Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5723

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: زَرَعْتُ، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: حَرَثْتُ» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى قَوْلِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} [الواقعة: 64]»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: ’’ کوئی شخص یہ ہر گز نہ کہے:’’ میں نے زراعت کی ‘ بلکہ وہ یہ کہے میں نے کھیتی باڑی کی‘‘۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا۔ ’’ تمہاری کیا رائے ہے کیا تم نے اس میں کھیتی باڑی کی ہے کیا تم زراعت کرتے ہو یا ہم زراعت کرنے والے ہیں ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مَخْلَدُ بْنُ حُسَيْنٍ، ← مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5723

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5724

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: خَبُثَتْ نَفْسِي، وَلَكِنْ لِيَقُلْ: لَقِسَتْ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ کوئی شخص یہ ہرگز نہ کہے میرا نفس خبیث ہو گیا ہے بلکہ وہ یہ کہے : یہ تھکاوٹ کا شکار ہو گیا ہے‘‘۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5724

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5725

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ، بِتُسْتَرَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ الْبَرِّيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: رَأَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّوْمِ أَنَّهُ لَقِيَ قَوْمًا مِنَ الْيَهُودِ، فَأَعْجَبَتْهُ هَيْئَتُهُمْ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَقَوْمٌ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ، فَقَالُوا: وَأَنْتُمْ قَوْمٌ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، قَالَ: وَلَقِيَ قَوْمًا مِنَ النَّصَارَى، فَأَعْجَبَتْهُ هَيْئَتُهُمْ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ قَوْمٌ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ، فَقَالُوا: وَأَنْتُمْ قَوْمٌ، لَوْلَا أَنَّكُمْ تَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَصَّ ذَلِكَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُنْتُ أَسْمَعُهَا مِنْكُمْ فَتُؤْذُونَنِي، فَلَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ [ص:33] وَشَاءَ مُحَمَّدٌ»

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے خواب دیکھا کہ ان کی ملاقات کچھ یہودیوں سے ہوئی انہیں ان کی ہیت پسند آئی ‘ تو انہوں نے کہا: تم لوگ بالکل ٹھیک قوم ہو اگر تم لوگ یہ نہ کہتے کہ حضرت عزیر علیہ السلام ‘ اللہ کے بیٹے ہیں ان یہودیوں نےکہا: تم لوگ بھی ٹھیک قوم ہوا گر تم لوگ یہ نہ کہتے کہ جو اللہ نے چاہا اور جو حضرت محمد ﷺ نے چاہا‘ پھر ان کی ملاقات کچھ عیسائیوں سے ہوئی انہیں ان کی ہیت پسند آئی ‘ تو انہوں ن کہا: تم لوگ بالکل ٹھیک ہو اگر تم لو گ یہ نہ کہوں حضرت مسیح ‘ اللہ کے بیٹے ہیں ‘ تو ان عیسائیوں نے بھی کہا تم لوگ بالکل ٹھیک ہو اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ جو اللہ نے چاہا اور جو حضرت محمد ﷺ نے چاہا۔ اگلے دن صبح انہوں نے یہ واقعہ نبی اکرمﷺ کو سنایا: تو نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: میں پہلے بھی یہ الفاظ تمہاری زبانی سنتا تھا اور تم اس کے ذریعے مجھے اذیت پہنچاتے تھے اب تم یہ نہ کہنا : جو اللہ نے چاہا اور جو حضرت محمد ﷺ نے چاہا۔

رَأَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ فِي النَّوْمِ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← أَبِي ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ الْبُرِّيِّ، ← اَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ الْحَافِظُ، بِتُسْتَرَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5725

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5726

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، الرَّجُلُ مِنْ قَوْمِي يَشْتُمُنِي وَهُوَ دُونِي، أَفَأَنْتَقِمُ مِنْهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ»

حضرت عیاض بن حمار ؓ بیان کرتے ہیں :میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! میری قوم سے تعلق رکھنےوالا ایک شخص مجھے برا کہتا ہے وہ مجھ سے کم مرتبے کا مالک ہے کیا میں اس سے انتقام لوں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے کو گالی دینے والے دونوں افراد ‘ دو شیطان ہوتے ہیں وہ دونوں جھگڑا کرتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں۔

النَّبِيُّ «الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ» ← قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، الرَّجُلُ مِنْ قَوْمِي يَشْتُمُنِي وَهُوَ دُونِي، أَفَأَنْتَقِمُ مِنْهُ؟ ← عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفٍ ← قَتَادَةَ ← ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5726

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5727

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَشْتُمُنِي مِنْ قَوْمِي وَهُوَ دُونِي، أَعَلَيَّ مِنْ بَأْسٍ أَنْ أَنْتَصِرَ مِنْهُ؟ قَالَ: «الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَطْلَقَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَ الشَّيْطَانِ عَلَى الْمُسْتَبِّ عَلَى سَبِيلِ الْمُجَاوَرَةِ، إِذِ الشَّيْطَانُ دَلَّهُ عَلَى ذَلِكَ الْفِعْلِ، حَتَّى تَهَاتَرَ وَتَكَاذَبَ، لَا أَنَّ الْمُسْتَبَّيْنِ يَكُونَانِ شَيْطَانَيْنِ»

حضرت عیاض بن حمارؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میری قوم کا ایک شخص مجھے برا کہتاہے ‘ وہ مجھ سے کم تر حیثیت کا مالک ہے ‘ تو کیا مجھے کوئی گناہ ہو گا اگر میں اس سے کوئی انتقام لو ں‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرےکو برا کہنے والے دو افراد دونوں شیطان ہوتے ہیں جو دونوں بات کو بڑھاتے ہیں اور غلط بیانی کرتے ہیں۔ ( امام ابن حبان ؒفرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ نے برا کہنے والے شخص کے لئے لفظ شیطان مجاورت کے طور پر استعمال کیا ہے کیو نکہ شیطان اس شخص کی رہنمائی اس فعل کی طرف کرتا ہے ‘یہاں تک کہ وہ شخص بات بڑھاتا ہے اور جھوٹ بولتا ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے ‘ برا کہنے والے دونوں افراد واقعی شیطان بن جاتے ہیں ۔

قُلْتُ ← عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، ← مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5727

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5728

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا، فَعَلَى الْبَادِئِ مِنْهُمَا مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک دوسرے کو برا کہنے والے دونوں افراد جو بھی کہتے ہیں : اس کا وبال ان دونوں میں سے آغاز کرنے والے پر ہوتاہے ‘جب تک مظلوم زیادتی کا مرتکب نہ ہو ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5728

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5729

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمُسْتَبَّيْنَ مَا قَالَا، فَهُوَ عَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک شخص دوسرے کو برا کہنے والے دو افراد جو بھی ایک دوسرے کو برا کہتے ہیں: اس کا وبال شروع کرنے والے پر ہوتا ہے ‘ جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5729

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5730

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَارِبٍ، فَقَالَ: «اضْرِبُوهُ»، فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ، وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: أَخْزَاكَ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَقُولُوا هَكَذَا، لَا تُعِينُوا الشَّيْطَانَ عَلَيْهِ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ ایک شرابی کے پاس تشریف لائے آپﷺ نے فرمایا: تم لوگ اس کی پٹائی کرو ‘ و ہم سے کسی شخص نے اسے ہاتھ کے ذریعے مارا کسی نے اسے جوتے کے ذریعے مارا حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہیں رسواء کرے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اس طرح نہ کہو تم اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔

بَعْضُ الْقَوْمِ أَخْزَاکَ اللَّهُ ← «اضْرِبُوهُ»، فَمِنَّا الضَّارِبُ بِيَدِهِ، وَمِنَّا الضَّارِبُ بِنَعْلِهِ، ← أَتَى رَسُولُ اللَّهِ بِشَارِبٍ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ← أَبُو ضَمْرَةَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5730

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5731

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، [ص:38] قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ، فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ»

حضرت زید بن خالد جہنی ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’مرغ کو برا نہ کہو کیونکہ وہ نماز کی طرف بلاتا ہے‘‘۔

زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ، [ص:38] ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5731

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5732

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي الزُهْرِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ، قَالَ: [ص:39] سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرِّيحَ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، فَلَا تَسُبُّوهَا، وَسَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک ہوا ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے ‘ جو رحمت کو لے کر آتی ہے اور عذاب کو بھی لے کر آتی ہے ‘ تو تم سے برا نہ کہو تم اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی مانگو اور اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← [ص:149] ← ثَابَتٌ الزُّرَقِيُّ ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5732

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5733

حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومَ بِنْتِ عُقْبَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيُنْمِي خَيْرًا، أَوْ يَقُولُ خَيْرًا»

سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ ؓ بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئےسنا ہے: ’’ وہ شخص جھوٹا نہیں ہوتا جو ( غلط بیانی کر کے) لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے وہ شخص بھلائی پھیلانا چاہتا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) وہ بھلائی کی بات کہتا ہے ‘‘۔

خَيْرًا» ← «لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيُنْمِي خَيْرًا، أَوْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومَ بِنْتِ عُقْبَةَ، أَنَّهَا ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← جَدِّي، ← أَبِي ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← أَبُو حَاتِمٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5733

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5734

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَ بْنَ عَامِرٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّهُ مَعَ الْبِرِّ وَهُمَا فِي الْجَنَّةِ، وَإِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّهُ مَعَ الْفُجُورِ، وَهُمَا فِي النَّارِ»

حضرت ابو بکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے ارشا د فرمایا ہے: تم پر سچائی کو اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ وہ نیکی کے ساتھ ہوتی ہے اور یہ دونوں جنت میں ہوں گی اور تم پر جھوٹ سے بچنا لازم ہے کیونکہ یہ گناہوں کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ دونوں جہنم میں ہوں گے۔

أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ، ← أَوْسَطَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5734

chevron_left Previous
1…141516…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr