Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4086

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ أَنَّ الْيَتِيمَةَ تُسْتَأْمَرُ قَبْلَ إِرَادَةِ عَقْدِ النِّكَاحِ عَلَيْهَا لِمَنْ تَخْتَارُ مِنَ الْأَزْوَاجِ مَنْ شَاءَتْ، فَإِذَا سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ فِي عَقْدِ النِّكَاحِ عَلَيْهَا»

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے اسی کی مانند منقول ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت کا مطلب یہ ہے: کنواری لڑکی کا نکاح کرنے سے پہلے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی کہ وہ جس شخص کے ساتھ شادی کرنا چاہے اسے اختیار کر لے اور اگر وہ خاموش رہتی ہے ہے، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اپنا نکاح کروانے کی اجازت دے دی ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، ← أَبُو يَعْلَى فِي عَقِبِهِ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4086

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4087

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ [ص:398] عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " بیوہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی کی ذات کے بارے میں اس سے اجازت لی جائے گی او ر اس کی خاموشی اس کی اجازت ہے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " بیوہ اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے " اس سے آپ ﷺ کی مراد یہ ہے: وہ اپنے ولی کے مقابلے میں اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے، وہ جس سے چاہے اس کے ساتھ شادی کر لے وہ یہ کہے گی: میں فلاں کے ساتھ شادی کرنے کیلئے راضی ہوں اور میں فلاں سے شادی کرنے کیلئے راضی نہیں ہوں اس سے یہ مراد نہیں ہے، نکاح کا عقد منعقد کروانے کا معاملہ اس کے سپرد ہو گا اس کے اولیا ء کے سپرد نہیں ہو گا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ [ص:398] ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4087

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4088

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْمِرُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد ر فرمایا ہے: "ثبیہ عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی کی ذات کے بارے میں اس کا والد اس کی مرضی معلوم کر ے گا اور اس کی اجازت اس کی خاموشی ہو گی"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← هَارُونُ بن معروف ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4088

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4089

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «لَيْسَ لِوَلِيٍّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمْرٌ، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لِلْوَلِيِّ مَعَ الثَّيِّبِ أَمَرٌ»، يُبَيِّنُ لَكَ صِحَّةَ مَا ذَهَبْنَا إِلَيْهِ، أَنَّ الرِّضَا وَالِاخْتِيَارَ إِلَى النِّسَاءِ، وَالْعَقْدُ إِلَى الْأَوْلِيَاءِ لِنَفْيِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَلِيِّ انْفِرَادَ الْأَمْرِ دُونَهَا إِذَا كَانَتْ ثَيِّبًا، لِأَنَّ لَهَا الْخِيَارَ فِي بِضْعِهَا، وَالرِّضَا بِمَا يُعْقَدُ عَلَيْهَا، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ» أَرَادَ بِهِ تُسْتَرْضَى فِيمَنْ عُزِمَ لَهُ عَلَى الْعَقْدِ عَلَيْهَا، فَإِنْ صَمَتَتْ فَهُوَ إِقْرَارُهَا، ثُمَّ يَتَرَبَّصُ [ص:400] بِالْعَقْدِ إِلَى الْبُلُوغِ، لِأَنَّهَا وَإِنْ صَمَتَتْ وَأَذِنَتْ، لَيْسَ لَهَا أَمَرٌ وَلَا إِذْنٌ، إِذِ الْأَمْرُ وَالْإِذْنُ لَا يَكُونُ إِلَّا لِلْبَالِغَةِ «

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " ولی کو ثبیہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے اور کنواری لڑکی سے مرضی معلوم کی جائے گی اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گی"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " ولی کو ثبیہ کے بارے میں کوئی اختیار نہیں ہے" یہ چیز آپ کے سامنے اس موقف کے درست ہونے کو بیان کر دے گی، جس کے ہم قائل ہیں کہ رضا مندی اور اختیار کرنے کا معاملہ خواتین کے سپرد ہو گا اور نکاح کے عقد کو منعقد کروانے کا معاملہ اولیاء کے سپرد ہو گا، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ثیبہ عورت کی مرضی کے بغیر ولی کے انفرادی طور پر ایسا کرنے کی نفی کی ہے اس کی وجہ یہ ہے: اپنی شادی کے بارے میں عورت کو اختیار حاصل ہے اور اسے اس بات کا حق حاصل ہے، جس کے ساتھ اس کا عقد نکاح کروایا جا رہا ہے اس پر رضا مندی ( کا اظہار کرے ) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان : " کنواری لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی " اس سے مراد یہ ہے : جس شخص کے ساتھ اس کی شادی کرنے کا ارادہ ہے اس کے بارے میں اس کی مرضی معلوم کی جائے گی اگر وہ خاموش رہتی ہے، تو یہ اس کا قرار شمار ہو گا پھر اس کے عقد کے معاملے کو اس کے بالغ ہونے تک ایسے ہی رکھا جائے گا اس کی وجہ یہ ہے : اگرچہ وہ خاموش رہی ہے اس نے اجازت دے دی ہے ، لیکن پھر بھی اسے ہدایت کرنے یا اجازت دینے کا حق حاصل نہیں ہے، کیونکہ ہدایت کرنے یا اجازت دینے کا حق صرف بالغ لڑکی کو حاصل ہوتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4089

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4090

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حِجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»

حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا"۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4090

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الصَّدَاقِ · حديث 4091

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The gate of friendship · Hadith 4091

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الصَّدَاقِ · حديث 4092

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ»

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " پوری کیے جانے کی سب سے زیادہ حق دار وہ شرط ہے ، جس کے ذریعے تم شرمگاہوں کو حلال کرتے ہو"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ابوالخیر نامی راوی مرثد بن عبداللہ یزنی ہے۔

«أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ يُوَفَّى بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ» ← النَّبِيِّ ← عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← أَبِي الْخَيْرِ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The gate of friendship · Hadith 4092

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الصَّدَاقِ · حديث 4093

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَقَامَتْ طَوِيلًا، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ حَاجَةٌ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ» فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَعْطَيْتَهُ إِيَّاهَا جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا»، فَقَالَ: مَا أَجِدُ، قَالَ: «فَالْتَمِسْ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا»، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ» قَالَ: نَعَمْ، سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»

حضرت سہل بن سعد ساعد ی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک خاتون حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں آپ کو شادی کی پیشکش کرتی ہوں وہ خاتون خاصی دیر کھڑی رہی ایک صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اگر آپ کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میری شادی اس کے ساتھ کر وا دیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے، جسے تم اسے مہر کے طور پر دے سکو اس نے کہا: میرے پاس تو صرف میری یہ چادر ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم یہ اسے دے دیتے ہو، تو تمہیں بغیر چادر کے بیٹھنا پڑے گا تم کوئی چیز تلاش کرو اس نے بتایا : مجھے کوئی چیز نہیں ملتی، نبی اکرم ﷺ نےفرمایا: تم تلاش کرو، اسے پھربھی کوئی چیز نہیں ملی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تمہیں قرآن آتا ہے؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں فلاں اور فلاں سورتیں آتی ہیں اس نے ان سورتوں کے نام گنوائے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہیں جو قرآن آتا ہے اس کے عوض میں، میں تمہاری شادی اس عورت کے ساتھ کرتا ہوں۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبِي حَازِمٍ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The gate of friendship · Hadith 4093

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الصَّدَاقِ · حديث 4094

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ بِجَرْجَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ الْقُطَيْعِيُّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ: «كَمْ أَصْدَقْتَهَا» فَقَالَ: أَرْبَعَ أَوَاقٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْبَعَ أَوَاقٍ كَأَنَّمَا تَنْحِتُونَ الْفِضَّةَ مِنْ عَرَضِ هَذَا الْجَبَلِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ا اس نے عرض کی: میں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے۔ اس نے جواب دیا: چار اوقیہ ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: چار اوقیہ تو یوں ہے جیسے تم نے اس پہاڑ کی چوڑائی سے چاندی کو تلا ش لیا ہے۔

أَرْبَعَ أَوَاقٍ، ← «كَمْ أَصْدَقْتَهَا» ← إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً. ← جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، ← أَبُو مَعْمَرٍ الْقَطِيعِيُّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى السَّخْتِيَانِيُّ بِجُرْجَانَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The gate of friendship · Hadith 4094

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الصَّدَاقِ · حديث 4095

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جِبْرِيلَ الشَّهْرَزُورِيُّ بِطَرَسُوسَ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَسْهِيلُ أَمْرِهَا، وَقِلَّةُ صَدَاقِهَا» قَالَ عُرْوَةُ: وَأَنَا أَقُولُ مِنْ عِنْدِي: وَمِنْ شُؤْمِهَا تَعْسِيرُ أَمْرِهَا، وَكَثْرَةُ صَدَاقِهَا «

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: عورت کی برکت میں یہ بات شامل ہے، اس کا معاملہ آسان ہو اور اس کا مہر کم ہو۔ عروہ نامی راوی کہتے ہیں: میں اپنی طرف سے یہ بات کہتا ہوں کہ عورت کی نحوست میں یہ بات شامل ہے ، اس کا معاملہ مشکل ہو اور اس کا مہر زیادہ ہو۔

عُرْوَةُ: وَأَنَا أَقُولُ مِنْ عِنْدِي: وَمِنْ شُؤْمِهَا تَعْسِيرُ أَمْرِهَا، وَكَثْرَةُ صَدَاقِهَا ← لِي رَسُولُ اللَّهِ «مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَسْهِيلُ أَمْرِهَا، وَقِلَّةُ صَدَاقِهَا» ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← الرَّبِيعِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جِبْرِيلَ الشَّهْرَزُورِيُّ بِطَرَسُوسَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The gate of friendship · Hadith 4095

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الصَّدَاقِ · حديث 4096

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَقِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَبِهِ وَضَرٌ مِنْ خَلُوقٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَهْيَمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ» قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: «كَمْ أَصْدَقْتَهَا» قَالَ: وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ» قَالَ أَنَسٌ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ قَسَّمَ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ مِائَةَ أَلْفٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کی ملاقات حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے ہوئی ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا جو خلوق خوشبو کا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا: اے عبدالرحمٰن اس کی وجہ کیا ہے؟ انہوں نے بتایا: میں نے ایک انصاری خاتون کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے ، تو انہوں نے جواب دیا: ایک گھٹلی کے وزن جتنا سونا۔ نبی اکرم ﷺ نے فر مایا: تم ولیمہ کرو خواہ ایک بکری (ذبح کر کے دعوت کر و)۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں (یعنی حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) کو دیکھا کہ ان کے انتقال کے بعد ان کی ہر بیوی کے حصے میں ایک لاکھ (درہم ) آئے تھے۔

النَّبِيُّ «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ» ← وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ ← «كَمْ أَصْدَقْتَهَا» ← تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، ← لَهُ النَّبِيُّ «مَهْيَمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ» ← لَقِيَ النَّبِيُّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَبِهِ وَضَرٌ مِنْ خَلُوقٍ، ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The gate of friendship · Hadith 4096

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الصَّدَاقِ · حديث 4097

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ*، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كَانَ «صَدَاقُنَا إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے، تو ہمارا (ادا کیے جانے والا مہر دس اوقیہ ہو تا تھا۔

كَانَ «صَدَاقُنَا إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ عَشْرَ أَوَاقٍ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، ← دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ*، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The gate of friendship · Hadith 4097

chevron_left Previous
1…567…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr