صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4074
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذَنِ وَلِيِّهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ - مَرَّتَيْنِ - وَلَهَا مَا أَعْطَاهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنْ كَانَتْ بَيْنَهُمَا خُصُومَةٌ فَذَاكَ إِلَى السُّلْطَانِ، وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذَا خَبَرٌ أَوْهَمَ مَنْ لَمْ يَحْكُمْ صِنَاعَةَ الْحَدِيثِ، أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ أَوْ لَا أَصْلَ لَهُ بِحِكَايَةٍ حَكَاهَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ فِي عَقِبِ هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ الزُّهْرِيَّ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ وَلَيْسَ هَذَا مِمَّا يَهِيَ الْخَبَرُ بِمِثْلِهِ، [ص:386] وَذَلِكَ أَنَّ الْخَيِّرَ الْفَاضِلَ الْمُتْقِنَ الضَّابِطَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَدْ يُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ ثُمَّ يَنْسَاهُ، وَإِذَا سُئِلَ عَنْهُ لَمْ يَعْرِفْهُ فَلَيْسَ بِنِسْيَانِهِ الشَّيْءَ الَّذِي حَدَّثَ بِهِ بِدَالٍّ عَلَى بُطْلَانِ أَصْلِ الْخَبَرِ، وَالْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الْبَشَرِ صَلَّى فَسَهَا، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ فَقَالَ: » كُلُّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ «فَلَمَّا جَازَ عَلَى مَنَ اصْطَفَاهُ اللَّهُ لِرِسَالَتِهِ، وَعَصَمَهُ مِنْ بَيْنِ خَلْقِهِ، النِّسْيَانُ فِي أَعَمِّ الْأُمُورِ لِلْمُسْلِمِينَ الَّذِي هُوَ الصَّلَاةُ حَتَّى نَسِيَ، فَلَمَّا اسْتَثْبَتُوهُ أَنْكَرَ ذَلِكَ، وَلَمْ يَكُنْ نِسْيَانُهَ بِدَالٍ عَلَى بُطْلَانِ الْحُكْمِ الَّذِي نَسِيَهُ كَانَ مَنْ بَعْدِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمَّتِهِ الَّذِينَ لَمْ يَكُونُوا مَعْصُومِينَ جَوَازُ النِّسْيَانِ عَلَيْهِمْ أَجُوزُ، وَلَا يَحُوزُ مَعَ وُجُودِهِ أَنْ يَكُونَ فِيهِ دَلِيلٌ عَلَى بُطْلَانِ الشَّيْءِ الَّذِي صَحَّ عَنْهُمْ قَبْلَ نِسْيَانِهِمْ ذَلِكَ»
سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ہر وہ عورت جس کا نکاح اس کے ولی کی اجازت کے بغیر کیا گیا ہو، تو اس کا نکاح باطل ہو تا ہے ( یہ بات آپ ﷺ نے دو مرتبہ ارشاد فرمائی ) اس عورت کو وہ چیز مل جائے گی جو مرد نے مہر کے طور پر اسے دی ہے اور اگر ان دونوں کے درمیان جھگڑا ہو جاتا ہے، تو یہ معاملہ حاکم کے پاس لایا جائے گا اور حاکم وقت اس کا ولی ہو گا ، جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس روایت نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کیا ہے، جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ یہ سمجھا کہ شاید یہ روایت منقطع ہے یا اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور اس غلط فہمی کی وجہ وہ حکایت ہے ، جسے ابن علیہ نے اس روایت کے بعد ابن جریج کے حوالے سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں پھر میری ملاقات زہری سے ہوئی میں نے ان کے سامنے اس روایت کو ذکر کیا وہ اس سے واقف نہیں تھے حالانکہ یہ وہ چیز نہیں ہے، جو اس نوعیت کی خبر کو کمزور کر دے اس کی وجہ یہ ہے: بعض اوقات اہل علم سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی بہتر فاضل متقی ضابط شخص کوئی حدیث بیان کرتا ہے، تو وہ اسے بھول جاتا ہے اور جب بعد میں اس سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا جاتا ہے، تو اسے اس کا علم نہیں ہوتا تو اس کا اس چیز کو بھول جانا جس کو اس نے بیان کیا تھا یہ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ اس روایت کی اصل ہی باطل ہو گی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سب سے بہترین بشر ہیں آپ ﷺ نماز ادا کرتے ہوئے بھول گئے آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہﷺ ! کیا نماز مختصر ہو گئی ہے یا آپ ﷺ بھول گئے ہیں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دونوں میں سے کچھ نہیں ہوا ہے۔ تو وہ شخصیت جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کیلئے منتخب کیا اور انہیں اپنی مخلوق کے درمیان عصمت عطا کی ان پر نسیان طاری ہو سکتا ہے، جو مسلمانوں کے امور سے تعلق رکھنے والی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی چیز کے بارے میں ہے وہ چیز نماز ہے، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ بھول جاتے ہیں اورجب لوگوں نے آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا: تو آپ ﷺ نے ان کا انکار کیا ۔ نبی اکرمﷺ کا بھول جانا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ حکم با طل ہو گا، جسے آپﷺ بھول گئے تھے ( تو جب ایک طرف ایسا ہے ) تو پھر نبی اکرم ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جومعصوم بھی نہیں ہیں ان کے لیے نسیان طاری ہونا تو زیادہ ممکن ہے اور نسیان کی موجودگی میں یہ چیز جائز نہیں ہو گی کہ اس میں اس چیز کی دلیل موجود ہو کہ وہ چیز باطل ہے، جو ان کے بھول جانے سے پہلے ان حضرات سے مستند طور پر ثابت ہے۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،
Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Gate of the Guardian · Hadith 4074
