صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 212
اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَھِیْمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْاَوْزَاعِیُّ قَالَ حَدَّثَنِیْ یَحْیَی بْنُ اَبِیْ کَثِیْرٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ ھِلَالُ بْنُ اِبِیْ مَیْمُونَۃَ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَطَاءُ بْنُ یَسَارٍ قَالَ:ُحَدَّثَنِیْ رِفَاعَۃُ بْنُ عَرَابَۃَالْجُھَنِیُّ قَالَ ): صَدَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ مَّکَّۃَ فَجَعَلَ نَاسٌ یَسْتَاْذِنُونَ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ یَاْذَنْ لَھُمْ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَۃِ الَّتِیْ تَلِیْ رَسُوْلَ اللہِ اَبْغَضَ اِلَیْکُمْ مِنَ الشِّقِّ الْاٰخَرِ قَالَ: فَلَمْ نَرَ مِنَ الْقَوْمِ اِلَّا بَاکِیًا قَالَ یَقُوْلُ اَبُوْ بَکْرِ اِنَّ الَّذَہْ یَسْتَاْذِنُکَ بَعْدَ ھٰذَا لَسَفِیْہٌ فِیْ نَفْسِیْ فَقَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللہَ وَاَثْنَی عَلَیْہِ وَکَانَ اِذَا حَلَفَ قَالَ: وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ اَشْھَدُ عِنْدَ اللہِ مَا مِنْکُمْ مِنْ اَحَدٍ یُؤْمِنُ بِاللہِ ثُمَّ یُسَدِّدُ اِلَّا سُلِکَ بِہٖ فِی الْجَنَّۃِ وَلَقَدْ وَعَدَنِیْ رَبِّی اَنْ یُّدْخِلَ مِنْ اُمَّتِی الْجَنَّۃَ سَبْعِیْنَ اَلْفًا بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ وَاِنِّیْ لَاَرْجُو اَنْ لَا یَدْخُلُوھَا حتی تتبوؤوا اَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَذَرَارِبِّکُمْ مَسَاکِنَ فِی الْجَنَّۃِ ثُمَّ قَال: اِذَا مَضَی شَطْرُ اللَّیْلِ اَوْثُلُثَاہُ یَنْزِلُ اللہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی اِلَی السَّمَاءِ الدُّنْیَا فَیَقُوْلُ لَا اَسْاَلُ عَنْ عِبَادِیْ غَیْرِیْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَسْاَلُنِیْ فَاُعْطَیَہٗ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَاَغْفِرَلَہٗ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَدْعُوْنِیْ فَاَسْتَجِیْبَ لَہٗ حَتّٰی یَنْفَجِرَ الصبح۔ (3:66)
حضرت رفاعہ بن عرابہ جہنی ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرمﷺ کےہمراہ مکہ سے واپس آ رہے تھے۔ لوگوں نے نبی اکرمﷺ سے اجازت لینی شروع کی۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں اجازت عطا کرنا شروع کی‘ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’کیا وجہ ہے ‘ اللہ کے رسول کی طرف والا درخت کا حصہ‘ تمہارے نزدیک دوسرے کے مقابلے میں زیادہ نا پسندیدہ ہے ‘‘۔(یعنی تم لوگ میرے ساتھ نہیں چلنا چاہ رہے ) راوی کہتے ہیں : حاضرین میں سے ہر شخص مجھے روتا ہوا نظر آیا۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابو بکرؓ نے یہ کہنا شروع کہا : میرے خیال میں اس کے بعد آپ سے جو شخص اجازت مانگے گا‘ وہ بے وقوف ہو گا۔ پھر نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے‘ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی۔ آپ جب بھی قسم اٹھاتے تھےُ تو یہ کہتے تھے: اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے‘‘۔ (آپ نے فرمایا ) : ’’میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس با کی گواہی دیتا ہوں کہ تم میں سے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اس کے بعد وہ ٹھیک رہے۔ (یعنی اسلامی احکام پر عمل کرتا رہے) تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا۔ میرے پرور دگار نے مجھ سے یہ وعدہ کیا ہے‘ وہ میری اُمت کے ستر ہزار افرا کو حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور مجھے یہ اُمید ہے ‘ وہ لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے‘ جب تک تم لوگ اور تمہارے نیک بیوی بچے جنت میں اپنے ٹھکانوں پر پہنچ نہیں جاتے ‘‘۔ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی: ’’جب نصف رات۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جب رات ہو جاتی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ آسمان ددنیا کی طرف نزول کرتا ہے ‘ اور فرماتا ہے: میں اپنے بندوں نے اپنے علاوہ کسی اور کے بارے میں دریافت نہیں کرتا ۔ کون شخص ہے جو مجھ سے مانگتا ہے ‘ تو میں اسے عطا کروں۔ کون شخص ہے ‘ جو مجھ سے مغفرت طلب کرے ‘ تو میں اس کی مغٖفرت کر دوں ۔ کون شخص ہے ‘ جو مجھ سے دعا کرتا ہے‘ تو میں اس کی دعا قبول کروں ‘‘۔ (نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں: ) ایسا صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔
رِفَاعَۃُ بْنُ عَرَابَۃَالْجُھَنِیُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ،قَالَ: ← هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَھِیْمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 212
