Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5735

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّ الْكَذِبَ يُسَوِّدُ الْوَجْهَ، وَالنَّمِيمَةَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ»

حضرت ابو برزہ ؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ خبر دار بے شک جھوٹ چہرے کو سیاہ کر دیتا ہے اور چغلی کرنا قبر کے عذاب کا باعث ہے ‘‘۔

«أَلَا إِنَّ الْكَذِبَ يُسَوِّدُ الْوَجْهَ، وَالنَّمِيمَةَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي بَرْزَةَ: ← نَافِعِ بْنِ الْحَارِثِ، ← زِيَادُ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5735

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5736

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، [ص:45] عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا كَانَ خُلُقٌ أَبْغَضَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْكَذِبِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَكْذِبُ عِنْدَهُ الْكَذْبَةَ فَمَا تَزَالُ فِي نَفْسِهِ، حَتَّى يَعْلَمَ أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ مِنْهَا تَوْبَةً»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : کوئی بھی برائی نبی اکرمﷺ کے نزدیک جھوٹ سے زیادہ نا پسندیدہ نہیں تھی بعض اوقات کوئی شخص نبی اکرمﷺ کے سامنے کوئی غلط بیانی کرتا ‘ تو یہ بات مسلسل آپ ﷺ کے ذہن میں رہتی ‘ جب تک آپﷺ کو اس بات کا پتہ چل جاتا کہ اس نے بعد میں نئے سرے سے توبہ کر لی ہے۔

عَائِشَةَ ← ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، [ص:509] ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5736

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5737

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ قَطُّ إِلَّا ثَلَاثًا، اثْنَتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ: قَوْلُهُ {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: 89]، وَقَوْلُهُ: {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} [الأنبياء: 63]، قَالَ: وَمَرَّ عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ سَارَةُ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ [ص:46] رَجُلًا هَاهُنَا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَتَاهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: هَذِهِ أُخْتِي، قَالَ: فَأَتَاهَا، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ، وَإِنِّي أَنْبَأْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، وَإِنَّكَ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَا تُكَذِّبِينِي، قَالَ: فَلَمَّا رَآهَا ذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا، فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُخِذَ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لَا أَعُودَ، فَدَعَتْ لَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا، فَدَعَتْ فَأُخِذَ أَخْذَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لَا أَعُودَ، فَدَعَتْ لَهُ، فَذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا، فَدَعَتْ فَأُخِذَ أَخْذَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لَا أَعُودَ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُرْسِلَ، فَقَالَ لِأَدْنَى حَجَبَتِهِ عِنْدَهُ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، وَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: مَهْيَمْ، قَالَتْ: كَفَى اللَّهُ كَيَدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ»، قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ قَالَ: وَمَدَّ النَّضْرُ صَوْتَهُ « قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: » كُلُّ مَنْ كَانَ مِنْ وَلَدِ هَاجَرَ يُقَالُ لَهُ: وَلَدُ مَاءِ السَّمَاءِ، لِأَنَّ إِسْمَاعِيلَ مِنْ هَاجَرَ، وَقَدْ رُبِّيَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، وَهُوَ مَاءُ السَّمَاءِ الَّذِي أَكْرَمَ اللَّهُ بِهِ إِسْمَاعِيلَ، حَيْثُ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ هَاجَرُ، فَأَوْلَادُهَا أَوْلَادُ مَاءِ السَّمَاءِ «

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : حضرت ابراہیم نے کبھی غلط بیانی نہیں کی صرف تین مرتبہ انہوں نے ( ذو معنیٰ کی) دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں جب انہوں نے یہ کہا: ’’میں بیمار ہوں ‘‘ اور یہ کہا ’’ بلکہ ان میں سے بڑے نے ایسا کیا ہے‘‘۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ایک مرتبہ ان کا گزر ایک ظالم حکمران کے پاس سے ہوا حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ سارہ ؓ بھی تھیں اس بادشاہ کو بتایا گیا کہ یہاں ایک شخص ہے ‘ جس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت خاتون ہے ۔ نبی اکرمﷺ اس شخص نے حضرت ابراہیمؑ کو بلوایا حضرت ابراہیم ؑ اس کے پاس گئے اس نےان سے سوالات کئے ‘ تو حضرت ابراہیمؑ نے بتایا : یہ میری (دینی) بہن ہے ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں حضرت ابراہیمؑ سیدہ سارہ ؓ کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ حکمران نے مجھے سے تمہارے بارے میں دریافت کیا تھا ‘ تو میں نے اسے بتایا : تم میری بہن ہو ‘ تو تم اللہ کی کتاب میں میری بہن ہو اس لئے تم مجھے جھوٹا قرار نہ دینا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں جب حکمران نے سیدہ سارہؓ کو دیکھا ‘ تو وہ ان کے پاس آنے لگا سیدہ سارہ ؓ نے اس کےلئے دعائے ضرر کی ‘ تو وہ گرفت میں آ گیا اس شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کیجئے میرے اوپر یہ بات لازم ہے ‘ میں دوبارہ یہ غلطی نہیں کروں گا پھر سیدہ سارہ ؓ نے اس کے حق میں دعا کی وہ دوبارہ سیدہ سارہ ؓ کے قریب آنے لگا سیدہ سارہ ؓ نے پھر بد دعا کی: تو اس پر دوبارہ گرفت ہوئی جو پہلی سے زیادہ سخت تھی اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا کیجئے مجھ پر یہ بات لازم ہے ‘ میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ سیدہ سارہ ؓ نے پھر اس کے لئے دعا کی وہ پھر آگے آنے لگا سیدہ سارہؓ نے پھر دعاء ضرر کی ‘ تو اس کو دوبارہ گرفت میں لیا گیا جو پہلی دونوں مرتبہ کی گرفت سے زیادہ سخت تھی ‘ تو اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا کیجئے مجھ پر یہ بات لازم ہے ‘ میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ سیدہ سارہ ؓ نے اس کے حق میں دعا کی ‘ تو اس کی طبیعت ٹھیک ہو گئی اس نے اپنے پاس موجود اپنےو زیر سے یہ کہا تم میرے پاس کسی انسان کو نہیں لے کر آئے تم میرے پاس شیطان کو لے کر آئے ہو پھر اس نے سیدہ سارہ ؓ کو خادمہ کے طور پر سیدہ حاجرہ ؓ دے دیں جب حضرت ابراہیم ؑ نے اس خاتون کو دیکھا ‘ تو فرمایا یہ کہاں سے آئی ہے سیدہ سارہ ؓ نے بتایا اللہ تعالیٰ نے کافر گنہگار شخص کے فریب کا توڑ کیا اور حاجرہ ؓ کو خادمہ کے طور پر دے دیا۔ حضرت ابو ہریرہؓ جب یہ حدیث بیان کرتے تھے ‘ تو ساتھ یہ بھی کہتے تھے : اے آسمانی پانی سے سیراب ہونے والے لوگوں وہ تمہاری والدہ ہیں ۔ نضر نامی راوی یہ الفاظ بلند آواز میں بیان کرتے تھے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) سیدہ حاجرہ ؓ کی اولاد کے لئے آسمانی پانی سے سیراب ہونے والے کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ حضرت اسماعیلؑ سیدہ حاجرہؓ کے صاحبزادے تھے اور ان کی نشو و نما آب زم زم کے ذریعے ہوئی تھی اور یہ آسمانی پانی ہے ‘ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کی عزت افزائی کی تھی اس وقت جب ا ن کی والدہ سیدہ حاجرہ ؓ نے انہیں جنم دیا تھا ‘تو ان کی اولاد وہ اولاد ہے ‘ جس نے آسمانی پانی کے ذریعے ( نشو نما پائی تھی)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5737

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5738

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِيَ ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ زَوْجِي، مَا لَمْ يُعْطِنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»

سیدہ اسماء بنت ابو بکر ؓ بیا ن کرتی ہیں : ایک خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میری ایک سوکن ہے کیا مجھ پر کوئی گنا ہ ہوگا اگر میں خود کو اپنے شوہر کے حوالے سے ایسی بات کے حوالے سے سیر ظاہر کروں جو اس نے مجھے نہیں دی ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو چیز نہیں دی گئی اس کے حوالے سے خود کو سیر ظاہر کرنے والا شخص جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے۔

أَتَتِ النَّبِيَّ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5738

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5739

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِيَ ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنِ اسْتَكْثَرْتُ مِنْ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ»

سیّدہ اسماء بنت ابو بکر ؓ بیا ن کرتی ہیں : ایک خاتون نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میری ایک سوکن ہے کیا مجھ پر کوئی گنا ہ ہوگا اگر میں خود کو اپنے شوہر کے حوالے سے ایسی بات کے حوالے سے سیر ظاہر کروں جو اس نے مجھے نہیں دی ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو چیز نہیں دی گئی اس کے حوالے سے خود کو سیر ظاہر کرنے والا شخص جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی مانند ہے۔

جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَتْ: ← أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الطُّفَاوِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5739

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5740

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ عَمِّهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَامْرَأَةٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهَا، فَضَجرَتْ فَلَعَنَتْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خُذُوا مَتَاعَكُمْ عَنْهَا، وَأَرْسِلُوهَا، فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ» قَالَ: فَفَعَلُوا، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «عَمُّ أَبِي قِلَابَةَ هَذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ زَيْدٍ الْجَرْمِيُّ كُنْيَتُهُ أَبُو الْمُهَلَّبِ، وَهِمَ الْأَوْزَاعِيُّ فِي كُنْيَتِهِ، فَقَالَ: أَبُو الْمُهَاجِرِ، إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ»

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرمﷺ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے ایک خاتون اپنی اونٹنی پر سوارتھی اس خاتون نے اس اونٹنی کو جھڑکتے ہوئے اس پر لعنت کی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ اپنا سامان اس اونٹنی سے اتار لو اور اسے چھوڑ دو کیونکہ اس پر لعنت کر دی گئی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : لوگوں نے ایسا ہی کیا اس اونٹنی کا منظر گویا کہ آج بھی میری نگاہ میں ہے وہ خاکستری رنگ کی اونٹنی تھی۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) ابو قلابہ نامی راوی کے چچا عمر وبن معاویہ بن زید جرمی ہیں جن کی کنیت ابو مہلب ہے امام اوزاعی کو انکی کنیت کےبارے میں وہم ہوا ‘ تو انہوں نے یہ کہا کہ ان کی کنیت ابو مہاجر ہے اس کی وجہ یہ ہے ‘ سوار کو بھی کبھی کبھی ٹھوکر لگ جاتی ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← عَمِّہٖ ← أَبُو قِلَابَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5740

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5741

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ سَمِعَ لَعْنَةً، فَقَالَ: «مَنْ هَذَا»؟ فَقِيلَ: هَذِهِ فُلَانَةٌ لَعَنَتْ رَاحِلَتَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ضَعُوا عَنْهَا، فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ»، قَالَ: فَوُضِعَ عَنْهَا قَالَ عِمْرَانُ: «فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةً وَرْقَاءَ»

حضرت عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ سفر کر رہے تھے اسی دوران آپﷺ نے کسی لعنت کرنے کی آواز سنی ‘ تو دریافت کیا یہ کون ہے آپﷺ کو بتایا گیا یہ فلاں خاتون ہے ‘ جس نے اپنی سواری پر لعنت کی ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس سواری کو چھوڑ دو کیونکہ اس پر لعنت کر د ی گئی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں ‘ تو اس سواری پر سے سامان اتار لیا گیا۔ حضرت عمران ؓ بیان کرتے ہیں : اس اونٹنی کا منظر گویا کہ آج بھی میری نگاہ میں ہے وہ خاکستری رنگ کی اونٹنی تھی۔

عِمْرَانُ: «فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهَا نَاقَةٌ وَرْقَاءُ» ← فَوُضِعَ عَنْهَا ← رَسُولُ اللَّهِ «ضَعُوا عَنْهَا، فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ»، ← «مَنْ هَذَا»؟ فَقِيلَ: هَذِهِ فُلَانَةٌ لَعَنَتْ رَاحِلَتَهَا، ← لَعْنَةً، ← بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبِي الْمُهَلَّبِ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5741

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5742

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَطْلُبُ [ص:52] الْمَجْدِيَّ بْنَ عَمْرٍو الْجُهَنِيَّ، وَكَانَ النَّاضِحُ يَعْتَقِبُهُ مِنَّا الْخَمْسَةُ، وَالسِّتَّةُ وَالسَّبْعَةُ، فَدَنَا عُقْبَةُ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَلَى نَاضِحٍ لَهُ، فَأَنَاخَهُ فَرَكِبَهُ، ثُمَّ بَعَثَهُ، فَتَلَدَّنَ عَلَيْهِ بَعْضَ التَّلَدُّنِ، فَقَالَ: شَأْ لَعَنَكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا اللَّاعِنُ بَعِيرَهُ»؟ قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: «انْزِلْ عَنْهُ، فَلَا تَصْحَبْنَا بِمَلْعُونٍ، لَا تَدْعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَوْلَادِكُمْ، وَلَا تَدْعُوا عَلَى أَمْوَالِكُمْ، لَا تُوَافِقُوا مِنَ السَّاعَةِ فَيَسْتَجِيبَ لَكُمْ»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرمﷺ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے آپﷺ مجدی بن عمرو جہنی کی تلاش میں تھے ہمارا یہ حال تھا کہ ہم پانچ یا چھ یا سات افراد ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جن کا نام عقبہ تھا وہ اپنے اونٹ کے پاس آئے انہوں نے اس بٹھایا تاکہ اس پر سوار ہوں پھر انہوں نے اسے کھڑا کیا ‘ تو اس اونٹ نے کچھ شوخی دکھائی ‘ تو ان صاحب نے کہا: اٹھو اللہ تعالیٰ تم پر لعنت کرے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا شخص کون ہے۔ ان صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نےفرمایا: تم اس سے نیچے اتر جاؤ تم ہمارے ساتھ کسی لعنت یافتہ کو نہ رکھو تم لوگ اپنے خلاف بد دعا نہ کیا کرو اپنی اولاد کے خلاف بد دعا نہ کیا کرو اپنے اموال کے خلاف بد دعا نہ کیاکرو کیونکہ تمہیں نہیں معلوم کہ وہ کسی ایسی گھڑی میں ہو جائے جس میں وہ تمہارے لئے مستجاب ہو جائے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، ← يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5742

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5743

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، أَنَّ جَارِيَةً، بَيْنَا هِيَ عَلَى بَعِيرٍ أَوْ رَاحِلَةٍ عَلَيْهَا مَتَاعُ الْقَوْمِ بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَتَضَايَقَ بِهَا الْجَبَلُ، وأَتَى عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَبْصَرَتْهُ جَعَلَتْ تَقُولُ: حَلْ، اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْحَبْنَا رَاحِلَةٌ عَلَيْهَا لَعْنَةٌ مِنَ اللَّهِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَمْرُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَسْيِيبِ الرَّاحِلَةِ الَّتِي لُعِنَتْ أَمْرٌ أُضْمِرَ فِيهِ سَبَبُهُ، وَهُوَ حَقِيقَةُ اسْتِجَابَةِ الدُّعَاءِ لِلَّاعِنِ، فَمَتَى عُلِمَ اسْتِجَابَةُ الدُّعَاءِ مِنْ لَاعِنٍ مَا رَاحِلَةً لَهُ، أَمَرْنَاهُ [ص:54] بِتَسْيِيبِهَا، وَلَا سَبِيلَ إِلَى عِلْمِ هَذَا لِانْقِطَاعِ الْوَحْيِ، فَلَا يَجُوزُ اسْتِعْمَالُ هَذَا الْفِعْلِ لِأَحَدٍ أَبَدًا»

حضرت ابو برزہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک کنیز ایک اونٹ پر سوار تھی جس پر لوگوں کا سامان رکھا ہوا تھا وہ دو پہاڑوں کے درمیان میں سے گزر رہی تھی پہاڑ کا راستہ تنگ تھا نبی اکرمﷺ اس پہاڑ پر تشریف لائے جب اس لڑکی نے نبی اکرمﷺ کو دیکھا ‘ تو یہ کہنے لگی اٹھواے اللہ اس پر لعنت کر ‘ اے اللہ ! اس پر لعنت کر ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں رہے گی ‘ جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت ہوئی ہو۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا اس سواری کو چھوڑ دینے کا حکم دینا جس پر لعنت کی گئی تھی اس میں یہ حکم پوشیدہ ہے ‘ جو اس کا سبب ہے اور وہ یہ کہ لعنت کرنے والے کی دعا مستجاب نہ ہو جائے‘ تو جب لعنت کرنے والے کی دعا کے مستجاب ہونے کے بارے میں علم ہو جائے ‘ تو پھر ہم اسے یہ حکم دیں گے کہ وہ اس سواری کو چھوڑ دے لیکن وحی کے منقطع ہونےکی وجہ سے اس کا علم حاصل کرنے کا امکان نہیں رہا اس لئے اب کسی لئے اس فعل پر عمل کرنا جائز نہیں ہے۔

أَبِي عُثْمَانَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5743

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5744

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَضْحًى، أَوْ فِطْرٍ إِلَى الْمُصَلَّى، فَصَلَّى ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَامَ، فَوَعَظَ النَّاسَ وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ، قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، تَصَدَّقُوا»، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ، فَإِنِّي أَرَاكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ»، فَقُلْنَ: وَلِمَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنَ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ»، فَقُلْنَ لَهُ: مَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعَقْلِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ مِثْلَ نِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ»؟ قُلْنَ: بَلَى، قَالَ: «فَذَاكَ نُقْصَانُ عَقْلِهَا، أَوَ لَيْسَتْ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ وَلَمْ تَصُمْ»؟ قُلْنَ: بَلَى، قَالَ: «فَذَاكَ نُقْصَانُ دِينِهَا» ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ جَاءَتْ زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ، فَقَالَ: «أَيُّ الزَّيَانِبِ»؟ قِيلَ: امْرَأَةُ [ص:55] عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «نَعَمْ، ائْذَنُوا لَهَا»، فَأُذِنَ لَهَا، فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّكَ أَمَرْتَنَا الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ، وَكَانَ عِنْدِي حُلِيٌّ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ، فَزَعَمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ وَوَلَدَهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقَتْ بِهِ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ. زَوْجُكِ وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ»

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ عید الاضحٰی یا عید الفطر کے موقع پر عید گاہ کی طرف تشریف لے گئے آپﷺ نے نماز ادا کی پھر آپﷺ نے نماز ختم کی پھر آپﷺ کھڑے ہوئے آپﷺ نے لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اے لوگوں صدقہ کرو پھر آپﷺ وہاں سے مڑے اور خواتین کے پاس تشریف لائے آپﷺ نے فرمایا: اے خواتین کے گروہ تم لوگ صدقہ کرو کیونکہ میں نے دیکھا ہے جہنم میں اکثریت تم خواتین کی ہے ان خواتین نے دریافت کیا: یا رسول اللہﷺ! اس کی وجہ کیا ہے نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم لوگ لعنت کثرت سے کرتی ہو اور شوہر کی نا شکری کرتی ہو اے خواتین کے گروہ میں نے ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ہونے کے باوجود سمجھ دار اور تجربہ کار آدمی کی عقل کو رخصت کر دیتی ہے ان خواتین نے نبی اکرمﷺسے دریافت کیا :یا رسول اللہ ﷺ! ہمارے دین اور عقل میں کیاکمی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا ایک عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف نہیں ہوتی ۔ ان خواتین نے جواب دیا۔ جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ ان کی عقل کی کمی کی وجہ سے ہے کہا جب عورت حائضہ ہوتی ہے ‘ تو وہ نماز اور روزہ ترک نہیں کر دیتی ان خواتین نے جواب دیا :جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نےفرمایا: یہ ان کے دین کی کمی ہے پھر نبی اکرمﷺ وہاں مڑے اور آپﷺ اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ سیدہ زینب ؓ نے آپﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی۔ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہﷺ! سیدہ زینب ؓاندر آنا چاہ رہی ہیں ۔نبی اکرمﷺ نےفرمایا: کون سی زینب۔ آپﷺ کو بتایا گیا حضرت عبد اللہ ؓ کی اہلیہ۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا : جی ہاں اس خاتون کو اندر آنے دو اس خاتون کو اندر آنے کی اجازت دی گئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپﷺ نے آج ہمیں صدقہ کرنےکا حکم دیا میرے پاس کچھ زیورات ہیں میں نے انہیں صدقہ کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کا یہ خیال ہے ‘ وہ اور ان کی اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں ‘ میں یہ زیورات ان پر صدقہ کروں ‘ تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: اس نے ٹھیک کہا ہے ‘ تمہارا شوہر اور تمہاری اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں ‘ تم ان صدقہ کرو۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي کَثِيرٍ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5744

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5745

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، [ص:56] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا، لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلْعَنِ الرِّيحَ، فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ، وَلَيْسَ أَحَدٌ يَلْعَنُ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ إِلَّا رَجَعَتْ عَلَيْهِ اللَّعْنَةُ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کی موجودگی میں ہوا پر لعنت کی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ہوا پر لعنت نہ کرو کیونکہ وہ حکم کی پابند ہے ‘ جب بھی کوئی شخص کسی ایسی چیز پر لعنت کرے جو لعنت کی اہل نہ ہو ‘ تو وہ لعنت اس کرنے والے کی طرف واپس لوٹ آ جاتی ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا، لَعَنَ الرِّيحَ عِنْدَ النَّبِيِّ ← أَبِي الْعَالِيَةَ [ص:308] ← قَتَادَةَ ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← بِشْرُ بْنُ عُمَرَ؛ ← أَبُو قُدَامَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5745

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ اللَّعْنِ · حديث 5746

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ، قَالَ: وَرُبَّمَا بَاتَتْ عِنْدَهُ، قَالَ: فَدَعَا عَبْدُ الْمَلِكِ خَادِمًا فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، فَقَالَتْ: لَا تَلْعَنْهُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ اللَّعَّانَيْنَ لَا يَكُونُونَ شُهَدَاءَ، وَلَا شُفَعَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

زید بن اسلم بیان کرتے ہیں : عبد الملک نے سیدہ ام درداء ؓ کی طرف پیغام بھیجا۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ خاتون بعض اوقات ان کے ہاں قیام بھی کر لیتی تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں :عبد الملک نے اپنے خادم کو بلوایا اسے آنے میں دیر ہو گئی ‘ تو عبد الملک نے کہا: اے اللہ اس پر لعنت کر دے۔ اس خاتون نے کہا: تم اس پر لعنت نہ کرو کیونکہ میں نے حضرت ابو درداء ؓ کو نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہوئے سنا ہے: ’’ بے شک لعنت کرنے والے لوگ قیمت کے دن نہ ‘ تو شہید ہوں گے ‘ اور نہ شفیع ہوں گے ‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا الدَّرْدَاءِ، ← لَا تَلْعَنْهُ، فَإِنِّي ← اللَّهُمَّ الْعَنْهُ، ← فَدَعَا عَبْدُ الْمَلِكِ خَادِمًا فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ، ← وَرُبَّمَا بَاتَتْ عِنْدَهُ، ← كَانَ عَبْدُ الْمَلِكِ يُرْسِلُ إِلَى أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، ← مَخْلَدُ بْنُ مَالِكٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ بِحَرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Cursing section · Hadith 5746

chevron_left Previous
1…151617…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr