Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5711

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِيَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَالَ رَجُلٌ: وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلَانٍ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ، وَأَحْبَطْتُ عَمَلَكَ»

حضرت جندب بن عبد اللہ بجلی ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ایک شخص نے کہا: اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ فلاں شخص کی مغفرت نہیں کرے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے فلاں کی مغفرت کر دی اور تمہارے عمل کو ضائع کر دیا‘‘۔

جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← صَالِحُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5711

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5712

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا أَنَا بِشَيْخٍ مُصَفِّرٍ رَأْسَهُ، بَرَّاقِ الثَّنَايَا، مَعَهُ رَجُلٌ أَدْعَجُ، جَمِيلُ الْوَجْهِ، شَابٌّ، فَقَالَ الشَّيْخُ: يَا يَمَامِيُّ تَعَالَ، لَا تَقُولَنَّ لِرَجُلٍ أَبَدًا: لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، وَاللَّهِ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا، قُلْتُ: وَمَنْ أَنْتَ؟ يَرْحَمُكَ اللَّهُ قَالَ: أَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قُلْتُ: إِنَّ هَذِهِ لَكَلِمَةٌ يَقُولُهَا أَحَدُنَا لِبَعْضِ أَهْلِهِ أَوْ لِخَادِمِهِ إِذَا غَضِبَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَلَا تَقُلْهَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كَانَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَوَاخِيَيْنِ، أَحَدُهُمَا مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، وَالْآخَرُ مُذْنِبٌ، فَأَبْصَرَ الْمُجْتَهِدُ الْمُذْنِبَ عَلَى ذَنْبٍ، فَقَالَ لَهُ: أَقْصِرْ، فَقَالَ لَهُ: خَلِّنِي وَرَبِّي، قَالَ: وَكَانَ يُعِيدُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، وَيَقُولُ: خَلِّنِي وَرَبِّي، حَتَّى وَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ، فَاسْتَعْظَمَهُ، فَقَالَ: وَيْحَكَ أَقْصِرْ قَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي، أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ [ص:21] لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَبَدًا، أَوْ قَالَ: لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ أَبَدًا، فَبُعِثَ إِلَيْهِمَا مَلَكٌ فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، فَاجْتَمَعَا عِنْدَهُ جَلَّ وَعَلَا، فَقَالَ رَبُّنَا لِلْمُجْتَهِدِ: أَكُنْتَ عَالِمًا؟ أَمْ كُنْتَ قَادِرًا عَلَى مَا فِي يَدِي؟ أَمْ تَحْظُرُ رَحْمَتِي عَلَى عَبْدِي؟ اذْهَبْ إِلَى الْجَنَّةِ يُرِيدُ الْمُذْنِبَ وَقَالَ لِلْآخَرِ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ»، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ «

حضرت ضمضم بن جوسؓ بیان کرتے ہیں :میں نبی اکرمﷺ کی مسجد میں داخل ہوا ‘ تو وہاں ایک عمر رسیدہ شخص تھا جس کے بالوں کا رنگ زرد تھا ‘ اس کے دانت انتہائی چمکدار تھے اس کی ساتھ ایک نو جوان تھا جو بہت خوب صورت اور حیوان تھا بوڑھے شخص نے کہا: اے یمامی تم آگے آؤ تم کسی بھی شخص کو یہ کبھی نہ کہنا ’’ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت نہ کرے ‘‘ اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ تمہیں کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا ِ ، میں نے دریافت کیا آپ کون ہیں اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے انہوں نے جواب دیا : میں ابو ہریرہؓ ہوں ‘ میں نے کہا: اس طرح کا کلمہ ‘ تو ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی یا خادم کے لئے استعمال کرتا ہے ‘ جب وہ اس پر غصے کا اظہار کرتا ہے ‘ تو حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا تم یہ نہ کہنا کیونکہ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ بنی اسرائیل میں دو آدمی تھے جو ایک دوسرے کے بھائی بنے ہوئے تھے ان میں سے ایک شخص عبادت میں اہتمام کرتا تھا اور دوسرا گنہگار تھا عبادت گزار شخص نے گناہ کرنے والے شخص کو دیکھا ‘ تو اس سے کہا تم اس میں کمی کر دو ‘ تو دوسرے شخص نے کہا: تم یہ معاملہ میرے اور میرے اور پروردگار کے درمیان رہنے دو ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں اس شخص نے اپنی بات اس کے سامنے دہرائی ‘ تو اس شخص نے آگے سے یہی جواب دیا: تم مجھے اور میرے پروردگار کو چھوڑ دو ‘ یہاں تک کہ عبادت گزار نے ایک دن اسے گناہ کرتے ہوئے دیکھا ‘ تو اسے اس کا گناہ بڑا لگا اس نے کہا: تمہارا استیاناس ہو تم گناہ کرنے سے باز آ جاؤ۔ دوسرے شخص نے کہا: تم مجھے اور میرے پروردگار کو چھوڑ دو کیا تمہیں مجھ پر نگران بنا کر بھیجا گیا ہے ‘ تو عبادت گزار نے کہا: اللہ کی قسم اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کبھی نہیں کرےگا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس نے کہا: اللہ تعالیٰ تمہیں کبھی جنت میں داخل نہیں کرے گا ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں) پھر ان دونوں کی طرف فرشتے کو بھیجا گیا اس نے دونوں کی ارواح کو قبض کر لیا وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اکٹھے ہوئے ‘ تو پروردگار نے عبادت گزارسے دریافت کیا: کیا تم عالم ہو یا تم اس بات پر قدرت رکھتے ہو کہ جو کچھ میرے اختیار میں ہے یا تم میری رحمت کو میرے بندے پو ہونے سے روکتے ہو تم جنت کی طر ف جاؤ۔ (راوی کہتے ہیں : یعنی اللہ تعالیٰ نے گنہگار شخص سے یہ فرمایا) اور دوسرے سے فرمایا اسے جہنم کی طرف لے جاؤ ( نبی اکرمﷺ یا شاید حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا:) اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے ایک ایسی بات کہی ہے ‘ جس نے اس کی دنیا اور آخرت کو برباد کر دیا‘‘۔

ضَمْضَمِ بْنِ جَوْسٍ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5712

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5713

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: وَاخَيْبَةَ الدَّهْرِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الدَّهْرُ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ کوئی بھی شخص یہ نہ کہے : زمانے کا استیاناس ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی زمانے ( کو چلانےوالا ) ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← مَعْن بن عيسی ← إسحاق بن موسیٰ الأنصاري ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5713

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5714

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، [ص:23] قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «قَالَ اللَّهُ: يَسُبُّ ابْنُ آدَمَ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انسان زمانے کو برا کہتاہے ‘حالانکہ میں زمانہ ہوں رات اور دن میرے دست قدرت میں ہیں ‘‘۔

اللَّهُ: يَسُبُّ ابْنُ آدَمَ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، [ص:33] ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5714

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5715

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: «كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: إِنَّمَا يُهْلِكُنَا اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ، هُوَ الَّذِي يُهْلِكُنَا، وَيُمِيتُنَا، وَيُحْيِينَا، قَالَ اللَّهُ: {مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا} الْآيَةَ» [الجاثية: 24] قَالَ الزُّهْرِيُّ: عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، [ص:24] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: يُؤْذِينِي ابْنُ آدَمَ، يَسُبُّ الدَّهْرَ، وَأَنَا الدَّهْرُ، بِيَدِي الْأَمْرُ، أُقَلِّبُ لَيْلَهُ وَنَهَارَهُ، فَإِذَا شِئْتُ قَبَضْتُهُمَا»

سفیان بن عینیہ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت کے لوگ یہ کہا کرتے تھے ہمیں رات اور دن نے برباد کر دیا انہوں نے ہی ہمیں برباد کیا ہے انہوں نےہی ہمیں موت دی ہے انہوں نے ہی ہمیں زندہ کیا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’ یہ نہیں ہے مگر ہماری دنیاوی زندگی ‘‘۔ زہری نے سعید بن مسیّب کے حوالے سے حضرت ابو ہریرہؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ابن آدم مجھے اذیت پہنچاتا ہے ‘ جب وہ زمانے کو برا کہتاہے ‘ کیونکہ میں زمانہ ہوں معاملہ میرے دست قدرت میں ہے میں رات اور دن کو تبدیل کرتا ہوں جب میں چاہوں گا انہیں روک لوں گا‘‘۔

سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5715

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5716

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يُضْحِكُ بِهَا جُلَسَاءَهُ، يَهْوِي بِهَا مِنْ أَبْعَدَ مِنَ الثُّرَيَّا»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک شخص کوئی بات کہتاہے ‘ جس کے ذریعے وہ اپنے ساتھیوں کو ہنسا دیتا ہے‘ لیکن وہ اس کی وجہ سے ( جہنم میں ) اس سے زیادہ گہرائی میں جائے گا جتنا ثریا ( ستارا اونچا ہے )‘‘

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← الزبير بن سعيد ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5716

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5717

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، بِالْبَصْرَةِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْمَنُ امْرِئٍ، وَأَشْأَمُهُ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ» قَالَ وَهْبٌ: - يَعْنِي لِسَانَهُ -

حضرت عدی بن حاتمؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ آدمی کو خوش بختی اور اس کی بد بختی اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان ہے‘‘۔ وہب نامی راوی کہتے ہیں: یعنی اس کی زبان میں ہے۔

عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ← خيثمة ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، بِالْبَصْرَةِ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5717

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5718

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ [ص:26] إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَامَ رَجُلَانِ مِنَ الْمَشْرِقِ خَطِيبَيْنِ، فَتَكَلَّمَا، ثُمَّ قَعَدَا، فَقَامَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ خَطِيبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ، فَعَجِبُوا مِنْ كَلَامِهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَطَبَ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، قُولُوا بِقَوْلِكُمْ، فَإِنَّمَا تَشْقِيقُ الْكَلَامِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : مشرق کی طرف سے آنے والے دو آدمی خطبہ دینے کےلئے کھڑے ہوئے ان دونوں نے بات چیت کی پھر وہ دونوں بیٹھ گئے پھر حضرت ثابت بن قیسؓ جو نبی اکرمﷺ کے خطیب تھے وہ کھڑے ہوئے انہوں نے بات چیت کی لوگوں کو ا ن کا کلام پسند آیا پھر نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپﷺ نے خطبہ دیا آپﷺ نے ارشاد فرمایا: اےلوگوں! عام محاورے کے مطابق بات چیت کیاکرو کیونکہ کلام کو زیادہ بنانا سنوارنا شیطان کی طرف سے ہوتاہے اور بعض بیان جادو ہوتے ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5718

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5719

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي كَاتَبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ: أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: «إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ» قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ: «إِضَاعَةُ الْمَالِ: إِنْفَاقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ»

اما م شعمی بیان کرتے ہیں :حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کے سیکرٹری نے مجھے یہ بات بتائی حضرت معاویہ ؓ نے حضرت مغیرہؓ کو خط لکھا کہ آپ ﷺ مجھے کوئی ایسی حدیث لکھ کر بھیجیں جو آپﷺ نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سنی ہو ‘ تو حضرت مغیرہؓ نے انہیں یہ لکھوایا : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین چیزوں کو ناپسند یدہ قرار دیا ہے فضول بحث کرنا، مال کو ضائع کرنا اور بکثرت سوال کرنا ( یا مانگنا) ‘‘ ابن علیہ کہتے ہیں : ما ل کو ضائع کرنے سے مراد یہ ہے : اسے نا حق طور پر خرچ کیا جائے۔

ابْنُ عُلَيَّةَ: «إِضَاعَةُ الْمَالِ: إِنْفَاقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ» ← إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا: قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ» ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: «إِنِّي ← مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ: أَنِ اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ ← كَاتَبُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، ← ابْنُ أَشْوَعَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5719

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5720

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، بِنَسَا، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے فضول بحث کرنے ، بکثرت سوال کرنے ( یا مانگنے ) اور مال کو ضائع کرنےکو نا پسندیدہ قراد دیا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِنَسَا

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5720

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5721

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَكُلٌّ عَلَى خَيْرٍ، احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَلَا تَعْجِزْ، فَإِنْ غَلَبَكَ شَيْءٌ، فَقُلْ: قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ، وَإِيَّاكَ وَاللَّوَّ، فَإِنَّ اللَّوَّ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : انہیں نبی اکرمﷺ کی یہ حدیث پہنچی ہے ‘نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک طاقتور مومن ‘ کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہوتاہے ویسے دونوں بھلائی پر ہوتے ہیں تم اس چیز کا لالچ کرو جو تمہیں فائدہ دے گی اور تم عاجز نہ آ جاؤ اگر کوئی چیز تم پر غالب آ جائے ‘ تو تم یہ کہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ نقدیر تھی جو اس کو منظور تھا ( وہی ہوا ) اور تم ’’ اگر ‘‘ کہنے سے بچو ! ( یعنی یہ کہنا کہ اگر یہ ہو جاتا ‘ تو وہ ہو جاتا ) کیونکہ ’’ اگر ‘‘ شیطان کے کام کا دروازہ کھولتا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ ← الْأَعْرَجِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحُسَیْنُ بْنُ حُرَیْثٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5721

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5722

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْفَارِسِيُّ، بِدَارَا، مِنْ دِيَارِ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ، وَفِي كُلٍّ الْخَيْرُ، فَاحْرِصْ عَلَى مَا تَنْتَفِعُ بِهِ، وَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجِزْ، فَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا وَلَكِنْ: قُلْ: قَدَرُ اللَّهِ وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ اللَّوَّ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطَانِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَجْلَانَ سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ مِنَ الْأَعْرَجِ، وَسَمِعَهُ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ الْأَعْرَجِ، فَمَرَّةً كَانَ يُحَدِّثُ بِهِ عَنِ الْأَعْرَجِ مُفْرَدًا، وَتَارَةً يَرْوِيهِ عَنْ رَجُلٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ مُفْرَدًا»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ طاقت ور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور مومن سے زیادہ بہتر اور زیادہ پسندیدہ ہوتاہے ویسے دونوں ہی بھلائی پر ہوتے ہیں تم اس چیز کا لالچ کرو جس کے ذریعے تم نفع حاصل کرو اور اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے مدد حاصل کرو اور تم عاجزانہ آ جاؤ اگر تمہیں کوئی نقصان لاحق ہو ‘ تو یہ نہ کہو کہ اگر میں نے اس اس طرح کر دیا ہوتا ( تو یوں ہو جاتا) بلکہ یہ کہو کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ( کے مطابق تھا ) جو اس نے چاہا ویسا ہی کیا کیونکہ لفظ ’’ اگر ‘‘ شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتا ہے‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) اس بات کا احتمال موجود ہے ‘ ابن عجلان نے یہ روایت اعرج سے سنی ہو اور انہوں نے یہ روایت محمد بن یحیٰ کے حوالے سے اعرج سے سنی ہو ‘ تو ایک مرتبہ انہوں نے یہ روایت کے حوالے سے نقل کردی اور ایک مرتبہ یہ روایت ایک شخص کے حوالے سے نقل کر دی۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ الطَّائِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْفَارِسِيُّ، بِدَارَا، مِنْ دِيَارِ رَبِيعَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5722

chevron_left Previous
1…131415…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr