صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 200
اَخْبَرَ نَاعَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَسْکَرِیُّ بِا لرَّقَّۃِقَالَ حَدَّثَنَاعَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍالْوَکِیْلُ قَالَ حَدَّثَنَا بن اَبِیْ زَائِدَۃَ سُفْیَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَا رٍعَنْ جَابِرٍ: اَنَّ مُعَاذًالَمَّا حَضَرَتْھُ الْوَفَاۃُ قَالَ:اکْشِفُوا عَنِّیْ سِجْفَ الْقُبَّۃِ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللھِ صَلّٰی اللھُ عَلَیْھِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:مَنْ شَھِدَ اَنْ لَا اِلٰھَ اِلَّااللھُ مُخْلِصًا مِنْ قَلْبِھٖ دَخَلَ الْجَنَّۃَ-
حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : جب حضرت معاذ ؓ کا آخری وقت قریب آیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : خیمے کا پردہ ہٹادو‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوے سنا ہے: ’’جو شخص خلوص دل کے ساتھ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘وہ شخص جنت میں داخل ہوگا۔‘‘ (امام ابن حبان فرماتے ہیں :) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان : وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے: ایک جنت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے‘ کیونکہ جنت کی مختلف قسمیں ہیں‘ تو جو شخص وہ اقرار کرتا ہے ایمان کا سب سے بلند شعبہ ہے‘ اور وہ عمل تک نہیں پہنچا اور پھر انتقال کر جاتا ہے ‘ تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ جوشخص اقرار کے بعد اعمال بھی بجالاتا ہے خواہ وہ کم ہوں‘ یازیادہ ہو ں وہ بھی جنت میں جائے گا۔ لیکن یہ وہ پہلے والی جنت سے اوپر ہو گی۔ کیونکہ اس کے عمل زیادہ ہیں تو اس کے درجات بلند ہوں گے اور اس کی جنت بلند ہوگی ایسا نہیں ہے کہ تمام مسلمان ایک ہی جنت میں داخل ہوں گے۔ اگرچہ ان کے اعمال کے درمیان تفاوت اور تباسین پایا جاتا ہو کیونکہ جنت کی مختلف قسمیں ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ ایک ہی جنت ہو۔
بن اَبِیْ زَائِدَۃَ سُفْیَانَ ← حَدَّثَنَاعَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍالْوَکِیْلُ ← اَخْبَرَ نَاعَلِیُّ بْنُ الْحُسَیْنِ الْعَسْکَرِیُّ بِا لرَّقَّۃِ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 200
