Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4050

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَسْتَامُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ حَتَّى يَشْتَرِيَ أَوْ يَتْرُكَ، وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَذَرَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " کوئی شخص اپنے بھائی کی بولی پر بولی نہ لگائے جب تک ( وہ دوسرا شخص ) اسے خرید نہیں لیتا یا سودے کو ترک نہیں کر دیتا اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے جب تک ( وہ دوسرا شخص ) نکاح نہیں کر لیتا یا اس رشتے کو چھوڑ نہیں دیتا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ابو کثیر نامی راوی کا نام یزید بن عبدالرحمٰن بن اذینہ ہے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو كَثِيرٍ أَنَّهُ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِیْدُ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 4050

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4051

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ الْخَاطِبُ الْأَوَّلُ، أَوْ يَأْذَنَ لَهُ فَيَخْطُبُ»

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر نکاح کا پیغام نہ بھیجے جب تک پہلا پیغام دینے والا شخص اس کو ترک نہیں کر دیتا یا پھر اگر وہ اجازت دیدے تو پھر وہ نکاح کا پیغام بھیج دے"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4051

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4052

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَزَوَّجَ، قَالَ لَهُ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكَ، وَبَارَكَ عَلَيْكَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب کوئی شخص شادی کرنے کا ارادہ کر تاتھا تو نبی اکرم ﷺ اس سے یہ فرماتے تھے۔ " اللہ تعالیٰ تمہیں برکت نصیب کرے اور تم پر برکتیں نازل کرے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 4052

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4053

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ حَيٍّ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ قَالَ لِلشَّعْبِيِّ: إِنَّا نَقُولُ عِنْدَنَا: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَعْتَقَ أُمَّ وَلَدِهِ، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا، فَهُوَ كَالرَّاكِبِ هَدْيَهُ، قَالَ الشَّعْبِيُّ: أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَدَّبَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ، وَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا، ثُمَّ أَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، كَانَ لَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا آمَنَ الرَّجُلُ بِعِيسَى، ثُمَّ آمَنَ بِي، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَالْعَبْدُ إِذَا اتَّقَى رَبَّهُ وَأَطَاعَ مَوَالِيَهُ فَلَهُ أَجْرَانِ»

صالح بن حیی بیان کرتے ہیں: خراسان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے امام شعبی سے کہا ہمارے ہاں یہ کہا جاتا ہے: جب کوئی شخص اپنی ام ولد کو آزاد کر دے اور پھر اس کے ساتھ شاد ی کر لے ، تو اس کی مثال ایسے شخص کی طرح ہے، جو اپنی قر بانی کے جانور پر سوار ہو جاتا ہے، تو امام شعبی نے کہا: حضرت ابو بر دہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھے یہ بات بتائی ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :"جب کوئی شخص اپنی کنیز کی تر بیت کرے اور اچھی طرح سے تر بیت کرے اس کو تعلیم دے اور اچھی طرح سے تعلیم دےل پھر وہ اسے آزاد کر کے اس کنیز کے ساتھ شادی کر لے، تو اس شخص کو دگنا اجر ملے گا اور جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتا ہو پھر وہ مجھ پر بھی ایمان لے آئے اسے بھی دگنا اجر ملے گا اور وہ غلام جو اپنے پروردگار سے ڈرتا ہو اور اپنے آقا کی اطاعت کرتا ہو اسے بھی دگنا اجر ملے گا"۔

صَالِحِ بْنِ حَيَّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 4053

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4054

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ*، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا سَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ أَوْ لِابْنِ عَمِّهِ، فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلَاحَةً، لَا يَكَادُ يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَقَفَتْ عَلَى [ص:362] بَابِ الْحُجْرَةِ فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُهَا وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مِثْلَ مَا رَأَيْتُ فَقَالَتْ جُوَيْرِيَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ? كَانَ مِنَ الْأَمْرِ مَا قَدْ عَرَفْتَ، فَكَاتَبْتُ نَفْسِي، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ » فَقَالَتْ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: «أَتَزَوَّجُكِ وَأَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ» فَقَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «قَدْ فَعَلْتُ» قَالَتْ: فَبَلَغَ الْمُسْلِمِينَ ذَلِكَ قَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلُوا مَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَالَتْ: فَلَقَدْ عُتِقَ بِتَزْوِيجِهِ مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَالَتْ: فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا «

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ( جنگ کے بعد آزاد ہونے والے ) بنو مصطلق کے افراد کو قیدی قرار دیا ،تو جویر یہ بنت حارث حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئیں انہوں نے کتابت کا معاہدہ کرنے کی پیشکش کی وہ ایک خوبصورت اور دل کش خاتون تھیں جو بھی شخص انہیں دیکھتا تھا مسحور ہو جاتا تھا وہ اپنی کتابت کی ادائیگی کے بارے میں مدد حاصل کرنے کیلئے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اللہ کی قسم! وہ حجرے کے دروازے پر رکی ہی تھیں میں نے انہیں دیکھ لیا تو مجھے وہ اچھی نہیں لگیں، کیونکہ مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ نبی اکرم ﷺ بھی انہیں اسی طرح پسند کریں گے جس طرح مجھے وہ اچھی لگی تھیں جویریہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! جو صورت حال ہے وہ آپ کے علم میں ہے میں نے کتابت کا معاہدہ کیا ہے اب میں اللہ کے رسول سے مدد حاصل کرنے کیلئے آئی ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا (تم اسے اختیار نہیں کرنا چاہو گی) جو اس سے زیادہ بہتر ہے؟ اس خاتو ن نے دریافت کیا: وہ کیا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ شادی کر لیتا ہوں اور تمہاری طرف سے کتابت کی ادائیگی کر دیتا ہوں۔ اس خاتون نے کہا ٹھیک ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر میں ایسا کر لیتا ہوں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس بات کی اطلاع مسلمانوں کو ملی تو انہوں نے کہا: یہ تو نبی اکرم ﷺ کے سسرالی عزیز بن گئےہیں، تو ان کے پاس جتنے بھی بنو مصطلق کے قیدی تھے ان سب کو آزاد کر دیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ سیّدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شادی کی وجہ سے بنو مصطلق کے ایک سو گھرانے آزاد ہوئے تھے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے علم کے مطابق کوئی اور عورت ایسی نہیں ہے، جو اپنی قوم کے افراد کیلئے سیّدہ جویریہ سے زیادہ برکت والی ثابت ہوئی ہو۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 4054

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4055

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي [ص:363] قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا سَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي سَهْمٍ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوْ لِابْنِ عَمِّهِ، فَكَاتَبَتْ عَلَى نَفْسِهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً لَا يَكَادُ يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا، فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَقَفَتْ عَلَى بَابِ الْحُجْرَةِ فَرَأَيْتُهَا كَرِهْتُهَا وَعَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ، فَقَالَتْ جُوَيْرِيَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ مِنَ الْأَمْرِ مَا قَدْ عَرَفْتَ فَكَاتَبْتُ عَلَى نَفْسِي، فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعِينُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوَ مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ » فَقَالَتْ: وَمَا هُوَ؟ فَقَالَ: «أَتَزَوَّجُكِ وَأَقْضِي عَنْكِ كِتَابَتَكِ»، فَقَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: «قَدْ فَعَلْتُ»، فَلَمَّا بَلَغَ الْمُسْلِمِينَ ذَلِكَ قَالُوا: أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلُوا مَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ مِنْ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ، فَلَقَدْ عُتِقَ بِتَزْوِيجِهِ مِائَةُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ، قَالَتْ: «فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا» *

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکر مﷺ نے بنو مصطلق کے افراد کو قیدی بنا لیا تو جویریہ بنت حارث حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے حصے میں، یا شاید حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے چچا زاد کے حصے میں آئیں انہوں نے کتا بت کا معاہدہ کر لیا وہ ایک خوبصورت خاتون تھیں جو بھی شخص انہیں دیکھتا ان کا گر ویدہ ہو جاتا وہ اپنی کتابت کے بارے میں مدد حاصل کرنے کیلئے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اللہ کی قسم! ابھی وہ حجرے کے دروازے تک ہی پہنچی ہی تھیں کہ میں نے انہیں دیکھ لیا اور مجھے وہ نا پسند ہوئیں ، کیونکہ مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ جس طرح وہ مجھے خوبصورت لگی ہیں اسی طرح نبی اکرم ﷺ کو بھی محسوس ہوں گی۔ جویریہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! جو صورت حال ہے وہ آپ کے علم میں ہے میں نے اپنے لیے کتابت کا معاہدہ کیا ہے، تو میں اللہ کے رسول کی خدمت میں مدد حاصل کرنے کیلئے آئی ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا( تم اس چیز کو اختیار نہیں کرو گی) جو اس سے زیاد ہ بہتر ہے انہوں نے دریافت کیا : وہ کیا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ شادی کر لیتا ہوں اور تمہاری طرف سے کتابت کے معاوضہ کی ادائیگی کر دوں گا۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پھر میں ایسا کرتا ہوں جب اس بات کی اطلاع مسلمانوں کو پہنچی تو انہوں نے کہا: یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے سسرالی عزیز ہیں، تو انہوں نے اپنے پاس موجود بنو مصطلق کے تمام قیدیوں کو آزاد کر دیا۔نبی اکرم ﷺ کے اس شادی کر نے کی وجہ سے بنو مصطلق کے ایک سو گھرانے آزاد ہو گئے تھے۔سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میرے علم کے مطابق کوئی اور عورت ایسی نہیں ہے ، جو اپنی قوم کے افراد کیلئے سیّدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ برکت والی ثابت ہوئی ہو۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي، [ص:522] ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 4055

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4056

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، [ص:364] عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ، وَلَكِنَّهَا لَا تَلِدُ أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ: فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ: فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ»

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے ایک ایسی خاتون کے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کیا ہے، جو مالدار بھی ہے اور خوبصورت بھی ہے، لیکن وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی کیا میں اس کےساتھ شادی کر لوں؟ نبی اکرم ﷺ نے اسے منع کر دیا وہ دوسری مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی بات بیان کی تو نبی اکرم ﷺ نے اسے منع کر دیا وہ تیسری مرتبہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی بات بیان کی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسی عورت کے ساتھ شادی کرو جو محبت کرنے والی ہو اور بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، کیونکہ میں ( قیامت کے د ن) تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔

جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، [ص:364] ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُكْرَمِ بْنِ خَالِدٍ الْبِرْتِيُّ،

Hadith 4056

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4057

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ جَمَالٍ، وَإِنَّهَا لَا تَلِدُ، قَالَ: أَأَتَزَوَّجُهَا؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَنَهَاهُ، وَقَالَ: «تَزَوَّجِ الْوَدُودَ الْوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ»

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں ایک خوبصورت عورت کے ساتھ شا دی کرنا چاہتا ہوں ، لیکن وہ بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی کیا میں اس کے ساتھ شادی کر لوں؟ نبی اکرم ﷺ نے اسے منع کر دیا وہ پھر دوسری مرتبہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے پھر اسے منع کر دیا وہ تیسری مرتبہ آپ ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوا آ پ ﷺ نے اسے پھر منع کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: محبت کرنے والی اور بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی خاتون کے ساتھ شادی کر و کیونکہ میں (قیامت کے دن) تمہاری کثرت پر فخر کروں گا۔

مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، ← الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 4057

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4058

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «تَزَوَّجَهَا فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِهَا فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے شوال کے مہینے میں ان کے ساتھ نکاح پڑھوایا تھا شوال کے مہینے میں ہی ان کی رخصتی ہوئی تھی اور آپ ﷺ کی ازواج میں سے آپ ﷺ کے نزدیک مجھ سے زیادہ محبوب اور کون تھیں۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبُو مُوسَی مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Hadith 4058

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4059

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ*، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَلَى جُلَيْبِيبٍ [ص:366] امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهَا قَالَ: حَتَّى أَسْتَأْمِرَ أُمَّهَا، قَالَ: فَنَعَمْ إِذًا، فَذَهَبَ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ: لَا هَا اللَّهِ إِذًا، وَقَدْ مَنَعْنَاهَا فُلَانًا وَفُلَانًا، قَالَ: وَالْجَارِيَةُ فِي سِتْرِهَا تَسْمَعُ، فَقَالَتِ الْجَارِيَةُ: أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ إِنْ كَانَ قَدْ رَضِيَهُ لَكُمْ فَأَنْكِحُوهُ، قَالَ: فَكَأَنَّهَا حَلَّتْ عَنْ أَبَوَيْهَا، فَقَالَا: صَدَقْتِ، فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنْ رَضِيتَهُ لَنَا رَضِينَاهُ، فَقَالَ: "إِنِّي أَرْضَاهُ" فَزَوَّجَهَا، فَفَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ، وَخَرَجَتْ امْرَأَةُ جُلَيْبِيبٍ فِيهَا، فَوَجَدَتْ زَوْجَهَا وَقَدْ قُتِلَ، وَتَحْتَهُ قَتْلَى مِنَ الْمُشْرِكِينَ، قَدْ قَتَلَهُمْ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَمَا رَأَيْتُ بِالْمَدِينَةِ ثَيِّبًا أَنْفَقَ مِنْهَا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت جلییب کیلئے ایک انصاری خاتون کے ساتھ شادی کا پیغام اس خاتون کے با پ کو دیا ان صاحب نے کہا: میں لڑکی کی والدہ سے مشورہ کر لوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ٹھیک ہے وہ شخص اپنی بیوی کے پاس گیا اس کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو اس عورت نے کہا: جی نہیں اللہ کی قسم! یہ نہیں ہو سکتا ہم نے تو اس لڑ کی کیلئے فلاح اور فلاں شخص کے رشتے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: وہ لڑکی اس وقت پردے کے پیچھے یہ بات سن رہی تھی اس لڑکی نے کہا: کیا آپ اللہ کے رسول کی فرمائش کو قبول نہیں کریں گے اگر نبی اکرم ﷺ اس شخص کے رشتے سے راضی ہیں، تو آپ اس کے ساتھ شادی کر وا دیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: گویا کہ اس لڑکی نے اپنے ماں باپ کی مشکل آسان کر دی۔ انہوں نے جواب دیا : تم نے ٹھیک کہا ہے پھر اس کا والد نبی اکرم ﷺ کی خد مت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: اگر آپ ﷺ اس شخص کیلئے راضی ہیں، تو ہم بھی اس سے راضی ہیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں اس سے راضی ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے اس لڑکی کے ساتھ (حضرت جلییب رضی اللہ عنہ کی ) شادی کر وا دی ( اس کے کچھ عرصے بعد ) اہل مدینہ گھبراہٹ کا شکار ہوئے (یعنی کوئی جنگ ہوئی ) تو حضرت جلییب رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی اس میں گئی انہوں نے اپنے شوہر کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ شہید ہو چکے تھے اور ان کے نیچے مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ مقتو لین بھی تھے جنہیں حضرت جلییب رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے مدینہ منورہ میں ایسی کوئی بیوہ نہیں دیکھی جو اس خاتون سے زیادہ ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کر تی ہو۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ثَابِتٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 4059

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4060

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَاءَ إِلَى [ص:367] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ، فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا» قَالَ: زِنَةُ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا نبی اکرم ﷺ نے ان سے ( اس نشان کے بارے میں ) دریافت کیا: تو انہوں نے نبی اکرمﷺ کو بتایا کہ انہوں نے ایک انصاری کا خاتون کے ساتھ شادی کر لی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : تم نے اسے کتنا مہر دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ایک گھٹلی کے وزن جتنا سونا تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: تم ولیمہ کر و خواہ ایک بکری ( قر بانی کر کے دعوت کر و)۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ

Hadith 4060

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4061

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «أَوْلَمَ عَلَى صَفِيَّةَ بِسَوِيقٍ وَتَمْرٍ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے سیّدہ صفیہ رضی اللہ عنہا ( کے ساتھ شادی کے بعد ) ولیمہ میں ستو اور کھجور کھلائے تھے۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنِهِ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، ← وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ ← سُفْيَانَ، ← حَامِدُ بْنُ يَحْيَى الْبَلْخِيُّ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 4061

chevron_left Previous
1234…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr