صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ فَضْلِ الْاِیمَانِ · حديث 151
اَخْبَرَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ مَحَمَّدِ بْنُ مُصْعَبٍ بِخَبَرٍ غَرِیبٍ حَدَّثَنَا اَبُوْدَاوٗدَ السِّنْجِیُّ سُلَیْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّ ثَنَا بن اَبِیْ مَرْیَمَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ عَنْ بْنِ الْھَادِ عَنْ عَبْدِاللہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ اَبِیْ صَا لِحِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَہّ عَنْ رَسُوْلِ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قال: اْلاِیمَانُ سَبْعُوْنَ اَوِاثْنَانِ وَسَبْعُوْنَ بَابًا اَرْفَعُہٗ لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاَدْنَاہُ اِمَاطَہُ الْاَذَی عن الطریق والحیاءشعبہ من الایمان۔(1:1)
حضرت ابوہریرہ ؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ایمان کے 70 ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) 72دروازے ہیں ‘ جن میں سب سے بلند ’’ لالہ الااللہ‘‘ ہے ‘ اور کمتر راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا ہے ‘ اور حیاء ایمان کا ایک شعبہ ہے‘‘ (امام ابن حبان ؑ فرماتے ہیں) اس روایت میں اس ذکر شدہ عدد پر ‘جو اکتفا کیا گیا ہے‘ جو ابن ہاد سے منقول روایت میں ہے‘ یہ ان صورتوں میں سے ہے ‘ جس کے بارے میں ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کرچکے ہیں کہ بعض اوقات عرب کسی چیز کےلئےکوئی عدد ذکرتے ہیں لیکن اس سے یہ مراد نہیں ہوتا کہ اس دعدد وہ کی نفی کردی جائے۔ اس کی مثالیں موجود ہیں ‘ اور ہم نے اس کی کئی انواع بیان کی ہیں۔ جن میں سے چند ایک کا اہم ان کی متعلقہ فصول میں بعد میں ذکر کریں گے۔
الطریق والحیاءشعبہ من الایمان۔(1:1) ← اْلاِیمَانُ سَبْعُوْنَ اَوِاثْنَانِ وَسَبْعُوْنَ بَابًا اَرْفَعُہٗ لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ وَاَدْنَاہُ اِمَاطَہُ الْاَذَی ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَا لِحِ ← عَبْدِاللہِ بْنِ دِیْنَارٍ ← بْنِ الْهَادِ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← اَبُوْدَاوٗدَ السِّنْجِیُّ سُلَیْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّ ← الْحُسَیْنُ بْنُ مَحَمَّدِ بْنُ مُصْعَبٍ بِخَبَرٍ غَرِیبٍ
Hadith 151
