Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2880

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ قَالَ: حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بْنُ حَرْبٍ عَنِ الزُّبَيْدِيِّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عبد الله أن بن عَبَّاسٍ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ فَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا مَعَهُ ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْهُمْ ثم سجد وَسَجَدُوا ، ثُمَّ قَامَ اِلَی الرَّکَعَۃِ الثَانِیَۃِ ، فَتَاَخَّرَ الَّذِیْنَ سَجَدُوا مَعَہٗ یَحْرُسُونَ اِخْوَانَھُمْ ، وَاَتَتِ الطَّائِفَۃُ الْاُخْریٰ ، فَرَکَعُوْا مَعَ نَبِیِّ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَسَجَدُوا ، وَالنَّاسُ کُلُّھُمْ فِیْ صَلَاۃٍ یُکَبِّرُوْنَ وَلٰکِنْ یَّحْرُسُ بَعْضُھُمْ بَعْضًا

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے آپﷺ کےہمراہ لوگ بھی کھڑے ہوئے آپﷺ نے تکبیر کہی آپﷺ کے ساتھ لوگوں نے بھی تکبیر کہی پھر آپﷺ رکوع میں چلے گئے آپﷺ کے ساتھ ان میں سے کچھ لوگ رکوع میں چلے گئے پھر آپﷺ سجدے میں گئے‘ تو وہ لوگ بھی سجدے میں چلے گئے پھر آپﷺ دوسری رکعت کےلئے کھڑے ہوئے‘ تو وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے‘ جنہوں نے آپﷺ کے ہمراہ سجدہ کیا تھا وہ اپنے بھائیوں کی حفاظت کرنے لگے دوسرا گروہ آگیا ان لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے ہمراہ رکوع کیا‘ تو ان سب لوگوں نے نماز ادا کی وہ تکبیر بھی کہتے رہے اور ایک دوسرے کی حفاظت بھی کرتے رہے۔

عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عبد الله أن بن عَبَّاسٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← الزُّبَيْدِيِّ، ← بن حَرْب ← كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Hadith 2880

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2881

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عن أشعث عن الحسين عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفَّهُمْ صَفَّيْنِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ ثُمَّ سَلَّمَ وَتَأَخَّرُوا وَتَقَدَّمَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَکْعَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَکَانَتْ لِرَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَلِلْمُسْلِمِیْنَ رَکْعَتَیْنِ رَکْعَتِیْنِ

حضرت ابوبکرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے لوگوں کی دو صفیں بنا دیں جو صف آپﷺ کے پاس موجود تھی آپﷺ نے انہیں دو رکعات پڑھائیں پھر انہوں نے سلام پھیر دیا وہ پیچھے ہٹ کیا‘ اور دوسرے لوگ آگے آگئے نبی اکرمﷺ نے انہیں بھی دو رکعات پڑھائیں‘ پھر انہوں نے بھی سلام پھیر دیا‘ تو یوں نبی اکرمﷺ کی چار رکعات ہوئیں اور ان مسلمانوں نے دو‘ دو رکعات ادا کیں۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الحسين ← أَشْعَثَ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2881

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2882

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ إِقْصَارِ الصَّلَاةِ فِي الْخَوْفِ أَيْنَ أُنْزِلَ وَأَيْنَ هُوَ؟ فَقَالَ: خَرَجْنَا نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ أَتَتْ مِنَ الشَّامِ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِنَخْلٍ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَيْفُهُ مَوْصُوْعٌ ، فَقَالَ: اَنْتَ مُحَمَّدٌ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اَمَا تَخَافُنِی؟ قَالَ: لَا ، قَالَ : فَمَنْ یَّمْنَعُکَ مِنِّی ؟ ، قَالَ: اللہُ یَمْنَعُنِیْ مِنْکَ ، قَالَ: فَسَلَّ سَیْفَہٗ ، وَتَھَدَّدَہُ الْقَوْمُ وَاَوْعَدُوہُ ، فَاَمَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، النَّاسَ بِالرَّحِیْلِ وَبِاَخْذِ السِّلَاحِ ، ثُمَّ نَادیٰ بِالصَّلَاۃِ ، فَصَلَّتْ طَائِفَۃٌ خَلْفَہٗ ، وَطَائِفَۃٌ تَحْرُسُ مُقْبِلَیْنَ عَلَی الْعَدُوِّ ، فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالطَّائِفَۃِ الَّتِیْ مَعَہٗ رَکْعَتَیْنِ ، وَاَقْبَلَتِ الطَّائِفَۃُ الْاُخْریٰ فَقَامَتْ فِیْ مَصَافِّ الَّذِیْنَ صَلَّوْا مَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَحَرَسَتِ الطَّائِفَۃُ الَّذِیْنَ صَلَّوْا مَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَھُمْ مُقْبِلُوْنَ عَلَی الْعِدْوِّ ، فَصَلّٰی بِھِمْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، رَکْعَتَیْنِ ، فَصَارِ لِرَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَرْبَعًا وَلِاَصْحَابِہٖ رَکْعَتَیْنِ

سلیمان یشکری کےبارے میں منقول ہے انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہؓ سے خوف کے عالم میں نماز مختصر ادا کرنے کےبارے میں دریافت کیا: اس کا حکم کہاں نازل ہوا تھا اور یہ صورت حال کہاں درپیش آئی تھی‘ تو انہوں نے بتایا: ہم لوگ قریش کے ایک قافلے کا پیچھا کرتے ہوئے نکلے جو شام جا رہا تھا جب ہم نخل کے مقام پر پہنچے‘ تو ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے تلوار رکھی ہوئی تھی اس نے کہا: کیا آپﷺ محمدﷺ ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے دریافت کیا: کیا آپﷺ مجھ سے ڈرتے نہیں ہیں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی نہیں اس نے دریافت کیا: آپﷺ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا۔ راوی کہتے ہیں: اس شخص نے اپنی تلوار کھینچ لی لوگوں نے اسے ڈانٹا اور اسے جھڑکا‘ نبی اکرمﷺ نے لوگوں کو وہاں سے روانگی کا اور اسلحہ اختیار کرنے کا حکم دیا‘ پھر نماز کےلئے اذان دی گئی۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے پیچھے موجود گروہ کو نماز پڑھائی اور ایک گروہ دشمن کی طرف رُخ کر کے حفاظت کرتا رہا نبی اکرمﷺ نے اپنے ساتھ والے گروہ کو دو رکعات پڑھائیں پھر دوسرا گروہ آکر اس جگہ کھڑا ہو گیا‘ جہاں وہ لوگ کھڑے تھے‘ جنہوں نے نبی اکرمﷺ کےہمراہ نماز ادا کی تھی وہ دشمن کی طرف رُخ کر کے حفاظت کے فرائض سرانجام دینے لگے۔ نبی اکرمﷺ نے ان لوگوں کو بھی دو رکعات پڑھائیں‘ تو یوں نبی اکرمﷺ کی چار رکعات ہو گئیں اور آپﷺ کے ساتھیوں نے دو رکعات ادا کیں۔

سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2882

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2883

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ خَصَفَةَ بنخل فرأوا من المسلمين غرة فجاءه رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ عَوْفُ بْنُ الْحَارِثِ أَوْ غَوْرَثُ1 بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: "اللَّهُ" قَالَ: فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّيْفَ فَقَالَ لَهُ: "مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ " قَالَ: كُنَّ خَيْرًا مِنِّي2 قَالَ: "تَشَهَّدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ " قَالَ: لَا وَلَكِنْ أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ وَلَا أَكُونَ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ قَالَ: فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَجَاءَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ فَلَمَّا كَانَ عند الظهر أو العصر شكك أو عَوَانَةَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ: فَكَانَ النَّاسُ طَائِفَتَيْنِ طَائِفَةً بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ وَطَائِفَةً يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوا فَكَانُوا مَكَانَ أُولَئِكَ وجاء أولئك فصلوا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، رَکْعَتَیْنِ ، فَکَانَ لِرَسُوْلِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَرْبَعُ رَکَعَاتٍ وَلِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتےہیں: نبی اکرمﷺ نےنخل کےمقام پر موجود ’’ محراب حصفہ ‘‘ میں لڑائی کی ان لوگوں نے مسلمانوں کو غافل دیکھا تو ان کا ایک شخص آیا جس کا نام عوف بن حارث یا شاید غورث بن حارث تھا وہ تلوار لے کر نبی اکرمﷺکےسرہانے آکر کھڑا ہو گیا‘اور دریافت کیا: آپﷺ کو مجھ سے کون بچائے گا؟ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ۔راوی کہتے ہیں: اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اس نے کہا: جی نہیں میں آپﷺ کے ساتھ یہ عہد کرتا ہوں میں آپﷺ کےساتھ جنگ نہیں کروں گا اور نہ ہی اس قوم کے ساتھ رہوں گا‘ جو آپﷺ کے ساتھ جنگ کرے گی۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے اسے چھوڑ دیا وہ اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور بولا: میں سب سے بہتر شخص سے تمہارے پاس آیا ہوں جب ظہر یا شاید عصر کا وقت ہوا‘ یہ شک ابوعوانہ نامی راوی کو ہے‘ تو نبی اکرمﷺ نے نماز خوف کاحکم دیا راوی بیان کرتے ہیں: لوگوں کے دو گروہ بن گئے ایک گروہ دشمن کےمدمقابل ہو گیا‘ اور ایک گروہ نبی اکرمﷺ کےساتھ نماز ادا کرنے لگا۔ نبی اکرمﷺ نے اپنے ساتھ والے گروہ کو دو رکعات پڑھائیں پھر ان لوگوں نےنماز ختم کر دی اور وہ ان لوگوں کی جگہ پر آگئے اور وہ لوگ آکر نبی اکرمﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کرنے لگے ۔ انہوں نے دو رکعات ادا کیں یوں نبی اکرمﷺ کی چار رکعات ہوئیں اور ان لوگوں کی دو رکعات ہوئیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سليمان بن قيس ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2883

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2884

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذْ كُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ نُودِيَ: الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَأَخَّرُوا وَصَلَّى بِالطَّائِفَةِ الْأُخْرَى رَكْعَتَيْنِ فَكَانَتْ لِرَسُولِ الله صلى الله عليه وسلم أربع ركعات وللقوم ركعتان1. [34:5]

حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرمﷺ کے ہمراہ آئے یہاں تک کہ جب ہم ذات الرقاع کےمقام پر پہنچے تو اعلان کیا گیا‘ باجماعت نماز ہونے لگی ہے‘ پھر نبی اکرمﷺ نے ایک گروہ کو دو رکعات پڑھائیں‘ پھر وہ پیچھے ہٹ گئے آپﷺ نے دوسرے گروہ کو دو رکعات پڑھائیں‘ تو نبی اکرمﷺ کی چار رکعات ہوئیں اور ان لوگوں کی دو رکعات ہوئیں۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ← عَفَّانُ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2884

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2885

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَمَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ قَالَ: فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ: تَقُومُ طَائِفَةٌ وَرَاءَ الْإِمَامِ وَطَائِفَةٌ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يَقْضُوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَتَحَوَّلُونَ إِلَى مَكَانِ أَصْحَابِهِمْ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ أَصْحَابُهُمْ إِلَى مَكَانِ هَؤُلَاءِ فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يُصَلُّوا رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ یُسَلِّمُ ۔

حضرت سہل بن ابو حثمہؓ نماز خوف کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ایک گروہ امام کے سامنے کھڑا ہو گا دوسرا گروہ امام کے پیچھے کھڑا ہو گا امام اس گروہ کو ایک رکعت اور دو سجدے پڑھائے گا‘ جو اس کے پیچھے کھڑا ہے‘ پھر وہ اپنی جگہ پر بیٹھے رہے گا‘ یہاں تک کہ وہ لوگ ( دوسری رکعت کا ) ایک رکوع اور دو سجدے ادا کر لیں گے‘ پھر وہ لوگ اپنے ساتھیوں کی جگہ پر چلیں جائیں گے اور ان کے ساتھی اس جگہ پر آجائیں گے امام انہیں ایک رکوع اور دو سجدے پڑھائے گا امام اپنی جگہ بیٹھا رہے گا‘ یہاں تک کہ وہ لوگ بھی ایک رکوع اور دو سجدے ادا کر لیں گے تو امام سلام پھیر دے گا۔

سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّهُ ← صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← شُعْبَةَ، وَمَالِكٌ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2885

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2886

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، فِي عَقِبِهِ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، [ص:142] عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا

یہی روایت امام ابن خزیمہ نے اپنی سند کے ساتھ حضرت سہل بن ابوحثمہؓ کے حوالے سے نبی اکرمﷺ سے اسی کی ماند نقل کی ہے۔

النَّبِيِّ مِثْلَ هَذَا ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ، [ص:142] ← الْقَاسِمِ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← شُعْبَةُ، ← رَوْحٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ فِي عَقِبِهِ،

Hadith 2886

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2887

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم في صلاة الخوف: "يقوم إمام وَطَائِفَةٌ مِنَ النَّاسِ مَعَهُ فَيَسْجُدُونَ 1 سَجْدَةً وَاحِدَةً وَتَكُونُ طَائِفَةٌ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ ثُمَّ يَنْصَرِفُ الَّذِينَ سَجَدُوا سَجْدَةً مَعَ الْإِمَامِ وَيَكُونَونَ مَكَانَ الَّذِينَ لَمْ يُصَلُّوا وَيَجِيءُ أُولَئِكَ فَيُصَلُّونَ 2 مَعَ إِمَامِهِمْ سَجْدَةً وَاحِدَةً ثُمَّ يَنْصَرِفُ إِمَامُهُمْ فَيُصَلِّي كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ بِصَلَاتِهِ سَجْدَةً وَاحِدَةً فَإِنْ كَانَ خَوْفًا أَشَدَّ مِنْ ذَلِكَ فَرِجَالًا أو ركبانا" 3. [34:5]

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے نماز خوف کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ‘ امام کھڑا ہو گا۔ اس کےہمراہ ایک گروہ کھڑا ہو گا وہ لوگ بھی ایک رکعت ادا کر لیں گے اور دوسرا گروہ ان کے اور دشمن کےدرمیان رہے گا پھر وہ لوگ واپس چلے جائیں گے جنہوں نے امام کے ہمراہ ایک رکعت ادا کی اور ان لوگوں کی جگہ چلے جائیں گے جنہوں نے نماز ادا نہیں کی پھر وہ لوگ آئیں گے اور امام کے ہمراہ ایک رکعت ادا کریں گے پھر امام اپنی نماز ختم کر دے گا۔ دونوں گروہوں میں سے ہر ایک گروہ الگ سے ایک رکعت ادا کرے گا اگر خوف اس سے زیادہ شدید ہو‘ تو پیادہ یا سواری کی حالت میں نماز ادا کر لی جائے گی۔

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Hadith 2887

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2888

أَخْبَرَنَا بن خُزَيْمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عبد الرحيم البرقي قال: حدثنا بن أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ قَالَ: حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَائِفَةٌ مِنْ خَلْفِهِ وَطَائِفَةٌ مِنْ وَرَاءِ الَّتِي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُعُودٌ وَوُجُوهُهُمْ كُلُّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَتَانِ فَرَكَعَ وَرَكَعَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي خَلْفَهُ وَالْأُخْرَى قُعُودٌ ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا أَيْضًا والآخرون قعود ثم قام فقاموا ونكسوا خَلْفَهُمْ حَتَّى كَانُوا مَكَانَ أَصْحَابِهِمْ قُعُودًا وَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَیْنِ وَالْاٰخَرُوْنَ قُعُوْدٌ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَقَامَتِ الطَّائِفَتَانِ کِلْتَاھُمَا ، فَصَلُّوْا لِاَنْفُسِھِمْ رَکْعَۃً وَسَجْدَتَیْنِ

حضرت جابر بن عبداللہؓ نبی اکرمﷺ کے حوالے سے نماز خوف کے بارے میں یہ نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے ایک گروہ آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا اور ایک گروہ ان کے پیچھے کھڑا ہو گیا جو نبی اکرمﷺ کےپیچھے کھڑے تھے وہ لوگو بیٹھے ہوئے تھے۔ ان سب کے چہرے نبی اکرمﷺ کی طرف تھے۔ آپ نے تکبیر کہی۔ ان دونوں گروہوں نے تکبیر کہی۔ نبی اکرمﷺ نے رکوع کیا۔ آپ کے پیچھے والے گروہ نے بھی رکوع کیا‘ اور دوسرے لوگ بیٹھے رہے پھر نبی اکرمﷺ نے سجدہ کیا تو ان لوگوں نے سجدہ کیا‘ اور دوسرے لوگ بیٹھے رہے نبی اکرمﷺ کھڑے ہوئے وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے اور وہ پیچھے ہٹتے ہوئے ان لوگوں کی جگہ پر آگئے جہاں ان کے ساتھی بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر دوسرا گروہ آگیا تو نبی اکرمﷺ نےان لوگوں کو بھی ایک رکوع اور دو سجدے پڑھائے اور دوسرے لوگ بیٹھے رہے پھر نبی اکرمﷺ نے سلام پھیرا تو دونوں گروہ کھڑے ہوئے انہوں نے انفرادی طور پر ایک رکعت ادا کی۔ ( امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں:) ان روایات میں کوئی تضاد اوراختلاف نہیں پایا جاتا بلکہ نبی اکرمﷺ نے نماز خوف مختلف مواقع پر مختلف طریقوں سے کئی مرتبہ ادا کی تھی۔ جا کا ذکر ہم نے کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ کا اس سے ارادہ یہ تھا کہ آپ اپنی امت کو نماز خوف کےطریقے کی تعلیم دیں۔ کیونکہ ان کےلئے یہ بات مباح ہےکہ وہ ان نو طریقوں میں سے کسی بھی طریقے کے مطابق نماز ادا کر سکتے ہیں۔ جس طرح نبی اکرمﷺ نے خوف کے عالم میں نماز ادا کی تھی۔ یعنی صورتحال کے مطابق جو بھی طریقہ مناسب ہو۔ آدمی کےلیے یہ بات مباح ہے ۔ کہ وہ خوف کے عالم میں ان طریقوں میں جس طریقے کے مطابق چاہے نماز ادا کرے ۔ جب طریقوں کا ہم نے ذکر کیا ہے۔ یہ مباح اختلاف کی قسم سے تعلق رکھتے ہیں ان روایات میں کوئی تضاد یا کوئی اختلاف نہیں ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← شُرَحْبِيلُ أَبُو سَعْدٍ ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2888

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2889

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ قَالَ: حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّ أَبَا عَمْرٍو حَدَّثَنَا بِحَدِيثٍ حَدَّثَنَا بِهِ شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سلمة عَنْ جَابِرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ وَذَلِكَ بَعْدَمَا أَفْطَرَ الصَّائِمُ قَالَ: "وَاللَّهِ مَا صَلَّيْنَاهَا بَعْدُ" قَالَ: فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ وَأَنَا مَعَهُ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَمَا غَرَبَتِ الشمس وبعدما أفطر الصائم1. [34:5]

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں غزوہ خندق کے موقع پر حضرت عمر بن خطابؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ﷺ)! میں ابھی تک عصر کی نماز ادا نہیں کر سکا‘ یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ یہ اس کےبعد کی بات ہے جب روزہ دار افطاری کر لیتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! ہم بھی ابھی تک یہ نماز ادا نہیں کر سکے پھر نبی اکرمﷺ بطحان کے مقام پر رکے میں آپ کے ساتھ تھا۔ آپﷺ نے وضو کیا‘ اور سورج غروب ہو جانے کے بعد اور اس کے بعد جب روزہ دار افطار کر لیتا ہے‘ عصر کی نماز ادا کی۔

جَابِرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ لَيْلَةَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← بِهِ شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَغَيْرُهُ ← بِحَدِيثٍ ← وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّ أَبَا عَمْرٍو ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Hadith 2889

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2890

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا بن أَبِي ذِئْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْمَقْبُرِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلَا {وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيّاً عَزِيزاً} [الأحزاب: 25] أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَصَلَّى كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ فَصَلَّاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى كَمَا كَانَ یُصَلِّیھَا فِیْ وَقْتِھَا

عبدالرحمٰن بن ابو سعید خدری اپنے والد ( حضرت ابو سعید خدریؓ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ غزرہ خندق کے موقع پر ہم ( لڑائی میں ) مصروف رہے‘ یہاں تک کہ مغرب کے بعد کا وقت ہو گیا یہ جنگ کے بارے میں حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ جب جنگ کے حوالے سے ہماری کفایت ہو گئی ( اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:) ’’ جنگ میں اللہ تعالیٰ مومنین کےلئے کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ طاقتور اور غالب ہے‘‘۔ ( مغرب ہو جانے کے بعد ) نبی اکرمﷺ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا‘ انہوں نے ظہر کےلئے اقامت کہی تو نبی اکرمﷺ نے یہ نماز اسی طرح ادا کی جس طرح آپ اسے اس کے وقت میں ادا کرتے تھے‘ پھر انہوں نے عصر کے لئے اقامت کہی تو نبی اکرمﷺ نےیہ نماز اسی طرح ادا کی جس طرح آپ اسے اس کے وقت میں ادا کرتے تھے‘ پھر انہوں نے مغرب کےلئے اقامت کہی تو نبی اکرمﷺ نے یہ نماز اسی طرح ادا کی جس طرح آپ اس کے وقت میں ادا کرتے تھے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 2890

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْخَوْفِ · حديث 2891

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ الْمَرْوَزِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ: "شَغَلُونَا عَنِ صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ یُصَلِّیھَا فِیْ وَقْتِھَا قَالَ: وَلَمْ یُصَلِّھَا یَوْمَنِذٍ حَتّٰی غَابَتِ الشَّمْسُ

حضرت حذیفہؓ بیان کرتے ہیں غزوہ خندق کےموقع پر میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز ادا کرنے نہیں دی۔ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرمﷺ وہ نماز اس دن سورج غروب ہونے تک ادا نہیں کر سکے تھے۔

وَلَمْ یُصَلِّھَا یَوْمَنِذٍ حَتّٰی غَابَتِ الشَّمْسُ ← صَلَاةِ الْعَصْرِ مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ یُصَلِّیھَا فِیْ وَقْتِھَا ← يَوْمَ الْخَنْدَقِ: "شَغَلُونَا ← رَسُولِ اللَّهِ ← حُذَيْفَةَ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ الْمَرْوَزِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2891

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr