Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْقَسْمِ · حديث 4206

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ الطَّسْتِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُنَا فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَمَا أُنْزِلَتْ: {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي} [الأحزاب: 51] إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ»، قَالَتْ مُعَاذَةُ: فَمَا تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَكِ قَالَتْ: أَقُولُ: إِنْ كَانَ ذَاكَ إِلَيَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، بیان کرتی ہیں: اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ۔ "تم ان میں سے جسے چاہو پیچھے کردو، اور جسے چاہو اپنے قریب کر لو"۔ نبی اکرم ﷺ اس خاتون کے دن کے بارے میں ہم سے اجازت لیا کرتے تھے۔ (جس خاتون کی باری ہوتی تھی) معاذہ نامی راوی خاتون نے (سید ہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ) دریافت کیا۔ پھر آپ نبی اکرم ﷺ کو کیا کہتی تھیں۔ جب نبی اکرم ﷺ آپ سے اجازت طلب کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: میں یہ کہتی تھی اگر یہ میرے اختیار میں ہو، تو میں کسی دوسرے کے لیے ایثار نہیں کرتی۔

عَائِشَةَ ← مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ الطَّسْتِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Section section · Hadith 4206

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْقَسْمِ · حديث 4207

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ، فَمَالَ مَعَ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ»

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کو چھوڑ کر دوسری کی طرف مائل ہو، تو وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو ساقط (مفلوج) ہوگا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، ← النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Section section · Hadith 4207

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْقَسْمِ · حديث 4208

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَبْعٌ لِلْبِكْرِ، وَثَلَاثٌ لِلثَّيِّبِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "(شادی ہونے کے بعد) جو بیوی پہلے کنواری تھی اس کے لیے سات دن ہوں گے اور جو پہلے ثیبہ (یعنی بیوہ یا طلاق یافتہ تھی) اس کے لیے تین دن ہوں گے"۔

«سَبْعٌ لِلْبِكْرِ، وَثَلَاثٌ لِلثَّيِّبِ» ← النَّبِيِّ ← أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Section section · Hadith 4208

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْقَسْمِ · حديث 4209

حَدَّثَنَاهُ ابْنُ خُزَيْمَةَ فِي عَقِبِهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْنَاهُ عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُُُُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے منقول ہے۔

النَّبِیِّ مِثْلَہُ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← حَفِظْنَاهُ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ فِي عَقِبِهِ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Section section · Hadith 4209

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْقَسْمِ · حديث 4210

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَهَا أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا، وَقَالَ: «لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ، فَإِنْ سَبَّعْتُ لَكِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ هَذَا هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ هُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ الْقُرَشِيُّ جَمِيعًا مَدَنِيَّانِ»

سیّدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم ﷺ نے ان کے ساتھ شادی کی تو ان کے ہاں تین دن قیام کیا آپ ﷺ نے فرمایا: تم اپنے شاہر کے نزدیک بے حیثیت نہیں ہو اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن رہتا ہوں، لیکن اگر میں تمہارے پاس سات دن رہا تو دیگر ازواج کے پاس بھی سات، سات دن رہوگا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں) محمد بن ابوبکر نامی راوی، محمد بن ابو بکر بن عمرو بن حزم انصاری ہیں اور عبدالملک بن ابوبکر نامی راوی عبدالملک بن ابوبکر عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام قریشی ہیں اور یہ دونوں مدنی ہیں۔

أُمِّ سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Section section · Hadith 4210

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْقَسْمِ · حديث 4211

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أكُونَ فِي مِسْلَاخِهَا مِنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، مِنِ امْرَأَةٍ فِيهَا حِدَةٌ، فَلَمَّا كَبِرَتْ جَعَلَتْ يَوْمَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ جَعَلْتُ يَوْمِي مِنْكَ لِعَائِشَةَ، قَالَتْ: «وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ يَوْمَيْنِ يَوْمَهَا، وَيَوْمَ سَوْدَةَ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، بیان کرتی ہیں: (نبی اکرم ﷺ کی ازواج میں سے) میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب سیّدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا، تھیں وہ ایک ایسی خاتون تھیں جن کے مزاج میں تیزی تھی جب ان کی عمر زیادہ ہوگئی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی طرف سے اپنی باری کا مخصوص دن سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، کو دے دیا۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! میں آپ ﷺ کی طرف سے اپنا مخصوص دن سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیتی ہوں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دو دن دیا کرتے تھے ایک ان کا مخصوص دن اور ایک سیّدہ سودہ رضی اللہ عنہا (کا مخصوص) دن۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← جَرِيرٌ ← يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Section section · Hadith 4211

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْقَسْمِ · حديث 4212

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ، حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا، فَبَرَّأَهَا اللَّهُ، وَكُلٌّ حَدَّثَنِي بِطَائِفَةٍ مِنَ الْحَدِيثِ، وَبَعْضُهُمْ أَوْعَى لِحَدِيثِهَا مِنْ بَعْضٍ وَأَسَدُّ اقْتِصَاصًا، وَقَدْ وَعَيْتُ مِنْ كُلِّ وَاحِدٍ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي بِهِ، وَبَعْضُهُمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا، ذَكَرُوا أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ، قَالَتْ: فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا، فَخَرَجَ سَهْمِي، فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَ الْحِجَابُ، فَأَنَا أُحْمَلُ فِي هَوْدَجِي، وَأُنْزَلُ فِيهِ مَسِيرَنَا، حَتَّى إِذَا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَتِهِ تِلْكَ، وَقَفَلَ، وَدَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ آذَنَ بِالرَّحِيلِ لَيْلَةً، فَقُمْتُ حِينَ آذَنُوا فِي الرَّحِيلِ، فَمَشَيْتُ حَتَّى جَاوَزْتُ الْجَيْشَ، فَلَمَّا قَضَيْتُ شَأْنِي، رَجَعْتُ فَلَمَسْتُ صَدْرِي، [ص:14] فَإِذَا عِقْدٌ مِنْ جَزْعِ ظَفَارٍ قَدْ وَقَعَ فَرَجَعْتُ، فَالْتَمَسْتُ عِقْدِي، فَحَبَسَنِي ابْتِغَاؤُهُ، وَأَقْبَلَ الرَّهْطُ الَّذِينَ يَرْحَلُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمَلُوا هَوْدَجِي وَرَحَلُوهُ عَلَى الْبَعِيرِ الَّذِي كُنْتُ أَرْكَبُ، وَهُمْ يَحْسِبُونَ أَنِّي فِيهِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكَانَ النِّسَاءُ إِذْ ذَاكَ خِفَافًا لَمْ يَغْشَهُنَّ اللَّحْمُ، فَرَحَلُوهُ وَرَفَعُوهُ، فَلَمَّا بَعَثُوا وَسَارَ الْجَيْشُ، وَجَدْتُ عِقْدِي بَعْدَمَا اسْتَمَرَّ الْجَيْشُ، فَجِئْتُ مَنَازِلَهُمْ، وَلَيْسَ بِهَا دَاعِي وَلَا مُجِيبٌ، فَأَقَمْتُ مَنْزِلِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسَةٌ غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنِمْتُ، وَكَانَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيُّ ثُمَّ الذَّكْوَانِيُّ عَرَّسَ فَأَدْلَجَ [ص:15] فَأَصْبَحَ عِنْدَ مَنْزِلِي، فَرَأَى سَوَادَ إِنْسَانٍ، فَعَرَفَنِي حِينَ رَآنِي، وَكَانَ رَآنِي قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ الْحِجَابُ، فَاسْتَيْقَظْتُ بِ اسْتِرْجَاعِهِ حِينَ عَرَفَنِي، فَخَمَّرْتُ وَجْهِي بِجِلْبَابِي، وَاللَّهِ مَا كَلَّمَنِي بِكَلِمَةٍ، وَلَا سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً غَيْرَ اسْتِرْجَاعِهِ حَتَّى أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، فَوَطِئَ عَلَى يَدِهَا، فَرَكِبْتُهُ، ثُمَّ انْطَلَقَ يَقُودُ بِي الرَّاحِلَةَ، حَتَّى أَتَيْنَا الْجَيْشَ بَعْدَمَا نَزَلُوا مُوغِرِينَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، فَهَلَكَ فِي شَأْنِي مَنْ هَلَكَ، وَكَانَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَاشْتَكَيْتُ حِينَ قَدِمْتُهَا شَهْرًا، وَالنَّاسُ يُفِيضُونَ فِي قَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ، وَلَا أَشْعُرُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ وَهُوَ يُرِيبُنِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِأَنِّي لَا أَرَى مِنْهُ اللُّطْفَ الَّذِي كُنْتُ أَرَاهُ مِنْهُ حِينَ أَشْتَكِي، إِنَّمَا يَدْخُلُ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ: «كَيْفَ تِيكُمْ؟ »، فَيُرِيبُنِي ذَلِكَ، وَلَا أَشْعُرُ حَتَّى خَرَجْتُ بَعْدَمَا نَقَهْتُ مِنْ مَرَضِي وَمَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ قَبْلَ الْمَنَاصِعِ، وَهِيَ [ص:16] مُتَبَرَّزُنَا، وَلَا نَخْرُجُ إِلَّا لَيْلًا إِلَى لَيْلٍ، وَذَلِكَ أَنَّا نَكْرَهُ أَنْ نَتَّخِذَ الْكُنُفَ قَرِيبًا مِنْ بُيُوتِنَا، وَأَمْرُنَا أَمْرُ الْعَرَبِ الْأُوَلِ فِي التَّبَرُّزِ، وَكُنَّا نَتَأَذَّى بِالْكُنُفِ قُرْبَ بُيُوتِنَا، فَانْطَلَقْتُ وَمَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ وَهِيَ بِنْتُ أَبِي رُهْمِ بْنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ، وَأُمُّهَا بِنْتُ صَخْرِ بْنِ عَامِرٍ، خَالَةُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَابْنُهَا مِسْطَحُ بْنُ أُثَاثَةَ بْنِ عَبَّادِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، فَأَقْبَلْنَا حِينَ فَرَغْنَا مِنْ شَأْنِنَا لِنَأَتِيَ الْبَيْتَ، فَعَثَرَتْ أُمُّ مِسْطَحٍ فِي مِرْطِهَا، فَقَالَتْ: تَعِسَ مِسْطَحٌ، فَقُلْتُ لَهَا: بِئْسَ مَا قُلْتِ، أَتَسُبِّينَ رَجُلًا قَدْ شَهِدَ بَدْرًا؟ فَقَالَتْ: أَيْ هَنْتَاهُ، أَوَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ؟ قُلْتُ: وَمَا قَالَ؟ فَأَخْبَرَتْنِي بِقَوْلِ أَهْلِ الْإِفْكِ، فَازْدَدْتُ مَرَضًا إِلَى مَرَضِي، وَرَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: «كَيْفَ تِيكُمْ؟ »، فَقُلْتُ: أَتَأْذَنُ لِي أَنْ آتِيَ أَبَوَيَّ؟، وَأَنَا حِينَئِذٍ أُرِيدُ أَنْ أَتَيَقَّنَ الْخَبَرَ مِنْ قِبَلِهِمَا، فَأَذِنَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجِئْتُ أَبَوَيَّ، فَقُلْتُ لِأُمِّي: يَا أُمَّتَاهُ مَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ؟، قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّةَ هَوِّنِي عَلَيْكِ فَوَاللَّهِ لَقَلَّ امْرَأَةٌ وَضِيئَةٌ كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا، وَلَهَا ضَرَائِرُ، إِلَّا أَكْثَرْنَ عَلَيْهَا، قَالَتْ: فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، أَوَتَحَدَّثَ النَّاسُ بِذَلِكَ؟ قَالَتْ: فَمَكَثْتُ [ص:17] تِلْكَ اللَّيْلَةَ لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ، وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ أُصْبِحُ وَأَبْكِي، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، وَهُوَ حِينَئِذٍ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَشِيرَهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ، وَذَلِكَ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ، فَأَمَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَأَشَارَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَمَا لَهُ فِي نَفْسِهِ لَهُمْ مِنَ الْوِدِّ، فَقَالَ: هُمْ أَهْلُكَ وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا، وَأَمَّا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ: لَمْ يُضَيِّقِ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ، [ص:18] وَإِنْ تَسْأَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ، قَالَتْ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِيرَةَ، فَقَالَ: «أَيْ بَرِيرَةُ هَلْ رَأَيْتِ مِنَ عَائِشَةَ شَيْئًا يُرِيبُكِ؟ »، قَالَتْ بَرِيرَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا رَأَيْتُ عَلَيْهَا أَمْرًا قَطُّ أَغْمِضُهُ عَلَيْهَا، أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا فَيَدْخُلُ الدَّاجِنُ فَيَأْكُلُهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ، فَقَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَ أَذَاهُ فِي أَهْلِ بَيْتِي؟ فَوَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ مِنْ أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا، وَلَقَدْ ذَكَرُوا رَجُلًا مَا عَلِمْتُ مِنْهُ إِلَّا خَيْرًا، وَمَا كَانَ يَدْخُلُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا مَعِي»، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: أَنَا أَعْذِرُكَ مِنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كَانَ مِنَ الْأَوْسِ ضَرَبْنَا عُنُقَهُ، وَإِنْ كَانَ مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَفَعَلْنَا أَمْرَكَ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَهُوَ سَيِّدُ الْخَزْرَجِ، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا، وَلَكِنِ احْتَمَلَتْهُ الْحَمِيَّةُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا تَقْتُلُهُ، وَلَا تَقْدِرُ عَلَى قَتْلِهِ، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَقَالَ: كَذَبْتَ لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ، فَإِنَّكَ مُنَافِقٌ تُجَادِلُ عَنِ الْمُنَافِقِينَ، فَثَارَ الْحَيَّانِ الْأَوْسُ [ص:19] وَالْخَزْرَجُ حَتَّى هَمُّوا أَنْ يَقْتَتِلُوا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخَفِّضُهُمْ حَتَّى سَكَتُوا، وَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَكَيْتُ يَوْمِي لَا يَرْقَأُ لِي دَمْعٌ، وَلَا أَكْتَحِلُ بِنَوْمٍ، وَأَبَوَايَ يَظُنَّانِ أَنَّ الْبُكَاءَ فَالِقُ كَبِدِي، فَبَيْنَمَا هُمَا جَالِسَانِ عِنْدِي، إِذِ اسْتَأْذَنَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَذِنْتُ لَهَا، فَجَلَسَتْ مَعِي، فَبَيْنَمَا نَحْنُ عَلَى حَالِنَا ذَلِكَ، إِذْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ، وَلَمْ يَكُنْ جَلَسَ قَبْلَ يَوْمِي ذَلِكَ مُذْ كَانَ مِنْ أَمْرِي مَا كَانَ، وَلَبِثَ شَهْرًا لَا يُوحَى إِلَيْهِ، قَالَتْ: فَتَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَقَدْ بَلَغَنِي يَا عَائِشَةُ عَنْكِ كَذَا وَكَذَا، فَإِنْ كُنْتِ بَرِيئَةً فَسَيُبَرِّئُكِ اللَّهُ، وَإِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي، فَإِنَّ الْعَبْدَ إِذَا اعْتَرَفَ بِالذَّنْبِ ثُمَّ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ»، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَالَتَهُ، قَلَصَ دَمْعِي حَتَّى مَا أَحِسُّ مِنْهُ بِقَطْرَةٍ، فَقُلْتُ لِأَبِي: أَجِبْ عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِأُمِّي: أَجِيبِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَا أَدْرِي مَا أَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ وَأَنَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ، لَا أَقْرَأُ كَثِيرًا مِنَ الْقُرْآنِ: إِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّكُمْ سَمِعْتُمْ بِذَاكَ حَتَّى اسْتَقَرَّ فِي أَنْفُسِكُمْ وَصَدَّقْتُمْ بِهِ، فَإِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي بَرِيئَةٌ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي بَرِيئَةٌ لَمْ تُصَدِّقُونِي، وَإِنِ اعْتَرَفْتُ لَكُمْ بِأَمْرٍ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ [ص:20] أَنِّي بَرِيئَةٌ لَتُصَدِّقُونِي، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَجِدُ مَثَلِي وَمَثَلَكُمْ إِلَّا كَمَا قَالَ أَبُو يُوسُفَ: {فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ} [يوسف: 18]، ثُمَّ تَحَوَّلْتُ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى فِرَاشِي وَأَنَا وَاللَّهِ حِينَئِذٍ أَعْلَمُ أَنِّي بَرِيئَةٌ، وَإِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا يُبَرِّئُنِي بِبَرَاءَتِي، وَلَكِنْ لَمْ أَظُنُّ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا يُنَزِّلُ فِي شَأْنِي وَحْيًا يُتْلَى، وَلَشَأْنِي كَانَ أَحْقَرَ فِي نَفْسِي مِنْ أَنْ يَتَكَلَّمَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا فِيَّ بِأَمْرٍ يُتْلَى، وَلَكِنْ أَرْجُو أَنْ يَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِهِ رُؤْيَا يُبَرِّئُنِي اللَّهُ بِهَا، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا رَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسَهُ، وَلَا خَرَجَ مِنَ الْبَيْتِ أَحَدٌ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَهُ مَا كَانَ يَأْخُذُهُ مِنَ الْبُرَحَاءِ عِنْدَ الْوَحْيِ مِنْ ثِقَلِ الْقَوْلِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ أَوَّلُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا، أَنْ قَالَ: «يَا عَائِشَةُ، أَمَا وَاللَّهِ فَقَدْ بَرَّأَكِ اللَّهُ»، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: قُومِي إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ، وَلَا أَحْمَدُ إِلَّا اللَّهَ الَّذِي هُوَ أَنْزَلَ بَرَاءَتِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ {إِنَّ الَّذِينَ جَاءُوا بِالْإِفْكِ عُصْبَةٌ مِنْكُمْ}، الْعَشْرُ الْآيَاتُ، قَالَتْ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَاتِ فِي بَرَاءَتِي، [ص:21] وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ يُنْفِقُ عَلَى مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَفَقْرِهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَنْفِقُ عَلَيْهِ أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ لِعَائِشَةَ مَا قَالَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ} [النور: 22]، إِلَى قَوْلِهِ: {أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ} [النور: 22]، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لِي، فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحٍ بِالنَّفَقَةِ الَّتِي كَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَنْزِعُهَا مِنْهُ أَبَدًا، قَالَتْ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ عَنْ أَمْرِي مَا عَلِمْتِ وَمَا رَأَيْتِ؟ فَقَالَتْ: أَحْمِي سَمْعِي [ص:22] وَبَصَرِي مَا عَلِمْتُ إِلَّا خَيْرًا، قَالَتْ: وَهِيَ الَّتِي كَانَتْ تُسَامِينِي مِنْ أَزْوَاجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِالْوَرَعِ، وَطَفِقَتْ أُخْتُهَا حَمْنَةُ بِنْتُ جَحْشٍ تُحَارِبُ لَهَا، فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: «فَهَذَا مَا انْتَهَى إِلَيَّ مِنْ أَمْرِ هَؤُلَاءِ الرَّهْطِ»

امام زہری نے سعیدبن مسیّب ، عروہ بن زبیر، علقمہ بن وقاص ، عبید اللہ بن عبداللہ کے حوالے سے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ روایت نقل کی ہے، جس میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر جھوٹا الزام لگایا گیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس سے بری قرار دیاتھا (ابن شہاب کہتے ہیں) ان تمام حضرات نےمجھے یہ حدیث سنائی تھی کسی نے اس حدیث کے زیادہ الفاظ کو محفوظ رکھا اور کسی نے اس کو مختصر طور پر نقل کیا میں نے اس تمام حدیث کو محفوظ کر لیا جو انہوں نے مجھے بیا ن کی تھی اور ان میں سے ایک کا بیا ن دوسرے کی تصدیق کرتا تھا ان لوگوں نے یہ روایت ذکر کی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ کی عادت شریفہ تھی کہ جب آپ کسی سفر کے لیے تشریف لے جاتے تھے ، تو اپنی ازواج کے درمیان قرعہ اندازی کیا کرتے تھے ان میں سے جس کا نام نکل آتا تھا آپ ﷺ اس خاتون کو اپنے ساتھ لے جایا کرتے تھے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے کسی غزوہ کے لیے سفر کرنے سے پہلے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو میرا نام نکل آیا ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوگئے یہ حجاب کا حکم نازل ہو جانے کے بعد کی بات ہے مجھے ہودج میں ٹھہرایا گیا اور سفر کے دوران جب ہم پڑاؤ کرتے تھے ، تو وہ اس میں رہتی تھیں،یہاں تک کہ جب نبی اکرم ﷺ اس غزوہ سے فارغ ہوئے اور آپ ﷺ واپس تشریف لائے اور ہم مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو (ایک پڑاؤ کے دوران) نبی اکرم ﷺ نے رات کےوقت روانگی کا اعلان کر دیا جب لوگوں نے روانگی کی تیاری کی اس وقت میں اٹھی اور چلتی ہوئی لشکر سے پرے چلی گئی میں نے اپنی حاجت کوپورا کیا جب میں واپس آئی اور میں نے اپنے سینے کو ہاتھ لگایا تو پتھروں سے بنا ہوا ہار کہیں گر چکا تھا میں واپس آئی میں نے اپنے ہار کو تلاش کیا اس کی تلاش میں ، میں وہیں رکی ری وہ لوگ آئے جو نبی اکرم ﷺ کے لیے (روانگی کے وقت سازو سامان وغیرہ) اٹھاتے تھے انہوں نے میرے ہودج کو اٹھایا اور اسے اٹھا کر اس اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی وہ یہ سمجھے کہ میں اس کے اندر موجود ہوں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیاب کرتی ہیں: ان دنوں خواتین ہلکی پھلکی ہوتی تھیں انہیں گوشت نے ڈھانپا نہیں ہوتا تھا ان لوگوں نے اسے اٹھایا اور اسے اونٹ پر رکھ دیا جب وہ لوگ اس سے فارغ ہوئے، تو لشکر روانہ ہو گیا لشکر کے روانہ ہوجانے کے بعد مجھے اپنا ہار مل گیا میں پڑاؤ کی جگہ پر آئی تو ہیاں نہ کوئی بلانےوالا تھا اور نہ کوئی جواب دینے والا تھا میں اسی جگہ پر ٹھہر گھی جہاں میں پہلے موجود تھی میں وہاں بیٹھی ہوئی تھی اسی دوران میرے آنکھ لگ اور میں سو گئی۔ حضرت صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ نے رات کے وقت پڑاؤ کیا تھا وہ صبح کے وقت چلتے ہوئے میری رہائشی جگہ کے پاس آگیے انہوں نے کسی انساکا ہیولاد دیکھا تو(میری طرف آئے) جب انہوں نے مجھے دیکھا تو مجھےپہچان گیے، کیونہ وہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے مجھے دیکھ چکے تھے ان کے انا للہ وانا للہ وانا الیہ راجعون پڑھنے پر میں بیدار ہوگئی جوانہوں نے مجھے پہچان کر پڑھا تھامیں نے اپنی چادر کے ذریعے اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا اللہ کی قسم! نہ تو انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات کی اور نہ ہی میں نے ان کی زبانی انا للہ وانا للہ وانا الیہ راجعون کے علاوہ کوئی کلمہ سنا۔ انہوں نے اپنی سواری کو بٹھایا اور میں اس پر سوار ہوگئی پھر وہ اس سواری کو لے کر چل پڑے ، یہاں تک کہ ہم لشکر کے پاس آگئے اس وقت جب انہوں نے دن چڑھ جانے کے بعد پڑاؤ کیا ہوا تھا۔ تومیرے اس واقعے کے حوالے سے کچھ لوگ ہلاکت کا شکار ہوئے اور ان میں سب سے زیادہ حصہ لینے والا شخص عبداللہ بن ابی بن سلول تھا۔ (سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) میں مدینہ منورہ آگئی مدینہ منورہ آنے کے بعد میں ایک ماہ تک بیمار رہی لو گ جھوٹا الزام لگانے والوں کے بارے میں جو بات چیت کررہے تھے مجھے اس میں سے کسی بھی چیز کا علم نہیں تھا۔ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے مجھے کچھ الجھن ہوتی تھی، کیونکہ آپ ﷺ میرا اس طرح سے خیال نہیں رکھ رہے تھے جس طرح پہلے میرے بیماری کے دوران آپ ﷺ میرا خیال رکھا کرتے تھے آپ ﷺ میرے ہاں تشریف لاتے تھے اور دریافت کرتے تھے تمہارا کیا حال ہے یہ چیز مجھے شک میں مبتلا کرتی تھی، لیکن مجھے حقیقت کا پتہ نہیں تھا اپنی بیماری کی وجہ سے نقاہت کا شکار ہونے کے بعد ایک مرتبہ میں گھر سے (قضائے حاجت کے لیے) نکلی میرے ساتھ ام مسطح تھیں ہم مناصع (کھلے میدان) کی طرف گئے جو ہمارے قضائے حاجت کرنے جگہ تھی ہم (خواتین) صرف رات کے وقت ہی وہاں جایا کرتی تھیں اس کی وجہ یہ ہے: ہم لوگ اس چیز کو ناپسند کرتے تھے کہ بیت الخلاء گھر کے قریب موجود ہو ہمارا معاملہ پہلے زمانے کے عربوں کے معاملے کی طرح تھا کہ ہم ان کی طرح (کھلی جگہوں پر جا کر) قضائے حاجت کیا کرتے تھے اور گھر کے قریب بیت الخلاء موجو د ہونے سے ہمیں اذیت محسوس ہوتی تھی میں جارہی تھی میرے ساتھ ام مسطح تھیں وہ ابورہم بن مطلب بن عبدمناف کی صاحبزادی تھیں ان کی والدہ صخر بن عامر کی صاحبزادی تھیں جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں اور ان کا بیٹا مسطح بن اثاثہ بن عباد مطلب تھا ہم اپنے کام سے فارغ ہونے کے بعد گھر آنے کے لیے واپس آرہی تھیں اسی دوران ام مسطح کا پاؤں ان کی چادر میں الجھ گیا تو انہوں نے (گرنے سے بچتے ہوئے) یہ کہامسطح برباد ہوجائے میں نے ان سے کہا آپ نے بری بات کہی ہے آپ ایک ایسےشخص کو برا کہہ رہی ہیں جو غزہ بدر میں شریک ہو چکا ہے، تو انہوں نے کہا: اے بھولی خاتون کیا آپ نے نہیں سنا کہ اس نے کیا کیا ہے؟ میں نے دریافت کیا: ان نے کیا کیا ہے، تو انہوں نے مجھے الزام لگانے والوں کے بیان کے بارے میں بتایا۔ (سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) اس سے میری بیماری میں اضافہ ہوگیا میں اپنے گھر واپس آئی۔ نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے سلام کیا پھر آپ ﷺ نے دریافت کیا: تمہارا کیا حال ہے۔ میں نے عرض کی: کیا آپ ﷺ مجھے اس بات کی اجازت دیں گے کہ میں اپنے ماں باپ کے پاس چلی جاؤں؟ اس وقت میں یہ چاہتی تھی کہ اپنے والدین سےاس خبر کے بارے میں یقینی معلومات حاصل کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھے اجازت دے دی میں اپنے ماں باپ کے پاس چلی جاؤں؟ اس وقت میں یہ چاہتی تھی کہ اپنے والدین سے اس خبر کے بارے میں یقینی معلومات حاصل کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے مجھے اجازت دے دی میں اپنے والدین کےہاں آئی میں نے اپنی والدہ سے دریافت کیا: اے امی جان لوگ کیا بات چیت کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: اے میری بیٹی تم پر سکون رہو، اللہ کی قسم ! جو بھی عورت اپنےشوہر کے نزدیک زیادہ خوب صورت ہو اور مرد اس سے محبت کرتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں، تو وہ اس سے زیادہ زیادتی کر دیا کرتی تھیں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے کہا : سبحان اللہ کیا لوگ اس قسم کی بات چیت کر رہے ہیں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اس رات میرا یہ عالم تھا کہ میرے آنسو تھمتے نہیں تھے اور صبح ہوجانے تک مجھے نیند نہیں آئی میں مسلسل روتی رہی۔ (اسی دوران کسی وقت میں) نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بلوایا آپ ان دونوں صاحبان سے اپنی اہلیہ (یعنی سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) سے علیحدگی اختیار کرنے کے بارے میں مشورہ کرنا چاہتے تھے یہ اس وقت کی بات ہے،جب اس بارے میں وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ جہاں تک حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا تعلق تھا تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں یہی گزارش کی کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی اہلیہ کے بر ی الذمہ ہونے سے واقف تھے اور اس چیز کا ذکر کیا جو نبی اکرمﷺ کو اپنی اہلیہ سے محبت تھی انہوں نے کہا: وہ آپ کی اہلیہ ہیں۔ ان کے بارے میں ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے، لیکن جہاں تک حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کا تعلق تھا تو انہوں نے یہ کہا: اللہ تعالیٰ نے آپ کو کوئی تنگی نہیں دی ہے ان کے علاوہ بھی خواتین بے شمار ہیں، لیکن اگر آپ گھر کی خادمہ سے پوچھیں گے تو وہ آپ کے ساتھ سچ بیانی کرے گی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے بریرہ کو بلایا اور فرمایا: اے بریرہ ! کیا تم نے عائشہ کے حوالے سے کوئی ایسی چیز دیکھی ہے، جو تمہیں شک کا شکار کرے؟ بریرہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے میں نے ان میں صرف ایک چیز دیکھی ہے، جس پر میں اعتراض کر سکتی ہوں یہ کہ وہ کم سن لڑکی ہیں ان کی عمر تھوڑی ہے وہ آٹا گوندھ کے سو جاتی ہیں اور بکری آ کر آٹے کو کھا جاتی ہے۔ نبی اکرم ﷺ ( لوگوں کے درمیان ) کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے عبداللہ بن ابی سلول کی شکایت کی اور فرمایا: آپ اس وقت منبر پر موجود تھے (آپ ﷺ نے فر مایا ) " اے مسلمانوں کے گروہ اس شخص کے حوالے سے کون میرے سامنے عذر پیش کرے گا، جس کی اذیت میرے گھر والوں تک پہنچ چکی ہے اللہ کی قسم ! مجھے اپنی اہلیہ کے بارے میں صرف بھلائی کا علم ہے اور انہوں نے جس مرد پر الزام لگایا ہے اس کے بارے میں بھی مجھے صرف بھلائی کا علم ہے وہ میرے گھر میں ہمیشہ میرے ساتھ ہی داخل ہوا ہے اس پر حضرت سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! اس کی طرف سے میں آپ کی خدمت میں یہ گزارش کرتا ہوں کہ اگر وہ اوس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے، تو ہم اس کی گردن اڑا دیتے ہیں اور اگر وہ خزرج قبیلے سے تعلق رکھتا ہے، تو آپ ہمیں حکم دیں ہم آپ کے حکم کی پابندی کریں گے اس پر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے وہ خزرج قبیلے کے سردار تھے وہ ویسے نیک آدمی تھے، لیکن اس وقت قبائلی حمیت ان پر غالب آ گئی انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم اس شخص کو قتل نہیں کر سکتے اور نہ ہی تم اس شخص کو قتل کر سکو گے۔ اس پر حضرت سیّد بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے جو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چچا زاد تھے انہوں نے کہا: آپ غلط کہہ رہے ہیں اللہ کی قسم! ہم اس شخص کو ضرور قتل کریں گے آپ منافق ہیں اور منافقوں کی طرف سے جھگڑا کر رہے ہیں اس پر اوس اور خزرج قبیلے کے لوگوں کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا، یہاں تک کہ نوبت باقاعدہ لڑائی تک پہنچ گئی۔ نبی اکرم ﷺ انہیں خاموش کرواتے رہے، یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے۔ نبی اکرم ﷺ بھی خاموش ہو گئے میں پورا دن روتی رہی میرے آنسو تھمتے نہیں تھے اور مجھے نیند نہیں آتی تھی میرے ماں باپ کو یوں لگتا تھا جیسے رونے کی وجہ سے میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ ابھی وہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران انصار کی ایک عورت نے میرے پاس اند ر آنے کی اجازت مانگی میں نے اسے اجازت دے دی وہ میرے پاس بیٹھ گئی ابھی ہم اسی حالت میں بیٹھی ہوئی تھیں کہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے آپ ﷺ نے سلام کیا پھر آپ ﷺ تشریف فرما ہوئے جب سے میرے ساتھ یہ صورت حال درپیش آئی تھی اس کے بعد نبی اکرم ﷺ اس دن کے علاوہ کبھی بھی اس سے پہلے اس طرح نہیں بیٹھے تھے ایک مہینہ گزر چکا تھا نبی اکرم ﷺ کی طرف کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺنے کلمہ تشہد پڑھا پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اما بعد! اے عائشہ تمہارے حوالے سے اس، اس طرح کی اطلاعات مجھ تک پہنچی ہیں اگر تم بری ہو، تو اللہ تعالیٰ تمہاری برات کو ظاہر کر دے گا اور اگر تم نے گناہ کا ارادہ کیا تھا تو تم اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور توبہ کرو، کیونکہ جب انسان گناہ کا اعتراف کر لے اور پھر توبہ کر لے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کر لیتا ہے۔ جب نبی اکرم ﷺ نے اپنی بات مکمل کر لی تو میرے آنسو رک گئے، یہاں تک کہ مجھے ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوا میں نے اپنے والد سے کہا: آپ میری طرف سے اللہ کے رسول کو جواب دیں۔ انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں اللہ کے رسول کو کیا جواب دوں؟ میں نے اپنی والدہ سے کہاآپ میری طرف سے اللہ کے رسول کو جواب دیں انہوں نے بھی یہی کہا۔ اللہ کی قسم ! مجھے نہیں سمجھ آ رہی کہ میں اللہ کے رسول سے کیا کہوں (سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) تو میں نے کہا: میں ایک لڑکی ہوں جس کی عمر کم ہے مجھے زیادہ قرآن نہیں آتا ، لیکن اللہ کی قسم! مجھے اس بات کا پتہ ہے ، آپ لوگوں نے اس بارے میں بات سنی اور یہ آپ کی ذہن میں پختہ ہوگئی اور آپ نے (دلی طور پر ) اس کو سچ سمجھ لیا اگر میں آپ سے یہ کہوں کہ میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے ، میں بری ہوں، تو آپ میری تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں اس حوالے سے آپ کے سامنے اعتراف کر لوں حالانکہ اللہ جانتا ہے، میں اس سے بری ہوں، تو پھر آپ مجھے سچا سمجھیں گے اللہ کی قسم! اپنے اور آپ کے معاملے میں مجھے صرف وہی بات سمجھ آ رہی ہے، جو حضرت یو سف علیہ السلام کے والد نے کہی تھی۔ " تو اب صبر کرنا ہی بہتر ہے اور جو لو گ تم کہہ رہے ہو اس کے حوالے سے اللہ ہی سے مدد لی جاسکتی ہے"۔ (سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں:) پھر میں نے رخ موڑ ااور اپنے بستر پر لیٹ گئی اللہ کی قسم! اس وقت میں یہ بات جانتی تھی کہ میں بری الذمہ ہوں اور اللہ تعالیٰ میرے بری ہونے کا اظہار کر دے گا، لیکن مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی وحی نازل کر دے گا، جس کی تلاوت کی جائے گی میرے نزدیک میری ذات کی یہ حیثیت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی ایسا کلام نازل کرے جس کی تلاوت کی جائے مجھے یہ امید تھی کہ نبی اکرم ﷺ خواب میں کوئی ایسا خواب دیکھ لیں گے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ میری برات کا اظہار کر دے گا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم ! ابھی نبی اکرم ﷺ اپنی اس جگہ سے ہٹے بھی نہیں تھے اور گھر میں موجود افراد میں سے کوئی بھی شخص گھر سے باہر نہیں نکلا تھا کہ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر وحی نازل کر دی وحی کے نزول کے وقت اس کے نزول کی شدت کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ کی جو کیفیت ہوتی تھی وہ آپ ﷺپر طاری ہو گئی جب نبی اکرم ﷺ کی یہ کیفیت ختم ہوئی تو آپ ﷺ نے سب سے پہلے یہ بات کہی: اے عائشہ ! اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے تمہارے بری الذمہ ہونے (کا حکم نازل کر دیا ہے) میری والدہ نے مجھ سے کہا تم اٹھ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤ تو میں نے کہا: اللہ کی قسمﷺ! میں نبی اکرم ﷺ کے سامنے نہیں کھڑی ہوں گی اور میں صرف اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کروں گی، جس نے میری برات کا حکم نازل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ "تم میں سے ایک گروہ نے جو جھوٹا الزام لگایا"۔ اس کے بعد کی دس آیات ہیں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات میرے بری ہونے کے بارے میں نازل کی تھیں۔ (سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ، حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی رشتے داری اور ان کی غربت کی وجہ سے ان پر خر چ کیا کرتے تھے انہوں نے یہ کہا: اس نے عائشہ کے بارے میں جو کہا ہے اللہ کی قسم! اس کے بعد میں کبھی بھی اس پر کچھ خرچ نہیں کروں گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ ”تم میں سے فضیلت رکھنے والے لوگ اور گنجائش رکھنے والے لوگ یہ قسم نہ اٹھائی “۔ یہ آیت یہاں تک ہے۔ ”کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کردے“۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت کر دے اس کے بعد انہوں نے حضرت مسطح رضی اللہ عنہ کو اسی طرح خرچ دینا شروع دکر دیا جس طرح وہ پہےل انہیں خرچ دیا کرتے تھے اور انہوں نے کہ ا: اللہ کی قسم ! اس کے بعد میں اسے کبھی ترک نہیں کروں گا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ نے میرے معاملے کے بارے میں سیّدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے بھی دریافت کیا تھا: تم اس بارے میں کیا جانتی ہو اور تمہاری اس بارے میں کیا رائے ہے ، تو سیّدہ زینب رضی اللہ عنہا نے جواب دیا تھا: میں اپنے کانوں اور اپنی آنکھوں کو محفوظ کرتی ہوں مجھے صرف بھلائی کا علم ہے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرمﷺ کی ازواج میں سے یہ وہ خاتون تھیں جو میری برابری کی دعوے دار تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی پرہیزگاری کی وجہ سے انہیں (الزام لگانے سے ) محفوظ رکھا جب کہ ان کی بہن حمنہ بنت جحش نے ان کے لیے جھگڑا کرتے ہوئے (الزام لگانے والوں میں حصہ لیا) اور وہلاکت کا شکار ہونے والوں میں شامل ہو گئی۔ امام زہری بیان کرتے ہیں: ان لوگوں کے واقعہ کے بارے میں یہ وہ روایت ہے، جو مجھ تک پہنچی ہے۔

فَبَرَّأَهَا اللَّهُ وَكُلٌّ ← لها أهل الإفك ما ← حَدِيثِ عَائِشَةَ حِينَ ← قَّاصٍ وَعُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ بْنِ. ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Section section · Hadith 4212

chevron_left Previous
1…13141516
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr