Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4062

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَوْسَعَ الْمُسْلِمِينَ خُبْزًا، وَلَحْمًا، كَمَا كَانَ يَصْنَعُ إِذَا تَزَوَّجَ، فَأَتَى حُجْرَ أُمِّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ وَيَدْعُونَ لَهُ، ثُمَّ رَجَعَ وَأَنَا مَعَهُ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْبَيْتِ إِذَا رَجُلَانِ يَذْكُرَانِ بَيْنَهُمَا الْحَدِيثَ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا أَبْصَرَهُمَا وَلَّى رَاجِعًا وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ولیمہ کیاآپ ﷺ نے مسلمانوں کیلئے روٹی اور گوشت کا بھرپور اہتمام کیا جس طرح آپ ﷺ شادی کرنے کے بعد کیا کرتے تھے پھر آپ ﷺ امہات المومنین کے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے انہیں سلام کیا ان کے لیے دعائے خیر کی پھر آپ ﷺ واپس تشریف لائے میں آپﷺ کے ساتھ تھا جب نبی اکرم ﷺ (اپنی نئی زو جہ محتر مہ) کے گھر پاس پہنچے تو وہاں دو آدمی گھر کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے بات چیت کر رہے تھے جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں دیکھا تو آپ ﷺ واپس تشریف لے آئے ( اس موقع پر ) اللہ تعالیٰ نے حجاب کے حکم سے متعلق آیت نازل کی تھی۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 4062

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4063

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا، وَأَوْلَمَ عَلَيْهَا بِحَيْسٍ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا تھا اور ان کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا آپ ﷺ نے ان کے ولیمے میں حیس ( کی دعوت کی تھی)

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ ← عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 4063

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4064

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ بِمَنْبِجَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ شَيْخَانِ عَابِدَانِ فَاضِلَانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، [ص:372] عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ( کے ساتھ شادی کے بعد ولیمے میں ) ستو اور کھجور ( کھلائے تھے )۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، ← وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بِطَرَسُوسَ شَيْخَانِ عَابِدَانِ فَاضِلَانِ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ الطَّائِيُّ،

Hadith 4064

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4065

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عُمَرَ، وَالْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِشَامٍ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ يُخْبِرُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا لَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ أَخْبَرَتْهُمْ أَنَّهَا بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةَ، فَكَذَّبُوهَا، وَجَعَلُوا يَقُولُونَ: مَا أَكْذَبَ الْغَرَائِبَ، ثُمَّ أَنْشَأَ نَاسٌ مِنْهُمُ الْحَجَّ، فَقَالُوا: تَكْتُبِينَ إِلَى أَهْلِكِ، فَكَتَبْتُ مَعَهُمْ، فَرَجَعُوا إِلَى الْمَدِينَةِ فَصَدَّقُوهَا، فَازْدَادَتْ عَلَيْهِمْ كَرَامَةً، فَقَالَتْ: لَمَّا وَضَعْتُ زَيْنَبَ، جَاءَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنِي، فَقُلْتُ: مَثَلِي لَا يُنْكَحُ، أَمَا أَنَّا، فَلَا وَلَدَ فِيَّ، وَأَنَا غَيُورٌ ذَاتُ عِيَالٍ، قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَيُذْهِبُهَا اللَّهُ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ»، فَتَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «إِنِّي آتِيكُمُ اللَّيْلَةَ» قَالَتْ: فَأَخْرَجْتُ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ كَانَتْ فِي جَرَّتِي، وَأَخْرَجْتُ شَحْمًا فَعَصَدْتُ لَهُ، قَالَ: فَبَاتَ ثُمَّ أَصْبَحَ، فَقَالَ [ص:373] حِينَ أَصْبَحَ: «إِنَّ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ كَرَامَةً إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ وَإِنَّ أُسَبِّعْ لَكِ أُسَبِّعُ لِنِسَائِي»

سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب وہ مدینہ منورہ آئیں ، تو انہوں نے لوگوں کو بتا یا کہ وہ امیہ بن مغیرہ کی صاحب زادی ہے لوگوں نے ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا وہ لوگ یہ کہنے لگے: یہ کیسی عجیب و غریب غلط بیا نی ہے پھر ان میں سے کچھ لوگوں نے حج پر جانے کا ارادہ کیا، تو انہوں نے کے کہا: کیا تم اپنے گھر والوں کو کوئی خط لکھ دو گی، تو میں نے ان لوگوں کو خط لکھ کر دے دیا جب وہ لوگ واپس آئے، تو انہوں نے سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بیان کی تصدیق کی تو سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے عزت و احترام میں اضافہ ہو گیا۔ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیا ن کرتی ہیں: جب میرے ہاں زینب کی پیدائش ہوئی تو نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا میں نے عرض کی: مجھ جیسی عورت کے ساتھ نکاح نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ میں اب بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور میرے مزاج میں کچھ تیزی بھی ہے میں بال بچے دار بھی ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فر مایا: میں تم سے عمر میں بڑا ہوں جہاں تک مزاج کی تیزی کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے ختم کر د ے گا جہاں تک بال بچوں کا تعلق ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ شادی کر لی۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں آج رات تمہارے پاس آؤں گا۔ سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے اپنی تھیلی میں موجود کچھ جو کے دانے نکالے اور کچھ چربی نکالی اور نبی اکرم ﷺ کیلئے اسے تیار کر لیا۔ نبی اکرم ﷺ نے رات وہیں بسر کی صبح کے وقت آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے شوہر کے نزدیک معزز حیثیت کی مالک ہو اگر تم چا ہو تو میں سات دن تمہارے پاس رہتا ہوں اگر میں سات دن تمہارے پاس رہا تو اپنی دوسری ازواج کے پاس بھی سات دن رہوں گا۔

حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 4065

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4066

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَعْلِنُوا النِّكَاحَ»

عامر بن عبداللہ ( حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فر مان نقل کرتے ہیں: "نکاح کا اعلان کرو"۔ شیخ بیان کرتے ہیں: روایت کے لفظ " تم لوگ اعلان کرو" اس کا مطلب یہ ہے: دو عادل گواہوں کی موجودگی میں (ایجاب و قبول کر و)۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Hadith 4066

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4067

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا بَنِي بَيَاضَةَ أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ، وَانْكِحُوا إِلَيْهِ» وَكَانَ حَجَّامًا

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " اے بنو بیاضہ ! ابو ہند کا نکا ح کر وا دو (اپنے خاندان کی کسی لڑکی یا خاتون ) کا نکاح اس سے کر دو (حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) وہ پچھنے لگانے کا کام کرتے تھے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 4067

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4068

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الطُّفَاوِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا، فَإِنَّ لَهَا مَا كُتِبَ لَهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "کسی عورت کے ساتھ اس کی پھو پھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح نہ کیا جائے ( یعنی بیو ی کی بھتیجی یا بھا نجی کے ساتھ نکاح نہ کیا جائے ) اور کوئی عورت اپنی بہن (یعنی سوکن ) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تا کہ اس کے بر تن میں موجود چیز کو خود حاصل کر لے، کیونکہ اسے وہی کچھ ملے گا، جو اس کے نصیب میں ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← الطُّفَاوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ بِمَكَّةَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 4068

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4069

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ مَا فِي صَحْفَتِهَا وَلِتُنْكَحَ، فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " کوئی عورت (کسی مرد کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے ) اپنی بہن (یعنی مرد کی پہلی بیوی ) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تا کہ اس کے حصے کی سب نعمتیں خود حاصل کر لے اسے شادی کر لینی چاہئے، کیونکہ اسے وہی کچھ ملے گا، جو اس کے نصیب میں ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ،

Hadith 4069

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4070

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ*، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ مَا فِي صَحْفَتِهَا، فَإِنَّ الْمُسْلِمَةَ أُخْتُ الْمُسْلِمَةِ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرما یا ہے: " کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تا کہ اس کے حصے کی نعمتیں خود حاصل کرلے، کیونکہ ایک مسلمان عورت دوسری مسلمان عورت کی بہن ہوتی ہے"۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ أَنَّهُ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Hadith 4070

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4071

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: كَانَتْ أُخْتُهُ تَحْتَ رَجُلٍ فَطَلَّقَهَا، ثُمَّ خَلَّى عَنْهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ قَرَّبَ يَخْطُبُهَا، فَحَمِيَ مَعْقِلٌ مِنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: خَلَّى عَنْهَا، وَهُوَ يَقْدِرُ عَلَيْهَا، فَحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَإِذَا طَلَّقْتُمِ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُمْ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: 232].

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ان کی بہن ایک شخص کی بیوی تھی اس شخص نے انہیں طلاق دے دی اور پھر اسے یوں ہی رہنے دیا، یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی پھر اس شخص نے نکاح کا پیغام بھجوایا تو حضرت معقل رضی اللہ عنہ کو اس بات پر غصہ آ گیا اور بولے : اس نے اس عورت کو ایسے ہی رہنے دیا حالانکہ یہ اس سے رجوع کر سکتا تھا۔ حضرت معقل رضی اللہ عنہ اس بارے میں رکاوٹ بن گئے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ " اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہو جائے، تو تم انہیں اس بات سے نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے ( دوبارہ ) نکاح پڑھوا لیں جب کہ وہ لوگ آپس میں مناسب طور پر ایک دوسرے سے را ضی ہوں"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ) اس روایت میں یہ بات محذ وف ہے ، اس خاتو ن نے بعد میں دوسرے شخص کے ساتھ شادی کر لی تھی (پھر اس سے طلاق ہو گئی یا وہ بیوہ ہو گئیں، تو پہلے شوہر نے نکاح کا پیغام بھیجا )۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 4071

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4072

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ: » أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانَةً «قَالَ: نَعَمْ، قَالَ لَهَا: أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانًا» قَالَتْ: نَعَمْ، فَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا، فَدَخَلَ بِهَا، فَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَنِي فُلَانَةً، وَلَمْ أَعْطِهَا شَيْئًا، وَقَدْ أُعْطِيتُهَا سَهْمِي مِنْ خَيْبَرَ، فَكَانَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ فَأَخَذَتْهُ فَبَاعَتْهُ فَبَلَغَ مِائَةَ أَلْفٍ «

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " سب سے بہتر نکاح وہ ہے، جو آدمی کیلئے سب سے زیادہ آسان ہو "۔ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کیلئے یہ فرمایا کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ تمہاری شادی فلاں خاتون کے ساتھ کروا دوں اس نے کہا: جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے دریافت کیا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ تمہاری شادی فلاں شخص سے کروا دوں۔ اس عورت نے جواب دیا: جی ہاں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کی شادی کر وا دی۔ آپ ﷺ نے کوئی مہر مقرر نہیں کیا۔ اس خاتو ن کی رخصتی ہو گئی مر د نے اسے کوئی چیز ادا نہیں کی جب اس مرد کے انتقال کا وقت قریب آیا، تو اس نے کہا: بے شک اللہ کے رسول نے فلاں خاتون کے ساتھ میری شادی کروائی تھی اور میں نے اسے ( مہر کے طور پر) کوئی ادائیگی نہیں کی تھی میں خیبر میں موجود اپنا حصہ اس خاتو ن کو دیتا ہوں۔ اس شخص کا خیبر میں ایک حصہ تھا اس خاتون نے اس حصے کو حاصل کیا اور اسے فروخت کر دیا تو اس کی قیمت ایک لاکھ تھی۔

عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ← مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيُّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَرَّانِيُّ، ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Hadith 4072

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْوَلِيِّ · حديث 4073

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثَلَاثَ وَرُبَاعَ} [النساء: 3] قَالَتْ: «يَا ابْنَ أُخْتِي هَذِهِ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حِجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ، فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا، وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيِّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيَهَا غَيْرُهُ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ مَهْرًا أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنَ الصَّدَاقِ، وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنَ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ» قَالَ عُرْوَةُ: قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {يَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ} [النساء: 127]، قَالَتْ: «وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةِ الْأُولَى الَّتِي قَالَ فِيهَا: {وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: 3]»، قَالَتْ عَائِشَةُ: «وَقَالَ اللَّهُ فِي [ص:383] الْآيَةِ الْأُخْرَى رَغْبَةَ أَحَدُكُمْ عَنْ يَتِيمَتِهِ الَّتِي فِي حِجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ، فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ»

عر وہ بن زبیر بیان کرتے ہیں: انہوں نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا۔ " اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لے سکو گے تو تم ان خواتین کے ساتھ شادی کر لو جو تمہیں پسند آتی ہیں خواہ دو کرو یا تین کرو یا چار کرو"۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتا یا: اے میرے بھتیجے بعض اوقات کوئی یتیم لڑکی کسی سر پرست کے زیر تر بیت ہوتی تھی اور وہ اس سر پرست کے مال میں اس کی حصے دار ہوتی تھی اس سر پرست کو اس لڑکی کا مال اور خوبصورتی پسند آتے تھے، تو وہ سر پر ست یہ ارادہ کرتا کہ اس لڑکی کو کوئی مہر دئیے بغیر اس کے ساتھ شادی کر لے یعنی وہ مہر جو اسے کسی دوسری عورت کے ساتھ شادی کرتے ہوئے دینا پڑتا (وہ اس لڑکی کو نہ دے ) تو لوگوں کو اس بات سے منع کیا گیا کہ وہ ایسی لڑکیوں کے ساتھ صر ف اسی وقت شادی کر سکتے ہیں جب وہ ان لڑکیوں کو اتنا مہر ادا کر یں جتنا عام رواج میں دیا جاتا ہے اور لوگوں کو اس بات کا حکم دیا گیا کہ وہ ان یتیم لڑکیوں کے علاوہ کسی دوسری خاتون کے ساتھ شادی کر لیں ( اگر وہ ان لڑکیوں کو مہر نہیں دینا چاہتے )۔ عر وہ بیان کرتے ہیں: سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی لوگوں نے اس آیت کے بعد اس بارے میں مسئلہ دریافت کیا : تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ " لوگ تم سے خواتین کے بارے میں مسئلہ دریافت کرتے ہیں تم فر ما دو اللہ تعالیٰ ان خواتین کے بارے میں تمہیں یہ حکم دیتا ہے وہ چیز جو ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں کتاب میں تم لوگوں کے سامنے تلاوت کی گئی ہے وہ لڑکیاں جنہیں تم وہ چیز ادا نہیں کرتے ہو، جو ان کے حق میں مقرر کی گئی ہے اور تم اس چیز کے خواہش مند ہوتے ہو کہ تم ان کے ساتھ نکاح کر لو"۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فر مایا: وہ چیز جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر کیا ہے ، کتاب میں تم لوگوں کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے اس سے مراد پہلی والی آیت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ " اگر تمہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے، تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف سے کام نہیں لو گے تو جو خواتین تمہیں اچھی لگتی ہیں تم ان کے ساتھ شادی کر لو"۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے ، تم میں سے کوئی ایک شخص اپنی زیر سر پرستی ایسی یتیم لڑکی میں دلچسپی نہیں رکھتا ہے، جس کے پاس مال بھی کم ہو تا ہے وہ خوبصورت بھی نہیں ہوتی ، تو لوگوں کو اس چیز سے منع کیا گیا کہ جن خواتین کے مال اور خوبصورتی میں انہیں دلچسپی ہوتی ہے وہ ان کے ساتھ اس وقت نکاح کر سکتے ہیں کہ جب وہ انصاف کے ساتھ انہیں مہر کی ادائیگی کریں اس کی وجہ یہ ہے ( جن خواتین کے پاس مال کم ہوتا ہے ) ان خواتین میں مر دوں کو دلچسپی کم ہوتی ہے۔

عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 4073

chevron_left Previous
12345…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr