Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5747

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، وَفُلَانًا»، وَدَعَا عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: 128]

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیا ن کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو فجر کی نماز میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یہ کہتے ہوئے سنا۔ ’’ اے ہمارے پروردگار حمد تیرے لئے مخصوص ہے ‘‘ یہ دوسری رکعت کی بات ہے ‘ پھر آپﷺ نے یہ کہا: ’’ اے اللہ فلاں لعنت کر اور فلاں پر لعنت کر ۔ نبی اکرمﷺ نے منافقین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے خلاف دعائے ضرر کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ ’’ تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے خواہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے بے شک وہ ظالم ہیں ‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5747

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5748

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ السَّارِقَ يَسْرِقُ الْبَيْضَةَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ، وَيَسْرِقُ الْحَبْلَ فَتُقْطَعُ يَدُهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ بِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخِطَابِهِ هَذَا بَيْضَةَ الْحَدِيدِ أَوْ بَيْضَةَ النَّعَامَةِ الَّتِي قِيمَتُهَا تَبْلُغُ رُبْعَ دِينَارٍ فَصَاعِدًا، وَكَذَلِكَ الْحَبْلُ، أَرَادَ بِهِ الْحِبَالَ الْكِبَارَ الَّتِي تَكُونُ لِلْآبَارِ الْعَمِيقَةِ الْقَعْرِ، أَوْ لِلْمَرَاكِبِ الْعَمَّالَةِ فِي الْبَحْرِ، وَذَلِكَ أَنَّ أَهْلَ الْحِجَازِ [ص:60] الْغَالِبُ عَلَيْهِمُ الْآبَارُ الْعَمِيقَةُ الْقَعْرِ، وَعَلَيْهَا بَكَرَاتٌ لَهُمْ بِحِبَالِ الدِّلَاءِ تَدُورُ، فَتُتْرَكَ بِاللَّيْلِ عَلَى حَالِهَا، وَهَكَذَا حِبَالُ الْمَرَاكِبِ، لِأَنَّ الْمَرْكِبَ إِذْ أَرْسَى رُبَّمَا طُرِحَتِ الْمَرَاسِي بِحَالِهَا بَرًّا، فَتَمُرُّ بِهِ السَّابِلَةُ، فَزَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَطَّابِ مَسَّ شَيْءٍ مِنْهَا عَلَى سَبِيلِ الِاسْتِحْلَالِ دُونَ الِانْتِفَاعِ بِهَا»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں ‘نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ چورپرلعنت کرے جو ایک انڈہ ( یا ڈھال ) چوری کر تا ہے ‘ تو اس کے نتیجے میں اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے وہ ایک رسی چوری کرتاہے ‘ تو اس کاہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) اس بات کا احتمال موجود ہے ‘ نبی اکرمﷺ نے اس فرمان کا لفظ ’’ انڈہ‘‘ کے ذریعے لوہے کا ٹکڑا مراد لیا ہو یا شتر مرغ کا انڈا مراد لیا ہو ‘جس کی قیمت ایک چوتھائی دینا ر یا اس سے زیادہ کے برابر ہوتی ہے اسی طرح رسی کے ذریعے وہ رسی لی ہو جو بڑی ہوتی ہے ‘ جو گہرے کنوؤں میں استعمال ہوتی ہے یا سمندر میں کشتیوں وغیرہ کے لئے استعمال ہوتی ہے اس کی وجہ سے یہ ہے کہ اہل حجاز کے ہاں زیادہ تر کنویں گہرے ہوتے ہیں وہاں ڈولوں کے ساتھ جور سیا ں ہوتی ہیں وہ گھومتی رہتی ہیں انہیں رات کے وقت اسی حالت میں چھوڑ دیاجاتاہے اسی طرح سواریوں ( یا کشتیوں )رسیوں کاعالم ہے کیونکہ جب سواری کو چھوڑ دیا جاتا ہے ‘ تو بعض اوقات اس کی رسیاں خشکی پر اسی عالم میں رہ جاتی ہیں ‘ جس پر نمی والی ہوا گزرتی ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ان الفاظ کے ذریعے ایسی کسی بھی چیز کو چھونے سے منع کیا ہے ‘ جب کہ آدمی اسے ذاتی ملکیت میں لے‘ اس سے مراد یہ نہیں ہے ‘ اس سے نفع حاصل کرنے سے منع کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5748

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5749

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سِتَّةٌ لَعَنْتُهُمْ، وَلَعَنَهُمُ اللَّهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ: الزَّائِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَالْمُكَذِّبُ بِقَدَرِ اللَّهِ، وَالْمُسَلَّطُ بِالْجَبَرُوتِ لِيُذِلَّ بِذَلِكَ مَنْ أَعَزَّ اللَّهُ، وَلِيُعِزَّ بِهِ مَنْ أَذَلَّ اللَّهُ، وَالْمُسْتَحِلُّ لِحَرَمِ اللَّهِ، وَالْمُسْتَحِلُّ مِنْ عِتْرَتِي مَا حَرَّمَ اللَّهُ، وَالتَّارِكُ لِسُنَّتِي»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : چھ لوگوں پر میں نے لعنت کی ہے اور ان پر اللہ تعالیٰ نے بھی لعنت کی ہے اور ہر اس نبی نے لعنت کی ہے ‘ جس کی دعا مستجاب ہوتی ہے ‘ ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب میں اضافہ کرنےوالا شخص ، اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو جھٹلانے والا شخص ، ظلم کے طور پر مسلط کیے جانے والا حکمران تاکہ وہ حکومت کے ذریعے اس شخص کو ذلیل کرے جسے اللہ تعالیٰ نے عزت عطا کی ہے اور اس شخص کو عزت دے جسے اللہ تعالیٰ نے رسوا کیا ہے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیز کو حلال قرار دینے والا شخص اور میری عترت کے بارے میں اس چیز کو حلال قرار ینے والے شخص جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے اور میری سنت کو چھوڑنے والا شخص ۔

عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5749

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5750

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ [ص:62] عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَلَّافُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «لَعَنَ الْمُذَكَّرَاتِ مِنَ النِّسَاءِ، وَالْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیا ن کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے مردوں کےساتھ مشابہت رکھنے والی خواتین اور خواتین کے ساتھ مشابہت رکھنے والی خواتین اور خواتین کے ساتھ مشابہت رکھنے والے مردوں پر لعنت کی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ [ص:62] عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَلَّافُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5750

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5751

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:63] أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالِ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اس شخص پر لعنت کی ہے ‘جو عورتوں کا سالباس پہنتا ہے اور اس عورت پر لعنت کی ہے ‘ جو مردوں کا سالباس پہنتی ہے۔

«لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← [ص:63] أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5751

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5752

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ، بِوَاسِطَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ الْكُرْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ وَسَأَلَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لُبْسَةَ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اس شخص پر لعنت کی ہے ‘جو عورتوں کا سالباس پہنتا ہے اور اس عورت پر لعنت کی ہے ‘ جو مردوں کا سالباس پہنتی ہے۔

«لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ الرَّجُلَ يَلْبَسُ لِبْسَةَ الْمَرْأَةِ، وَالْمَرْأَةَ تَلْبَسُ لِبْسَةَ الرَّجُلِ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← مَنْصُورُ بْنُ سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ وَسَأَلَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ← جَابِرُ بْنُ الْكُرْدِيِّ، ← الْخَلِيلُ بْنُ أَحْمَدَ، بِوَاسِطَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5752

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5753

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ، سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ هِلَالٍ الصَّدَفِيَّ، وَأَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولَانِ: سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي رِجَالٌ يَرْكَبُونَ عَلَى سُرُوجٍ كَأَشْبَاهِ الرِّجَالِ، يَنْزِلُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْمَسَاجِدِ، نِسَاؤُهُمْ كَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ، عَلَى رُءُوسِهِنَّ كَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْعِجَافِ الْعَنُوهُنَّ فَإِنَّهُنَّ مَلْعُونَاتٌ، لَوْ كَانَ وَرَاءَكُمْ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ خَدَمَهُنَّ نِسَاؤُكُمْ، كَمَا خَدَمَكُمْ نِسَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ»

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو سنا آپﷺ نے ارشاد فرمایا: آخری زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے جو مردوں کی طرح زین پر سوار ہوں گے وہ مردو ں‘ کے ساتھ مشابہت رکھتے ہوں گے وہ مسجدوں کے دروازوں پر پڑاؤ کریں گے ان کی عورتیں لباس پہننے کے باوجود برہنہ ہوں گی ان کے سروں پر بختی اونٹوں کی طرح کی کوہان ( نما بالوں کے جوڑے ) ہوں گے تم لوگ ان پر لعنت کرو کیونکہ وہ لعنت یافتہ ہوں گی اگر تمہارے بعد کوئی اور امت ہوتی ‘ تو ان کی خواتین ان کی خدمت کرتیں ‘ جس طرح تم سے پہلے کی امتوں کی خواتین تمہاری خدمت کرتی رہی ہیں۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عِيسَى بْنَ هِلَالٍ الصَّدَفِيَّ، وَأَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولَانِ: ← أَبِي ← عَبْدُ اللہِ بْنُ عَیَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5753

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5754

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: سب سے بڑا شخص وہ ہے ‘ جو دوغلا ہو جو اس کے پاس یہ رخ لے کر آئے اور اس کے پاس وہ رخ لے کر جائے۔

«إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Double-sided door · Hadith 5754

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5755

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ برے ترین افراد میں سے ایک شخص دوغلا ہے ‘ جو اس کے پاس یہ چہرہ لے کر آتا ہے اور اس کے پاس وہ چہرہ لے کر جاتا ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Double-sided door · Hadith 5755

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5756

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَ ذَا وَجْهَيْنِ فِي الدُّنْيَا كَانَ لَهُ لِسَانَانِ مِنْ نَارٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت عمار بن یاسرؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص دنیا میں دوغلا ہو گا قیامت کے دن اس کی آگ سے بنی ہوئی دو زبانیں ہوں گی‘‘۔

النَّبِيِّ ← عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ ← نُعَيْمِ بْنِ حَنْظَلَةَ ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← شَرِيکٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Double-sided door · Hadith 5756

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ ذِی الْوَجْھَیْنِ · حديث 5757

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ، فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا، وَتَجِدُونَ خَيْرَ النَّاسِ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَكْرَهَهُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ، وَتَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ، وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ تم لوگوں کو معد نیات کی شکل میں پاؤ گے ان میں سے زمانہ جاہلیت میں جو لوگ اچھے تھے وہ اسلام میں بھی اچھے شمار ہوں گے جبکہ وہ( دینی احکام کی) سمجھ بوجھ حاصل کر لیں اور اس معاملے کے بارے میں تم لوگوں میں سب سے بہتر اس شخص کو پاؤ گے جو اسے سب سے زیادہ نا پسند کرتا ہوں اس سے پہلے کہ وہ اس میں مبتلا ہو جائے اور تم لوگوں میں سب سے زیادہ برا دوغلے شخص کو پاؤ گے جو ان لوگوں کے پاس ایک چہرہ لے کر آتا ہے اور ان کے پاس اس چہرے کے ساتھ جاتا ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Double-sided door · Hadith 5757

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْغِیبَۃِ · حديث 5758

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟ » قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «أَنْ تَذْكُرَ أَخَاكَ بِمَا فِيهِ»، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا ذَكَرْتُ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَ فِيهِ مَا ذَكَرْتَ فَقَدِ اغْتَبْتَهُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ مَا ذَكَرْتَ فَقَدْ بَهَتَّهُ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ کیا تم لوگ جانتے ہو غنیمت کیا ہے لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ کہ تم اپنے بھائی کا ذکر اس میں موجود خامی کے ہمراہ کرو ( لوگوں نے) عرض کی:اس بارے میں اس کی آپﷺ کی کیا رائے ہے ‘ اگر وہ چیز واقعی میرے بھائی میں موجود ہو ‘ جس کا میں نے ذکرکیا ہے ۔نبی اکرمﷺ نےا رشاد فرمایا: اگر وہ چیز واقعی اس میں موجود ہو ‘ جس کا تم نے ذکر کیاہے ‘ تو تم نے اس کی غنیمت کی اور تم نے جس کا ذکر کیا ہے اگر وہ اس میں موجود نہ ہو‘ تو پھر تم نے اس پر بہتان لگایا‘‘۔

أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فِي أَخِي مَا ذَكَرْتُ؟ ← «أَنْ تَذْكُرَ أَخَاكَ بِمَا فِيهِ»، ← اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ← «أَتَدْرُونَ مَا الْغِيبَةُ؟ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of the unseen · Hadith 5758

chevron_left Previous
1…161718…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr