Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 224

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللہِ الزُّبَیْرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْھِرٍ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ اَحَدٌ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِّنْ کِبْرٍ وَلَا یَدْخُلُ النَّارَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ حَبَّۃُ خَرْدَلٍ من إیمان ْ (3:79)

حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جنت میں ایسا کوئی شخص داخل نہیں ہو گا‘ جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا تکبر ہوگا اورجہنم میں وہ شخص داخل نہیں ہو گا‘ جس کے دل میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہو گا‘‘۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 224

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 225

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْجُنَیْدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ اَخْبَرَنَا اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَامِرُ بْنُ یَحْیَی عَنْ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمَعَافِرِیِّ الْحُبُلِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إن اللہ سیخلص رجل من أمتی علی رؤوس الْخَلَائقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیَنْشُرُ عَلَیْہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِینَ سِجَلْا کُلُّ سِجِلٍّ مَدُّ الْبَصَرَ ثُمَّ یَقُوْلُ لَہٗ اَتُنْکِرُ شَیْئًا مِنْ ھٰذَا اَظَلَمَکَ کَتَبَیِی الْحَافِظُونَ فَیَقُوْلُ: لَا یَا رَبِّ فَیَقُوْلُ: اَفَلَکَ عُذْرٌ اَوْحَسَنَۃٌ فَیُبْھَتُ الرَّجُلُ وَیَقُوْلُ: لَا یَارَبِّ فَیَقُوْلُ: بَلٰی اِنَّ لَکَ عِنْدَنَا حَسَنَۃً وَاِنَّہٗ لَا ظُلْمَ عَلَیْکَ الْیَوْمَ فَیُخْرِجُ لَہٗ بِطَاقَۃً فِیْھَا: اَشْھَدُ اَنْ لَا اِلَّا اللہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہٗ فَیَقُوْلُ احْضُرْ وَزْنَکَ فَیَقُوْلُ یَارَبِّ مَا ھٰذِہِ الْبِطَاقَۃُ مَعَ ھٰذِہِ السِّجِلَّاتِ فَیَقُوْلُ: اِنَّکَ لَا تُظْلَمُ قَالَ: فَتُوْضَعُ السِّجِلَّاتُ فِیْ کِفَّۃٍ وَالْبِطَاقَۃُ فِیْ کِفَّۃٍ فَطَاشَتَ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتُ الْبِطَاقَۃُ قَالَ: فَلَا یَثْقُلُ اسْمَ اللہِ شیء۔(3:74)

حضرت عبدا للہ بن عمروبن العاص ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک فرد کو تمام مخلوق میں سے الگ کرے گا ‘ پھر اس کے سامنے ننانوے رجسٹر کھول دے گا۔ ان میں سے ہر ایک اتنا بڑا ہو گا جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے۔ پھر ارشاد فرمائے گا: کیا تم اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتے ہو؟ کیا نوٹ کرنے والے محافظ فرشتوں نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے؟ وہ جواب دے گا: جی نہیں۔ اے میرے پروردگار ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تمہارے پاس کوئی عذر ہے یا نیکی ہے؟ تو وہ شخص مبہوت ہو جائے گا اور عرض کرے گا: اے میرے پروردگار ! جی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جی ہاں ! تمہاری ایک نیکی ہمارے پاس ہے ‘ اور آج کے دن تم پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ پھر اس شخص کے سامنے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکالا جائےگا ‘ جس میں یہ تحریر ہو گا۔ ’’میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور بے شک حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میزان کے پاس آ جاؤ ‘ وہ بندہ عرض کرے گاُ اے میرے پروردگار ! ان رجسٹروں کے مقابلے میں اس کاغذ کی کیا حیثیت ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : تو وہ تمام رجسٹر ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ کاغذ کا ٹکڑا دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا‘ تو رجسٹروں والا پلڑا اوپر چلا جائے گا اور کاغذ کے ٹکڑے والا پلڑا بھاری ہو جائے گا۔ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا( یا شاید نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی یا شاید کسی راوی کے یہ الفاظ ہیں ) ’’اللہ تعالیٰ کے اسم سے زیادہ وزنی اور کوئی چیز نہیں ہے‘‘۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمَعَافِرِیِّ الْحُبُلِیِّ ← عَامِرُ بْنُ یَحْیَی ← اللَّیْتُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُبْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْجُنَیْدِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 225

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 226

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَکِّیُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ عَنْ شَرِیْکٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ رُفَیْعِ عَنِ الْمَعْرُورِبْنِ سُوَیْدٍ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : قال اللہ تبارک وتعالی: یا بن اٰدَمَ لَوْ لَقِیْتَنِیْ بِمِثْلِ الْاَرْضِ خَطَایَا لَا تشرک بی شیئا لقیتک بملء الارض مغفرۃ۔ (3:68)

حضرت ابوذر غفاریؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : اے آدم کے بیٹے! اگر تم زمین جتنی خطائیں لے کر میری بارگاہ میں حاضر ہو‘ لیکن تم کسی کو میر ے ساتھ شریک نہ ٹہراتے ہو‘ تو میں زمین جتنی مغفرت کے ہمراہ تم سے ملاقات کروں گا‘‘۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← الْمَعْرُورِبْنِ سُوَیْدٍ ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، ← شَرِيکٍ ← حَمَّادُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 226

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 227

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْجَنَیْدِ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ھُشَیْمٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ صَالِحِ الْھَمْدَانِیِّ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ رَاَیْتُ رَجُلًا مِنْ اَھْلِ خُرَاسَانَ اَتَاہُ فَقَالَ یَااَبَا عَمْرٍو اِنَّ مَنْ قَبْلَنَا مِنْ اَھْلِ خُرَاسَانَ یَقُوْلُوْنَ اِذَا عَتَقَ الرَّجُلُ اَمَتَہٗ ثُمَّ تَزَوَّجَھَا فَھُوَ کَالرَّاکِبِ بَدَنَتَہٗ فَقَالَ الشَّعْبِیُّ حَدَّثَنِیْ اَبُوْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبیْہِ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَۃٌ یُؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَرَّتَیْنِ رَجُلٌ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اٰمَنَ بِنَبِیّہَ ثُمَّ اَدْرَکَ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاَمَنَ بَہٖ وَاتَّبَعَہٗ فَلَہٗ اَجْرَانِ وَعَبْدٌ مَمْلُوکٌ یُؤْدِّی حَقَّ اللہِ جَلَّ وَعَلَا عَلیہ وحق الذی علیہ لمولاہ فلہ اَجْرَنِ وَرَجُلٌ کَانَتْ لَہٗ اَمَۃٌ فَغَذَّا ھَا فَاَحْسَنَ غِذَاءَ ھَا وَاَدَّبَھَا فَاَحْسَنَ اَدَبَھَا ثُمَّ اَعْتَقَھَا وَتَزَوَّجَھَا فلہ أجران۔ (1:2) قَالَ الشَّعْبِیُّ لِلْخُرَاسَانِیِّ: خُذْ ھٰذَا الْحَدِیْثَ بَغَیْرِ شیْءٍ فَقَدْ کَانَ الرَّجُلُ یَرْحَلُ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ فیما ھودونہ

صالح ہمدانی ‘ امام شعبی کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں :: میں نے خزاسان سے تعلق رکھن والے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ امام شعبی کے پاس آیا اور بالا : اے ابو عمرو ! ہماری طرف اہل خزاسان اس بات کے قائل ہیں ’ جب کوئی شخص اپنی کنیز کو آزاد کر کے پھر اس کے ساتھ شادی کرے ‘ تو اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے‘ جو اپنے قربانی کے جانور پر سوار ہوتا ہے‘ تو امام شعبی نے بتایا : ابو بردہ ( حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ) کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے‘ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ تین لوگ ایسے ہیں‘ جنہیں دگنا اجراعطا کیا جائے گا۔ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا وہ شخص جو اپنے نبی پر ایمان لائے‘ اور پھر وہ نبی اکرمﷺ کا زمانہ پاکر آپ ﷺ پر بھی ایما لے آئے اور آپ کی پیروی کرے‘ تو اسےدگنا اجر ملے گا۔ ایک وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اپنے ذمے حق ادا کرے اور اپنے ذمے اپنے آقا کا بھی حق ادا کرے اس بھی دگنا اجر ملے گا۔ اور ایک وہ شخص جو کی کوئی کنیز ہو‘وہ اسے اچھی خورا فراہم کرے۔ اس کی اچھی تعلیم و تربیت کرے ‘ پھر اسے آزاد کر کے اس کے ساتھ شادی کرے‘ تو اس کو دگنا اجر ملے گا‘‘۔ امام شعبی نے خراسان کے رہنے والے اس شخص سے کہا : تم کسی معاوضے کے بغیر اس حدیث کو حاصل کر لو‘ ورنہ پہلے اس سے کم (مضمون والی) روایت کے لئے مدینہ منورہ تک سفر کر کے جانا پڑتا تھا۔

یَااَبَا عَمْرٍو ← رَاَیْتُ رَجُلًا مِنْ اَھْلِ خُرَاسَانَ اَتَاہُ ← الشَّعْبِيِّ، ← صَالِحُ بْنُ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيُّ ← هُشَيْمٌ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 227

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 228

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِیْمِ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ اَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ھَمَّامٍ بْنِ مُنَبِّہٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِذِا اِحْسَنَ اَحَدَ کُمْ اِسْلَامَہُ فَکُلُّ حَسَنَۃٍ یَعْمَلُھَا بِعَشْرٍ اَمْثَالِھَا اِلٰی سَیْعِ مِائَۃِ ضِعْفٍ وَکُلُّ سَیِّئۃٍ یَعْمَلُھَا یُکْتَبُ لَہٗ مِثْلُھَا حتی یلقی اللہ جل وعلا۔ (3:66)

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جب کسی شخص کا اسلام اچھا ہو جائے ‘ تو وہ جو بھی نیکی کرتا ہے‘ اس کا اجر اسے دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک ملتا ہے‘ اور ہر برائی جس کا وہ ارتکاب کرتا ہے‘ وہ ایک برائی کے طور پر نوٹ کی جائی ہے‘ یہاں تک کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 228

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 229

اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللہِ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّۃِ قَالَ حَدَّثَنَا ھِشَامُ بْنُ عَمَّارِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَیْبٍ عَنِ الْاَوْزَعِیِّ عَنْ قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ِنَّ مِنْ حُسْنِ إسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ۔ (2:88)

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’آدمی کے اسلام کی خوبی میں سے ایک چیز ‘ لا یعنی چیزوں کو ترک کرنا ہے‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← قُرَّۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْاَوْزَعِیِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ، بِالرَّقَّةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter on what came about the characteristics of the believers · Hadith 229

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 230

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ قَحْطَبَۃَ بَفَمِّ الصِّلْح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاح حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنْ بَیَانِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہٖ وَیَدِہٖ وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھاجر ما نھی اللہ عنہ ۔(3:49)

حضرت عبد اللہ بن عمروؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’مسلمان وہ ہے‘ جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘ مہاجر وہ شخص ہے ‘ جو اس چیزوں کو چھوڑ دے جس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے‘‘۔

النَّبِيِّ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← عَامِرٍ، ← بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ ← عبيدة بن حميد ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ بِفَمِ الصِّلْحِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter on what came about the characteristics of the believers · Hadith 230

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 231

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی حَدَّثَنَا اَبُوْ کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا اَبُوْ اُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدٍ عَنْ اَبِیْ بُرْدَۃَ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی اَنَّ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَنَّ الْمُؤْمِنَ لِلْمُؤْمِنِ کَالْیُنْیَانِ یشدبعضہ بعضا۔(1:13)

حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’بے شک ایک مومن دوسرے مومن کے لئے ایک عمارت کی مانند ہے‘ جس کا ایک حصہ دوسرے کو مضبوط کرتا ہے‘‘۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter on what came about the characteristics of the believers · Hadith 231

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 232

اَخْبَرَنَا بَکْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَھَّابِ الْقَزَّازُ حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَبْدَہَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُقَدَّمٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ عَنِ بْنِ اَبِیْ بُرْدَۃَ َنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِیمَا بَیْنَھُمْ کَمَثَلِ الْبُنْیَان قال: وأد خل أصابع یدہ فی الارض وقال: یسمک بعضھا بعضا ۔ (3:28)

حضرت موسیٰ اشعری ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’اہل ایمان کی آپس میں مثال ایک عمارت کی مانند ہے‘‘۔ راوی کہتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺ نے اپنی انگلیاں زمین میں داخل کر دیں اور ارشاد فرمایا : ’’اس کا ایک حصہ دوسرے کو تھام کے رکھتا ہے‘‘۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← بْنِ اَبِیْ بُرْدَۃَ َنْ اَبِیْہِ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← عَمْرُو بْنُ عَلِیِّ بْنِ مُقَدَّمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ← بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْقَزَّازُ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter on what came about the characteristics of the believers · Hadith 232

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 233

اَخْبَرَنَا بْنُ قَحْطَبَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا عَبِیْدَۃُ بْنُ حُمَیْدٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ النَّخَعِیِّ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِیرٍ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَکَی مِنْہُ شَیَءٌ تَدَاعَی لَہٗ سَائرُ الجسد۔ (3:28)

حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’مومن کی مثال جسم کی مانند ہے‘ جب اس کا ایک حصہ تکلیف کا شکار ہوتا ہے ‘تو پورا جسم اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے‘‘۔

مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْجَسَدِ اِذَا اشْتَکَی مِنْہُ شَیَءٌ تَدَاعَی لَہٗ سَائرُ الجسد۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← الْحَسَنِ بْنُ عُبَیْدِ اللہِ النَّخَعِیِّ ← عبيدة بن حميد ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter on what came about the characteristics of the believers · Hadith 233

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 234

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اَبِیْ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ بِاللہِ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیہِ مَایُحِبُّ لِنَفْسِہِ۔ (1:2)

حضرت انس بن مالک ؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’کوئی بھی شخص اللہ تعالیٰ پر اس وقت تک (اہل ایمان رکھنے والا ) شمار نہیں ہو سکتا ‘ جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہ چیز پسند نہ کرے ‘جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے‘‘۔

لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ بِاللہِ حَتّٰی یُحِبَّ لِاَخِیہِ مَایُحِبُّ لِنَفْسِہِ۔ ← النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter on what came about the characteristics of the believers · Hadith 234

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِیْ صِفَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ · حديث 235

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ بْنِ اَبِیْ سَمِیْنَۃَ قال حدثنا بن اَبِیْ عَدِیٍّ عَنْ حُسَیْنِ الْمُعَلِّمِ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا یَبْلُغُ عَبْدٌ حَقَیْقَۃَ الْاِیمَانِ حَتّٰی یُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا یُحِبُّ لنفسہ من الخیر ۔ (1:2)

حضرت انس بن مالک ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’بندہ ایمان کی حقیقت تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ‘ جب تک وہ لوگوں کے لئے اسی چیز کو پسند نہیں کرتا ‘ جو بھلائی وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے‘‘۔

النَّبِيِّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← بن أَبِي عَدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › Chapter on what came about the characteristics of the believers · Hadith 235

chevron_left Previous
1…89101112
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr