Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5497

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، [ص:309] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنِّي اصْطَنَعْتُ خَاتَمًا، فَلَا يَنْقُشْ أَحَدٌ عَلَى نَقْشِهِ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے انگوٹھی بنوائی ہے ۔ کوئی شخص اس کے نقش کے مطابق نقش نہ بنوائے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، [ص:280] ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5497

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5498

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا، وَقَالَ: «إِنَّا صَنَعْنَا حِلْقًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشْ عَلَيْهِ أَحَدٌ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے انگوٹھی بنوائی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: ہم نے انگوٹھی بنوائی ہے اور اس میں ایک نقش بنوایا ہے کوئی شخص اس نقش کے مطابق نقش نہ بنوائے۔

صَنَعْنَا حِلْقًا وَنَقَشْنَا فِيهِ نَقْشًا، فَلَا يَنْقُشْ عَلَيْهِ أَحَدٌ» ← اصْطَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ خَاتَمًا، وَقَالَ: ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ← إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5498

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5499

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِسَهُ فِي يَمِينِهِ، وَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ، ثُمَّ رَمَى بِهِ، وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔ آپ نے اسے اپنے دائیں ہاتھ میں پہنا ۔ آپ اس کا نگینے والا رخ ہتھیلی کی سمت میں رکھتے تھے۔ پھر آپ نے اسے اتار دیا اور آپ نے چاندی کی انگوٹھی بنوا لی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5499

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5500

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، وَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ فِي بَاطِنِ كَفِّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ، فَطَرَحَهُ [ص:311] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ، ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ، فَكَانَ يَخْتِمُ بِهِ، وَلَا يَلْبَسُهُ «

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔ آپ نے اس کا نگینہ ہتھیلی کی سمت میں رکھا۔ لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں۔ نبی اکرمﷺ نے ایک دن اسے اتار دیا۔ لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار دیں ۔ اس کے بعد نبی اکرمﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ آپ اس کے ذریعے مہر لگاتے تھے۔ آپ اسے پہنتے نہیں تھے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5500

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5501

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُ خَاتَمَهُ فِي يَمِينِهِ»

حضرت علی بن ابو طالبؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنی تھی۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ ← شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5501

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5502

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، يَقُولُ: «نَهَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ، وَعَنِ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ وَالْوسْطَى»

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے مجھے قسی اور میثرہ ( یعنی مخصوص قسم کے کپڑے استعمال کرنے ) اور شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی میں انگوٹھی پہننے سے منع کیا ہے۔

الْقَسِّيِّ وَالْمِيثَرَةِ، وَعَنِ الْخَاتَمِ فِي السَّبَّابَةِ وَالْوسْطَى» ← «نَهَانِي نَبِيُّ اللَّهِ ← عَلِيًّا ← أَبِي بُرْدَةَ، ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5502

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5503

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ [ص:313] مُنَبِّهٍ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَيْنُ حَقٌّ» وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ «

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ نظر لگنا حق ہے اور نبی اکرمﷺ نے (جسم کو ) گودنے سے منع کیا ہے‘‘۔

الْوَشْمِ ← وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ «الْعَيْنُ حَقٌّ» وَنَهَى ← أَبُو هُرَيْرَةَ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ، ← ھٰذَا مَا ← هَمَّامِ بْنِ [ص:313] مُنَبِّهٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5503

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5504

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: «جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَتْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: لُعِنَتِ الْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ، وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ، وَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ مَا تَقُولُ، قَالَ: [ص:314] بَلَى وَجَدْتِ، وَلَكِنَّكِ لَا تَعْلَمِينَ، قَالَتْ: وَأَيْنَ هُوَ؟ قَالَ: أَمَا قَرَأْتِ {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7]، قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: هُوَ ذَاكَ، قَالَتْ: أَمَا إِنِّي لَأَرَى عَلَى أَهْلِكَ بَعْضَ ذَلِكَ، قَالَ: فَادْخُلِي فَانْظُرِي، فَدَخَلَتْ فَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: هَلْ رَأَيْتِ شَيْئًا؟ قَالَتْ: لَا، قَالَ: عَبْدُ اللَّهِ: أَمَا إِنَّكِ لَوْ رَأَيْتِ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ مَا صَحِبْنَنِي»

علقمہ بیان کرتے ہیں:بنو اسد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون حضرت عبد اللہ بن مسعود کے پاس آئی وہ بولی مجھے یہ پتہ چلا ہے‘ آپ ﷺ یہ کہتے ہیں : کہ گودنے والی اور گدوانے والی بال نوچنے والی اور بال نچوانے والی عورت پر لعنت کی گئی ہے ‘ حالانکہ میں نے پورا قرآن پڑھا ہے۔ مجھے ا س میں وہ چیز نہیں ملی جو آپ ﷺ بیان کرتے ہیں ‘ توحضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا تمہیں وہ بات مل جانی تھی ‘ لیکن تمہارے پاس علم نہیں ہے اس نے دریافت کیا : وہ کیا ہے‘ تو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی۔ ’’ رسول تمہیں جو ( حکم ) دیں اسے حاصل کر لو اور جس چیز سے وہ تمہیں منع کرتے ہیں باز آ جاؤ‘‘۔ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں ‘ تو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا اس سے مراد یہی ہے اس عورت نے کہا: میرا یہ خیال ہے ‘ آپﷺ کی ایک زوجہ محترمہ بھی اس طرح کا کوئی کام کرتی ہیں ‘ تو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے فرمایا: تم گھر کے اندر جاؤ اور اسے دیکھ لو ‘ وہ عورت گھر نے اندر گئی۔ اس نے جائزہ لیا‘ تو اسے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ حضرت عبد اللہ نے اس عورت سے دریافت کیا تم نے کوئی ایسی چیز دیکھی ہے ؟ اس نے جواب دیا: جی نہیں ۔ حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا: اگر تم اس میں سے کوئی چیز دیکھ ۔ لیتی‘ تو وہ ( یعنی ایسا کام کرنے والی بیوی) میرے ساتھ نہ رہتی۔

لَا۔ ← لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: هَلْ رَأَيْتِ شَيْئًا؟ ← فَادْخُلِي فَانْظُرِي، فَدَخَلَتْ فَنَظَرَتْ، فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، ← أَمَا إِنِّي لَأَرَى عَلَى أَهْلِكَ بَعْضَ ذَلِكَ، ← هو ذاك ← بَلٰی ← {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ← إِمَّا ← وَأَيْنَ هُوَ؟ ← [ص:314] بَلَى وَجَدْتِ، وَلَكِنَّكِ لَا تَعْلَمِينَ، ← مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وَجَدْتُ مَا تَقُولُ، ← إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَقُولُ: لُعِنَتِ الْوَاشِمَةُ وَالْمُسْتَوْشِمَةُ، وَالنَّامِصَةُ وَالْمُتَنَمِّصَةُ، وَقَدْ ← «جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5504

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5505

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ» قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ، كَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَأَتَتْهُ، فَقَالَتْ: مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ، فَقَالَ: عَبْدُ اللَّهِ: وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَتِ الْمَرْأَةُ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ، قَالَ: «وَاللَّهِ إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ» ثُمَّ قَالَ: {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: 7]، قَالَ: قَالَتِ الْمَرْأَةُ: فَإِنِّي أَرَى شَيْئًا مِنْ هَذَا الْآنَ عَلَى امْرَأَتِكَ، قَالَ: «فَاذْهَبِي، فَانْظُرِي» قَالَ: فَدَخَلَتْ عَلَى امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا، فَجَاءَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا، فَقَالَ: أَمَا لَوْ كَانَ ذَلِكَ لَمْ نُجَامِعْهَا

علقمہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے یہ بات بیان کی۔ نبی اکرمﷺ نے جسم گودنے والی اور گدوانے والی عورت اور بال باریک کرنے والی عورت اور خوبصورتی کے لئے دانتوں میں خلا پیدا کرنے والی عورتوں ‘ جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق کو تبدیل کر دیتی ہیں ‘ ان پر لعنت کی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس بات کی اطلاع بنو اسد سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اُمّ یعقوب کو ملی وہ قرآن کی عالمہ تھیں وہ حضرت عبد اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ اس نے کہا: مجھے یہ پتا چلا ہے ‘ آپ جسم گود نے والی اور گدوانے والی عورتوں اور بال اکھیڑنے والی عورتوں اور خوبصورتی کے لئے دانتوں میں خلا پیدا کرنے والی عمارتوں پر لعنت کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تغیر پیدا کر دیتی ہے۔ حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر نبی اکرمﷺ نے لعنت کی ہے اور یہ حکم اللہ کی کتاب میں بھی ہے۔ وہ عورت بولی میں نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے۔ مجھے اس میں یہ حکم نہیں ملا۔ حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی قسم اگر تم نے واقعی اسے پڑھا ہوتا تو تمہیں اس میں مل جاتا پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی۔ ’’ رسول اللہ ﷺ تمہیں (جو حکم) دیں اسے حاصل کر لو اور جس چیز سے تمہیں منع کریں اس سے باز آ جاؤ‘‘۔ وہ عورت بولی میں آپ کی ایک اہلیہ میں ان میں سے کچھ چیزیں دیکھی ہیں ‘ تو حضرت عبد اللہ ؓ نے فرمایا تم جاؤ اور جا کر جائزہ لو وہ عورت حضرت عبد اللہؓ کے گھر چلی گئی اسے ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی ‘ پھر وہ حضرت عبد اللہؓ کے پاس آئی۔ اس نے بتایا میں نے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ‘ تو حضرت عبد اللہ نے فرمایا اگر ایسا ہوتا ( یعنی میری بیوی نے اس طرح کا کام کیا ہوتا ) ‘ تو میں اس کے ساتھ نہ رہتا ۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5505

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5506

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ، بِمَكَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو قُرَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ نَافِعٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْقَزَعِ» فَقُلْتُ: وَمَا الْقَزَعُ؟ فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ: «إِذَا حَلَقَ الصَّبِيُّ وَتَرَكَ هَاهُنَا شَعْرًا وَهَاهُنَا شَعْرًا» فَأَشَارَ لَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى نَاصِيَتِهِ وَجَانِبَيْ رَأْسِهِ، فَقِيلَ لِعُبَيْدِ اللَّهِ: الْجَارِيَةُ وَالْغُلَامُ، فَقَالَ: لَا أَدْرِي، هَكَذَا قَالَ.

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو قزع سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں :میں نے دریافت کیا قزع سے مراد کیا ہے‘ تو عبید اللہ نامی راوی نے بتایا‘ جب بچے کا سر مونڈ دیا جائے‘ تو یہاں کچھ بال رہنے دہئے جائیں یہاں کچھ بال رہنے دیئے جائیں۔ عبید اللہ نامی راوی نے اپنی پیشانی اور سر کے ایک طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی۔ عبید اللہ سے دریافت کیا اس بارے میں لڑکی اور لڑکے دونوں کا حکم دونوں ہے ۔ انہوں نے فرمایا: مجھے نہیں معلوم ۔ انہوں نے ( یعنی میرے استاد نے ) یہ روایت اسی طرح بیان کی تھی۔

عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو قُرَّةَ، ← عَلِيُّ بْنُ زِيَادٍ اللَّحْجِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5506

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5507

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَّهُ نَهَى عَنِ الْقَزَعِ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكَ بَعْضُ شَعْرِهِ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے قزع سے منع کیا ہے ( راوی کہتے ہیں : ) اس سے مرا د ہے: سر مونڈ دیا جائے اور اس کے کچھ چھوڑ دیئے جائیں۔

الْقَزَعِ أَنْ يُحْلَقَ رَأْسُ الصَّبِيِّ وَيُتْرَكَ بَعْضُ شَعْرِهِ» ← النَّبِيِّ أَنَّهُ «نَهَى ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُمَرَ بْنِ نَافِعٍ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5507

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5508

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، [ص:319] عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا حُلِقَ بَعْضُ شَعْرِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: «احْلِقُوهُ كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ».

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ایک بچے کو دیکھا جس کے کچھ بال مونڈ دیئے گئے تھے اور کچھ چھوڑ دیئے گئے تھے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس منع کر دیا اور فرمایا: تو اس کے پورے سر کو مونڈ دو یا پورے سر کو رہنے دو۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ، [ص:313] ← أَيُّوبَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5508

chevron_left Previous
1…45678
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr