Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5699

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ: «قُلْ: رَبِّيَ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَقِمْ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْمَعْنَى فِي أَخْذِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَانَهُ بِيَدِهِ وَقَالَ: «هَذَا»، وَقَدْ أَمْكَنَهُ أَنْ يَقُولَ: اللِّسَانُ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْخُذَ لِسَانَهُ أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَالِمًا بِالْعِلْمِ الَّذِي كَانَ يُعِلِّمُ النَّاسَ، فَأَرَادَ أَنْ يَسْبِقَ نَفْسَهُ إِلَى الْعَمَلِ بِالْعِلْمِ الَّذِي اسْتُعْلِمَ، فَعَلِمَ بِأَنَّهُ أَخْبَرَ السَّائِلَ بِأَنَّ أَخْوَفَ مَا يَخَافُ عَلَيْهِ أَنْ يُورِدَ صَاحِبَهُ الْمَوَارِدَ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقْبِضَ عَلَيْهِ، وَلَا يُطْلِقَهُ، فَعَمِلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ يَعْلَمُهُ أَوَّلًا، حَتَّى يُفَصِّلَ مَوَاضِعَ الْعِلْمِ وَالتَّعْلِيمِ

حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! آپﷺ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتایئے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں ۔ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: تم یہ کہوں میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور پھر ( اس پر ) استقامت اختیار کرو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپﷺ میرے بارے میں سب سے زیادہ کس بات کا اندیشہ ہے۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: اس کا ۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنی زبان پکڑنا اور یہ فرمانا : ’’ یہ‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے‘ نبی اکرمﷺ لفظ ’’ زبان‘‘ ارشاد فرمانا چاہ رہے تھے ۔ نبی اکرمﷺ کو اس چیز کے بارے میں علم تھا جس کی آپﷺ نے لوگوں کو تعلیم دینی تھی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس علم کے بارے میں عمل کرنے کے حوالے سے پہلے اپنی ذات سے آغاز کیا جس کے بارے میں آپﷺ سے دریافت کیا گیا تھا اور آپﷺ نے سوال کرنے والے کو یہ بات بتائی کہ آپﷺ کو اس شخص کے حوالے سے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے‘ زبان والا شخص مشکل میں پھنس سکتا ہے اور آپﷺ نے اسے یہ حکم دیا کہ وہ اپنی زبان پر قابو رکھے اسے کھلا نہ چھوڑے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے جس چیز کی تعلیم دینی تھی آپﷺ نے پہلے اس پر خود عمل کیا تاکہ آپﷺ علم اور تعلیم کے مقامات کو تفصیل سے بیان کر دیں۔

قُلْتُ ← سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5699

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5700

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ: «قُلْ: رَبِّيَ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَقِمْ»، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَشَدُّ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ «

حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپﷺ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتایئے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں ۔ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: تم یہ کہوں میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور پھر ( اس پر ) استقامت اختیار کرو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپﷺ میرے بارے میں سب سے زیادہ کس بات کا اندیشہ ہے۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: اس کا ۔

قُلْتُ ← سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَاعِزٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5700

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5701

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَتَوَكَّلْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ أَتَوَكَّلْ لَهُ الْجَنَّةَ»

حضرت سہل سعدؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص مجھے دو جبڑوں ک درمیان ( موجود زبان) کے بارے میں ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں‘‘۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبِي حَازِمٍ ← عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5701

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5702

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ، بِحِمْصَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَاعِزِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَامِرِيِّ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيَّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ: رَبِّيَ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَقِمْ»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَكْثَرُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلِسَانِ نَفْسِهِ، ثُمَّ قَالَ: «هَذَا» مَاعِزُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَهُ الزُّبَيْدِيُّ، وَهُوَ مُتْقِنٌ

حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! آپﷺ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتایئے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں ۔ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: تم یہ کہوں میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور پھر ( اس پر ) استقامت اختیار کرو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپﷺ میرے بارے میں سب سے زیادہ کس بات کا اندیشہ ہے‘ تو نبی اکرمﷺنے فرمایا: اس کا ۔ ماعز نامی راوی کا نام ماعز بن عبد الرحمٰن ہے یہ بات زبیدی نے بیان کی ہے اور یہ راوی متقن ہے۔

قُلْتُ ← مَاعِزِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَامِرِيِّ، أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيَّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5702

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5703

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وُقِيَ شَرَّ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، [ص:10] وَرِجْلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں‘ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: ’’ جس شخص کو دو جبڑوں کے درمیان ( موجود زبان ) اور دو ٹانگوں کے درمیان ( موجود شرم گاہ ) کے شر سے بچا لیا گیا وہ جنت میں داخل ہو گا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5703

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5704

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذُرَيْحٍ، بِعُكْبَرَا قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَذَاءُ مِنَ الْجَفَاءِ، وَالْجَفَاءُ فِي النَّارِ، وَالْحَيَاءُ مِنَ الْإِيمَانِ، وَالْإِيمَانُ فِي الْجَنَّةِ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں‘ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: ’’ بد زبانی جفا کا حصہ ہے اور جفا جہنم میں لے جاتی ہے حیا ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں ہو گا‘‘۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَی الْفَزَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، بِعُكْبَرَا،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5704

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5705

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، [ص:12] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ»

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں‘ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: ’’ جو شخص ’’ لات ‘‘ اور ’’ عزیٰ ‘‘کی قسم اٹھاتا ہے اسے لا الہٰ الا اللہ پڑھانا چاہئے اور جو شخص اپنے ساتھی سے یہ کہتا ہے: آؤ تاکہ میں تمہارے ساتھ جو اکھیلوں ‘ اسے کوئی چیز صدقہ کرنی چاہئے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، [ص:12] ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5705

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5706

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ بَحْرٍ الْعُقَيْلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَرَى بِهَا بَأْسًا يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں ‘میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ آدمی کوئی بات کرتا ہے ‘ جس میں وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا ‘ لیکن وہ اس بات کی وجہ سے ستر برس تک جہنم میں گرتا رہے گا‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ بَحْرٍ الْعُقَيْلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5706

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5707

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يَنْزِلُ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں ‘میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ آدمی ( بعض اوقات ) کوئی بات کہہ دیتا ہے ‘ جس کی وجہ سے وہ جہنم میں اس سے زیادہ گہرائی میں گرے گا جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنِ الْھَادِ ← بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5707

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5708

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَ الْعَبْدَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مَا يَتَثَبَّتُ فِيهَا، يَنْزِلُ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ بعض اوقات بندہ کوئی بات کہتا ہے ‘ جسے وہ بڑی بات نہیں سمجھتا ‘ لیکن وہ اس کی وجہ سے جہنم میں اتنی گہرائی میں گرے گا ‘ جو اس سے زیادہ ہو گی جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنِ الْھَادِ ← حَيْوَةُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5708

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5709

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ أَبِي جَبِيرَةَ*، قَالَ: كَانَتْ لَهُمْ أَلْقَابٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِلَقَبِهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ يَكْرَهُهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ} [الحجرات: 11]، قَالَ: وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ يَتَصَدَّقُونَ وَيُعْطُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ، حَتَّى أَصَابَتْهُمْ سَنَةٌ، فَأَمْسَكُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ [ص:17] الْمُحْسِنِينَ} [البقرة: 195] «

حضرت ضحاک بن ابو جبیرہ ؓ بیان کرتے ہیں : زمانہ جاہلیت میں ان لوگوں کے القاب ہوتے تھے۔ نبی اکرمﷺ نے ایک شخص کو اس کے لقب کے ساتھ بلایا۔ نبی اکرمﷺ کو بتایا گیا یا رسول اللہﷺ ! یہ شخص اسے نا پسند کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’ ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو ( کسی کے ) ایما ن لانے کے بعد اسے فاسق کہنا برا نام ہے‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : انصار کا یہ معمول تھا کہ جو اللہ کا منظور ہوتا وہ صدقہ کیاکرتے تھے اور عطیات دیا کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ ایک مرتبہ انہیں قحط سالی لاحق ہوئی‘ تو انہوں نے ایسا کرنا ختم کر دیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’ اور تم لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں کو ہلاکت کی طرف نہ لے جاؤ اور اچھائی کرو بیشک اللہ تعالیٰ اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔

كَانَتْ لَهُمْ أَلْقَابٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ رَجُلًا بِلَقَبِهِ، فَقِيلَ: ← الضَّحَّاكِ بْنِ أَبِي جَبِيرَةَ*، ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5709

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5710

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكُ، وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «يُرِيدُ بِهِ عَلَى صُورَةِ الَّذِي قِيلَ لَهُ: قَبَّحَ اللَّهُ وَجْهَكَ مِنْ وَلَدِهِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى أَنَّ الْخَطَّابَ لِبَنِي آدَمَ دُونَ غَيْرِهِمْ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » وَوَجْهَ مَنْ أَشْبَهَ وَجْهَكَ «، لِأَنَّ وَجْهَ آدَمَ فِي الصُّورَةِ تُشْبِهُ صُورَةَ وَلَدِهِ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کوئی شخص یہ بات ہرگز نہ کہے اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے کو قبیح کرے ‘ اور اس چہرے کو قبیح کرے جو تمہارے چہرے کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے اس کی وجہ یہ ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمی ؑ کو اپنی صورت پر پیدا کیاہے ‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) اس سے مراد اس آدمی کی صورت ہے ‘ جس سے یہ کہا گیا ہے ‘ اللہ تعالیٰ تمہارے چہرے کو قبیح کرے جو حضرت آدم ؑ کی اولاد سے تعلق رکھتا ہے اور اس بات کی دلیل کہ یہاں خطاب اولاد آدم کو ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے وہ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ہے: ’’ اور اس چہرے کو جو تمہارے چہرے کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ‘‘ اس کی وجہ یہ ہے ‘ حضرت آدمؑ کا چہرہ ان کا چہرہ ان کی اولاد کی شکل وصورت سے مشابہت رکھتا ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5710

chevron_left Previous
1…121314…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr