صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 188
اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانِ قَالَ اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ عَنْ مَّالِکٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ کَیْسَانَ عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِاللہِ بْنِ عُتْبَۃَ عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُھَنِیِّ اَنَّہٗ قَالَ صَلّٰی لَنَارَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلَاۃَ الصُّبْحِ بِالْحُدَیْبِیَۃِ فِیْ اِثْرِ سَمَاءٍ کَانَتْ مِنَ اللَّیْلِ فَلَمَّا انْصَرَفَ اَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَقَالَ: ھَلْ تَدْرُوْنَ مَاذَاقَالَ رَبُّکُمْ؟ قَالُوْا :اَللہُ وَرَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ قَالَ: اَصْبَحَ مِنْ عِبَادِیْ مُؤْمِنٌ بِیْ وَکَافِرٌ فَاَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فذٰلک مؤمن بیِ کَافِرٌ بِا لْکَوْکَبِ وَاَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ وَکَذَا فَذٰلِکَ کَافِرٌ بِیْ مُوْمِنٌ با لکواکبْ۔( 2:65)
حضرت زید بن خالد جہیؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ہمیں حدیبیہ میں صبح کی نماز پڑھائی اس سے پہلے رات کے وقت بارش ہو چکی تھی جب آپﷺ نے نماز مکمل کی تو آپﷺ لوگوں کی طتف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: کیا تم لوگ یہ بات کانتے ہو ؟تمہارے پروردگار نے کیا بات ارشاد فرمائی ہے؟لوگوں نے عرض کی س: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے) ’’ میرے کچھ بندے مجھ پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ بندے کافر ہیں ‘ جو شخص یہ کہے : اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے ‘ تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے‘ اور ستاروں کا انکارکرتا ہے‘ اور جو شخص یہ کہے : فلاں اور فلاںستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو شخص میرا نکار کرتا ہے‘ اور ستاروں پر ایمان رکھتا ہے‘‘۔
زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ← عُبَيْدِ الله بْنِ عَبْدِالله بْنِ عُتْبَةَ, ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،
Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 188
