Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4074

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذَنِ وَلِيِّهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ - مَرَّتَيْنِ - وَلَهَا مَا أَعْطَاهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا خُصُومَةٌ فَذَاكَ إِلَى السُّلْطَانِ، وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ مَنْ لَمْ يَحْكُمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ، أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ أَوْ لَا أَصْلَ لَهُ بِحِكَايَةٍ حَكَاهَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فِي عَقِبِ هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ الزُّهْرِيَّ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَلَيْسَ هَذَا مِمَّا يَهِيَ الْخَبَرُ بِمِثْلِهِ، [ص:386] وَذَلِكَ أَنَّ الْخَيِّرَ الْفَاضِلَ الْمُتْقِنَ الضَّابِطَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَدْ يُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ يَنْسَاهُ، وَإِذَا سُئِلَ عَنْهُ لَمْ يَعْرِفْهُ فَلَيْسَ بِنِسْيَانِهِ الشَّيْءَ الَّذِي حَدَّثَ بِهِ بِدَالٍّ عَلَى بُطْلَانِ أَصْلِ الْخَبَرِ، وَالْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الْبَشَرِ صَلَّى فَسَهَا، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: » كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ «فَلَمَّا جَازَ عَلَى مَنَ اصْطَفَاهُ اللَّهُ لِرِسَالَتِهِ، وَعَصَمَهُ مِنْ بَيْنِ خَلْقِهِ، النِّسْيَانُ فِي أَعَمِّ الْأُمُورِ لِلْمُسْلِمِينَ الَّذِي هُوَ الصَّلَاةُ حَتَّى نَسِيَ، فَلَمَّا اسْتَثْبَتُوهُ أَنْكَرَ ذَلِكَ، وَلَمْ يَكُنْ نِسْيَانُهَ بِدَالٍ عَلَى بُطْلَانِ الْحُكْمِ الَّذِي نَسِيَهُ كَانَ مَنْ بَعْدِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمَّتِهِ الَّذِينَ لَمْ يَكُونُوا مَعْصُومِينَ جَوَازُ النِّسْيَانِ عَلَيْهِمْ أَجُوزُ، وَلَا يَحُوزُ مَعَ وُجُودِهِ أَنْ يَكُونَ فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى بُطْلَانِ الشَّيْءِ الَّذِي صَحَّ عَنْهُمْ قَبْلَ نِسْيَانِهِمْ ذَلِكَ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ہر وہ عورت جس کا نکاح اس کے ولی کی اجازت کے بغیر کیا گیا ہو، تو اس کا نکاح باطل ہو تا ہے ( یہ بات آپ ﷺ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی ) اس عورت کو وہ چیز مل جائے گی جو مرد نے مہر کے طور پر اسے دی ہے اور اگر ان دونوں کے درمیان جھگڑا ہو جاتا ہے، تو یہ معاملہ حاکم کے پاس لایا جائے گا اور حاکم وقت اس کا ولی ہو گا ، جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس روایت نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا ہے، جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ سمجھا کہ شاید یہ روایت منقطع ہے یا اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس غلط فہمی کی وجہ وہ حکایت ہے ، جسے ابن علیہ نے اس روایت کے بعد ابن جریج کے حوالے سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں پھر میری ملاقات زہری سے ہوئی میں نے ان کے سامنے اس روایت کو ذکر کیا وہ اس سے واقف نہیں تھے حالانکہ یہ وہ چیز نہیں ہے، جو اس نوعیت کی خبر کو کمزور کر دے اس کی وجہ یہ ہے: بعض اوقات اہل علم سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی بہتر فاضل متقی ضابط شخص کوئی حدیث بیان کرتا ہے، تو وہ اسے بھول جاتا ہے اور جب بعد میں اس سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے، تو اسے اس کا علم نہیں ہوتا تو اس کا اس چیز کو بھول جانا جس کو اس نے بیان کیا تھا یہ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ اس روایت کی اصل ہی باطل ہو گی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سب سے بہترین بشر ہیں آپ ﷺ نماز ادا کرتے ہوئے بھول گئے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہﷺ ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ ﷺ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دونوں میں سے کچھ نہیں ہوا ہے۔ تو وہ شخصیت جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کیلئے منتخب کیا اور انہیں اپنی مخلوق کے درمیان عصمت عطا کی ان پر نسیان طاری ہو سکتا ہے، جو مسلمانوں کے امور سے تعلق رکھنے والی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی چیز کے بارے میں ہے وہ چیز نماز ہے، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ بھول جاتے ہیں اورجب لوگوں نے آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو آپ ﷺ نے ان کا انکار کیا ۔ نبی اکرمﷺ کا بھول جانا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ حکم با طل ہو گا، جسے آپﷺ بھول گئے تھے ( تو جب ایک طرف ایسا ہے ) تو پھر نبی اکرم ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جومعصوم بھی نہیں ہیں ان کے لیے نسیان طاری ہونا تو زیادہ ممکن ہے اور نسیان کی موجودگی میں یہ چیز جائز نہیں ہو گی کہ اس میں اس چیز کی دلیل موجود ہو کہ وہ چیز باطل ہے، جو ان کے بھول جانے سے پہلے ان حضرات سے مستند طور پر ثابت ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4074

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4075

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ، وَمَا كَانَ مِنْ نِكَاحٍ عَلَى غَيْرِ ذَلِكَ، فَهُوَ بَاطِلٌ، فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ فِي خَبَرِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ هَذَا» وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ «إِلَّا ثَلَاثَةُ أَنْفَسٍ سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ يُونُسَ الرَّقِّيُّ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَلَا يَصِحُّ فِي ذِكْرِ الشَّاهِدَيْنِ غَيْرَ هَذَا الْخَبَرِ»

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہو تا جو نکاح اس کے علا وہ ہو گا وہ باطل شمار ہو گا اور اگر ( ولی ہونے کے حوالے سے ) لوگوں میں اختلاف ہو جاتا ہے، تو جس کا کوئی ولی نہ ہو حاکم وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ابن جریج کے حوالے سے سیلمان بن موسیٰ کے حوالے سے زہری منقول اس روایت میں یہ الفاظ " دو عادل گواہوں کے بغیر " یہ الفاظ صرف تین افراد نے نقل کیے ہیں: سعید بن یحییٰ اموی نے حفص بن غیاث کے حوالے سے نقل کیے ہیں۔ عبداللہ بن عبدالوہاب حجی نے خالد بن حارث کے حوالے سے نقل کیے ہیں: اور عبدالرحمٰن بن یونس رقی نے عیسیٰ بن یونس کے حوالے سے نقل کیے ہیں:دو گواہوں کا تذکرہ اس روایت کے علاوہ اور کہیں بھی مستند طور پر منقول نہیں ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4075

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4076

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ الدَّلَّالُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، [ص:388] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» أَبُو عَامِرٍ: «صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا"۔ ابو عامر نامی راوی کا نام صالح بن رستم ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، [ص:388] ← أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ← أَبُو عَتَّابٍ الدَّلَّالُ، ← هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4076

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4077

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ [ص:389] الْجُوزْجَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا"۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِّيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ [ص:389] الْجُوزْجَانِيُّ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4077

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4078

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَاهَكَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ»

حضرت ابو موسی ٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا"۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← شَرِيکٍ ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَاهَكَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4078

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4079

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَهُوَ رِضَاهَا، وَإِنَّ أَبَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے گی اگر وہ خاموش رہے، تو یہ اس کی رضا مندی شمار ہو گی اور اگر وہ انکار کر دے تو اس کے ساتھ زبر دستی نہیں کی جاسکتی "۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← زَائِدَۃَ، ← مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4079

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4080

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي أَبْضَاعِهِنَّ» قِيلَ: إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي، قَالَ: «سُكُوتُهَا إِقْرَارُهَا»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فر مایا ہے: لڑکیوں کی شادی میں ان سے مرضی معلوم کر لیا کروعرض کی گئی کنواری لڑکی شرما جاتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گی۔

عَائِشَةَ ← ذَكْوَانَ، ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4080

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4081

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو ذَكْوَانُ، [ص:394] عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِكْرِ تَخْطُبُ فَقَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُسْتَأْمَرُ النِّسَاءُ فِي أَبْضَاعِهِنَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْبِكْرُ تَسْتَحِي فَتَسْكُتُ، قَالَ: «سُكُوتُهَا إِقْرَارُهَا»

ابو عمر وذ کو ان بیان کرتے ہیں: سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کنواری لڑکی کے بارے میں دریافت کیا: جسے نکاح کا پیغام آتا ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: خواتین کی شادی کے بارے میں ان سے مرضی معلوم کی جائے گی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! کنواری لڑکی شر ما جاتی ہے اور خاموش رہتی ہے ( تو اس صورت میں کیا حکم ہو گا ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گی۔

الْبِكْرِ تَخْطُبُ فَقَالَتْ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ ← أَبُو عَمْرٍو ذَكْوَانُ، [ص:394] ← وَحَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← الْأَنْصَارِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4081

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4082

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهِبٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رِضَاهَا صَمْتُهَا»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی: کنواری لڑکی شرما جاتی ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس کی رضا مندی اس کی خاموشی ہو گی۔

لِرَسُولِ اللَّهِ إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحِي، فَقَالَ «رِضَاهَا صَمْتُهَا» ← أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4082

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4083

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيِّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، [ص:395] عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى مَرْفُوعًا، فَمَرَّةً كَانَ يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ أَبِيهِ مُسْنِدًا، وَمَرَّةً يُرْسِلَهُ، وَسَمِعَهُ أَبُو إِسْحَاقَ مِنْ أَبِي بُرْدَةَ مُرْسَلًا وَمُسْنَدًا مَعًا، فَمَرَّةً كَانَ يُحَدِّثُ بِهِ مَرْفُوعًا وَتَارَةً مُرْسَلًا، فَالْخَبَرُ صَحِيحٌ مُرْسَلًا وَمُسْنَدًا مَعًا لَا شَكَّ، وَلَا ارْتِيَابَ فِي صِحَّتِهِ»

حضرت موسی ٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا"۔ ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ابو بر دہ نامی راوی نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت مرفوع حدیث کے طعر پر سنی ہے ، تو ایک مرتبہ انہوں نے یہ روایت اپنے والد کے حوالے سے مسند طور پر نقل کر دی اور ایک مرتبہ اسے "مرسل" روایت کے طور پر نقل کر دیا۔ اسحاق نے یہ روایت ابو بر دہ کے حوالے سے " مرسل" اور "مسند" دونوں طرح سنی ہے، تو ایک مرتبہ وہ ان کے حوالے سے "مر فوع" حدیث کے طور پر نقل کر دیتے ہیں اور ایک مرتبہ اسے " مرسل" حدیث کے طور پر نقل کر دیتے ہیں، تو اس میں کوئی شبہ نہیں ہے، یہ روایت" مرسل" اور "مسند" دونوں اعتبار سے صحیح (یعنی مستند ) ہے اس کے مستند ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، [ص:395] ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4083

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4084

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَيِّمُ أَحَقُّ [ص:396] بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ثیبہ (یعنی بیوہ یا طلاق یافتہ ) عورت اپنی ذات کے بارے میں اپنی ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری لڑکی سے اس کی مرضی معلوم کی جائے گی اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ، ← مَالِكٍ، ← الْقَعْنَبِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4084

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4085

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، [ص:397] عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا، فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ، وَإِنْ أَبَتْ لَمْ تُكْرَهْ»

ابوبر دہ بن ابو موسیٰ اپنے والد (حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مرضی معلوم کی جائے اگر وہ خاموش رہے، تو اس نے اجازت دے دی اگر وہ انکا ر کر دے تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا"۔

أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، [ص:397] ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4085

chevron_left Previous
1…456…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr