Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5687

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، [ص:500] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ، وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَسَّسُوا، وَلَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَافَسُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَكُونُوا عِبَادًا لِلَّهِ إِخْوَانًا»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ بد گمانی سے بچو کیونکہ بد گمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے ایک دوسرے کی جاسوسی نہ کرو۔ ایک دوسرے کے پوشیدہ معاملات جاننے کی کوشش نہ کرو۔ ایک دوسرے سے دوری اختیار نہ کرو۔ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو اور اللہ کے بندے اور بھائی ‘ بھائی بن کے رہو‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ، [ص:420] ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5687

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5688

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسْ، فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعْ»

حضرت ابو ذر غفاری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب کسی شخص کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہوا ہو ‘ تو اسے بیٹھ جانا چاہئے اگر اس کا غصہ ختم ہو جائے ‘تو ٹھیک ہے ورنہ اسے لیٹ جاتا چاہئے‘‘۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5688

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5689

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ قَالَ: [ص:502] حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَمٍّ لَهُ وَهُوَ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْ لِي قَوْلًا يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ، وَأَقْلِلْ لَعَلِّي لَا أُغْفِلُهُ، قَالَ: «لَا تَغْضَبْ» فَعَادَ لَهُ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يَرْجِعُ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَغْضَبْ»

احنف بن قیس اپنے چچا حضرت جاریہ بن قدامہ ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ آپ مجھے کوئی ایسی بات بیان کیجئے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ دے اور مختصر بات بتایئے گا تاکہ میں اس سے غفلت کا شکار نہ ہو جاؤں نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم غصہ نہ کرنا۔ تم غصہ نہ کرنا۔ انہوں نے کئی مرتبہ نبی اکرمﷺ سے یہی سوال کیا۔ نبی اکرمﷺ ہر مرتبہ انہیں یہی جواب دیتےرہے: تم غصہ نہ کرنا۔

ابْنِ عَمٍّ لَهُ وَهُوَ جَارِيَةُ بْنُ قُدَامَةَ، أَنَّهُ ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← [ص:149] ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5689

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5690

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جَارِيَةَ بْنِ قُدَامَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ لِي قَوْلًا وَأَقْلِلْ، قَالَ: «لَا تَغْضَبْ» فَأَعَادَ عَلَيْهِ، قَالَ: «لَا تَغْضَبْ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» لَا تَغْضَبْ «أَرَادَ بِهِ أَنْ لَا تَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْغَضَبِ مِمَّا نَهَيْتُكَ عَنْهُ، لَا أَنَّهُ نَهَاهُ عَنِ الْغَضَبِ، إِذِ الْغَضَبُ شَيْءٌ جِبِلَّةٌ فِي الْإِنْسَانِ، وَمُحَالٌ أَنْ يُنْهَى الْمَرْءُ عَنْ جِبِلَّتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا، بَلْ وَقَعَ النَّهْيُ فِي هَذَا الْخَبَرِ عَمَّا يَتَوَلَّدُ مِنَ الْغَضَبِ مِمَّا ذَكَرْنَاهُ»

حضرت جاریہ بن قدامہ ؓ بیان کرتے ہیں: ایک صاحب نے نبی اکرمﷺ کی خدمت میں عرض کی آپﷺ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیں اور مختصر بات عنایت کیجئے گا ۔ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: تم غصہ نہ کرنا ان صاحب نے دوبارہ آپﷺ سے یہی سوال کیا‘ تو آپ نے یہی فرمایا تم غصہ نہ کرنا۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ تم غصہ نہ کرنا ‘‘ اس کے ذریعے آپﷺ کی مراد یہ ہے :غصے میں آنے کے بعد تم کوئی ایسا کام نہ کرنا جس سے میں نے منع کیا ہے۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے‘ نبی اکرمﷺ نے غصہ کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ غصہ انسان کی فطرت میں شامل ہے اور یہ بات نا ممکن ہے ‘ آدمی کو اس کی فطرت میں شامل موجود کسی چیز سے منع کیا جائے بلکہ یہ ممانعت کے بارے میں ہے ‘ جو غصے کے نتیجے میں سامنے آتی ہے‘ جس کا ہم نے ذکر کیا ہے۔

لَا تَغْضَبْ ← "لَا تَغْضَبْ" فَأَعَادَ عَلَيْهِ ← لِلنَّبِيِّ قُلْ لِي قَوْلًا وَأَقْلِلْ، ← جارية بن قدامة أن رجلا ← الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5690

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5691

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَوَانَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، [ص:505] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَقُولُونَ فِي الصُّرَعَةِ؟ » قَالَ: قُلْتُ: الَّذِي لَا يَصْرَعُهُ الرِّجَالُ، قَالَ: «الصُّرَعَةُ الَّذِي يُمْسِكُ نَفْسَهُ عِنْدَ الْغَضَبِ»

حضرت عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: تم پچھاڑ دینا کسے کہتے ہو؟ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یہ کہ آدمی دوسروں کو پچھاڑ دے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پچھڑنا ( یا طاقت ) یہ ہے ‘ آدمی غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ، [ص:505] ← إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5691

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5692

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ، وَأَحَدُهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ قَالَهَا لَذَهَبَ عَنْهُ مَا يَجِدُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» فَقَالُوا لِلرَّجُلِ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنِّي لَسْتُ بِمَجْنُونٍ

حضرت سلیمان بن صردؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کے سامنے دو آدمیوں کی بحث ہو گئی۔ ہم اس وقت نبی اکرمﷺ کے پاس بیٹھےہوئے تھے۔ ان میں سے ایک شخص نے غصے کے عالم میں اپنے ساتھی کو برا کہنا شروع کیا۔ اس شخص کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مجھے ایک ایسے کلمے کے بارے میں پتہ ہے ‘ اگر یہ اسے پڑھ لے ‘ تو اسے جو غصہ آ رہا ہے وہ ختم ہو جائے گا وہ کلمہ اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ہے۔ لوگوں نےاس شخص سے کہا : کیا تم نے سنا نہیں نبی اکرمﷺ نے کیا کہا ہے ‘ تو اس نے کہا: میں پاگل نہیں ہوں ۔ (یعنی میں نے سن لیا ہے)

إِنِّي لَسْتُ بِمَجْنُونٍ ← لِلرَّجُلِ: أَلَا تَسْمَعُ مَا ← اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ وَنَحْنُ عِنْدَهُ جُلُوسٌ، وَأَحَدُهُمَا يَسُبُّ صَاحِبَهُ مُغْضَبًا قَدِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5692

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5693

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَثْقَلَ مَا وُضِعَ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ، وَإِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ»

حضرت ابو درداء ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ قیامت کے دن مومن کے نامہ اعمال میں لکھی جانے والی سب سے زیادہ وزنی چیز اچھے اخلاق ہوں گے ‘ اور اللہ تعالیٰ فحش گفتگو اور بد زبانی کرنے والے کو نا پسند کرتا ہے‘‘۔

النَّبِيِّ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5693

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5694

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى*، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُصَلِّي عِنْدَ قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ [ص:507] مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، فَقَالَ: تُصَلِّي إِلَى قَبْرِهِ؟ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّهُ، فَقَالَ لَهُ قَوْلًا قَبِيحًا، ثُمَّ أَدْبَرَ، فَانْصَرَفَ أُسَامَةُ، فَقَالَ: يَا مَرْوَانُ إِنَّكَ آذَيْتَنِي، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْمُتَفَحِّشَ، وَإِنَّكَ فَاحِشٌ مُتَفَحِّشٌ»

عبید اللہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت اسامہ بن زیدؓ کو نبی اکرمﷺ کی قبر مبارک کے پاس نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا۔ مروان بن حکم آیا ‘ تو اس نے دریافت کیا کہ آپ قبر کی طرف رخ کر کے نماز ادا کر رہے ہیں‘ تو حضرت اسامہ بن زیدؓ نے فرمایا میں نبی اکرمﷺ سے محبت کرتا ہوں۔ مروان نے انہیں بری بات کہی پھر وہ منہ پھیر کر چلا گیا ‘ تو حضرت اسامہ بن زیدؓ نے نماز ختم کی اور بولے : تم نے مجھے اذیت پہنچائی ہے میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ بے شک اللہ تعالیٰ فحش گفتگو کرنے والے اور بد زبانی کرنے والے کو نا پسند کرتا ہے‘‘۔ اور تم فحش گفتگو کرنے والے اور بد زبانی کرنے والے ہو۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5694

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5695

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، [ص:508] عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ أَثْقَلَ مَا وُضِعَ فِي مِيزَانِ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُلُقٌ حَسَنٌ، وَإِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ الْفَاحِشَ الْبَذِيءَ» *

سیدہ ام درداء ؓ حضرت ابو درداء ؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ’’ قیامت کے دن مومن کے نامہ اعمال میں رکھی جانے والی سب سے وزنی چیز اچھے اخلاق ہوں گے‘ اور بے شک اللہ تعالیٰ فحش گفتگو کرنے والے اور بد زبانی کا مظاہرہ کرنے والے شخص کو نا پسند کرتاہے‘‘۔

النَّبِيِّ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أُمِّ الدَّرْدَاءِ، ← يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، [ص:508] ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5695

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5696

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ: «بِئْسَ الرَّجُلُ، أَوْ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ» فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا خَرَجَ، كَلَّمَتْهُ عَائِشَةُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ «بِئْسَ الرَّجُلُ، أَوْ بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ» فَلَمَّا دَخَلَ انْبَسَطْتَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ شَرُّ النَّاسِ مَنْ يَتَّقِي النَّاسُ فُحْشَهُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : ایک شخص نے نبی اکرمﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی جب نبی اکرمﷺ نے اس کی آواز سنی ‘ تو آپﷺ نے سیدہ عائشہ ؓ سے فرمایا یہ برا شخص ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) یہ اپنے خاندان کا برا فرد ہے‘ جب وہ شخص اندر آیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس کے ساتھ خوش اخلاقی کی جب وہ چلا گیا ‘ تو سیدہ عائشہ صدیقہؓ نے اس بارے میں نبی اکرمﷺ سے بات کی۔ سیدہ عائش صدیقہؓ نے عرض کی: آپﷺ نے ‘ تو یہ کہا تھا یہ برا شخص ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) یہ اپنے خاندان کا برا فرد ہے ‘ لیکن جب وہ اندر آیا‘ تو آپﷺ نے اس کے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے عائشہ صدیقہؓ ! لوگوں میں سب سے برا وہ شخص ہوتا ہے‘ جس کی بد زبانی سے لوگ بچنے کی کوشش کریں۔

صَوْتَهُ، ← عَائِشَةَ، أَنَّ رَجُلًا اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ فَلَمَّا ← عُرْوَةَ ← عبد الله بن دينار ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْخَلِيلِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5696

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5697

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، [ص:509] عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَبْغَضُ الرِّجَالِ إِلَى اللَّهِ الْأَلَدُّ الْخَصِمُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ نا پسندیدہ شخص وہ ہے ‘جو سخت جھگڑالو ہو‘‘۔

عَائِشَةَ ← ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، [ص:509] ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5697

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ مَا کُکْرَہٗ مِنَ الْکَلَامِ وَمَا لَا یُکْرَہُ · حديث 5698

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ، بِعَسْقَلَانَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، أَنَّ جَدَّهُ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قُلْ: رَبِّيَ اللَّهُ، ثُمَّ اسْتَقِمْ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَكْثَرُ مَا تَخَافُ عَلَيَّ؟ قَالَ: «هَذَا»، وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ

حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! آپﷺ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتایئے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں ۔ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: تم یہ کہوں میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے اور پھر ( اس پر ) استقامت اختیار کرو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپﷺ میرے بارے میں سب سے زیادہ کس بات کا اندیشہ ہے۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: اس کا ۔ آپﷺ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔

مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سُوَيْدٍ، أَنَّ جَدَّهُ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيَّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَّ اللَّخْمِیُّ بِعَسْقَلَانَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter that is not unacceptable of words and what is not · Hadith 5698

chevron_left Previous
1…111213…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr