Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5533

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَوَى الرَّجُلُ إِلَى فِرَاشِهِ أَتَاهُ مَلَكٌ وَشَيْطَانٌ، فَيَقُولُ الْمَلَكُ: اخْتِمْ بِخَيْرٍ، وَيَقُولُ الشَّيْطَانُ: اخْتِمْ بِشَرٍّ، فَإِنْ ذَكَرَ اللَّهَ، ثُمَّ نَامَ بَاتَتِ الْمَلَائِكَةُ تَكْلَؤُهُ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ، قَالَ الْمَلَكُ: افْتَحْ بِخَيْرٍ، وَقَالَ الشَّيْطَانُ: افْتَحْ بِشَرٍّ، فَإِنْ قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَدَّ عَلَيَّ نَفْسِي، وَلَمْ يُمِتْهَا فِي مَنَامِهَا، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا» إِلَى آخِرِ الْآيَةِ «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي يُمْسِكُ السَّمَاءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَإِنْ وَقَعَ مِنْ سَرِيرِهِ فَمَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ»

حضرت جابر ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : ’’جب کوئی شخص اپنے بستر پر جاتا ہے ‘ تو ایک فرشتہ اور ایک شیطان اس کے پاس آتے ہیں ‘ فرشتہ یہ کہتا ہے : بھلائی کے ذریعے ( اپنے دن بھر کے کاموں کا ) اختتام کرو۔ شیطان کہتا ہے: برائی کے ذریعے ( اپنے دن بھر کے کاموں کا ) اختتام کرو‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: ) اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کا ذکر کر کے سوتا ہے ‘ تو فرشتے رات بھر اس کی حفاظت کرتے رہتے ہیں ‘ جب وہ بیدار ہو جائے‘ تو فرشتہ کہتا ہے بھلائی کے ذریعے ( اپنے دن کے کاموں ) کا آغاز کرو اور شیطان کہتا ہے : برائی کے ذریعے آغاز کرو اگر وہ شخص یہ پڑھ لے۔ ’’ ہر طرح کی حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے ُ جس نے میری جان مجھے واپس کر دی اور اسے سونے کے دوران ہی موت نہیں دی ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے ‘ جس نے آسمانوں اور زمین کو اس بات سے روکا ہوا ہے ‘ وہ برباد ہو جائیں۔ ( یہ آیت کے آخر تک پڑھنا ہے ) ہر طر ح کی حمد اس کےلئے مخصوص ہے ‘ جس نے آسمان کو اس بات سے روکا ہوا ہے‘ وہ زمین پر گر جائے البتہ اس کی اجازت سے ایسا ہو سکتا ہے‘‘۔ ( نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ) اگر وہ شخص اس چار پائی سے گر کر مر جائے‘ تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5533

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5534

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَأْخُذْ دَاخِلَةَ إِزَارَهُ، فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ، وَيُسَمِّي اللَّهَ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي مَا خَلَفَهُ عَلَيْهِ بَعْدَهُ عَلَى فِرَاشِهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَضْطَجِعَ فَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنَ، وَلْيَقُلْ: سُبْحَانَكَ رَبِّي، بِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي، وَبِكَ أَرْفَعُهُ، إِنْ أَمْسَكْتَ نَفْسِي فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا حَفِظْتَ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے‘ تو وہ اپنے تہبند کے اندرونی حصے کے ذریعے اسے جھاڑ لے اور بسم اللہ پڑھ لے کیونکہ وہ یہ بات نہیں جانتا اس کے بستر پر کیا چیز آئی تھی ‘ پھر جب وہ لیٹنے کا ارادہ کرے ‘تو دائیں پہلو پر لیٹے اور یہ پڑھے۔ ’’ تو پاک ہے اے میرے پروردگار میں تیری مدد کے ذریعے اپنا پہلو ( بستر پر) رکھتا ہوں اور تیری مدد کے ذریعے اسے اٹھاؤں گا اگر ‘ تو نے میری جان کو روک لیا ( یعنی مجھے موت دے دی ) ‘ تو اس کی مغفرت کرنا اگر ‘تو نے اسے چھوڑ دیا ( یعی میں دو بارہ بیدار ہو گیا ) ‘ تو اس چیز کے ہمراہ اس کی حفاظت کرنا جس کے ہمراہ ‘ تو اپنے نیک بندوں کی حٖفاظت کرتا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← أَحْمَدُ بْنُ أَبَانَ الْقُرَشِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Hadith 5534

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5535

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «» إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ فَلْيَنْزِعْ إِزَارَهُ، وَلْيَنْفُضْ بِدَاخِلَتِهَا فِرَاشَهُ، ثُمَّ لْيَتَوَسَّدْ يَمِينَهُ، وَيَقُولُ: بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَضَعُ جَنْبِي، وَبِكَ ارْفَعُهُ، اللَّهُمَّ إِنْ أَمْسَكْتَهَا فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «» سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَمِعَهُ مِنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ «»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ جب کوئی شخص اپنے بستر پر جائے ‘ تو اپنے تہبند کا ( ایک سرا) باہر نکال کر اس کے اندرونی حصے کے ذریعے اپنے بستر کو جھاڑ لے پھر وہ دائیں پہلو کے بل تکیے ( پر سر رکھے ) اور یہ پڑھے۔ ’’ اے اللہ! میں تیرے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اپنا پہلو ( بستر پر ) رکھتا ہوں اور تیری مدد سے ہی اسے اٹھاؤں گا : اے اللہ! اگر ‘ تو نےاسے روک لیا تو اس پر رحم کرنا اور اگر اسے چھوڑ دیا ‘ تو اس کی ا س چیز کے ہمراہ حفاظت کرنا جس کے ذریعے ‘ تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) سعید مقبری نے یہ روایت حضرت ابو ہریرہؓ سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت اپنے والد کے حوالے سے بھی حضرت ابو ہریرہؓ سے سنی ہے اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 5535

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5536

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ الْمُعْتَمِرِ، يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، وَاجْعَلْهُ [ص:347] آخِرَ مَا تَقُولُ، فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ» فَقُلْتُ: أَسْتَذْكِرُهُنَّ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ؟ فَقَالَ: «وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ»

حضرت براء بن عازبؓ بیان کرتےہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم بستر پر جانے لگو ‘ تو نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو پھر اپنے دائیں پہلو کے بل لیٹ جاؤ پھر یہ پڑھو۔ ’’ اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیرے سامنے جھکا دیا میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا۔ میں رغبت رکھتے ہوئے اور ڈر رکھتے ہوئے اپنی پشت تیرے ساتھ لگا دی ( یعنی تجھ پر آسرا کر لیا) تیرے مقابلے میں تیرے علاوہ اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں ہے۔ میں تیری اس کتاب پر ایمان لایا جسے‘تو نے نازل کیا ہے اور تیرے اس نبی اکرمﷺ پر ایمان لایا جسے‘ تو نے مبعوث کیا ہے ‘‘۔ ( انبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :) تم ان کلمات کو اپنی آخری گفتگو بتاؤ اگر تم ( اسی رات میں) فوت ہو جاتے ہو تو تم فطرت ( یعنی دین اسلام) پہ فوت ہو گے ۔ حضرت براؓ بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں ‘ یا د کرتے ہوئے لفظ ’’تیرے نبی اکرمﷺ پر ایمان لایا ‘‘ کی بجائے‘‘ تیرے رسول پر ایمالایا ‘ پڑھ دیا‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ( یہ پڑھو ) تیرے اس نبی پر ایمان لایا جسے‘ تو نے مبعوث کیا ہے۔

«وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ» ← اجْعَلْهُ آخِرَ مَا تَقُولُ، فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ» فَقُلْتُ: أَسْتَذْكِرُهُنَّ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ؟ ← بِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ، ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← مُعْتَمِرٌ ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 5536

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5537

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو صَالِحٍ، يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا أَنْ يَنَامَ أَنْ يَضْطَجِعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ ثُمَّ، يَقُولُ: «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْأَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى، مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْفُرْقَانِ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ، أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ، وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ، اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَاغْنِنَا مِنَ الْفَقْرِ» وَكَانَ يَرْوِي ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

سہیل نامی راوی بیان کرتے ہیں : ابو صالح ہمیں یہ ہدایت کرتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص سونے لگے ‘ تو وہ اپنے دائیں پہلو کے بل (بستر پر ) لیٹ جائے اور پھر یہ پڑھے۔ ’’ اے اللہ ! اے تمام آسمانوں کے پروردگار اور زمین کے پروردگار اور عظیم عرش کے پروردگار اے ہمارے پرورگار اور اے ہر چیز کے پروردگار ! اے دانے اور گٹھلی کو چیرنے والے ! اے تورات انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے! میں ہر اس چیز کی شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ‘ جس کی پیشانی کو تونے پکڑا ہوا ہے‘ تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں ہے ‘ تو ہی سب کے بعد ہے تیرے بعد کچھ نہیں ہے ‘ تو ایسا ظاہر ہے ‘ تیرے اوپر کوئی نہیں ہے ‘ تو ہماری طرف سے قرض کو ادا کرے اور ہمیں غربت سے محفوظ کر دے‘‘۔ سہیل نامی راوی بیان کرتے ہیں: ابو صالح نے یہ ہدایت حضرت ابو ہریرہؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ نے نقل کی ہے۔

كَانَ أَبُو صَالِحٍ، يَأْمُرُنَا إِذَا أَرَادَ أَحَدُنَا ← سُهَيْلٍ، ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5537

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5538

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا تَبَوَّأَ مَضْجَعَهُ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي وَسَقَانِي، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي مَنَّ عَلَيَّ فَأَفْضَلَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ، اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ، وَمَالِكَ كُلِّ شَيْءٍ، وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ، لَكَ كُلُّ شَيْءٍ، أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» *

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب بستر پر لیٹتے تھے ‘ تو یہ پڑھتے تھے : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے‘ جس نے میری ضروریات کی کفایت کی مجھے پناہ دی اور مجھے سیراب کیا ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے مجھ پر احسان کرتے ہوئے اپنا فضل کیا ہر طرح کی حمد اللہ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے مجھے عطا کرتے ہوئے بہترین عطا کیا ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کےلئے مخصوص ہے ‘ جو ہر حالت میں ہو اے اللہ ! اے ہر چیز کے پروردگار اے ہر چیز کے مالک اے ہر چیز کے معبود ہر چیز تیری ملکیت ہے میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘‘۔

ابْنِ عُمَرَ ← ابْنِ بُرَيْدَةَ، ← الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ، ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5538

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5539

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ: «اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا» وَإِذَا اسْتَيْقَظَ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ»

حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ جب بستر پر جاتے تھے ‘ تو آپ یہ پڑھتے تھے۔ ’’ اے اللہ ! میں تیرے اسم سے برکت حاصل کرتے ہوئے مرتا ہوں ( یعنی سوتا ہوں) اور زندہ ہوں گا ( یعنی بیدار ہوں گا ) ‘‘ نبی اکرمﷺ جب بیدار ہوتے تھے ‘ تو یہ پڑھتے تھے۔ ’’ ہر طرح کی حمد اس اللہ تعالیٰ کےلئے مخصوص ہے ‘ جس نے ہمیں موت ( یعنی نیند ) دینے کے بعد زندگی ( یعنی بیداری ) دی اور اسی کی بارگاہ میں دوبارہ زندہ ہونا ہے‘‘۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانًا بَعْدَمَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ← اللَّهُمَّ بِاسْمِکَ أَمُوتُ وَأَحْيَا وَإِذَا اسْتَيْقَظَ ← کَانَ النَّبِيُّ إِذَا أَوَی إِلَی فِرَاشِهِ ← حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 5539

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5540

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا، فَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ»

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ جب بستر پر جاتے تھے ‘ تو یہ پڑھتے تھے۔ ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے ہمیں کھلایا ہمیں پلایا اور ہماری کفایت کی ‘ تو کتنے ہی لوگ ایسے ہے جن کا کفایت کرنے والا کوئی نہیں ہے ‘ جنہیں پناہ دینے والا کوئی نہیں ہے ‘‘۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5540

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5541

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتَ خَلَقْتَ نَفْسِي وَأَنْتَ تَتَوَفَّاهَا، لَكَ مَمَاتُهَا وَمَحْيَاهَا، اللَّهُمَّ إِنْ تَوَفَّيْتَهَا فَاغْفِرْ لَهَا، وَإِنْ أَحْيَيْتَهَا فَاحْفَظْهَا، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ وَلَدِهِ: أَكَانَ عُمَرُ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: بَلْ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ كَانَ يَقُولُهُ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبد اللہ بن ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب وہ بستر پر لیٹتے تھے ‘ تو یہ پڑھتے تھے: ’’ اے اللہ ! تو نے میری جان کو پیدا کیا ہے ‘ تو ہی اسے موت دے گا اس کی موت اور زندگی تیرے ہاتھ میں ہے اے اللہ ! اگر ‘ تو نے اسے موت دے دی ‘ تو اس کی مغفرت کرنا اگر اسے زندہ رکھا ‘ تو اس کی حفاظت کرنا اے اللہ ! میں تجھ سے عافیت کا سوال کرتا ہوں‘‘۔ تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی اولاد میں سے ایک صاحب نے دریافت کیا : کیا حضرت عمران ؓ کلمات کو پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا: جی نہیں بلکہ حضرت عمرؓ سے زیادہ شخصیت ان کلمات کو پڑھتی تھیں: راوی بیان کرتے ہیں: ہمارا یہ خیال ہے ‘ انہوں نے نبی اکرمﷺ کے حوالے سے یہ بات منقول کی ہے‘‘۔

كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5541

chevron_left Previous
1…5678
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr