Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 140

اَخْبَرَنَا اِسْحَاقُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ اِسْمَاعِیلَ بَبُسْتَ قَالَ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِیِّ الْحُلْوَانِیُّ قَالَ حَدَثَنَا وَھْبُ بْنُ جَرِیْرٍ قَال حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ اَبِیْ بِشْرٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ فِیْ قَوْلَہٖ:( لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّینِ) (البقرۃ:256)قَالَ: کَانَتَ الْمَرْاۃُ مَنَ الْاَنْصَارِ لَا یَکَادُ یَعِشُ لَھَا وَلَدٌ فَتَحْلِفُ لَئنْ عَاشَ لَھَا وَلَدٌ لَتْھَوِّ دَنَّہٗ فَلَمَّا اُجْلِیَتْ بَنُو النَّضِیْرِ اِذَا فِیْھِمْ نَاسٌ مِنْ اَبْنَاءِ الْاَنْصَارِ فَقَالَتِ الْانْصَارُ: یَا رَسُوْلَ اللہِ اَبْنَاؤُ نَا فَاَنْزَلَ اللہُ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ( لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّینِ ) قَالَ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ: فَمَنْ شَاءَ لَحِقَ بِھِمْ وَمَنْ شَآءَ دَخَلَ فِی الْإِسْلَامِ ۔(3:64)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے ‘‘۔ یہ بیان کرتے ہیں: (پہلے یہ رواج تھا ) کہ اگر انصار کی کسی عورت کا کوئی بچہ زندہ نہیں رہتا تھا ‘ تو وہ یہ قسم اٹھایا کرتی تھی : اگر اس کا بچہ زندہ رہ گیا ‘ تو اسے یہودی بنا دے گی۔ جب بنو نضیر کو جلا وطن کی گیا ‘ تو ان کے درمیان کچھ ایسے لوگ بھی تھے ‘ جو انصار کی اولاد تھے۔ انصار نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ان بچوں کا کیا بنے گا ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ’’دین میں کوئی زبردستی نہیں ہے ‘‘۔ سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں ‘جس بچے نے چاہا‘وہ ان یہودیوں (کے ساتھ ) مل گیا اور جس نے چاہا وہ اسلام میں داخل ہو گیا۔

ابْنِ عَبَّاسِ فِیْ قَوْلَہٖ:( لَا اِکْرَاہَ فِی الدِّینِ) (البقرۃ:256)قَ ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي بِشْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Hadith 140

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 141

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ سِنَانِ الطَّائیُّ بِمَنْبَجَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ حَفصٍ النُّفَیْلِیُّ قَالَ قَرَاْنَا عَلٰی مَعْقِلِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ عَنِ الزُّھْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائشَۃَ اَنَّھَا اَخْبَرَتْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ لَیْلَۃٌ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلّٰی فِی الْمَسْجِدِ فصَلّٰی رِجَالٌ وَرَاءَہُ بِصَلاتِہٖ فَاَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا بِذٰلِکَ فَاجْتَمَعَ اَکْثَرَھُمْ مِنْھُمْ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الثَّانِیَۃَ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِہٖ فَاَصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا بِذٰلِکَ فَاجْتَمِعَ اَھْلُ الْمَسْجِدِ لَیْلَۃَ الثَّالِثَۃِ فَخَرَجَ رَسُوْلُ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِہٖ فَلَمَّا کَانَتِاللَّیْلَۃُ الرَّابِعَۃُ عَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنْ اَھْلَہٖ فَلَمْ یَخُرُجْ اِلَیْھِمْ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلَا لِصَلَاۃِ الْفَجْرِ فَلَمَّا قُضِیَتْ صَلَاۃُ الْفَجْرِ اَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ فَتَشَھَّدَ ثُمَّ قَالَ: اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّہٗ لَمْ یَخْفَ عَلَیَّ مَکَانُکُمْ وَلَکِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تُفْرَضَ عَلَیْکُمْ فَتَقْعُدُوا عَنْھَا۔ وَکَانَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُرَغِّبُھُمْ فِیْ قِیَامِ شَھْرِ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ اَنْ یَّاْمُرَ ھُمْ بِقَضَاءِ اَمْرٍ فِیْہِ یَقُوْلُ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ اِیمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَہٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ۔ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْاَمْرُ عَلٰی ذٰلِکَ ثُمَّ کَانَ الْاَمْرُ عَلٰی ذٰلِکَ فِیْ خِلَافَۃِ اَبِیْ بَکْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خَلَافَۃِ عُمَرَ رِضْوَانُ اللہِ عَلَیْھِمْ أَجْمِعِیْنَ ۔(5:1)

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : رمضان کے مہینے میں ایک دن نبی اکرمﷺ باہر (یعنی مسجد میں ) تشریف لائے۔ آپ نے نماز (تراویح ) ادا کی کچھ لوگوں نے آپ کی نماز کی پیروی کرتے ہوئے آپ کے پیچھے نماز ادا کی۔ اگلے دن صبح لوگوں نے اس بارے میں بت چیت کی ‘ تو (اگلے دن ) لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔ نبی اکرمﷺ دوسرے دن بھی تشریف لائے ‘ تو لوگوں نے آپ کی نماز کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ اگلے دن لوگوں نے اس بارے میں بات چیت کی ‘ تو تیسری رات مسجد میں بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ نبی اکرمﷺ باہر تشریف لائے۔ لوگوں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی ‘ جب چوتھی رات آئی تو پوری مسجد بھر چکی تھی۔ اس دن نبی اکرمﷺ (تشریف نہیں لائے ‘ آپ ) فجر کی نماز ادا کرنے کے لئے لوگوں کے پاس تشریف لائے ‘ جب فجر کی نماز مکمل ہوگئی تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا۔ آپ نےک کلمہ شہادت پڑھا اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی۔ ’’ام بعد! تمہارا یہاں ٹھہرنا مجھ سے مخفی نہیں تھا ‘ لیکن مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ یہ تم پر فرض ہو جائے گی اور تم اسے ادا نہیں کر پاؤ گے‘‘۔ (سیّدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں : ) نبی اکرمﷺ لوگوں کو رمضان کے مہینے میں نوافل ادا کرنے کی ترٖٖغیب کرتے تھے ‘ تاہم آپ انہیں اس بارے میں باقاعدہ کوئی حکم نہیں دیتے تھے۔ آپ ﷺ یہ بات ارشاد فرماتے تھے: ’’جو شخص ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے ’‘ رمضان میں نوافل ادا کرے گا ‘ ا س شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی‘‘۔ پھر نبی اکرمﷺ دنیا سے تشریف لے گئے ‘ تو یہ معاملہ یوں ہی رہا پھر حضرت ابو بکرؓ کے عہد خلافت میں بھی یہ معاملہ یوں ہی رہا اور حضرت عمرؓ کے ابتدائی دور میں بھی ایسے ہی رہا۔ (یعنی اس کے بعد لوگوں نے تراویح کی نماز باجماعت ادا کرنا شروع کی )

عَائشَۃَ اَنَّھَا اَخْبَرَتْہُ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← قَرَاْنَا عَلٰی مَعْقِلِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ ← سَعِیْدُ بْنُ حَفصٍ النُّفَیْلِیُّ ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبَجٍ،

Hadith 141

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 142

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ فَرُّوخِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ حَمَّادٍ عَنْ اِبْرَاھِمْمَ عَنِ الْاَسْوَدِ عَنْ عَائشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ عَنِ النَّائمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ وَعَنِ الْغُلَامِ حَتّٰی یَحْتَلِمَ وَعَنِ الْجَجْنُوْنِ حَتّٰی یُفِیْقَ ۔ (3:18)

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے۔ سوئے ہوئےشخص سے ‘ یہاں تک کہ وہ بیدار ہو جائے ‘ نابالغ بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ‘ اور مجنون سے ‘ یہاں تک کہ اسے افاقہ ہو جائے‘‘۔

عَائِشَةَ ← الْأَسْوَدِ، ← اِبْرَاھِمْمَ ← حَمَّادٌ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 142

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 143

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا ہونس بن عبد الاعلی حدثنا بن وَھْبٍ اَخْبَرَنِیْ جَرِیْرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مِھْرَانَ عَنْ اَبِیْ ظَبْیَانَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَرَّ عَلِیُّ بْنُ اَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بِمَجْنُونَۃِ بَنِیْ فُلَانِ قَدْ زَنَتْ اَمَرَ عُمَرُ برَجْمِھَا فَرَدَّھَا عَلِیُّ وَقَالَ لِعُمَرَ یَا اَمِیرَ الْمُؤْمِنِیْنِ اَتَرْجُمُ ھٰذِہِ قَالَ: نَعَمْ قَال: أَوَمَا تَذْکُرُاَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَۃٍ عَنِ الْمَغْلُوبِ عَلٰی عَقْلِہٖ وَعَنِ النَّائمِ حَتّٰی یَسْتَیْقِظَ وَعَنِ الصَّبِیِّ حَتّٰی یَحْتَلِمَ قَال صَدَقْتَ فَخَلّٰی عَنْھَا ۔(3:18)

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : حضرت علی ؓ کا گزر بنوفلاں سے تعلق رکھنے والی ایک پاگل عورت کے پاس سے ہوا‘ جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا ‘ اور حضرت عمر ؓ نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ حضرت علیؓ نے اس عورت کو واپس کر دیا ‘ پھر انہوں نے حضرت عمرؓ سے دریافت کیا : اے امیر المومنین ! کیا آپ اسے سنگسار کرنا چاہتے ہیں ؟ حضرت عمر ؓ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت علیؓ نے فرمایا : کیا آپ کو یہ بات یاد نہیں ہے ‘ نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’تین لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۔ ایسا پاگل شخص جس کی عقل مغلوب ہو چکی ہو۔ سویا ہوا شخص جب تک وہ بیدار نہیں ہو جاتا اور (نا بالغ بچہ) جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے‘‘۔ تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا : آپ نے سچ کہا ہے ‘ پھر حضرت عمرؓ نے اس عورت کو چھوڑ دیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← بن وَهْبٍ ← ہونس بن عبد الاعلی ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 143

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 144

اَخْبَرَنَا عُمَرُبْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ سَمِعْتُہٗ مِنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عُقْبَۃَ قَالَ سَمِعْتُ کُرَیْبًا یُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَدَرَ مِنْ مَّکَّۃَ فَلَمَّا کَانَ بِالرَّوْحَاءِ اسْتَقْبَلَہٗ رَکْبٌ فَسَلَّمَ عَلَیْھِمْ فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ ؟ قَالُوْا: الْمُسْلِمُوْنَ فَمَنْ اَنْتُمْ؟ قَالَ: رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَفَزِعَتِ امْرَاَۃٌ مِنْھُمْ فَرَفَعَتْ صَبِیًّا لَھَا مِنْ مِحَفَّۃٍ وَاَخَذَتْ بِعَضَلَتِہٖ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللہِ ھَلْ لِھٰذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ وَلَکِ اَجْرٌ قَالَ إِبْرَاھِمْمُ: فَحَدَّثْتُ بِھٰذَا الْحَدِیْثَ بْنَ الْمُنْکَدِرِ فِحَجَّ بِأَھْلَہٖ أَجْمَعِیْنَ۔(3:18)

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ مکہ سے وپس تشریف لائے جب آپ ’’روحاء‘‘ کے مقام پر پہنچے تو کچھ سوار آپ کے سامنے آئے۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں سلام کیا اور دریافت کیا : آپ لوگ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : ہم مسلمان ہیں۔ آپ لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : (میں ) اللہ کا رسول ہوں ‘ تو ان میں سے ایک عورت تیزی سے اٹھی اور اس نے اپنے پالا ن میں سے اپنے بچے کو بلند کیا ‘ اس نے اس بچے کے بازو کو پکڑا ہوا تھا۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! (کیا اس بچے کا ) حج ہوا ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اور تمہیں بھی (اس کا ) اجر ملے گا۔ ابراہیم نامی راوی کہتے ہیں : میں نے یہ روایت ابن منکدر کو سنائی ‘ تو انہوں نے اپنے تمام گھر والوں سمیت حج کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← کُرَیْبًا یُخْبِرُ ← مِنْ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ عُقْبَۃَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُبْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ

Hadith 144

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 145

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ بَکْرِ بْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنَّا لَنَجِدُ فِی اَنْفُسِنَا اَشْیَاءَ مَا نُحِبُّ اَنْ نَتَکَلَّمَ بِھَا وَاِنَّ لَنَا مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ فَقَالَ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَدْ وَجَدْتُمْ ذٰلِکَ ؟ قالوا: نعم‘ قَالَ :ذاک صریح الإیمان ۔(3:65)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں اپنے ذہن میں ایسے خیالات آتے ہیں کہ ہمیں انہیں بیان کرنا پسند نہیں ہے ‘ اگرچہ اس کے عواض میں ہمیں ساری دنیا جل جائے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تمہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ یہ صریح ایمان ہے ‘‘۔

رَجُلٌ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 145

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 146

اَخْبَرَنَا اَبُوْ عَرُوبَۃَ بِحَرَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِیْ عَدِیِّ عَنْ شُعْبَۃَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَھْدَلَۃَ عَنْ اَبِیْ صَالِحِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّھُمْ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنَّا لَنَجِدُ فِیْ اَنْفُسِنَا شَیْئًا لَاَنْ یَّکُوْنَ اَحَدُنَا حُمَمَۃً اَحَبُّ اِلَیْہِ مِنْ اَنْ یَّتَکَلَّمَ بَہٖ قَالَ: ذَاکَ مَحْضُٖ الْإِیْمَانَ ۔ (3:65)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں اپنے ذہن میں ایسے خیالات آتے ہیں ‘ ہم میں سے کسی ایک کا راکھ ہو جانا ‘ یہ اس کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہے کہ وہ اس خیال کو بیان کرے‘ تو نبی اکرمﷺنے فرمایا : ’’یہ محض ایمان ہے ‘‘۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) جب مسلمان اپنے دل میں ایسی چیز پائے یا اس کے ذہن میں ایسا خیال آئے جس کے بارے میں کلام کرنا اس کے لئے جائز نہ ہو‘ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی کیفیت ہو ‘ یااس کے ساتھ مشابہہ ہو ‘ اور پھر وہ صحیح ایمان کے ہمراہ اپنے دل سے اسے مسترد کر دے اور ان میں سے کسی بھی چیز پر پختہ ہونے کی ترک کر دے تو اس کا اس وسوسے کو مسترد کرنا ایمان کا حصہ ہے ‘ بلکہ یہ صریح ایمان ہے ( حدیث کے الفاظ سے ) یہ مراد نہیں ہے : اس طرح کے خیالات کا آنا ایمان کا حصہ ہے۔

اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّھُمْ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِیْ عَدِیِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Hadith 146

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 147

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ مَوْلٰی ثَقِیْفٍ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مَّنْصُوْرِ عَنْ ذَرِّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَدَّادٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللہِ اِنَّ اَحَدَنَا لَیَجِدُ فِیْ نَفْسِہِ الشَّیْءَ لَاَنْ یَّکُوْنَن حُمَمَۃً اَحَبُّ اِلَیْہِ مِنْ اَنْ یَّتَکَلَّمَ بَہٖ فَقَالَ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَللہُ اَکْبَرُ الْحَمْدُ لِلہِ الَّذِیْ رَدَّ اَمْرَہُ اِلَی الْوَسْوَسَۃِ۔ (4:38)

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : ہم میں سے کسی ایک شخص کو اپنے ذہن میں سے کوئی چیز ( یعنی کوئی وسوسہ ) محسوس ہوتا ہے ‘ تو اس کا راکھ ہو جانا ‘ یہ اس کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ آدمی اس وسوسے کو بیان کرے۔ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ اکبر! ہر طرح کی حمد اس اللہ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے اس معاملے کو وسوسے کی طرٖ لوٹا دیا ہے‘‘۔

يارسول الله ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← ذَرٍّ، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 147

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 148

اَخْبَرَنَا اَبُوْ خَلِیْفَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحِ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللہِ اِنَّ اَحَدَنَا لَیُحَدِّثُ نَفْسَہٗ بِالشَّیْءِ یَعْظُمُ عَلٰی اَحَدِنَا اَنْ یَّتَکَلَّمَ بِہٖ قَالَ: اَوَقَدْ وَجَلْتُّمُوْہُ ؟ ذَاکَ صَرِیْحُ الْإِیْمَانِ ۔ (3:65)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کسی ایک شخص کو ایسے خیالات ّتے ہیں ‘ جنہیں بیان کرنا اس کیلئے بہت بڑی بات ہو ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’کیا تم لوگوں کو یہ صورتحال پیش آتی ہے ؟ یہ صریح ایمان ہے ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← خَالِدٌ، ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 148

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 149

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الدَّغُولِیُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ الْمُنْذِرِ النَّیْسَابُوْرِیُّ بِمَکَّۃَ وَعِدَّۃٌ قَالُوْا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَھَّابِ الْفَرَّاءُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ عَثَّامٍ یَقُوْلُ اَتَیْتُ سُعَیْرَ بْنَ الْخِمْسِ اَسْاَلُہٗ عَنْ حَدِیْثِ الْوَسْوَسَۃِ فَلَمْ یُحَدِّثْنِیْ فَاَدْبَرْتُ اَبْکِی ثُمَّ لَقِیَنِیْ تَعَالَ حَدَّثَنَا مُغِیْرَۃُ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللہِ قَالَ: سَاَلْنَا رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ یَجِدُ الشَّیْءَ لَوْ خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفَہُ الطَّیْرُ کَانَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ اَنْ یَّتَکَلَّمَ قَالَ: ذَاکَ صَرِیْحُ الْاِیْمَانِ ۔(3:65)

حدیث 149: علی بن عشام بیان کرتے ہیں : میں سعیر بن خمس کی خدمت میں آیا ‘ تاکہ ان سے وسوسے کے بارے میں حدیث کے بارے میں دریافت کروں ‘ تو انہوں نے مجھے وہ حدیث بیان نہیں کی ‘ میں روتا ہوا واپس آ گیا ‘ پھر میری ان سے ملاقات ہوئی ‘ تو انہوں نے فرمایا : آگے آؤ۔ مغیرہ نے ابراہیم کے حوالے سے ‘ علقمہ کے حوالے سے ‘ حضرت عبد اللہ ؓ کا یہ بیان نقل کیا ہے : ہم نے نبی اکرمﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا : جو ایسی چیز کو پاتا ہے یعنی وسوسہ یا منفی خیال پاتا ہے کہ اگر وہ آسمان سے نیچے گر جائے ‘ اور پرندے اسے اچک لیں تو یہ بات اس کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو کہ وہ اس (وسوسے کے بارے میں ) کلام کرے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: ’’صریح ایمان ہے ‘‘۔

عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُنْذِرِ النَّيْسَابُورِيُّ بِمَكَّةَ، وَعِدَّةٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّغُولِيُّ

Hadith 149

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ التَّکْلِیفِ · حديث 150

اَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ السَّانَ السَّامِیُّ بِالْبَصْرَۃِ حَدَّثَنَا کَثِیْرُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمَذْحِجِیُّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ اَخْبَرَنَا ھِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَنْ یَّدَعَ الشَّیْطَانُ اَنْ یَّاْتِیَ اَحَدَ کُمْ فَیَقُوْلُ: مَنْ خَلَقَ اللہَ ؟ فَاِذَا حَسَّ اَحَدُ کُمْ بِذٰلِکَ فَلْیَقُلْ اٰمَنْتُ بِاللہِ وَبَرُسُلِہٖ ۔ (1:95)

سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’شیطان اس بات کو ترک نہیں کرے گا کہ وہ کسی شخص کے پاس آکر ہ کہے: آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ تو آدمی جواب دے گا : اللہ تعالیٰ نے ‘ وہ دریافت کرے گا : اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ‘‘ (نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں : ) جب کسی شخص کو اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑے ‘ تو وہیہ کہے : میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← کَثِیرُ بْنُ عُبَیْدٍ الْمَذْحِجِیُّ ← الْعَبَّاسُ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ حَسَّانَ السَّانَ السَّامِیُّ بِالْبَصْرَۃِ

Hadith 150

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاِیْمَانِ ‹ بَابُ فَضْلِ الْاِیمَانِ · حديث 151

اَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ حَدَّ ثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ا لْحَوْضِیُّ حَدَّ ثَنَا مُحَرَّرُ بْنُ قَعْنَبِ الْبَاھلِیُّ حَدَّثَنَا ریَاحُ بْنُ عُبَیْدَۃَ عَنْ زَکْوَانَ السَّمَّانِ عَنْ جَابَرِ بْنِ عَبْدِ اللھِ قَالَ بّعّثّنِیْ رّسُوْلُ اللھِ صَلَّی اللھُ عَلَیْھِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: نَادِفِی النَّاسِ مَنْ قَالَ:لَااِلٰھَ اِلَّا اللھُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ فَخَرَجَ فَلَقِیَھٗ عُمَرُ فِی الطَّرِیْقِ فَقَالَ:اَیْنَ تُرِیْدُ ؟ قُلْتُ:بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللھِ صَلَّی اللھُ عَلَیْھِ وَسَلَّمَ بِکَزَا وَکَزَا قَالَ:ارْجِعْ ٗ فَاَبَیْتُ فَلَھَزَنِیْ لَھْزَۃً فِیْ صَدْرِیْ اَلَمُھَا فَرَ جَعْتُ وَلَمْ اَجِدْ بُدَّاقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللھِ بَعَثْتُ ھٰذَا بِکَزَا وَکَزَا قَالَ:نَعَمْ قَالَ :یَا رَسُوْلَ اللھِ اِنَّ النَّاسَ قَدْطَمِعُوا وَخَشُوا فَقَالَ صَلَّی اللھُ عَلَیْھِ وَسَلَّمَ:اقعد۔(3:36)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:نبی اکرم ﷺنے مجھےبھیجتے ہوے یہ ارشاد فرمایا: ْلو گوں میں یہ اعلان کر دو کہ جو شخص یہ عتراف کرے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے‘وہ جنت میں داخل ہوگا‘‘۔ ٍٍٍ حضرت جابرؑ وہاں سے نکلے‘راستے میں حضرت عمرؑ کی ان سے ملاقات ہوئی‘توانہوں نے دریافت کیا : تم کہا ں جا رہے ہو؟ میں نے جواب دیا : مجھے نبی اکرامﷺنے اس پیغام کے ہمرا بھیجا ہے۔ تو حضرت عمر ؑ نے کہا :تم واپس جاؤ!میں نے ان کی یہ بات نہیں مانی ‘ تو انہوں نے میرے سینے پر ہاتھ مارا ‘جس کی تکلیف میں نے محسوس کی۔ میں واپس آگیا میرے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ حضرت عمر ؑنے عرض کی : یارسول اللہ!کیا آپ نے اسے اس ‘اس’’ پیغام ‘‘ کے ہمرا بھیجا ہے ؟ نبی اکرم نے جواب دیا : جی ہاں۔ حضرت عمرؑ نےعرض کی: یا رسول اللہ! یہ خوشخبری سن کر (لوگ) جنت کی امید رکھیں گے۔ تو نبی اکرم نے (حضرت جابر) سے فرمایا :تم بیٹھ جاؤ۔

بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← زَکْوَانَ السَّمَّانِ ← رِيَاحُ بْنُ عَبِيْدَةَ ← مُحَرَّرُ بْنُ قَعْنَبِ الْبَاھلِیُّ ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ا لْحَوْضِیُّ حَدَّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِیُّ حَدَّ

Hadith 151

chevron_left Previous
1234…12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr