Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5485

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْدِلُ شَعْرَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ، وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يَنْزِلْ عَلَيْهِ، فَفَرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ پہلے اپنے بال پیچھے کی طرف لے جایا کرتےتھے جب کہ مشرکین مانگ نکالا کرتے تھے۔ اہل کتاب بھی اپنے بال پیچھے کی طرف لےجایا کرتےتھے۔ نبی اکرمﷺ کو ہر اس چیز کے بارے میں اہل کتاب کی موافقت کرنا پسند تھا جس کے بارےمیں آپ پر کوئی حکم نازل ہوا ہو اس کے بعد نبی اکرمﷺ نے مانگ نکالنا شروع کر دی۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5485

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5486

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ [ص:298] سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْنَعُ أَهْلَهُ الْحِلْيَةَ وَالْحَرِيرَ، وَيَقُولُ: «إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ حِلْيَةَ الْجَنَّةِ وَحَرِيرَهَا فَلَا تَلْبَسُوهَا فِي الدُّنْيَا» قَالَ الشَّيْخُ: «أَبُو عُشَّانَةَ اسْمُهُ حَيُّ بْنُ يُومِنَ»

حضرت عقبہ بن عامر جہنی ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اپنے گھر والوں کو زیور اور ریشم استعمال کرنے سے منع کیا تھا۔ آپ یہ فرماتے تھے: اگر تم جنت کے زیور کو اور اس کے ریشم کو پسند کرتے ہو‘ تو اسے دنیا میں نہ پہنو۔ شیخ (یعنی امام ابن حبان ) فرماتے ہیں ابو عشانہ نامی راوی کا حی بن یومن ہے۔

عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ، ← أَنَّهُ [ص:298] ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ الْمَعَافِرِيَّ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 5486

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5487

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ»

حضرت ابو ہریرہؓ ‘نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں: ’’ نبی اکرمﷺ نے سونے کی انگوٹھی (پہننے سے ) منع کیا ہے‘‘۔

خَاتَمِ الذَّهَبِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5487

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5488

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ أَبُو طَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ: «مَا لِي أَرَى عَلَيْكَ حِلْيَةَ أَهْلِ النَّارِ» فَطَرَحَهُ، ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ [ص:300] خَاتَمٌ مِنْ شَبَهٍ، فَقَالَ: «مَا لِي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْأَصْنَامِ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ أَيِّ شَيْءٍ أَتَّخِذُهُ؟ قَالَ: «مِنْ وَرِقٍ، وَلَا تُتِمَّهُ مِثْقَالًا»

عبد اللہ بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتےہیں ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے لوہےکی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا وجہ ہے ‘ میں تم پر اہل جہنم کا زیور دیکھ رہا ہوں۔ اس شخص نے اسے اتار دیا پھر و ہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو اس نے شبہ کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا وجہ ہے‘ مجھے تم سے بتوں کی بو آر ہی ہے۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: چاندی کی اور تم اس کی ایک مثقال پوری نہ کرنا ( یعنی اس سے کم وزن کی ہو)

جاء رجل إلى النبي وعليه خاتم من حديد، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← عبد الله بن مسلم أبو طيبة ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← محمد بن العلاء الهمداني ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ذَرِيحٍ،

Hadith 5488

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5489

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ أَبَا النَّجِيبِ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنْ نَجْرَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ، فَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَحَدَّثَهَا، فَقَالَتْ: إِنَّ لَكَ شَأْنًا، فَارْجِعْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَلْقِ الْخَاتَمَ، فَلَمَّا اسْتَأْذَنَ أَذِنَ لَهُ، وَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْرَضْتَ عَنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ جِئْتَنِيَ وَفِي يَدِكَ جَمْرَةٌ مِنْ نَارٍ» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ، وَكَانَ قَدْ قَدِمَ بِحُلِيٍّ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا جِئْتَ بِهِ غَيْرُ مُغْنٍ عَنَّا شَيْئًا، إِلَّا مَا أَغْنَتْ عَنَّا حِجَارَةُ الْحَرَّةِ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا» فَقَالَ الرَّجُلُ: اعْذُرْنِي فِي أَصْحَابِكَ لَا يَظُنُّونَ أَنَّكَ سَخِطْتَ عَلَيَّ بِشَيْءٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَذَرَهُ، وَأَخْبَرَ أَنَّ الَّذِي كَانَ مِنْهُ إِنَّمَا كَانَ لِخَاتَمِهِ

حضرت ابو سعید خدری ؓ بیان کرتےہیں :نجران سے ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے سونے کی انگوٹھی پہنی ہوئی تھی۔ نبی اکرمﷺ نے اس سے منہ پھیر لیا۔آپ ﷺ نے اس شخص سے کوئی سوال نہیں کیا۔ وہ شخص اپنی بیوی کے پاس واپس گیا۔ اسے اس بارے میں بتایا تو اس نے کہا: تمہارے ساتھ ضرور کوئی معاملہ ہے۔ تم واپس نبی اکرمﷺ کی خدمت میں جاؤ۔ انگوٹھی اتار دو جب اس شخص نے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرمﷺ نے اسے اجازت دے دی۔ اس نے نبی اکرمﷺ کو سلام کیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میرے پاس آئے تھے ‘ تو تمہارے ہاتھ میں آگ کا انگارہ تھا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! پھر ‘ تو میں بہت سے انگارے لے کر آیا ہوں۔ وہ شخص بحرین سے کئی زیورات لے کرآیاتھا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم کوئی ایسی چیز نہیں لے کر آئے جس کے بغیر ہمارا گزارا نہ ہو سکتا ہو ‘ تاہم یہ دنیاوی زندگی کا سازو سامان ہے۔ اس شخص نے عرض کی: آپ میری معذرت قبول کریں۔ آپﷺ کے اصحاب یہ نہ سمجھیں کہ آپﷺ کسی حوالے سے مجھ پر ناراض ہیں ‘ تو نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے۔ آپﷺ نے اس کی معذرت قبول کرنے کا اعلان کیا اور یہ بات بتائی کہ آپﷺ کی ناراضگی صرف اس کی انگوٹھی کی وجہ ہے تھی۔

اَنَّ اَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ ← بَکْرِ بْنِ سَوَادَۃَ، اَنَّ اَبَا النَّجِیْبِ مَوْلٰی عَبْدِ اللہِ بْنِ سَعْدٍ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 5489

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5490

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَبْصَرَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا، فَصَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ فَلَبِسُوهَا، فَطَرَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ فَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ «

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتےہیں: ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرمﷺ کو چاندی کی انگوٹھی پہنے ہوئے دیکھا‘ تو لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا کر پہن لیں۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی انگوٹھی اتار دی ‘ تو لوگوں نے بھی انگوٹھیاں اتار دیں۔

الزُّهْرِيِّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 5490

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5491

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:304] يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَلَبِسَهُ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنِّي كُنْتُ أَلْبَسُ هَذَا الْخَاتَمَ، وَإِنِّي لَنْ أَلْبَسَهُ أَبَدًا» فَنَبَذَهُ فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔ آپ نے اسےپہنا‘ تو لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھی بنوا لیں ‘ تو نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے یہ انگوٹھی پہنی تھی۔ اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا‘ پھر آپﷺ نے اسے اتار دیا‘ تو لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں اتار دیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بن دينار أنه ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 5491

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5492

أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِهِ يَوْمًا [ص:305] خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَاضْطَرَبَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ، فَرَمَى بِهِ، وَقَالَ: «لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرمﷺ کے دست مبارک میں ایک دن سونے کی انگوٹھی دیکھی‘ تو لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوا لیں۔ نبی اکرمﷺ نے اسے اتار دیا۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اسے اب کبھی نہیں پہنوں گا۔

زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 5492

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5493

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا فَلَبِسَهُ، وَقَالَ: «شَغَلَنِي هَذَا عَنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمِ» ثُمَّ رَمَى بِهِ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے انگوٹھی بنوائی اور آپ نے اسے پہنا ‘ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: آج اس نے مجھے تمہاری طرف سے مشغول کر دیا۔ پھر آپ نے اسے اتار دیا۔

«شَغَلَنِي هَذَا عَنْكُمْ مُنْذُ الْيَوْمِ» ثُمَّ رَمَى بِهِ ← اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ خَاتَمًا فَلَبِسَهُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Hadith 5493

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5494

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ الذَّهَبِ، فَأَلْقَاهُ مِنْ يَدِهِ، وَقَالَ: «لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا» وَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرَقٍ، فَجَعَلَ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي كَفَّهُ وَنَقَشَ فِيهِ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَلَمْ يَزَلْ فِي يَدِهِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی ۔ لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوا لں پر نبی اکرمﷺ نے اسے اپنے ہاتھ سے اتار دیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اب میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا‘ پھر آپﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ آپﷺ اس کا نگینہ ہتھیلی کی سمت میں رکھتے تھے ۔ آپ نے اس میں لفظ ’’ محمد رسول اللہ ‘‘ نقش کروایا تھا ۔یہ انگوٹھی آپﷺ کے دست اقدس میں رہی ‘ یہاں تک کہ آپﷺ کا وصال ہو گیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 5494

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5495

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ، فَكَانَ يَجْعَلُ فَصَّهُ مِمَّا يَلِي بَطْنَ كَفِّهِ، فَاتَّخَذَ النَّاسُ الْخَوَاتِيمَ، فَأَلْقَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «لَا أَلْبَسُهُ أَبَدًا» ثُمَّ اتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ، وَكَانَ فِي يَدِهِ، ثُمَّ فِي يَدِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ فِي يَدِ عُمَرَ، ثُمَّ فِي يَدِ عُثْمَانَ، حَتَّى هَلَكَ مِنْهُ فِي بِئْرِ أَرِيسٍ «

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی۔ آپ اس کا نگینہ ہتھیلی کی سمت میں رکھتے تھے۔ لوگوں نے بھی انگوٹھیاں بنوالیں نبی اکرمﷺ نے اتار دیا پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا: میں اسے کبھی نہیں پہنوں گا ‘ پھر آپﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ وہ آپﷺ کے دست اقدس میں رہی ‘ پھر حضرت ابو بکرؓ کے ہاتھ میں رہی ‘ پھر حضرت عمرؓ کے ہاتھ میں رہی ‘ پھر حضرت عثمانؓ کے ہاتھ میں رہی ‘ یہاں تک کہ وہ ان سے بئراریس میں گر گئی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 5495

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5496

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَسْطُرٍ: مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُولٌ سَطْرٌ، وَاللَّهُ سَطْرٌ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کی انگوٹھی کا نقش تین سطروں میں تھا۔ لفظ محمد ایک سطر میں تھا۔ لفظ رسول ایک سطر میں تھا اور لفظ اللہ ایک سطر میں تھا۔

«كَانَ نَقْشُ خَاتَمِ النَّبِيِّ ثَلَاثَةَ أَسْطُرٍ مُحَمَّدٌ سَطْرٌ، وَرَسُولُ سَطْرٌ، وَاللَّهِ سَطْرٌ» ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثُمَامَةَ ← عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ← عَرْعَرَةُ بْنُ الْبِرِنْدِ، ← أَبِي ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 5496

chevron_left Previous
12345…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr