صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 140
اَخْبَرَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ اِسْمَاعِیلَ بَبُسْتَ قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِیِّ الْحُلْوَانِیُّ قَالَ حَدَثَنَا وَھْبُ بْنُ جَرِیْرٍ قَال حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ فِیْ قَوْلَہٖ:( لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّینِ) (البقرۃ:256)قَالَ: کَانَتَ الْمَرْاۃُ مَنَ الْاَنْصَارِ لَا یَکَادُ یَعِشُ لَھَا وَلَدٌ فَتَحْلِفُ لَئنْ عَاشَ لَھَا وَلَدٌ لَتْھَوِّ دَنَّہٗ فَلَمَّا اُجْلِیَتْ بَنُو النَّضِیْرِ اِذَا فِیْھِمْ نَاسٌ مِنْ اَبْنَاءِ الْاَنْصَارِ فَقَالَتِ الْانْصَارُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ اَبْنَاؤُ نَا فَاَنْزَلَ اللہُ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ( لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّینِ ) قَالَ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ: فَمَنْ شَاءَ لَحِقَ بِھِمْ وَمَنْ شَآءَ دَخَلَ فِی الْإِسْلَامِ ۔(3:64)
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے ‘‘۔ یہ بیان کرتے ہیں: (پہلے یہ رواج تھا ) کہ اگر انصار کی کسی عورت کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا ‘ تو وہ یہ قسم اٹھایا کرتی تھی : اگر اس کا بچہ زندہ رہ گیا ‘ تو اسے یہودی بنا دے گی۔ جب بنو نضیر کو جلا وطن کی گیا ‘ تو ان کے درمیان کچھ ایسے لوگ بھی تھے ‘ جو انصار کی اولاد تھے۔ انصار نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ان بچوں کا کیا بنے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے ‘‘۔ سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں ‘جس بچے نے چاہا‘وہ ان یہودیوں (کے ساتھ ) مل گیا اور جس نے چاہا وہ اسلام میں داخل ہو گیا۔
ابْنِ عَبَّاسِ فِیْ قَوْلَہٖ:( لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّینِ) (البقرۃ:256)قَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ
Hadith 140
