Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5542

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ عُبَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ، قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ، وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ»

حضرت براء بن عازبؓ نبی اکرمﷺ کے بارے میں نقل کرتےہیں جب آپ بستر پر لیٹتے تھے ‘ تو یہ پڑھتے تھے ۔ ’’ اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا۔ میں اپنا رخ تیری طرف کر لیا۔ میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا۔ رغبت رکھتے ہوئے بھی اور ڈرتے ہوئے بھی ‘ تیرے مقابلے میں تیر ی ذات کے علاوہ اور کوئی جائے پناہ اور کوئی جائے نجات نہیں ہے‘‘۔

النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ ← الْبَرَاءِ، ← أَبُو الْحَسَنِ عُبَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5542

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5543

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَقِيلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ النَّوْمَ جَمَعَ [ص:353] يَدَيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، ثُمَّ قَرَأَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ يَمْسَحُ بِهِمَا وَجْهَهُ وَرَأْسَهُ وَسَائِرَ جَسَدِهِ» قَالَ عَقِيلٌ: وَرَأَيْتُ ابْنَ شِهَابٍ يَفْعَلُ ذَلِكَ

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ جب سونے لگتے تھے ‘ تو دونوں ہاتھ ملا کر ان پر پھونک مارتے تھے‘ پھر آپﷺ سورہ اخلاق سورہ فلق او ر سورہ لناس کی تلاوت کرتے تھےپھر وہ دونوں ہاتھ اپنے چہرے اپنے سر اور اپنے پورےجسم پر پھیر لیتے تھے۔ عقیل بیان کرتے ہیں : میں نے ابن شہاب زہری کو بھی ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5543

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5544

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ جَمَعَ كَفَّيْهِ ثُمَّ نَفَثَ فِيهِمَا، وَقَرَأَ فِيهِمَا بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ، ثُمَّ يَسْمَحُ بِهِمَا مَا اسْتَطَاعَ مِنْ جَسَدِهِ، يَفْعَلُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ»

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ جب بستر پر لیٹتے تھے ‘ تو آپﷺ اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر ا ن پر پھونک مارتے تھے۔ ان میں سورہ اخلاص سورہ فلق اور سورہ الناس پڑھ کر دم کرتے تھے ‘ پھر آپﷺ ان دونوں ہاتھوں کو اپنے جسم پر جہاں تک ہو سکتا تھا پھیر لیتے تھے۔ ایسا آپﷺ تین مرتبہ کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5544

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5545

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، عَلِّمْنِي شَيْئًا أَقُولُهُ إِذَا أَوَيْتُ إِلَى فِرَاشِي، قَالَ: «اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ»

فروہ بن نوفل اشجعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: اےاللہ کے نبی! آپﷺ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں تعلیم دیجئے جسے میں اس وقت پڑھ لیا کروں جب میں اپنے بستر پر جاتا ہوں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم سورہ الکافرون پڑھ لیا کرو۔

أَبِيهِ ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ الْأَشْجَعِيِّ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5545

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5546

أَخْبَرَنَا الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَلْ لَكَ فِي رَبِيبَةٍ لَنَا فَتَكْفُلُهَا [ص:355] زَيْنَبُ؟ » قَالَ: ثُمَّ جَاءَ، فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: تَرَكْتُهَا عِنْدَ أُمِّهَا، قَالَ: «فَمَجِيءٌ مَا جَاءَ بِكَ؟ » قَالَ: جِئْتُ لِتُعَمِّلَنِي شَيْئًا أَقُولُهُ عِنْدَ مَنَامِي، قَالَ: «اقْرَأْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ، ثُمَّ نَمْ عَلَى خَاتِمَتِهَا، فَإِنَّهَا بَرَاءَةٌ مِنَ الشِّرْكِ»

فروہ بن نوفل اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہیں ہماری سوتیلی بیٹی میں دلچسپی ہے ‘ زینب اس کا خیال رکھا جائے راوی بیان کرتے ہیں: پھر وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی اکرمﷺ نے ان سے دریافت کیا ‘ تو انہوں نے بتایا میں اسے اس کی والدہ کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیاپھر تم کیوں آئے ہو؟انہوں نے عرض کی: میں اس لئے آیا ہوں تاکہ مجھے کسی ایسی چیز کے بارےمیں تعلیم دیں‘ جسے میں رات کے وقت پڑھ لیا کروں۔ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا: تو سورہ الکافرون پڑھ لیا کرو اور پھر اسے پڑھنے کے بعد سو جایا کرو یہ سورۃ شرک سے بری ذمہ ہونے کا اظہار ہے۔

أَبِيهِ ← فَرْوَةَ بْنِ نَوْفَلٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← الصُّوفِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5546

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5547

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعَتْنِي عَائِشَةُ وَأَنَا أَتَكَلَّمُ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، فَقَالَتْ: «يَا عُرَيُّ أَلَا تُرِيحُ كَاتِبَكَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يَنَامُ قَبْلَهَا وَلَا يَتَحَدَّثُ بَعْدَهَا» *

ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ سیدہ عائشہ ؓ نے مجھے عشا ء کی نماز ک بعد بات کرتے ہوئے سنا ‘ تو انہوں نے فرمایا: اے عروہ کیا تم اپنے کاتب ( یعنی نیکیاں لکھنے والے فرشتے ) کو آرام نہیں کرنے دو گے؟ نبی اکرمﷺ عشاء کی نماز سے پہلے سوتے نہیں تھے اور اس کے بعد بات چیت نہیں کرتے تھے۔

أَتَكَلَّمُ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، ← سَمِعَتْنِي عَائِشَةُ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5547

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5548

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ، [ص:357] عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّوْمِ قَبْلَهَا، وَالْحَدِيثِ بَعْدَهَا، يَعْنِي عِشَاءَ الْآخِرَةِ»

حضرت ابو برزہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اس ( عشاء کی نماز ) سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے سے منع کیا ہے ۔ راوی کی مراد عشاء کی نماز تھی۔

النَّوْمِ قَبْلَهَا، وَالْحَدِيثِ بَعْدَهَا، يَعْنِي عِشَاءَ الْآخِرَةِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← أَبِي بَرْزَةَ: ← أَبِي الْمِنْهَالِ، [ص:357] ← عَوْفٌ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5548

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5549

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ [ص:358] إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى بَطْنِهِ، فَغَمَزَهُ بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: «إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ»

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ ایک شخص کے پاس سے گزرے جو اپنے پیٹ کے بل ( الٹا ) لیٹا ہوا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے پاؤں کے ذریعے اسے ٹہوکا دیا اور ارشاد فرمایا: یہ لیٹنے کا ایسا طریقہ ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا ۔

«إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ» ← مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ عَلَى بَطْنِهِ، فَغَمَزَهُ بِرِجْلِهِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← إِسْحَاقُ بْنُ [ص:268] إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5549

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5550

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ ابْنِ قَيْسِ بْنِ طِغْفَةَ الْغِفَارِيِّ، [ص:359] عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الصُّفَّةِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: «يَا فُلَانُ انْطَلِقْ مَعَ فُلَانٍ، وَيَا فُلَانُ انْطَلِقِ مَعَ فُلَانٍ» حَتَّى بَعَثَ خَمْسَةً أَنَا خَامِسُهُمُ، فَقَالَ: «قُومُوا مَعِي» فَفَعَلْنَا، فَدَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْحِجَابُ، فَقَالَ: «يَا عَائِشَةُ أَطْعِمِينَا» فَقَرَّبَتْ جَشِيشَةً، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ أَطْعِمِينَا» فَقَرَّبَتْ حَيْسًا، ثُمَّ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ اسْقِينَا» فَجَاءَتْ بِعُسٍّ، فَشَرِبَ ثُمَّ، قَالَ: «يَا عَائِشَةُ اسْقِينَا» فَجَاءَتْ بِعُسٍّ دُونَهُ، ثُمَّ قَالَ: «إِنْ شِئْتُمْ نِمْتُمْ عِنْدَنَا، وَإِنْ شِئْتُمْ أَتَيْتُمُ الْمَسْجِدَ فَنِمْتُمْ فِيهِ» قَالَ: فَنِمْنَا فِي الْمَسْجِدِ، فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ، فَأَصَابَنِي نَائِمًا عَلَى بَطْنِي، فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: «مَا لَكَ وَلِهَذِهِ النَّوْمَةِ، هَذِهِ نَوْمَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ، أَوْ يُبْغِضُهَا اللَّهُ»

حضرت قیس بن طغفہ غفاریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ مغرب کے بعد ہمارے پاس تشریف لائے ہم اس وقت صفہ ( کے چبوترے ) پر موجود تھے ۔ آپﷺ نےفرمایا: اے فلاں تم فلاں کے ہمراہ روانہ ہو جاؤ اے فلا ں تم فلاں کے ہمراہ روانہ ہو جاؤ‘ یہاں تک کہ نبی اکرمﷺ نے پانچ افراد کو بھیجا جن میں ‘ میں بھی شامل تھا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم لوگ ہمارے ساتھ چلو ہم نے ایسا ہی کیا ہم لوگ سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے ہاں آئے یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ صدیقہؓ ؓ ! ہمیں کھانے کے لئے کچھ دو ‘ تو انہوں نے جثیثہ ( مخصوص قسم کا کھانا )آگے کر دیا پھر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے عائشہ صدیقہؓ ! ہمیں (مزید کچھ ) کھانے کےلئے دو ‘ انہوں نے حیس (مخصوص قسم کا کھانا ) پیش کر دیا‘ پر نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے عائشہ صدیقہؓ ! ہمیں پینے کےلئے دو ‘ تو انہوں نے عس ( مخصوص قسم کا مشروب ) پیش کر دیا۔ نبی اکرمﷺ نے اسے پیا پھر آپﷺ نے فرمایا: اے عائشہ صدیقہؓ ! ہمیں پینے کے لئے کچھ اور دو ‘ تو وہ مزید عس لے آئیں جو پہلے سے کچھ کم تھا ‘ پھر نبی اکرمﷺ نے (ان سے) فرمایا اگر تم لوگ چاہو ‘ تو تم ہمارے ہاں سو جاؤ اور اگر تم چاہو تو مسجد جا کر وہاں سو جاؤ۔ راوی بیان کرتےہیں ‘ تو ہم لوگ مسجد میں سو گئے رات کے آخری حصے میں نبی اکرمﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپﷺ نے مجھے پیٹ کے بل سوئے ہوئے پایا‘ تو آپﷺ نے اپنے پاؤں کے ذریعے مجھے ٹہو کا دے کر ارشاد فرمایا کیا وجہ ہے ‘ تم اس طرح سو رہے ہو یہ سونے کا ایسا طریقہ ہے ‘ جسے اللہ تعالیٰ نا پسند کرتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہے) جس سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے۔

أَبِيهِ ← ابْنِ قَيْسِ بْنِ طِغْفَةَ الْغِفَارِيِّ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5550

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5551

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، [ص:361] عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَسْتَلْقِ الْإِنْسَانُ عَلَى قَفَاهُ وَيَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا الْفِعْلُ الَّذِي زَجَرَ عَنْهُ هُوَ أَنْ يَسْتَلْقِيَ الْمَرْءُ عَلَى قَفَاهُ ثُمَّ يَشِيلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ وَيَضَعَهَا عَلَى الْأُخْرَى، وَذَاكَ أَنَّ الْقَوْمَ كَانُوا أَصْحَابَ مَيَازِرَ، وَإِذَا اسْتَعْمَلَ مَا وَصَفْتُ مَنْ عَلَيْهِ الْمِئْزَرُ دُونَ السَّرَاوِيلِ رُبَّمَا تُكْشَفُ عَوْرَتُهُ، فَمِنْ أَجْلِهِ مَا نَهَى عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»

حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ کوئی انسان اپنی گدی کے بل اس طرح نہ لیٹے کہ اس کا ایک پاؤں دوسرے پر ہو‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) یہ فعل جس سے نبی اکرمﷺ نے منع کیا ہے اس سے مراد یہ ہے :آدمی گدی کے بل یوں لیٹے کہ اس کا ایک پاؤں اوپر ہو اور اسے اس نےدوسرے پر رکھ لیا ہو۔ اس کی وجہ سے ہے ‘ وہ لوگ تہبند باندھا کرتے تھے اور جس شخص نے تہبند باندھا ہوا ہو شلوار نہ پہنی ہوئی ہو اگر وہ اس طریقے پر عمل کرے ‘ تو ایسا کرنے کے نتیجے میں اس کی شرم گاہ سے پردہ ہٹ سکتا ہے۔ ایسی وجہ سے نبی اکرمﷺ نے اس سے منع کیاہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5551

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5552

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، «أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَلْقِيًا فِي الْمَسْجِدِ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا الْفِعْلُ الَّذِي اسْتَعْمَلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ مَدُّ الرِّجْلَيْنِ جَمِيعًا، وَوَضْعُ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى دُونَ ذَلِكَ الْفِعْلِ الَّذِي نَهَى عَنْهُ، وَهُوَ ضِدُّ قَوْلِ مَنْ جَهِلَ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ، فَزَعَمَ أَنَّ أَخْبَارَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَتَضَادَّ وَتَتَهَاتَرَ»

عباد بن تمیم اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرمﷺ کو مسجد میں چت لیٹے ہوئے دیکھا ۔ آپ نے اپنا پاؤ ں دوسرے پر رکھا ہوا تھا۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں: ) یہ وہ فعل جس پر نبی اکرمﷺ نے عمل کیا ہے اس سے مراد یہ ہے : آپ ﷺ نے اپنے دونوں پاؤں سیدھے کئے ہوئے تھے اور ان میں سے ایک پاؤں کو دوسرے پر رکھا ہوا تھا۔ یہ وہ فعل نہیں ہے‘ جس سے نبی اکرمﷺ نے منع کیا ہے اور یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے ‘ جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ اس گمان کا قائل ہے ‘ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے منقول روایات میں تضاد اور اختلاف پایا جاتا ہے ۔

عَمِّہٖ ← عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5552

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ بَابُ آدَابِ النَّوْمِ · حديث 5553

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنِ اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، وَأَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُسْتَلْقٍ عَلَى ظَهْرِهِ»

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اشتمال صماء اور ایک کپڑے کو احتباء کے طور پر لپیٹنے سے منع کیا ہے اور ( اس بات سے منع کیا ہے) کہ آدمی ایک پاؤں دوسرے پر رکھے جب کہ وہ پشت کے بل چت لیٹا ہوا ہو۔

رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ نَهَى ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The door of etiquette of sleep · Hadith 5553

chevron_left Previous
1234…8
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr