Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الصَّدَاقِ · حديث 4098

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا [ص:408] مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضْ، فَقَالَ: لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، قَالَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ: «شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ»

مسروق بیان کرتے ہیں: حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی، لیکن اس نے اس کے ساتھ صحبت نہیں کی اور اس کے لیے مہر بھی مقرر نہیں کیا، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایسی عورت کو مکمل مہر ملے گا اور اس پر عدت گزارنا لازم ہے اسے وراثت میں بھی حصہ ملے گا اس پر حضرت معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتا ہوں کہ نبی اکرم ﷺ نے بروع بنت واشق کے بارے میں یہی فیصلہ دیا تھا۔

لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، ← عَبْدِ اللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضْ، ← مَسْرُوقٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← فِرَاسٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← [ص:408] مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The gate of friendship · Hadith 4098

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الصَّدَاقِ · حديث 4099

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ فِي عَقِبِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے۔

عَبْدِ اللَّهِ، بِمِثْلِهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ فِي عَقِبِهِ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The gate of friendship · Hadith 4099

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الصَّدَاقِ · حديث 4100

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ، فَسَأَلَهُ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، [ص:410] فَمَاتَ عَنْهَا، وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا، فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَرَدَّدَهُمْ شَهْرًا، ثُمَّ قَالَ: أَقُولُ بِرَأْيِي، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنْ قِبَلِي، أَرَى لَهَا صَدَاقَ نِسَائِهَا، لَا وَكْسَ، وَلَا شَطَطَ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، فَقَامَ فُلَانٌ الْأَشْجَعِيُّ، وَقَالَ: «قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ بِمِثْلِ» ذَلِكَ، قَالَ: فَفَرِحَ عَبْدُ اللَّهِ بِذَلِكَ، وَكَبَّرَ

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا: جو کسی عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے اور پھر اس شخص کا انتقال ہو جاتا ہے اس نے اس عورت کے ساتھ صحبت بھی نہیں کی اور اس کا مہر بھی مقرر نہیں کیا اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ایک مہینہ گزر گیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی میں اپنی رائے سے یہ بات بیان کرنے لگا ہوں یہ درست ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو گی اور اگر غلط ہوئی تو میری طرف سے ہو گی۔ اس عورت کے بارے میں میری رائے یہ ہے: اسے اس کے جیسی دوسری عورتوں جتنا مہر ملے گا، جس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہو گی اور اس عورت پر عدت گزارنا لازم ہو گا اور اس عورت کو وراثت میں سے حصہ ملے گا ، تو فلاں اشجعی کھڑی ہوئے انہوں نے یہ بات بیان کی: نبی اکرم ﷺ نے بروع بنت واشق کے بارے میں اسی کی مانند فیصلہ دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اس بات پر خوش ہوئے اور انہوں نے تکبیر کہی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← زَائِدَۃَ، ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The gate of friendship · Hadith 4100

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الصَّدَاقِ · حديث 4101

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حِجْرٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّ قَوْمًا أَتَوْا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالُوا: جِئْنَاكَ لِنَسْأَلَكَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ مِنَّا، وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا، وَلَمْ يَجْمَعْهُمَا اللَّهُ حَتَّى مَاتَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: مَا سُئِلْتُ عَنْ شَيْءٍ مُنْذُ فَارَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ هَذِهِ، فَأْتُوا غَيْرِي، فَاخْتَلَفُوا إِلَيْهِ [ص:411] شَهْرًا، ثُمَّ قَالُوا لَهُ فِي آخِرِ ذَلِكَ: مَنْ نَسْأَلُ إِنْ لَمْ نَسْأَلْكَ، وَأَنْتَ أُخَيَّةُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي هَذِهِ الْبَلْدَةِ، وَلَا نَجْدُ غَيْرَكَ، فَقَالَ: ابْنُ مَسْعُودٍ: سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي، إِنْ كَانَ صَوَابًا فَمِنَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ خَطَأً فَمِنِّي، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مِنْهُ بَرِيءٌ، أَرَى أَنْ يُفْرَضَ لَهَا كَصَدَاقِ نِسَائِهَا، وَلَا وَكْسَ، وَلَا شَطَطَ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَذَلِكَ بِحَضْرَةِ نَاسٍ مِنْ أَشْجَعَ، فَقَامَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ، فَقَالَ: «أَشْهَدُ أَنَّكَ قَضَيْتَ بِمِثْلِ الَّذِي قَضَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ مِنَّا، يُقَالُ لَهَا: بِرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ، فَمَا رُئِيَ عَبْدُ اللَّهِ فَرِحَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ كَفَرْحِهِ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ»

علقمہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : ہم آپ کے پاس ایسے شخص کے لوگ بارے میں دریافت کرنے کیلئے آئے ہیں جس کا تعلق ہم سے ہے اس نے شادی کی اس نے (اپنی بیوی کا ) مہر مقرر نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میاں بیوی کو ملنے کا موقع نہیں دیا، یہاں تک کہ مرد کا انتقا ل ہو گیا تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب سے میں نبی اکرم ﷺ سے جدا ہوا ہوں اس کے بعد مجھ سے ایسے کسی مسئلے کے بارے میں دریافت نہیں کیا گیا جو میرے نزدیک اس سے زیادہ مشکل ہو تم لوگ کسی اور کے پاس چلے جاؤ وہ لوگ ایک ماہ تک حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آتے رہے پھر ایک ماہ کے بعد انہوں نے حضرت عبداللہ سے کہا کہ اگر ہم آپ سے دریافت نہیں کریں گے تو پھر کس سے دریافت کریں گے؟ اس شہر میں صرف آپ ہی نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ہمیں آپ کے علاوہ اور کوئی نہیں ملتا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فر مایا: میں اس بارے میں اپنی ذاتی رائے کے مطابق مسئلہ بیان کروں گا اگر یہ درست ہوا تو اللہ کی طرف سے ہو گا اور اگر غلط ہوا تو میری طرف سے ہو گا اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ذمہ ہو ں گے میرا یہ خیال ہے، اس عورت کو اس کے جیسی دیگر عورتوں کی طرح کا مہر ادا کیا جائے گا، جس میں کوئی کمی اور کوئی اضافہ نہیں ہو گا اور اس کو وراثت میں حصہ ملے گا اور اس عورت پر چار ماہ دس دن تک عدت گزارنا لازم ہے (راوی کہتے ہیں) یہ واقعہ اشجع قبیلے کے کچھ افراد کی موجودگی میں پیش آیا، تو ایک صاحب کھڑے ہوئے ، جن کا نام معقل بن سنان اشجعی تھا انہوں نے کہا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اس بارے میں وہی فیصلہ دیا تھا جو ہمارے (قبیلے کی ) ایک خاتون کے بارے میں تھا اس خاتون کا نام بروع بنت واشق تھا۔ (راوی کہتے ہیں ) حضرت عبداللہ کو اسلام کے بعد اتنا زیادہ خوش اور کبھی نہیں دیکھا گیا جتنا وہ اس واقعہ سے خوش ہوئے ) کہ ان کی ذاتی رائے نبی کارم ﷺ کے فیصلے کے مطابق تھی )

عَلْقَمَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The gate of friendship · Hadith 4101

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ ثُبُوتِ النَّسَبِ وَمَا جَاءَ فِي الْقَائِفِ · حديث 4102

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَسَارِيرُ وَجْهِهِ تَبْرُقُ، فَقَالَ: «أَلَمْ تَرَيْ إِلَى مُجَزِّزٍ أَبْصَرَ آنِفًا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَقَالَ: إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ لِمَنْ بَعْضٍ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک خوشی سے دمک رہا تھا آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں پتہ چلا (ایک قیافہ شناس ) مجزز نے کچھ دیر پہلے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کے (صرف پاؤں دیکھے ) اور یہ کہا: یہ پاؤں باپ بیٹے کے ہیں۔

إِنَّ بَعْضَ هَذِهِ الْأَقْدَامِ لِمَنْ بَعْضٍ» ← «أَلَمْ تَرَيْ إِلَى مُجَزِّزٍ أَبْصَرَ آنِفًا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، ← دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ وَأَسَارِيرُ وَجْهِهِ تَبْرُقُ، ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← لَيْثٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter on Establishing Genealogies and What Comes in Al-Qa'if · Hadith 4102

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ ثُبُوتِ النَّسَبِ وَمَا جَاءَ فِي الْقَائِفِ · حديث 4103

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْرُورًا فَرِحًا مِمَّا قَالَ مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ، وَنَظَرَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مُضْطَجِعًا مَعَ أَبِيهِ، فَقَالَ: «هَذِهِ الْأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ، وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ خوشی کے عالم میں میرے ہاں تشریف لائے، کیونکہ مجز زمدلجی نے اسامہ بن زید کو اپنے والد کے ساتھ لپٹے ہوئے دیکھ کر ( ان کے صرف پاؤں دیکھ کر ) یہ کہا تھا: یہ باپ بیٹے کے پاؤں ہیں۔ (راوی کہتے ہیں) مجزز نامی صاحب قیافہ شنا س تھے۔

«هَذِهِ الْأَقْدَامُ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ، وَكَانَ مُجَزِّزٌ قَائِفًا» ← مُجَزِّزٌ الْمُدْلِجِيُّ، وَنَظَرَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ مُضْطَجِعًا مَعَ أَبِيهِ، ← دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ مَسْرُورًا فَرِحًا مِمَّا ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter on Establishing Genealogies and What Comes in Al-Qa'if · Hadith 4103

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ ثُبُوتِ النَّسَبِ وَمَا جَاءَ فِي الْقَائِفِ · حديث 4104

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ»

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " بچہ فراش والے کو ملے گا اور زنا کرنے والے کو محرومی ملے گی"۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي وَائِلٍ ← مُغِيرَةَ، ← جَرِيرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ الْمِصِّيصِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter on Establishing Genealogies and What Comes in Al-Qa'if · Hadith 4104

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ ثُبُوتِ النَّسَبِ وَمَا جَاءَ فِي الْقَائِفِ · حديث 4105

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةَ زَمْعَةٌ مِنِّي، فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ، أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَقَالَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةَ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخِي كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةَ، أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَةَ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ» ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ: «احْتَجِبِي مِنْهُ» لَمَّا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ، فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: عتبہ بن ابو وقاص نے اپنے بھائی حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ تلقین کی کہ زمعہ کی کنیز کا بیٹا میری اولاد ہے تم اسے اپنے قبضے میں لے لینا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: فتح مکہ کے سال حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اس لڑکے کو اپنے قبضے میں لے لیا اور بولے : یہ میرا بھتیجا ہے اس کے بارے میں میرے بھائی نے مجھ سے عہد لیا تھا تو عبد بن زمعہ کھڑے ہوئے اور بولے : یہ میرا بھائی ہے میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے یہ میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا۔ یہ دونوں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! میرے بھائی نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا جو اس بچے کے بارے میں تھا عبد بن زمعہ نے کیا: یہ میرا بھائی ہے اور میرے والد کی کنیز کا بیٹا ہے یہ میرے والد کے بستر پر پیدا ہوا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے عبد بن زمعہ یہ تمہیں ملے گا، کیونکہ بچہ فراش والے کو ملتا ہے اور زانی کو محرومی ملتی ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے سیّدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم اس لڑکے سے پر دہ کرو۔ اس کی وجہ یہ ہے: نبی اکرم ﷺ نے اس بچے کی عتبہ کے ساتھ مشابہت ملاحظہ کر لی تھی، تو اس لڑکے نے کبھی بھی سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا کونہیں دیکھا، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔

سَعْدٍ، ← أَخِي وَابْنُ وَلِيدَةَ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِهِ، فَأَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ ← ابْنُ أَخِي قَدْ كَانَ عَهِدَ إِلَيَّ فِيهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ ← فَلَمَّا كَانَ عَامُ الْفَتْحِ، أَخَذَهُ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، ← قَّاصٍ، أَنَّ ابْنَ وَلِيدَةَ زَمْعَةٌ مِنِّي، فَاقْبِضْهُ إِلَيْكَ، ← قَّاصٍ عَهِدَ إِلَى أَخِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي ← كَانَ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter on Establishing Genealogies and What Comes in Al-Qa'if · Hadith 4105

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ ثُبُوتِ النَّسَبِ وَمَا جَاءَ فِي الْقَائِفِ · حديث 4106

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَضَعَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَمَا أَلْوَانُهَا» قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: «هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ» قَالَ: إِنَّ فِيهَا وُرْقًا، قَالَ: «فَأَنَّى أَتَاهُ ذَلِكَ» قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، قَالَ: «وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں: بنو فزا رہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں حاضر ہو اس نے عرض کی: میری بیوی نے سیاہ رنگ کے لڑکے کو جنم دیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : ان کا رنگ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: سرخ۔ نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا: کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟ اس نے جواب دیا: ان میں ایک خاکستری بھی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: وہ کہاں سے آ گیا؟ اس نے جواب دیا: کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو گا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تو ہو سکتا ہے اسے بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو۔

«وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ» ← عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، ← «فَأَنَّى أَتَاهُ ذَلِكَ» ← إِنَّ فِيهَا وُرْقًا، ← «هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ» ← حمر ← «فَمَا أَلْوَانُهَا» ← نَعَمْ ← لَهُ النَّبِيُّ «هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ» ← إِنَّ امْرَأَتِي وَضَعَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، ← جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter on Establishing Genealogies and What Comes in Al-Qa'if · Hadith 4106

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ ثُبُوتِ النَّسَبِ وَمَا جَاءَ فِي الْقَائِفِ · حديث 4107

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، [ص:417] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَمَا أَلْوَانُهَا» قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: «فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقٍ» فَقَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: «فَأَنَّى تَرَاهُ ذَلِكَ» فَقَالَ: «عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ» حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مَرَّةً أُخْرَى، وَقَالَ: إِنَّ أَمَتِي وَلَدَتْ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ «ثُمَّ تَعْقِيبُهُ هَذِهِ اللَّفْظَةَ بِقَوْلِ: » فَمَا أَلْوَانُهَا «لَفْظَةُ اسْتِخْبَارِ عَنْ هَذَا الشَّيْءِ مُرَادُهَا الزَّجْرُ عَنِ اسْتِعْمَالِ الْمَرْءِ فِي فِرَاشِهِ بِوَسْوَسَةِ الشَّيْطَانِ إِيَّاهُ، أَوْ بِتَبَايُنِ الصُّورَتَيْنِ عِنْدَ وُجُودِ الشَّخْصِ مِنَ الشَّخْصِ الْمُقَدَّمِ، مَا عَسَى أَنْ يَأْثَمَ فِي اسْتِعْمَالِهِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو فزارہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: میری بیوی نے سیاہ رنگ کے لڑکے کو جنم دیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: ان کا رنگ کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: سرخ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا ان میں کوئی خاکستری بھی ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم کیا سمجھتے ہو یہ کہاں سے آیا ہو گا۔ اس نے جواب دیا: ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو، نبی اکر مﷺ نے فرمایا: تو یہاں (یعنی تمہارے بچے) کے بارے میں بھی ہو سکتا ہے کسی رگ نے اسے کھینچ لیا ہو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں) عبداللہ نامی راوی نے جب دوسری مرتبہ ہمیں یہ حدیث سنائی تو یہ الفاظ نقل کیے۔ "میری کنیز نے بچے کو جنم دیا ہے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں" پھر اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کا یہ دریافت کرنا " ان کا رنگ کیا ہے" ان میں لفظی طور پر تو اس چیز کے بارے میں اطلاع حاصل کرنے کا مفہوم پایا جاتا ہے ، لیکن اس سے مراد یہ ہے: آدمی اپنی اولاد کے بارے میں شیطان کے وسو سے کو اختیار کرنے سے بچے یا ایسی صورت میں شیطان کے وسوسے سے بچے جب بچے کی شکل وصورت باپ سے مختلف ہوتی ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے وسوسے پر عمل کے نتیجے میں وہ گناہ گار ہو۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter on Establishing Genealogies and What Comes in Al-Qa'if · Hadith 4107

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ ثُبُوتِ النَّسَبِ وَمَا جَاءَ فِي الْقَائِفِ · حديث 4108

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: حِينَ أُنْزِلَتْ آيَةُ الْمُلَاعَنَةِ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ، وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ، وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ، وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ، وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا، اس وقت جب لعان کرنے والے عورت کے بارے میں آیت نازل ہوئی (نبی اکرم ﷺ نے فرمایا) " جو عورت کسی قوم میں ایسے فرد کو داخل کرے جو ان کا حصہ نہ ہو (یعنی کسی ناجائز بچے کو جنم دے ) تو اس کا اللہ تعالیٰ سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا اور اللہ تعالیٰ اسے اپنی جنت میں داخل نہیں کرے گا اور جو شخص اپنے بچے کا انکار کر دے حالانکہ وہ جانتا ہو کہ وہ اس کی اولاد ہے، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو حجاب میں رکھے گا اور تمام پہلے اور بعد والے لوگوں کی موجودگی میں اسے رسوائی کا شکار کرے گا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُونُسَ، ← ابْنِ الْھَادِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter on Establishing Genealogies and What Comes in Al-Qa'if · Hadith 4108

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ حُرْمَةِ الْمُنَاكَحَةِ · حديث 4109

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةَ فَاسْتَأْذَنَ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: «إِنَّهُ عَمُّكِ، فَأَذَنِي لَهُ» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةٌ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَنْ يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے رضاعی چچا آئے انہوں نے میرے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے انہیں اس وقت تک اجازت دینے سے انکار کر دیا جب تک میں نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت نہیں کرتی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ تشریف لائے میں نے آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو آپ ﷺ نے فرمایا: وہ تمہارے چچا تھے تم نے انہیں اجازت دے دینی تھی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول ﷺ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے مجھے مرد نے دودھ نہیں پلایا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: رضاعت کے ذریعے وہی حرمت ثابت ہوتی ہے ،جو ولادت کے ذریعے ثابت ہوتی ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of the privacy of the transactional relationship · Hadith 4109

chevron_left Previous
1…678…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters14. The door to sitting on the road16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr