صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4110
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: «أَصْنَعُ بِهَا مَاذَا» قَالَتْ تَنْكِحُهَا، قَالَ: «وَهَلْ تَحِلُّ لِي» قَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطِبُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ زَيْنَبَ تَحْرُمُ عَلَيَّ، وَإِنَّهَا فِي حِجْرِي، وَأَرْضَعَتْنِي وَإِيَّاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ، وَلَا عَمَّاتِكُنَّ، وَلَا خَالَاتِكُنَّ، وَلَا أُمَّهَاتِكُنَّ»
سیّدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیّدہ ام حبیبہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ درہ بنت ابو سفیان میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: میں اس کے ساتھ کیا کروں۔ سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: آپ اس کے ساتھ شادی کر لیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا وہ میرے لیے جائز ہےسیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اللہ کی قسم ! مجھے تو یہ پتہ چلا ہے آپ زینب بنت ام سلمہ کو نکاح کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: زینب میرے لیے حرام ہے وہ میری زیر پرورش ہے (یعنی میری سوتیلی بیٹی ہے) اور مجھے اور اسے ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے تم اپنی بیٹیوں اپنی بہنوں اپنی پھوپھیوں اپنی خالاؤں اور اپنی ماؤں کے رشتے میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔
أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا ← زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4110
