Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4110

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي دُرَّةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: «أَصْنَعُ بِهَا مَاذَا» قَالَتْ تَنْكِحُهَا، قَالَ: «وَهَلْ تَحِلُّ لِي» قَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطِبُ زَيْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ زَيْنَبَ تَحْرُمُ عَلَيَّ، وَإِنَّهَا فِي حِجْرِي، وَأَرْضَعَتْنِي وَإِيَّاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ، وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ، وَلَا عَمَّاتِكُنَّ، وَلَا خَالَاتِكُنَّ، وَلَا أُمَّهَاتِكُنَّ»

سیّدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیّدہ ام حبیبہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتی ہیں: انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ درہ بنت ابو سفیان میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: میں اس کے ساتھ کیا کروں۔ سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: آپ اس کے ساتھ شادی کر لیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا وہ میرے لیے جائز ہےسیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اللہ کی قسم ! مجھے تو یہ پتہ چلا ہے آپ زینب بنت ام سلمہ کو نکاح کا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: زینب میرے لیے حرام ہے وہ میری زیر پرورش ہے (یعنی میری سوتیلی بیٹی ہے) اور مجھے اور اسے ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے تم اپنی بیٹیوں اپنی بہنوں اپنی پھوپھیوں اپنی خالاؤں اور اپنی ماؤں کے رشتے میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔

أُمِّ حَبِيبَةَ أَنَّهَا ← زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← دَاوُدُ بْنُ شَبِيبٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4110

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4111

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ انْكِحْ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ - لِأُخْتِهَا - فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَتُحِبِّينَ ذَلِكَ» قَالَتْ: نَعَمْ وَأَحَبُّ مَنْ يُشَارِكُنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَإِنَّ ذَلِكَ لَا يَحِلُّ» قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حُدِّثْنَا أَنَّكَ تُنْكِحُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: «ابْنَةُ أَبِي سَلَمَةَ ?» فَقَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: نَعَمْ، قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي، مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةَ، أَرْضَعَتْنِي وَأَبَا سَلَمَةَ: ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ»

سیّدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ابوسفیان کی صاحب زادی سے شادی کر لیجئے انہوں نے اپنی بہن کے بارے میں یہ بات کہی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں میں یہ چاہتی ہوں اس بھلائی میں میری بہن بھی میرے ساتھ شریک ہو۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ جائز نہیں ہے۔ سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! اللہ کی قسم ! ہمیں، تو یہ بات بتائی گئی ہے، آپ ابو سلمہ کی صاحب زادی درہ کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: ابو سلمہ کی بیٹی کے ساتھ؟ سیّدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: اگر وہ میری سوتیلی بیٹی نہ ہو تی پھر بھی میرے لیے حلال نہ ہوتی ، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے مجھے اور ابو سلمہ کو ثوبیہ نے دودھ پلایا ہے، تم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے رشتے میرے سامنے پیش نہ کرو۔

زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ ← ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4111

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4112

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: لَقِيتُ خَالِي أَبَا بُرْدَةَ، وَمَعَهُ الرَّايَةُ، فَقُلْتُ: إِلَى أَيْنَ فَقَالَ: «أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، أَنْ أَقْتُلَهُ، أَوْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ»

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات اپنے ماموں حضرت ابو بر دہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ان کے ساتھ ایک جھنڈا بھی تھا میں نے دریافت کیا: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ انہوں نے بتایا: مجھے نبی اکرم ﷺ نے ایک ایسے شخص کی طرف بھیجا ہے، جس نے اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ شادی کر لی تھی ( اور یہ حکم دیا ہے ) میں اس کوقتل کر دوں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) میں اس کی گردن اڑا دوں۔

لَقِيتُ خَالِي أَبَا بُرْدَةَ، وَمَعَهُ الرَّايَةُ، فَقُلْتُ: إِلَى أَيْنَ ← الْبَرَاءِ، ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← السُّدِّيِّ ← الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4112

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4113

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "عورت اور اس کی پھوپھی اور عورت اور اس کی خالہ کو (نکاح میں )جمع نہ کیا جائے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4113

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4114

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کارم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے، کسی عورت کے ساتھ اس کی پھو پھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح کیا جائے (یعنی اپنی بیوی کی بھانجی یا بھتیجی کے ساتھ نکاح کیا جائے)

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، أَوْ عَلَى خَالَتِهَا» ← جَابِرًا ← عَامِرٍ، ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4114

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4115

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُجْمَعُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا، وَلَا بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فر مان نقل کرتے ہیں: "عورت اور اس کی پھوپھی کو یا عورت اور اس کی خالہ کو (نکاح میں ) جمع نہ کیا جائے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4115

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4116

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيًّ بِبَغْدَادَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ: قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ عَنْ أَبِي حَرِيزٍ أَنَّ عِكْرِمَةَ حَدَّثَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُزَوَّجَ الْمَرْأَةُ عَلَى الْعَمَّةِ، وَالْخَالَةِ، قَالَ: إِنَّكُنَّ إِذَا فَعَلْتُنَّ ذَلِكَ قَطَعْتُنَّ أَرْحَامَكُنَّ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «أَبُو حَرِيزٍ: اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ قَاضِي سِجِسْتَانَ، وَأَبُو حَرِيزٍ مَوْلَى الزُّهْرِيِّ ضَعِيفٌ وَاهِيٌ، اسْمُهُ سُلَيْمُ وَجَمِيعًا يَرْوِيَانِ عَنِ الزُّهْرِيِّ»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے، کسی عورت کے ساتھ اس کی پھو پھی یا خالہ پر نکاح کیا جائے (یعنی اپنی بیوی کی بھانجی یا بھتیجی کے ساتھ شادی کی جائے )۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے: تم خواتین جب ایسا کرو گی ، تو تم رشتے دار کے حقوق کو پامال کرنے کی مرتکب ہو گی۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتےہیں: ) ابو حریز نامی راوی کا نام عبداللہ بن حسین ہے یہ سجستان کا قاضی تھا جب کہ جوابو حریز، زہری کا آزاد کردہ غلام ہے یہ ضعیف اور واہی ہے اس کا نام سلیم ہے ان دونوں نے زہری کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔

أَبِي حَرِيزٍ، ← عَلَى الْفُضَيْلِ، ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4116

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4117

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر اور کسی پھوپھی کے ساتھ اس کی بھتیجی پر نکاح نہ کیا جائے کسی عورت کے ساتھ اس کی خالہ پر اور کسی خالہ کے ساتھ اس کی بھانجی پر نکاح نہ کیا جائے (یعنی نکاح میں پھوپھی اور بھتیجی یا خالہ اور بھانجی کو جمع نہ کیا جائے)"۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَأَبُو مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4117

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4118

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، [ص:428] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَعَلَى خَالَتِهَا، وَعَلَى بِنْتِ أَخِيهَا، وَعَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا، وَنَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى، وَالصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے، کسی عورت کے ساتھ اس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر یا اس کی بھتیجی پر یا اس کی بھانجی پر نکاح کیا جائے۔ نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے بھی منع کیا ہے، چھوٹی (بہن ) پر بڑی کے ساتھ یا بڑی پر چھوٹی کے ساتھ نکاح کیا جائے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الشَّعْبِيِّ، [ص:124] ← دَاوُدُ، ← هُشَيْمٌ ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَاسِطِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4118

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4119

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، أَتَرْجِعُ إِلَى زَوْجِهَا الْأَوَّلِ قَالَ: «لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا مَا ذَاقَ صَاحِبُهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عُمُومُ الْخَطَّابِ فِي الْكِتَابِ «{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا [ص:429] تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] وَأَبَاحَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا لِلزَّوْجِ الْأَوَّلِ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِهَا بَعْدَ أَنْ تَزَوَّجَهَا زَوْجٌ آخَرَ، وَفَسَّرَتْهُ السُّنَّةُ: أَنَّهَا لَا تَحِلُّ لِلزَّوْجِ الْأَوَّلِ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الزَّوْجِ الثَّانِي وَطْءٌ بِذَوَاقِ الْعُسَيْلَةِ، ثُمَّ تَبِينُ عَنْهُ بِطَلَاقٍ أَوْ وَفَاةٍ، ثُمَّ تَحِلُّ حِينَئِذٍ لِلزَّوْجِ الْأَوَّلِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو اپنی بیوی کو طلاق بتہ دے دیتا ہے پھر وہ عورت کسی اور شخص کے ساتھ شادی کر تی ہے اور وہ دوسرا شخص اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دیتا ہے ، تو کیا وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے پاس واپس جا سکتی ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں جب تک (وہ دوسرا شوہر ) اس عورت کا شہد نہیں چکھ لیتا جو اس کے پہلے شوہر نے چکھا تھا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) کتاب اللہ میں یہ حکم عمومی طور پر بیان ہوا ہے۔ "اگر وہ مرد اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے ، تو وہ عورت اس مرد کیلئے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ اس کے بعد کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی نہ کر لے"۔ تو اللہ تعالیٰ نے پہلے شوہر کیلئے یہ بات جائز قرار دی ہے، وہ اس عورت کے ساتھ اس وقت شادی کر سکتا ہے ، جب عورت کسی دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لے، لیکن سنت نے اس کی وضاحت کی ہے، ایسی عورت پہلے شوہر کیلئے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک اس عورت اور دوسرے شوہر کے درمیان صحبت نہیں ہو جاتی جو شہد چکھنے کی صورت ہے پھر اس کے بعد و ہ عورت طلاق یا شوہر کے انتقال کی وجہ سے اس سے جدا ہو جائے تو اس وقت وہ پہلے شوہر کیلئے حلال ہو گی۔

سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4119

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4120

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، ثُمَّ أَرَادَ الْأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، قَالَ: «لَا حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَهَا، وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «قَالَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا {فَإِنَّ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] فَأَبَاحَ اللَّهُ لَهَا أَنْ تَنْكِحَ الزَّوْجَ الْأَوَّلَ بَعْدَ أَنْ نَكَحَهَا الزَّوْجُ الثَّانِي، وَأَبَانَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَادَ اللَّهِ [ص:430] جَلَّ وَعَلَا مِنْ قَوْلِهِ {حَتَّى تَنْكَحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] إِذْ هُوَ الْمُبَيُّنُ لِمَجْمَلِ الْخَطَّابِ فِي الْكِتَابِ، إِذِ الْمُرَادُ مِنْ قَوْلِهِ {حَتَّى تَنْكَحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230] الْوَطْءُ دُونَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ایسے شخص کے بارے میں ، جو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، پھر وہ عورت دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لیتی ہے اور وہ دوسرا شخص صحبت کرنے سے پہلے اس عورت کو طلاق دے دیتا ہے اور پہلا شوہر اس عورت کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے: نہیں جب تک دوسرا شوہر اس عورت کے شہد کو چکھ نہیں لیتا اوروہ عورت اس دوسرے شخص کے شہد کو چکھ نہیں لیتی (اس وقت تک یہ جائز نہیں ہے ) (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :) اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ " اگر وہ مرد اس عورت کو طلاق دیدے تو وہ عورت اس مرد کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ اس مرد کے علاوہ کسی اور مرد کے ساتھ شادی نہ کر لے"۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ نے عورت کیلئے یہ بات مباح قرار دی ہے، وہ پہلے شوہر کے ساتھ اس وقت نکاح کر سکتی ہے، جب وہ دوسرے شوہر کے ساتھ بھی نکاح کر چکی ہو، لیکن مصطفیٰ کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی مراد کو بیان کیا ہے (ارشاد بار ی تعالی ٰ ہے) " یہاں تک کہ وہ عورت دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لے جو پہلے کے علاوہ ہو"۔ تو کتاب میں مجمل کا بیان یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان " یہاں تک کہ وہ اس پہلے شوہر کے علاو کسی کے ساتھ نکاح نہیں کر لیتی، اس سے مراد نکاح کا عقد کرنا نہیں ، بلکہ صحبت کرنا ہے۔

أَبُو حَاتِمٍ ← «لَا حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَهَا، وَتَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ» ← عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4120

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4121

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ رِفَاعَةَ بْنَ سَمَوْأَلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَمِيمَةَ بِنْتَ وَهْبٍ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَلَاثًا، فَنَكَحَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَمَسَّهَا، فَفَارَقَهَا، فَأَرَادَ رِفَاعَةُ أَنْ يَنْكِحَهَا - وَهُوَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ الَّذِي كَانَ طَلَّقَهَا - فَذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَهَاهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا، وَقَالَ: «لَا تَحِلُّ لَكَ حَتَّى تَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ»

زبیر بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: حضرت رفاعہ بن سموال رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ تمیمہ بنت وہب کو نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں تین طلاق دے دیں، تو عبدالرحمٰن بن زبیر نے اس خاتو ن کے ساتھ شادی کر لی، لیکن وہ ان کے ساتھ صحبت نہیں کر سکے، تو انہوں نے اس عورت کے ساتھ علیحد گی اختیار کر لی۔ رفاعہ نے اس خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا یہ اس خاتون کے پہلے شوہر تھے، جنہوں نے پہلے اس طلاق دی تھی انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس خاتون کے ساتھ شادی کرنے سے منع کر دیا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ عورت تمہارے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی جب تک وہ (دوسرے شوہر کا ) شہد نہیں چکھ لیتی۔

المسور بن رفاعة القرظى. ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4121

chevron_left Previous
1…789…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr