Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 175

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُشَنّٰی بِالْمَوْصِلِ حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ حَدَّثَنَاحَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ حدثناشعبۃ عن واقد بن محمد عن أبیہ عَنَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَمَ اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی یَشْھَدُوا اَنْ لَا اِلَہَ اِلَّا اللہُ وَاَنِّی رَسُوْلُ اللہِ وَیُقِیْمُوا الصَّلَاۃَّوَیُؤْتُوا الزَّکَاۃَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِکَ عَصَمُو مِنّیِ دِمَاءَ ھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ الْاِبِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَحِسَابُھُمْ عَلَی اللہِ۔(1:1)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے ‘میں لوگوں کے ساتھ اس وقت تک جنگ ج کرتا رہوں‘جب تک وہ اس بات کی گواہی نہ دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ اور میں اللہ کا رسول ہوں اور وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ‘ جب وہ ایسا کرلیں گے ‘ تو اپنی جانوں اور اپنے اموال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے ‘ البتہ اسلام کے حق کا معاملہ محتلف ہے‘ اور ان لوگوں کا حساب اللہ تعالیٰٰ کے ذمہ ہوگا‘‘۔ (امام ابن حبان فرماتے ہیں :) اس روایت کو نقل کرنے میں شعبہ نامی راوی منفردہے‘ اوراس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجو د ہے کہ ایمان کے اجزاء اور شعبے ہوتے ہیں ‘جو اس بارے میں مخاطب لوگوں کے احوال کے حوالے سے مختلف ہوتے ہیں‘ کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے اس روایت میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے۔ ’’یہاں تک کہ وہ لوگ اس بات کی گواہی دیں گے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ‘‘۔ تو اس میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ یہ وہ شعبہ ہے ‘ جو تمام مخاطب لوگوں پر تمام حالتوں میں فرض ہے۔ پھر آپ نے یہ فرمایا اور وہ نماز قائم کریں ‘تو نبی اکرمﷺ نے اس چیز کا تذکرہ کیا ہے‘ جو مخاطب لوگوں پر بعض حالتوں میں فرض ہوتی ہے۔ تو یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تمام نیکیوں‘ جو ان تین چیزوں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے‘ جس کا آپ نے اس روایت میں ذکر کیا ہے یہ سب ایمان کا حصہ ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← واقد بن محمد ← اِبْرَاھِیْمُ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَۃَ حَدَّثَنَاحَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ حدثناشعبۃ ← اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُشَنّٰی بِالْمَوْصِلِ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 175

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 176

اَخْبَرَ نَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْ سَی بْنِ مُجَا شِعِ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عُلَیَّۃَ عَنْ ھِشَامٍ الدَّسْتُوَائِیِّ عَنْ یَّحْیَی بْنِ اَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّہِ (متن حدیث): عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللہِ مَا الْاِیمَانُ قَالَ: اِذَاسَرَّتْکَ حَسَنَاتُّکَ وَسَاءَتْکَ سَیّئَاتُکَ فَاَنْتَ مُؤْمِنٌ قَالَ :یَارَسُوْلَ اللہِ فَمَا الْاِثْمُ ؟ قَالَ: اِذَا حاک فی قلبک شیءفدعہ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللہِ مَا الْاِیمَانُ قَالَ: اِذَاسَرَّتْکَ حَسَنَاتُّکَ وَسَاءَتْکَ سَیّئَاتُکَ فَاَنْتَ مُؤْمِنٌ قَالَ :یَارَسُوْلَ اللہِ فَمَا الْاِثْمُ ؟ قَالَ: اِذَا حاک فی قلبک شیءفدعہ

حضرت ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یارسول اللہ ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تمہاری نیکیاں تمہیں اچھی لگیں اور تمہاری برائیاں تمہیں بری لگیں ‘ تو تم مومن ہو۔ اس نے عرض کی : یارسول اللہ ! گناہ کیا ہے؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ’’ جب کوئی چیز تمہارے دل میں کھٹکے ‘ تو تم اسے چھوڑ دو‘‘۔

اِذَا حاک فی قلبک شیءفدعہ ← :یَارَسُوْلَ اللہِ فَمَا الْاِثْمُ ← اِذَاسَرَّتْکَ حَسَنَاتُّکَ وَسَاءَتْکَ سَیّئَاتُکَ فَاَنْتَ مُؤْمِنٌ ← رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللہِ مَا الْاِیمَانُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← اِذَا حاک فی قلبک شیءفدعہ ← :یَارَسُوْلَ اللہِ فَمَا الْاِثْمُ ← اِذَاسَرَّتْکَ حَسَنَاتُّکَ وَسَاءَتْکَ سَیّئَاتُکَ فَاَنْتَ مُؤْمِنٌ ← رَجُلٌ یَارَسُوْلَ اللہِ مَا الْاِیمَانُ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← جَدِّہِ (متن حدیث): ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوْ سَی بْنِ مُجَا شِعِ ← اَخْبَرَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 176

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 177

اَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوْسَی بْنِ مُجَاشِعِ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ بْنُ مُعَاذِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا اَبِیْ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَامِرٌ بْنِ السِّمْطِ عَنْ مُعَاوِیَۃَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَۃَ قَاَل حَدَّثَنِیْ ثُمَّ اسْتَکْتَمَنِیْ اَنْ اُحَدِّتَ بِہٖ مَا عَاشَ مُعَاوِیَۃُ فَذَکَرَ عَامِرٌ قَالَ سَمِعْتُہٗ وَھُوَ یَقُوْلُ حَدَّثَنِیْ عَطَا ءُ بْنُ یَسَارٍ وَھُوَ قَاضِی الْمَدِیْنَۃِ قال: سمعت بن مَسْعُوْدٍ وَھُوَ یَقُوْلُ :قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: سَیَکُوْنُ اُمَرَاءُمِنْ یَقُوْلُوْنَ مَا لَایَفْعَلُوْنَ وَ یَفْعَلُوْنَ مَالَایقولون فَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِیَدِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِلِسَانِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہٖ فَھُوَ مُؤْ مِنٌ لَا اِیمَانَ بَعْدَہٗ ۔ قَالَ عَطَا ءُ :فَحِیْنَ سَمِعْتُ الْحَدِیْثَ مِنْہُ انْطَلَقْتُ بِہٖ اِلٰی عَبْدِاللہِ بْنِ عُمَرَ فَاَخْبَرْتُہٗ فَقَالَ اَنْتَ سَمِعْتَ بن مَسْعُوْدٍ یَقُوْلُ ھٰذَا ؟ کَالْمُدْ خَلِ عَلَیْہِ حَدِیِثْہِ قَالَ عَطَاءٌ فَقُلْتُ ھُوَ مَرِیضٌ فَمَا یَمْنَعُکَ اَنْ تَعُوْدَہٗ قَالَ فَا نْطَلِقْ بِنَا اِلَیْہِ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَہٗ فَسَاَلَہٗ عَنْ شَکْوَاہُ ثُمَّ سَاَلَہٗ عن الحدیث قال فخرج بن عُمَرَوَھُوَ یُقَلِّبُ کَفَّہُ وَھُوَ یَقُوْ لُ مَا کاابن اُمِّ عَبْدٍ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ۔(3:49)

عطا ء بن یسار ‘ جو مدینہ منورہ کے قاضی ہیں‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ مسعود ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے‘ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہی: عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے ‘ جو وہ بات کہیں گے جو وہ کرتے نہیں ہو ں گے ‘ اور وہ لوگ ایسے کام کریں گے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا ہوگا۔ توجوشخص اپنے ہاتھ کے دریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا‘ وہ مومن ہوگا اور جو اپنی زبان کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا ‘وہ مومن ہو گا اور جو شخص اپنی زبان کے ساتھ جہاد کے گا‘ وہ مومن ہو گا اور جو شخص اپنے دل کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا ‘ وہ مومن ہوگا۔اس کے بعد ایمان نہیں ہو گا۔ عطاء نامی راوی کہتے ہیں : جب میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی زبانی یہ حدیث سنی‘ تو میں یہ رویت لے کر حضرت ابن عمر ؓ کے پاس گیا اورمیں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے؟ عطا ء کہتے ہیں : میں نےکہا: وہ بیمار ہیں ۔ کیاوجہ ہے‘آپ ان کی عبادت کے لئے نہیں جاتے تو حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا: تم ہمیں ان کے پاس لے جاو۔ جب حضرت عبداللہ بن عمرؓ وہاں تشریف لے گئے ‘ تو ان کے ساتھ میں بھی گیا حضرت عبداللہ عمر ؓ نے ان سے ان کی بیماری کے بارے میں دریافت کیا : پھران سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا ۔ راوی کہتے ہیں :جب حضرت عبداللہ بن عمر ؓ وہاں سے نکلے ‘ تو وہ اپنے ہتھیلی پلٹ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے:ابن اُم عبد ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ) نبی اکرمﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کرسکتے۔

