیا تم لوگ جانتے ہو غنیمت کیا ہے لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس میں موجود خامی کے ہمراہ کرو ( لوگوں نے) عرض کی:اس بارے میں اس کی آپﷺ کی کیا رائے ہے ‘ اگر وہ چیز واقعی میرے بھائی میں موجود ہو ‘ جس کا میں نے ذکرکیا ہے ۔نبی اکرمﷺ نےا رشاد فرمایا: اگر وہ چیز واقعی اس میں موجود ہو ‘ جس کا تم نے ذکر کیاہے ‘ تو تم نے اس کی غنیمت کی اور تم نے جس کا ذکر کیا ہے اگر وہ اس میں موجود نہ ہو‘ تو پھر تم نے اس پر بہتان لگایا‘‘۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ
Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of the unseen · Hadith 5759
