Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ التَّوَضُعِ وَالْکِبْرِ وَالْعُجْبِ · حديث 5675

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، [ص:489] حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ: مَا كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ: «مَا كَانَ إِلَّا بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ، كَانَ يَفْلِي ثَوْبَهُ، وَيَحْلِبُ شَاتَهُ، وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے دریافت کیا گیا۔ نبی اکرمﷺ گھر میں کیا کام کیا کرتے تھے؟ سیدہ عائشہؓ نے بتایا : آپﷺ ایک عام انسان کی طرح اپنے کپڑے دھو لیتے تھے ‘ اپنی بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے اور اپنے کام خود کر لیتے تھے۔

عَائِشَةَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ: مَا كَانَ عَمَلُ رَسُولِ اللَّهِ فِي بَيْتِهِ؟ ← عَمْرَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، [ص:33] ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of humility, greatness and wonder · Hadith 5675

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ التَّوَضُعِ وَالْکِبْرِ وَالْعُجْبِ · حديث 5676

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأَبُلَّةِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، أَيُّ شَيْءٍ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ عِنْدَكِ؟ قَالَتْ: «مَا يَفْعَلُ أَحَدُكُمْ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، يَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَخِيطُ ثَوْبَهُ، وَيَرْقَعُ دَلْوَهُ»

عروہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ؓ سے دریافت کیا: اے ام المومنین جب نبی اکرمﷺ آپ کے ہاں موجود ہوتے تھے ‘ تو آپﷺ کیا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ ؓ نے بتایا : وہی کچھ جو تم میں سے کوئی بھی شخص کام کاج کرتا ہے۔ آپﷺ اپنا جوتا گانٹھ لیتے تھے ۔ اپنے کپڑے کو سی لیتے تھے اور اپنے ڈول کو مرمت کر لیتے تھے۔

عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← حُسَیْنُ بْنُ مَھْدِیٍّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of humility, greatness and wonder · Hadith 5676

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ التَّوَضُعِ وَالْکِبْرِ وَالْعُجْبِ · حديث 5677

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ؟ [ص:491] قَالَتْ: «كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ، وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ»

سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے دریافت کیا گیا نبی اکرمﷺگھر میں کیا کام کرتے تھے؟ انہوں نے بتایا : آپ اپنے کپڑے سی لیتے تھے اپنے جوتے کو گانٹھ لیتے تھے اور وہ سارے کام کر لیتے تھے جو مرد گھروں میں کر لیتے ہیں۔

«كَانَ يَخِيطُ ثَوْبَهُ، وَيَخْصِفُ نَعْلَهُ، وَيَعْمَلُ مَا يَعْمَلُ الرِّجَالُ فِي بُيُوتِهِمْ» ← عَائِشَةَ، أَنَّهَا سُئِلَتْ: مَا كَانَ النَّبِيُّ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ؟ [ص:491] ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of humility, greatness and wonder · Hadith 5677

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ التَّوَضُعِ وَالْکِبْرِ وَالْعُجْبِ · حديث 5678

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ دَرَّاجًا، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ دَرَجَةً يَرْفَعْهُ اللَّهُ دَرَجَةً، حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي أَعْلَى عِلِّيِّينَ، وَمَنْ يَتَكَبَّرْ عَلَى اللَّهِ دَرَجَةً يَضَعْهُ اللَّهُ دَرَجَةً حَتَّى يَجْعَلَهُ فِي أَسْفَلِ السَّافِلِينَ، وَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْمَلُ فِي صَخْرَةٍ صَمَّاءَ لَيْسَ عَلَيْهِ بَابٌ [ص:492] وَلَا كُوَّةٌ، لَخَرَجَ مَا غَيَّبَهُ لِلنَّاسِ كَائِنًا مَا كَانَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ دَرَجَةً» يُرِيدُ بِهِ مَنْ تَوَاضَعَ لِلْمَخْلُوقِينَ فِي اللَّهِ، فَأَضْمَرَ الْخَلْقَ فِيهِ، وَقَوْلُهُ: «وَمَنْ يَتَكَبَّرُ» أَرَادَ بِهِ عَلَى خَلْقِ اللَّهِ فَأَضْمَرَ الْخَلْقَ فِيهِ إِذِ الْمُتَكَبِّرُ عَلَى اللَّهِ كَافِرٌ بِهِ