بن مَسْعُوْدٍ وَھُوَ ← عَطَا ءُ بْنُ یَسَارٍ وَھُوَ قَاضِی الْمَدِیْنَۃِ ← وَھُوَ ← ثُمَّ اسْتَکْتَمَنِیْ اَنْ اُحَدِّتَ بِہٖ مَا عَاشَ مُعَاوِیَۃُ فَذَکَرَ عَامِرٌ ← مُعَاوِیَۃَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَۃَ ← عَامِرٌ بْنِ السِّمْطِ ← عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبِي ← عُبَيْدُ1 اللَّهِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 177

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 178

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِیْرِ اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ مَّنْصُوْرٍ عَنْ عَلِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَایُؤْمِنُ الْعَبْدُ حَتّٰی یُؤْمِنَ بِاَرْبَعِ یَشْھَدُ اَنْ لَااِلٰہَ اِلَّااللہَ وَاَنِّی رَسُوْلُ اللہِ ویؤمن بالبعث بعد الموت ویؤمن بالقدر۔(3:49)

حضرت علی ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا جب تک وہ چار چیزوں پر ایمان نہیں رکھتا۔ وہ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘ اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اور وہ مرنے کے بعد زندہ ہونے پر ایمان کھے اور وہ تقدیر پر ایمان رکھے۔‘‘

النَّبِيِّ ← عَلِيٍّ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 178

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 179

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا عُبَیْدُاللہِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَااَبِی عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا یُؤْمِنُ اَحَدَکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَلَدِہٖ ووالدہ والناس أجمععین۔(3:49)

حضرت انس ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کوئی بھی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا ‘ جب تک میں اس کے نزدیک ‘ اس کی اولا د اس کے والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہیں ہوجاتا‘‘

لَا یُؤْمِنُ اَحَدَکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَلَدِہٖ ووالدہ والناس أجمععین۔(3:49) ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عُبَیْدُاللہِ بْنُ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ حَدَّثَنَااَبِی ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 179

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 180

اَخْبَرَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ دَاوٗدَ بُنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ حَدَّثَنَا عِیْسَی بْنُ حَمَّادٍ اَخْبَرَنَا اللَّیْتُ عَنِ بن عَجْلَانَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَکِیْمٍ عَنِ اَبِیْ صَالِحِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہٖ وَیَدِہٖ وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أمنہ الناس علی دمائھم وأموالھم۔(3:49)

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’مسلمان وہ ہے ‘ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے کہ دوسرے اپنی جان اور مال کے حوالے سے اس سے امن میں رہیں ‘‘

رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← بن عَجْلَانَ ← اللَّیْتُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ بِمِصْرَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 180

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 182

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِیْنِیِّ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیْسٰی قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ اَنَسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی الْمَازِنِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: یُدْخِلُ اللہُ اَھْلَ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ یُدْخِلُ مَنْ یَّشَاءُ بِرَحْمَتِہٖ وَیُدْخِلُ اَھْلَ النَّارِ (النَّارَ) ثُمَّ یَقُوْلُ اَخْرِ جُوا مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ حَبَّۃُ خَرْدَلِ مِّنْ اِیمَان فَیُخْرَ جُونَ مِنْھَا حُمَمًا فَیُلْقَوْنَ فِیْ نَھْرٍ فِی الْجَنَّۃٌ فَیَنْبُتُونَ کَمَا تَنْبُتُ حَبَّۃٌ فِیْ جَانِبِ السَّیْلِ اَلَمْ تَرَھَا صفراء ملتویۃ۔(3:80)

حضرت ابوسعید خدریؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کردے گا‘ وہ جسے چاہے گا اپنی رحمت کی وجہ سے داخل کرے گا۔ اور وہ اہل جہنم کو جہنم میں داخل کردے گا‘ پھر وہ یہ فرمائے گا : اس شخص کو جہنم سے نکال دو‘ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان موجود ہے۔ تو ان لوگوں کو جہنم سے نکالا جائے گا اور وہ کوئیلہ بن چکے ہوں گے۔ پھر انہیں جنت کی نہر میں دالا جائے گا ‘ تو وہ اس میں سے یوں پھوٹ پڑیں گے ‘ جس طرح سیلابی پانی کی گزرگاہ میں سے دانہ پھوٹتا ہے۔ کیاتم نے اسے دیکھا نہیں ہے‘ وہ زرد ہوتا ہے‘ اور ادھر ادھر جھکتا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← مالک بن أنس ← مَعْن بن عيسی ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 182

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 183

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَبِیْ رَجَاءِ بْنِ اَبِیْ عُبَیْدَۃَ الْحَرَّانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا زُھَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ عَنْ اَبِیْ الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا مُیّزَ اَھْلُ الْجَنَّۃِ وَاَھْلُ النَّارِ یَدْخُلُ اَھْلُ الْجَنَّۃَ الْجَنَّۃَ وَاَھْلُ النَّارِ النَّارَ قَامَتِ الرُّسُلُ فَشَفَعُو افَیُقَالُ اذْھَبُو افَمَنْ عَرَفْتُمْ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالَ قِیْرَاطٍ مِّنْ اِیمَانِ فَاَخْرِجُوْہُ فَیُخْرِجُوْنَ بَشَرًا کَثِیْرًا ثُمَّ یُقَالُ اذْھَبُو افَمَنْ عَرَفْتُمْ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالَ خَرْدَلَۃٍ مِّنْ اِیمَانِ فَاَخْرِجُوْہُ فَیُخْرِ جُوْنَ بَشَرًا کَثِیْرًا ثُمَّ یَقُوْلُ جَلَّ وَعَلَا اَنَا الْانَ اُخْرِجُ بِنِعْمَتِیْ وَبِرَ حْمَتِیْ فَیُخْرِجُ اَضْعَافَ مَا اَخْرَ جُوا وَاَضْعَا فَھُمْ قَدِ امْتَحَشُوْا وَصَارُوْا فَحْمًا فَیُلْقَوْنَ فِیْ نَھْرٍ اَوْفِیْ نَھْرٍ مِّنْ اَنْھَارِ الْجَنَّۃِ فَتَسْقُطُ مُحَاشُّھُمْ عَلٰی حَافَۃِ ذٰلِکَ لنَّھَرِ فَیَعُوْدُوْنَ بِیضًا مِثْلَ الثَّعَارِیْرِ فَیُکْتَبُ فَیْ رِقَا بِھِمْ عُتَقَاءُ اللہِ وَیُسَمَّوْنَ فِیْھَا الْجَھَنَّمِیّینَ ۔(3:80) الثَّعَارِیْرُ: الْقِثَّاءُ الصِّغَارُ قَالَہُ الشیخ۔

حضرت جابرؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جب اہل جنت اور اہل جہنم کو ایک دوسرے سے نمایاں کردیاجائے گا اور اہل جنت ‘ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور اہل جہنم ‘ جہنم میں داخل ہوجائیں گے ‘ تو رسول ﷺ کھڑ ہوں گے اور وہ شفاعت کریں گے ۔ تو یہ کہا جائے گا: تم لوگ جاؤ اور جس شخص کے بارے میں تمہیں یہ لگتا ہے‘ کہ اس کے دل میں ایک قیراط کے برابر ایمان ہے‘ تم اسے ( جہنم سے نکال دہ) تو وہ لوگ بہت زیادہ لوگوں کو نکال دیں گے ‘پھریہ کہاجائے گا : تم لوگ جاؤ اور جس کے بارے میں تمہیں یہ پتہ چلتاہے‘ کہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہے‘ تو تم اسے بھی نکال دو ‘ تو وہ لوگ بہت لوگوں کہ نکال دیں گے۔ (پھر ) اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اب میں اپنی نعمت اور رحمت کی وجہ سے ( لوگوں کو جہنم سے )نکالو ں گا۔ تو ان رسولوں نے جتنے لوگوں کو نکالا تھا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے کئی گنا زیادہ لوگو ں کو جہنم سے نکالے گا۔ وہ لوگ جل کر کوئلہ وہ چکے ہوں گے ‘ انہیں نہر میں ڈالا جائے گا۔ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) جنت کی ایک نہر میں ڈالا جائے گا ‘ تو ان کا جلا ہواحصہ اس نہر کے کنارے پر گر پڑے گا اور وہ لوگ’’ ثعاریر ‘‘ کی مانندسفید ہو جائیں گے ‘ ان کی گردنوں پر یہ لکھا جائے گا: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزاد کئے ہوے ہیں اور ( جنت میں ) ان کا نا م جہنمی ہو گا۔ امام ابن حبان فرماتے ہیں :’’ثعاریر‘‘ ایک چھوٹی قسم کا پھول ہوتا ہے۔ یہ بات شیخ نے بیان کی ہے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← يحيى بن أبي رجاء بن أبي عبيدة الحرّاني، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 183

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 184

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوْ سُفَ بْنِ حَمْزَۃَ قَالَ حَدَّ ثَنَا نَصْرُبْنُ عَلِیِّ الْجَھْضَمِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُبْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ اَبِیْ مَسْلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ نَضْرَۃَ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَمَّا اَھْلُ النَّارِ الَّذِیْنَ ھُمْ اَھْلُھَا فَاِنَّھُمْ لَا یَمُوتُونَ فِیْھَا وَلَا یَحْیَوْنَ وَلَکِنْ نَاسٌ اَصَابَتْھُمُ النَّارُ بِزُنُوْبِھِمْ اَوْقَالَ بِخَطَا یَا ھُمْ حَتّٰی اِذَا کَانُوْ افَحْمًا اُذِنَ فِی اشَّفَاعَۃِ فَجِی ءَ بِھِمْ ضَبَا ِئرَ ضَبَائِرَ فِبُثُّوا عَلٰی اَھْلِ الْجَنَّۃِ ثُمَّ قِیْلَ یَا اَھْلَ الْجَنَّۃِ اَفِیْضُو اعَلَیْھِمْ قَالَ فَیَنْبُتُونَ نَبَاتَ الْحِبَّۃِ تَکُوْنُ فِیْ حَمِیلِ السَّیْلِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ :کَاَنَّہُ کَانَ رَسُوْلُ اللھِ صَلّٰ اللھُ عَلَیْھِ وَسَلَّمَ بلبادیۃ۔(3:80)

حضرت ابو سعید خدریؓ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے ‘ تو وہ جہنم میں تہیں گے ان کو موت نہیں آ گی اور وہ ( ٹھیک طرح سے) زندہ نہیں ہوں گے ‘‘۔ لیکن کچھ لوگ ہوں گے جنہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ ( کاعذاب پہنچے گا) ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان کی خطاؤں کی وجہ سے ہوگا یہاں تک کہ جب وہ کوئلہ ہو جائیں گے ‘ تو پھر ان کو لوگوں کو گروہ درگروہ بلایا جائے گا۔ انہیں اہل جنت کے سامنے رکھا جائے گااور یہ کہا جائے گا : اے اہل جنت ! تم ان لوگوں پر پانی بہاؤ ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : تو وہ یو ں پھوٹ پڑیں گے ‘ جس طرح سیلابی پانی کے راستے میں سے دانہ پھوٹ پڑتا ہے۔ حاضرین میں سے صاحب نے کہا : یوں لگتا ہے‘ جیسے نبی اکرمﷺ ویرانوں میں بھی رہےہیں۔

اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← اَبِیْ مَسْلَمَۃَ ← بِشْرُبْنُ الْمُفَضَّلِ ← نَصْرُبْنُ عَلِیِّ الْجَھْضَمِیُّ ← حَدَّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ یُوْ سُفَ بْنِ حَمْزَۃَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 184

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 185

اَخْبَرَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدً الْاَزْدِیُّ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ اَخْبَرَنَا عَبْدُاللہِ بْنُ اِدْرِیْسَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ قَالَ: قاَلَ یَھُوْدِیٌّ لِعُمَرَ: لَوْ عَلِمْنَا مَعْشَرَ الْیَھُوْدِ مَتَی نَزَلَتْ ھٰزِہِ الْاٰیَۃُ لَا تَّخَزْنَاہُ عِیْدًا (الْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لکُمْ دِیْنکُمْ) (المایدۃ:3) وَلَوْ نَعْلَمُ الْیَوْمَ الَّذِیْ نَذَلَتْ فِیْہِ لاتخذناہ عید ا فقال عمر رَضِیِ اللُہُ تَعَالیٰ عَنْہُ: قَدْ عَلِمْتُ الْیَوْمَ الَّذِیْ اُنْذِلَتْ فِیْہِ وَللَّیْلَۃَ الَّتِیْ اُنْذِلَتْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَنَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلّٰمَ بِعَرَفَاتٍ۔(5:46)

طارق بن شہاب کہتے ہیں : ایک یہودی نے حضرت عمر ؓ سے کہا: اگر ہم یہودیوں کو یہ پتہ چل جائے کہ یہ آیت کب نازل ہوئی ےتھی ؟ تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیں ۔ ’’آج کے دن میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا ہے۔‘‘ اور اگر اب بھی ہمیں اس دن کا پتہ چل جائے کہ جس دن یہ آیت نازل ہوئی ےتھی ‘ تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیں گے ‘ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : مجھے اس دن کے بارے میں پتہ ہے‘ جس دن یہ آیت نازل ہوئی تھی اور اس رات کے بارےمیں بھی پتہ ہے‘جس میں یہ نازل ہوئی تھی: یہ جمعہ کا دن تھا ‘ اور ہم اس وقت نبی اکرمﷺ کے ساتھ عرفات میں موجود تھے۔

طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، ← قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← أَبِيهِ ← عبدُاللهِ بنُ إدريسَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُاللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 185

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 186

اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہ ِبْنُ مَحَمَّدٍ الْاَزْدِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ اَخْبَرَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْاوْزَاعِیِّ عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنِیْ سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیّبِ وَاَبُوْ سَلَمَۃَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَاَبُوْ بَکْرِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ کُلُّھُمْ یُحَدِّثُونَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہ علیہ وسلم قال : :لَا یَزْنِی الزَّانِیْ حِیْنَ یَزْنِیْ وَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا یَسْرِقُ السَّارِقُ حِیْنَ یَسْرِقُ وَھُوَ مُؤْمِنً وَلَا یَشْرَبُ الْخَمْرُ حِیْنَ یَشْرَبُھَا وَھُوَ مُؤْمِنً وَلَایَنْتَھِبُ نُھْبَۃً ذَاتَ شَرَفٍ یَرْفَعُ الْمُسْلِمُوْنَ اِلَیْھَا اَبْصَارَ ھُمْ وَھُوَ حِیْنَ یَنْتَھِبُھَا مُؤْمِنٌ ۔ فَقُلْتُ لِلزُّھْرِیِ: مَا ھٰذَا ؟ فَقَالَ :عَلٰی رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْبَلَا غُ وَعَلَیْنَا التَّسْلِیْمُ ۔(2:65)

حضرت ابو ہریرہ ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’زنا کرنے والا شخص زنا کرتے ہے مومن نہیں رہتا‘ چوری کرنے والا شخص چوری کرتے ہوئے مومن نہیں رہتا‘ شراب پینے والا شخص شراب پیتے ہوے مومن نہیں رہتا‘ ڈاکہ ڈالنے والا شخص جو کسی کی قیمتی چیز پر ڈاکہ ڈالتا ہے‘ جب کہ مسلمان اس کی طرف رہے ہوں ‘ تو و ہ ڈاکہ ڈالتے وقت مومن نہیں رہتا‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میں نے زہری سے دریافت کیا : اس سے مراد کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرمﷺ پر تبلیغ کرنا لازم تھا‘ اور ہم پر اسے تسلیم کرنا لازم ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبُوْ بَکْرِ بْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ھِشَامٍ کُلُّھُمْ یُحَدِّثُونَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 186

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَا بُ فَرْضِ الْاِیمَان · حديث 187

اَخْبَرَنَا ا۔بُوْ خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا اَبُو الْوَلِیْدِ وَابْنُ کَثِیْرِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ وَاقِد بْنُ عَبْدِ اللہِ اَخْبَرَنِیْ عَنْ اَبِیْہِ اَنَّہٗ سَمِعَ بن عُمَرَ یُحَدِّثُ عَنِ النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَرْجِعُوا بَعْدِیْ کُفَّارً یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بعض ۔(2:65)

واقد بن عبداللہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کو نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہوے سنا ہے: ’’میرے بعد دوبارہ زمانہ کفر کی طرح نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو۔‘‘

لَا تَرْجِعُوا بَعْدِیْ کُفَّارً یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بعض ← النَّبِيِّ ← بن عُمَرَ ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← وَاقِد بْنُ عَبْدِ اللہِ ← شُعْبَةُ، ← اَبُو الْوَلِیْدِ وَابْنُ کَثِیْرِ ← ا۔بُوْ خَلِیفَۃَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Faith › O for the obligation of faith · Hadith 187

chevron_left Previous
1…456…12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr