صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5747
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ: «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ، ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ الْعَنْ فُلَانًا، وَفُلَانًا»، وَدَعَا عَلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ} [آل عمران: 128]
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیا ن کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو فجر کی نماز میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد یہ کہتے ہوئے سنا۔ ’’ اے ہمارے پروردگار حمد تیرے لئے مخصوص ہے ‘‘ یہ دوسری رکعت کی بات ہے ‘ پھر آپﷺ نے یہ کہا: ’’ اے اللہ فلاں لعنت کر اور فلاں پر لعنت کر ۔ نبی اکرمﷺ نے منافقین سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں کے خلاف دعائے ضرر کی ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔ ’’ تمہارا اس معاملے سے کوئی واسطہ نہیں ہے خواہ اللہ تعالیٰ انہیں توبہ کی توفیق دے یا انہیں عذاب دے بے شک وہ ظالم ہیں ‘‘۔
ابْنِ عُمَرَ:أَنَّہُ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ
Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5747