حضرت ابو سعید خدری ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے ایک درجے کی تواضع اختیار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کرتا ہے ‘ یہاں تک کہ اسے اعلیٰ علیین میں شامل کر دیتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ایک درج کا تکبر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ایک درجہ نیچے کر یتا ہے ‘ یہاں تک کہ اسے اسفل سافلین میں شامل کر دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ایسی سالم چٹان کے اندر کوئی عمل کرے جس کا کائی دروازہ اور کوئی کھڑکی نہ ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ اس چیز کو بھی ظاہر کر دے گا ‘جسے آدمی نے لوگوں سے چھپایا ہوا تھا خواہ وہ کوئی بھی چیز ہو‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒفرماتے ہیں :) نبی اکرمﷺ کا یہ فرما ن: ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے ایک درجہ تواضع اختیار کرتا ہے‘‘۔ اس کے ذریعے آپﷺ کی مراد یہ ہے ‘ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے مخلوق کے ساتھ تواضع اختیار کرتا ہے‘تو اس میں لفظ مخلوق محذوف ہے ۔ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان: ’’ جو شخص تکبر کرتاہے‘‘ اس کے ذریعے آپﷺ کی مراد یہ ہے ‘ جو شخص اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ تکبر کا معاملہ کرتا ہے یہاں پر بھی لفظ مخلوق محذو ف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی خلاف تکبر کرنے ولا شخص ‘ تو کافر ہو جائے گا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ دَرَّاجًا ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of humility, greatness and wonder · Hadith 5678

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ التَّوَضُعِ وَالْکِبْرِ وَالْعُجْبِ · حديث 5679

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ، كُلُّ ضَعِيفٍ [ص:493] مُتَضَعِّفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، وَأَهْلُ النَّارِ كُلُّ مُسْتَكْبِرٍ جَوَّاظٍ»

حضرت حارثہ بن وہب خزاعی ؓ بیان کرتے ہیں‘میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ کیا میں اہل جنت کی طرح تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ ہر کمزور اور غریب شخص ( جتنی ہے) اگر وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھا لے‘ تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کر دے اور ہر متکبر اور سخت مزاج شخص جہنمی ہے‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ، ← مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّهُ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of humility, greatness and wonder · Hadith 5679

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ التَّوَضُعِ وَالْکِبْرِ وَالْعُجْبِ · حديث 5680

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «فِي هَذَا الْخَبَرِ مَعْنَيَانِ اثْنَانِ أَحَدُهُمَا وَهُوَ الَّذِي نَوَّعْنَا لَهُ النَّوْعَ» لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ «أَرَادَ بِهِ جَنَّةً عَالِيَةً يَدْخُلُهَا غَيْرُ الْمُتَكَبِّرِينَ، وَقَوْلُهُ: » وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ «أَرَادَ بِهِ نَارًا سَافِلَةً يَدْخُلُهَا غَيْرُ الْمُسْلِمِينَ، وَالْمَعْنَى الثَّانِي: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَصْلًا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرٍ، أَرَادَ بِالْكِبْرِ الشِّرْكَ، إِذِ الْمُشْرِكُ لَا يَدْخُلُ جَنَّةً مِنَ الْجِنَّانِ أَصْلًا، وَقَوْلُهُ: » لَا يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلِ مِنْ إِيمَانٍ «أَرَادَ بِهِ عَلَى سَبِيلِ الْخُلُودِ، حَتَّى يَصِحَّ الْمَعْنَيَانِ مَعًا»

حضرت عبد اللہ ؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا ‘ جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہو گا ایسا شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا‘ جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہو گا‘‘۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں : ) اس روایت کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں اس میں سے ایک وہ ہے‘ جسے ہم نے ایک نوع میں بیان کیا ہے پھر جنت میں ایسا شخص داخل نہیں ہو گا‘ جس کے دل میں رائی کے وزن کے جتنا تکبر ہو اور کےذریعے جنت کا بلند درجہ مراد ہے جہاں وہ لوگ داخل ہوں گے جو تکبر نہیں کیا کرتے تھے اور نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا ‘ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان موجود ہو ‘ اس کےذریعے جہنم کا وہ نیچے والا حصہ مراد ہے جہاں وہ لوگ داخل ہوں گے جو مسلمان نہیں ہوں گے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ ہے : جنت میں سرے سے کوئی ایسا شخص داخل نہیں ہو گا‘ جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا تکبر ہو گا اور یہاں تکبر سے مراد شرک ہے کیونکہ مشرک شخص سرے سے جنت میں کبھی بھی داخل نہیں ہو گا۔ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان: وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا‘ جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو اس کے ذریعے آپ کی مراد یہ ہے : ہمیشہ کےلئے ایسا نہیں ہو گا اس طرح سے دونوں مفہوم درست ہو جائیں گے۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of humility, greatness and wonder · Hadith 5680

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ التَّوَضُعِ وَالْکِبْرِ وَالْعُجْبِ · حديث 5681

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الَّذِي يَجُرُّ ثَوْبَهُ مِنَ الْخُيَلَاءِ، لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ بے شک جو شخص تکبر کے طور پر اپنے کپڑے کو لٹکاتاہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظر رحمت نہیں کرے گا‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← وَاَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللہِ بْنُ دِینَارٍ اَنَّہٗ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← الْمَقَابِرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of humility, greatness and wonder · Hadith 5681

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ التَّوَضُعِ وَالْکِبْرِ وَالْعُجْبِ · حديث 5682

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْرَهُ جَرَّ الْإِزَارِ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ أَهْلِهَا، وَعَزْلَ الْمَاءِ عَنْ مَحِلِّهِ، وَضَرْبَ الْكِعَابِ، وَالصُّفْرَةَ، وَتَغْيِيرَ الشَّيْبِ، وَعَقْدَ التَّمَائِمِ، وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ تہبند لٹکانے کو اور ( خواتین کے ) اپنے شوہر کے علاوہ کسی اورکے لئے زینت ظاہر کرنے کو اور عورت کی پچھلی شرمگاہ میں صحبت کرنے ‘ پانسہ کھیلنے ‘ پیتل ( کی انگوٹھی پہننے یا زرد رنگ استعمال کرنے) اور بالوں کی رنگت تبدیل کرنےکو اور تعویذ لٹکانے کو اور دم کرنے کو ناپسند کرتے تھے البتہ معوذات ( یعنی معوذ تین یا پناہ والی دعاؤں ) کا حکم مختلف ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، ← الرُّكَيْنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْفَزَارِيُّ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of humility, greatness and wonder · Hadith 5682

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ التَّوَضُعِ وَالْکِبْرِ وَالْعُجْبِ · حديث 5683

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَشُعْبَةُ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ عَشْرًا: تَغْيِيرَ الشَّيْبِ، وَخَاتَمَ الذَّهَبِ، وَالضَّرْبَ بِالْكِعَابِ، وَالرُّقَى إِلَّا بِالْمُعَوِّذَاتِ، وَالتَّمَائِمَ، وَجَرَّ الْإِزَارِ، وَالصُّفْرَةَ، وَالتَّبَرُّجَ بِالزِّينَةِ لِغَيْرِ مَحِلِّهَا، وَعَزْلَ الْمَاءِ عَنْ مَحِلِّهِ»

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے دس چیزوں کو نا پسند یدہ قرار دیا ہے۔ سفید رنگ ( کے بالوں کی رنگت ) تبدیل کرنے ، سونے کی انگوٹھی پہنے ، پانسہ کھیلنے ، دم کرنے ، تعویذ لٹکانے ، تہبند لٹکانے ، زرد ( رنگ ) ، نا جائز ططور پر زینت ظاہر کرنے اور پانی ( یعنی مادۂ تولید) کو اس کے مخصوص مقام سے الگ کرنے ( ان سب کاموں کو نا پسندیدہ قرار دیا ہے)

ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، ← الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ، ← الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَشُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of humility, greatness and wonder · Hadith 5683

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ التَّوَضُعِ وَالْکِبْرِ وَالْعُجْبِ · حديث 5684

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، [ص:497] عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنَّكَ تُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَهَلْ سَمِعْتَهُ يَقُولُ فِي حُلَّتِي هَذِهِ؟ فَقَالَ: لَوْلَا مَا أَخَذَ اللَّهُ عَلَيَّ فِي الْكِتَابِ مَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ، سَمِعْتُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ رَجُلًا مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ يَتَبَخْتَرُ إِذْ أَعْجَبَتْهُ جُمَّتُهُ وَبُرْدَاهُ، فَخَسَفَ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ، فَهُوَ يَتَجَلْجَلُ فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

حضرت ابو رافعؓ بیان کرتے ہیں: قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخٰص حضرت ابو ہریرہؓ کے پاس آیا اور بولا آپ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے بکثرت احادیث بیان کرتے ہیں: کیا آپ نے نبی اکرمﷺ کو میرے اس حلہ کے بارے میں کوئی بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے ‘ تو حضرت ابو ہریرہؓ نےبتایا اگر وہ حکم نہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بیان کیا ہے ‘تو میں تم لوگوں کو کوئی حدیث بیان نہ کرتا میں نے نبی اکرمﷺ کویہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تکبر کے ساتھ چل رہا تھا اس کے بالوں اور چادروں نےاسے خود پسندی کا شکار کیا ہوا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا اور وہ قیامت کے دن تک اس میں دھنستا رہے گا‘‘۔

لَوْلَا مَا أَخَذَ اللَّهُ عَلَيَّ فِي الْكِتَابِ مَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ، ← فِي حُلَّتِي هَذِهِ؟ ← رَسُولِ اللَّهِ فَهَلْ ← يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِنَّكَ تُكْثِرُ الْحَدِيثَ ← أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ فَتًى مِنْ قُرَيْشٍ أَتَى أَبَا هُرَيْرَةَ، ← ثَابِتٌ، [ص:331] ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، بِالْبَصْرَةِ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door of humility, greatness and wonder · Hadith 5684

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5685

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، بِبُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ فِيهَا الرُّوحَ، وَمَنْ تَحَلَّمَ حُلْمًا كَاذِبًا كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَيُعَذَّبُ عَلَى ذَلِكَ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جو شخص جھوٹا تصویر بنائے گا اسے یہ عذاب دیا جائے گا کہ اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں روح نہیں پھونک سکے گا اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرے گا اسے اس بات کا پابند کیا جائے گا وہ جو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے اسے یہ عذاب دیا جائے گا اور جو شخص چھپ کر کسی کی باتیں سنے گا جب کہ وہ اسے نا پسند کرتے ہوں ‘ تو قیامت کے دن اس شخص کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا‘‘۔

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5685

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْاِسْتِمَاعِ الْمَکْرُوہِ وَسُوءِ الظَّنِّ وَالْغَضَبِ وَالْفُحْشِ · حديث 5686

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَوَّرَ صُورَةً عَذَّبَهُ اللَّهُ، حَتَّى يَنْفُخَ فِيهَا وَلَيْسَ بِنَافِخٍ، وَمَنِ اسْتَمَعَ إِلَى حَدِيثِ قَوْمٍ يَفِرُّونَ مِنْهُ، صُبَّ فِي أُذُنَيْهِ الْآنُكُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ تَحَلَّمَ كُلِّفَ أَنْ يَعْقِدَ بَيْنَ شَعِيرَتَيْنِ وَلَيْسَ بِفَاعِلٍ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: ’’ جو شخص تصویر بنائے گا اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا ‘ یہا ں تک کہ اسے اس تصویر میں روح پھونکنی پڑے گی او ر و ہ نہیں پھونک سکے گا ‘ جو شخص لوگوں کو بات سنے گا ‘ حالانکہ وہ لوگ اسے بات نہ سنانا چاہتے ہوں۔ اس کے کانوں میں قیامت کےد ن سیسہ ڈالا جائے گا اور جو شخص جھوٹا خواب بیان کرےگا اسےاس بات کا پابند کیا جائے گا‘ وہ جو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگوائے اور وہ ایسا نہیں کر سکے گا‘‘۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ بْنِ شَقِيقٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Chapter on abominable listening, mistrust, anger and immorality · Hadith 5686

chevron_left Previous
1…101112…27
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr