Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4182

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الْمَرْءُ أَهْلَهُ لَيْلًا، أَوْ يُخَوِّنَهُمْ وَيَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے( کہ سفر سے واپسی پر طویل غیر حاضری کے بعد) کوئی شخص رات کے وقت اپنی بیوی کے پاس چلا جائے یا اپنی بیوی کی خیانت معلوم کرنا چاہے (یعنی اس کی جاسوسی کرے ) یا اس کے پوشیدہ معاملات کی کھوج لگائے۔ اس بات کا تذکرہ، آدمی کے لیے یہ بات مستحب ہے، وہ اپنی بیوی کو اپنے لیے حرام قرار نہ دے جو کسی ایسے سبب کے بغیر ہو جو (حرام قراردینے کو ) لازم کر دیتا ہےیا ان اسباب میں سے کوئی چیز ہو ( جو حرام قرار دینے کو لازم کر دیتی ہے)

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ أَنْ يَطْرُقَ الْمَرْءُ أَهْلَهُ لَيْلًا، أَوْ يُخَوِّنَهُمْ وَيَلْتَمِسَ عَثَرَاتِهِمْ» ← جَابِرٍ ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4182

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4183

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَزْعُمُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا قَالَتْ: فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ إِنْ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ الْمَغَافِرِ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: «بَلْ شَرِبْتُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ عَسَلًا وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَتْ {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ} [التحريم: 1] الْآيَةَ»

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ سیّدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہر تے تھے آپ ﷺ ان کے پاس شہد پیا کرتے تھے۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرت ہیں: میں نے اور حفصہ نے یہ طے کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائیں گے تو تم نے یہ کہنا ہے، مجھے آپﷺ سے مغافر کی بو محسوس ہوتی ہے پھر نبی اکرم ﷺ ان دونوں خواتین میں سے کسی ایک کے پاس تشریف لائے، تو اس خاتون نے یہی بات کہہ دی۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: (جی نہیں)، بلکہ میں نے تو زینب بنت حجش کے ہاں شہد پیا تھا اب میں یہ دوبارہ نہیں پیوں گا ، تو یہ آیت نازل ہوئی۔ " اے نبی ! تم اس چیز کو کیوں حرام قرار دیتے ہو"۔

عَائِشَةَ تَزْعُمُ ← عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← حجاج، ← أَبُو مَعْمَرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4183

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4184

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقَهَا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ»

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو عورت اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کسی (شرعی )خرابی کے بغیر کرتی ہے ایسی عورت کیلئے جنت کی خوشبو حرام ہوتی ہے"۔

«أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقَهَا مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ» ← النَّبِيِّ ← ثَوْبَانَ، ← أَبِي أَسْمَاءَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4184

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4185

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْذَرَ أَبَا بَكْرٍ عَنْ عَائِشَةَ وَلَمْ يَظُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنَالَهَا بِالَّذِي نَالَهَا فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ يَدَهُ فَلَطَمَهَا وَصَكَّ فِي صَدْرِهَا فَوَجَدَ مِنْ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَنَا بِمُسْتَعْذِرِكَ مِنْهَا بَعْدَهَا أَبَدًا»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شکایت کی نبی اکرم ﷺ کو یہ اندازہ نہیں کیا تھا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس پر (اتنا سخت ) رد عمل ظاہر کریں گے جو انہوں نے ظاہر کیا (یہ شکایت سن کر) حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپناہاتھ اٹھایا اور سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو طمانچہ لگا دیا اور ان کے سینے پر (ہاتھ مار کر ) دھکا بھی دیا اس بات پر نبی اکرم ﷺ کو افسوس ہوا آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابو بکر آج کے بعد میں کبھی تمہیں (عائشہ ) کی شکایت نہیں لگاؤں گا۔

عَائِشَةَ ← يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4185

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4186

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَمِّهِ عُمَارَةِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الرِّجَالَ اسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَضَرَبُوهُنَّ فَبَاتَ فَسَمِعَ صَوْتًا عَالِيًا فَقَالَ: «مَا هَذَا» قَالُوا: أَذِنْتَ لِلرِّجَالِ فِي ضَرْبِ [ص:492] النِّسَاءِ فَضَرَبُوهُنَّ فَنَهَاهُمْ وَقَالَ: «خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا مِنْ خَيْرِكُمْ لِأَهْلِي»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:کچھ مردوں نے نبی اکرم ﷺ سے خواتین (یعنی اپنی بیویوں ) کو مارنے کی اجازت مانگی ، تو نبی اکر مﷺ نے انہیں اجازت دے دی ان لوگوں نے اپنی بیویوں پٹائی کی۔ رات کے وقت نبی اکرم ﷺکو بلند آواز سنائی دی آپ ﷺ نے دریافت کیا: اس کی وجہ کیا ہے لوگوں نے بتایا : آپ ﷺ نے مردوں کو خواتین کی پٹائی کرنے کی اجازت دی ہے، تو ان مردوں نے خواتین کی پٹائی کی (جس کی وجہ سے وہ خواتین رونے لگیں اور اس کی یہ آواز ہے ) تو نبی اکرم ﷺ نے مردوں کو اس سے منع کر دیا اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "تم میں سب سے بہتر شخص وہ ہے، جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور میں اپنی بیوی کے حق میں تم سب سےزیادہ بہتر ہوں"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَمِّهِ عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ، ← جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4186

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4187

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى أَنْ أَسْأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنِ الْمَرْأَتَيْنِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اللَّتَيْنِ قَالَ اللَّهُ لَهُمَا {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} [التحريم: 4] حَتَّى حَجَّ فَحَجَجْتُ مَعَهُ فَعَدَلَ وَعَدَلْتُ مَعَهُ بِإِدَاوَةٍ فَتَبَرَّزَ، ثُمَّ جَاءَ فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةٍ فَتَوَضَّأَ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَنِ الْمَرْأَتَانِ مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّتَانِ قَالَ لَهُمَا اللَّهُ: {إِنْ تَتُوبَا إِلَى اللَّهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا} [التحريم: 4]، فَقَالَ عُمَرُ: وَاعَجَبًا مِنْكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ هِيَ حَفْصَةُ، وَعَائِشَةُ، ثُمَّ اسْتَقْبَلَ عُمَرُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: «إِنِّي كُنْتُ أَنَا وَجَارٌ لِي مِنَ الْأَنْصَارِ فِي بَنِي أُمَيَّةَ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ مِنْ عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكُنَّا نَتَنَاوَبُ النُّزُولَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:493] يَنْزِلُ يَوْمًا وَأَنْزِلُ يَوْمًا فَإِذَا نَزَلْتُ جِئْتُهُ بِخَبَرِ ذَلِكَ الْيَوْمِ مِنَ الْوَحْيِ وَغَيْرِهِ وَإِذَا نَزَلَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَكُنَّا مَعَاشِرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ النِّسَاءَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى الْأَنْصَارِ إِذَا قَوْمٌ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَطَفِقَ نِسَاؤُنَا يَأْخُذْنَ مِنْ نِسَاءِ الْأَنْصَارِ فَصَخِبَتْ عَلَيَّ امْرَأَتِي فَرَاجَعَتْنِي، فَأَنْكَرْتُ أَنْ تُرَاجِعَنِي، قَالَتْ: وَلِمَ تُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرَاجِعْنَهُ، وَإِنَّ إِحْدَاهُنَّ لَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ فَأَفْزَعَنِي ذَلِكَ، فَقُلْتُ: خَابَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ، ثُمَّ جَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَنَزَلْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، فَقُلْتُ لَهَا: يَا حَفْصَةُ أَتُغْضِبُ إِحْدَاكُنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَهْجُرُهُ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ، قَالَتْ: نَعَمْ، قُلْتُ: قَدْ خِبْتِ وَخَسِرْتِ أَفَتَأْمَنِينَ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ لِغَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَهْلِكِينَ؟، لَا تَسْتَنْكِرِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تُرَاجِعِيهِ وَلَا تَهْجُرِيهِ وَسَلِينِي مَا بَدَا لَكِ وَلَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَضْوَأَ وَأَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرِيدُ عَائِشَةَ - قَالَ عُمَرُ: وَقَدْ تُحِدِّثْنَا أَنَّ غَسَّانَ تَنْعَلُ الْخَيْلَ لِتَغْزُوَنَا فَنَزَلَ صَاحِبِي الْأَنْصَارِيُّ يَوْمَ نَوْبَتِهِ فَرَجَعَ إِلَيَّ عَشِيًّا فَضَرَبَ بَابِي ضَرْبًا شَدِيدًا فَفَزِعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: قَدْ حَدَثَ أَمَرٌ عَظِيمٌ، قُلْتُ: مَا هُوَ أَجَاءَتْ غَسَّانُ، قَالَ: لَا بَلْ أَعْظَمُ وَأَطْوَلُ طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، قَالَ عُمَرُ: قُلْتُ: خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ قَدْ كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ هَذَا يُوشِكُ أَنْ يَكُونَ قَالَ، فَجَمَعْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي فَصَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ [ص:494] رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَشْرُبَةً لَهُ اعْتَزَلَ فِيهَا،. قَالَ: وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَإِذَا هِيَ تَبْكِي قُلْتُ: وَمَا يُبْكِيكِ أَلَمْ أَكُنْ أُحَذِّرُكِ هَذَا أَطَلَّقَكُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: لَا أَدْرِي هَا هُوَ ذَا مُعْتَزِلٌ فِي هَذِهِ الْمَشْرُبَةِ، فَخَرَجْتُ فَجِئْتُ الْمِنْبَرَ فَإِذَا حَوْلَهُ رَهْطٌ يَبْكُونَ فَجَلَسْتُ مَعَهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ الْمَشْرُبَةَ الَّتِي فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لِغُلَامٍ أَسْوَدَ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ، قَالَ: فَدَخَلَ الْغُلَامُ فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ فَقَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَانْصَرَفْتُ حَتَّى جَلَسْتُ مَعَ الرَّهْطِ الَّذِينَ عِنْدَ الْمِنْبَرِ ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَجِدُ فَجِئْتُ فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ: اسْتَأْذِنْ لِعُمَرَ فَدَخَلَ ثُمَّ رَجَعَ، قَالَ: قَدْ ذَكَرْتُكَ لَهُ فَصَمَتَ فَلَمَّا أَنْ وَلَّيْتُ مُنْصَرِفًا إِذَا الْغُلَامُ يَدْعُونِي يَقُولُ: قَدْ أَذِنَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى رِمَالِ حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِهِ مُتَّكِئً عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَسَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْتُ وَأَنَا قَائِمٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلَّقْتَ نِسَاءَكَ؟، فَرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ: » لَا «، فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي وَكُنَّا مَعَاشِرَ قُرَيْشٍ نَغْلِبُ نِسَاءَنَا فَلَمَّا أَنْ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قَدِمْنَا عَلَى قَوْمٍ تَغْلِبُهُمْ نِسَاؤُهُمْ فَصَخِبَتْ عَلَيَّ امْرَأَتِي فَإِذَا هِيَ تُرَاجِعُنِي فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: أَتُنْكِرُ أَنْ أُرَاجِعَكَ وَاللَّهِ إِنَّ أَزْوَاجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَيُرَاجِعْنَهُ وَتَهْجُرُهُ إِحْدَاهُنَّ الْيَوْمَ حَتَّى اللَّيْلِ [ص:495] قَالَ: قُلْتُ قَدْ خَابَتْ حَفْصَةُ وَخَسِرَتْ أَفَتَأْمَنُ إِحْدَاهُنَّ أَنْ يَغْضَبَ اللَّهُ عَلَيْهَا لِغَضَبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذًا هِيَ قَدْ هَلَكَتْ قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَنِي وَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ فَقُلْتُ: لَا يَغُرَّنَّكِ أَنْ كَانَتْ جَارَتُكِ هِيَ أَوْسَمُ وَأَحَبُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيدُ عَائِشَةَ، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَسُّمًا آخَرَ قَالَ: فَجَلَسْتُ حِينَ رَأَيَتُهُ تَبَسَّمَ، قَالَ: فَرَجَعْتُ بَصَرِيَ فِي بَيْتِهِ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ فِيهِ شَيْئًا يَرُدُّ الْبَصَرَ غَيْرَ أُهْبَةٍ ثَلَاثَةٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُوَسِّعَ عَلَى أُمَّتِكَ فَإِنَّ فَارِسَ، الرُّومَ قَدْ وِسِّعَ عَلَيْهِمْ وَأُعْطُوا الدُّنْيَا وَهُمْ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ، قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ مُتَّكِئًا ثُمَّ قَالَ: » أَفِي شَكٍّ أَنْتَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ أُولَئِكَ قَوْمٌ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا «، قَالَ: فَقُلْتُ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاعْتَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ الْحَدِيثِ وَكَانَ قَالَ: » مَا أَنَا بِدَاخِلٍ عَلَيْهِنَّ شَهْرًا «مِنْ شِدَّةِ مَوْجِدَتِهِ عَلَيْهِنَّ حَتَّى عَاتَبَهُ اللَّهُ فَلَمَّا مَضَتْ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَبَدَأَ بِهَا فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قَدْ أَقْسَمْتَ أَنْ لَا تَدْخُلَ عَلَيْنَا شَهْرًا وَإِنَّا أَصْبَحْنَا فِي تِسْعٍ وَعِشْرِينَ لَيْلَةً عَدَّهَا، فَقَالَ: » الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ لَيْلَةً وَكَانَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً «

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بڑے عرصے سے میری یہ خواہش تھی کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ان دو خواتین کے بارے میں دریافت کروں جو نبی اکرم ﷺ کی ازواج سے تعلق رکھتی ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔ " اگر تم اللہ کی بار گاہ میں، تو بہ کر لو ( تو یہ بہتر ہے)، کیونکہ تمہارے دل مائل ہو گئے تھے"۔ (حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں)، یہا ں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج پر گئے ان کے ساتھ میں بھی حج پر گیا وہ (قضائے حاجت کرنے کیلئے ) ایک طرف ہٹ گئے میں بھی ان کے ہمراہ برتن لے کر ایک طرف ہٹ گیا انہوں نے قضائے حاجت کی پھر وہ تشریف لائے میں نے ان کے دونوں ہاتھوں پر برتن میں سے پانی انڈیلا انہوں نے وضو کیا میں نے کہا: اے امیر المومنین! نبی اکرم ﷺ کی ازواج سے تعلق رکھنے والی وہ دو خواتین کون تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ " اگر تم دونوں اللہ کی بار گاہ میں، تو بہ کر لو (تو یہ مناسب ہو گا)،کیونکہ تم دونوں کے دل مائل ہو گئے تھے"۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے ابن عباس تم پر حیرت ہے ( کہ تم نے پہلے اس بارے میں سوال کیو ں نہیں کیا ) وہ حفصہ اور عائشہ تھیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پورا واقعہ سنایا انہوں نے بیان کیا۔ میں اور بنو امیہ بن زید سے تعلق رکھنے والا میرا ایک پڑوسی (راوی کہتے ہیں: ) بنو امیہ بن زید مدینہ منورہ کے نواحی علاقے میں رہتے تھے، ہم دونوں باری باری نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے۔ ایک دن وہ حاضر ہوتا تھا اور ایک دن میں حاضر ہوتا تھا جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو اس دن کی اطلاعات جن کا تعلق وحی سے ہوتا تھا یا دیگر امور سے ہوتا تھا وہ لے آتا تھا اور جب وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا تو وہ بھی ایسا ہی کیا کرتا تھا ہم قریش سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی بیویوں پر غالب تھے جب ہم انصار کے ہاں آئے، تو وہ ایسے لوگ تھے کہ ان کی بیویاں ان پر غالب تھیں، تو ہماری عورتوں نے انصار کی خواتین سے یہ طریقہ سیکھنا شروع کر دیا ایک دن میں نے اپنی بیوی پر ناراضگی کا اظہار کیا، تو اس نے مجھےپلٹ کے جواب دیا: میں نے اس کے جواب دینے پر غصے کا اظہار کیا، تو اس نے کہا: میں نے آپ کو جواب دیا ہے: اس بات پر کیوں غصہ کر ہے ہیں اللہ کی قسم! نبی اکرم ﷺ کی ازواج بھی نبی اکرم ﷺ کو جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک زوجہ محترمہ ایسی ہے، جو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرم ﷺ سے ناراض رہتی ہے (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) اس بات نے مجھے خوف زدہ کر دیا میں نے کہا: ان ازواج میں سے جو ایسا کرتی ہے وہ خسارے کا شکار ہو جائے گی، پھر میں نے اپنی چادر لپیٹی اور (مدینہ منورہ آ گیا) وہاں میں حفصہ بنت عمر کے پاس آیا میں نے اس سے کہا: اے حفصہ کیا تم (یعنی ازواج مطہرات ) میں سے کوئی ایک نبی اکرم ﷺ سے ناراض ہوتی ہے اور سارا دن آپ ﷺ سے ناراض رہتی ہے۔سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی ہاں میں نے کہا: وہ تو رسوا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی کیا تم لو گ خود کو اس سے محفوظ سمجھتی ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہو جائے گا اور تمہیں ہلاکت کا شکار کر دے گا۔ تم نبی اکرم ﷺ کی کسی بات پر اعتراض نہ کیا کرو۔ نبی اکرم ﷺ کو آگے سے جواب نہ دیا کرو۔ نبی اکرم ﷺ سے لاتعلق نہ رہا کرو تمہاری جو ضروریات ہوتی ہیں تم مجھ سے مانگ لیا کرو اور یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن (یعنی سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ) نبی اکرم ﷺ کے نزدیک زیادہ خوبصورت ہے اور آپ ﷺ کو زیادہ محبوب ہے (راوی کہتے ہیں) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی مراد سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان دنوں ہم یہ بات چیت کر رہے تھے کہ غسان قبیلے کے لوگ ہمارے ساتھ جنگ کیلئے سازو سامان تیار کر رہے ہیں، اپنی باری کے دن میرا انصاری پڑوسی (مدینہ منورہ ) آیا جب وہ شام کے وقت واپس آیا ،تو اس نے میرے دروازے پر زور سے دستک دی میں گھبرا گیا میں باہر نکل کر اس کے پاس آیا اس نے کہا: ایک عظیم واقعہ رونما ہو گیا ہے میں نے دریافت کیا: کیا ہوا؟ کیا غسان (قبیلے کے لوگ) آ گئے ہیں۔ اس نے جواب دیا : جی نہیں اس سے زیادہ بڑا اور اس سے زیادہ طویل ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: حفصہ رسوا ہو گئی اور خسارے کا شکار ہو گئی مجھے یہ اندازہ تھا کہ ایسا ایک دن ہو کر رہے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اپنی چادر اوڑھی اور فجر کی نماز نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں ادا کی ( نماز ادا کرنے کے بعد ) نبی اکرم ﷺ اپنے بالا خانے میں تشریف لے گئے جہاں آپ ﷺ علیحدہ طور پر رہ رہے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں حفصہ کے پاس آیا، تو وہ رو رہی تھی میں نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو کیا میں نے تمہیں ا س چیز سے ڈرانے کی کوشش نہیں کی تھی کیا اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو طلاق دے دی ہے۔ سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: مجھے نہیں معلوم نبی اکرم ﷺ اس بالا خانے میں علیحدہ آرام فرما ہیں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے ) باہر آیا اور منبر کے قریب آ گیا وہاں منبر کے اردگرد کچھ لوگ موجود تھے وہ رہ رہے تھے میں تھوڑی دیر ان کے ساتھ بیٹھا رہا پھر مجھے جو اندیشہ تھا وہ مجھ پر غالب آیا، تو میں اس بالا خانے کے پاس آیا جس میں نبی اکرم ﷺ موجود تھے میں نے سیاہ فام لڑکے سے کہا : تم عمر کیلئے اندر آنے کی اجاز ت مانگو ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں وہ لڑکا اندر گیا اس نے باہر آ کے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے آپ کا ذکر کیا ، لیکن نبی اکرم ﷺ خاموش رہے، تو میں واپس آ گیا ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں واپس آ گیا اور ان لوگوں کے ساتھ آکے بیٹھ گیا جو منبر کے پاس موجود تھے پھر میری جو کیفیت تھی وہ مجھ پر غالب آئی اور میں نے آ کر لڑکے سے کہا تم عمر کیلئے اندر آنے کی اجازت مانگو وہ اندر گیا پھر واپس آیا اور بولا میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے آپ کا ذکر کیا ، لیکن نبی اکرم ﷺ خاموش رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں ابھی وہاں سے مڑا ہی تھا کہ اس لڑکے نے مجھے بلایا اور بولا: اللہ کے رسول نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کھجور کی چھال سے بنی ہوئی چٹائی کے اوپر لیٹے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کے پہلو پر اس کا نشان موجود تھا آپﷺ نے چمڑے کے بنے ہوئے تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی جس کے اندر کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے میں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا پھر میں نے کھڑے ہوئے ہی عرض کی یا رسول ﷺ! آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی اور ارشاد فرمایا: جی نہیں۔ میں نے کہا: اللہ اکبر، یا رسول اللہﷺ! آپ نے ہمیں ملاحظہ کیا ہے ہم قریش سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی بیویوں پر غالب ہوتے تھے جب ہم مدینہ آئے ، تو ہم ایک ایسی قوم کے پاس آ گئے جن کی بیویاں ان پرغالب تھیں ایک دن میں نے اپنی بیوی پر ناراضگی کا اظہار کیا، تو اس نے مجھے پلٹ کی جواب دیا: میں نے اس کی اس حرکت پر حیرانگی کا اظہار کیا، تو اس نے کہا کیا آپ اس بات پر حیران ہو رہے ہیں کہ میں نے آپ کو جواب دیا ہے ۔اللہ کی قسم! نبی اکرمﷺ کی ازواج بھی آپ ﷺ کو آگے سے جواب دے دیتی ہیں اور ان میں سے ایک تو صبح سے لے کر شام تک نبی اکرمﷺ سے ناراض رہتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: حفصہ رسو ا ہو جائے گی اور خسارے کا شکار ہو جائے گی کیا وہ ازواج اس بات سے محفوظ ہو گئی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی ناراضگی کی وجہ سے ناراض ہو جائے گا اور وہ عورت جس پر (نبی اکرمﷺ ناراض ہوئے ہیں) ہلاکت کا شکار ہو جائے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرمﷺ مسکرا دئیے پھر میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں حفصہ کے پاس گیا میں نے کہا: یہ چیز تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کرے کہ تمہاری پڑوسن نبی اکرم ﷺ کے نزدیک زیادہ خوبصورت اور زیادہ محبوب ہے۔ میری مرار عائشہ تھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرمﷺ پھر دوسری مرتبہ مسکرا دئیے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب میں نے آپﷺ کو مسکراتے ہوئے دیکھا تو میں بیٹھ گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے جب اس بالا خانے کا جائزہ لیا تو اللہ کی قسم ! مجھے اس میں صرف تین خشک کھالیں نظر آئیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ آپﷺ کی امت کو کشادگی عطا کرے، کیونکہ اہل فارس اور اہل روم کو کشادگی عطا کی گئی ہے ان لوگوں کو دنیا کی نعمتیں دی گئی ہیں حالانکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرمﷺ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے پہلے آپ ﷺ نے ٹیک لگائی ہوئی تھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خطاب کے بیٹے کیا تمہیں شک ہے یہ وہ لوگ ہیں، جنہیں نعمتیں دیناوی زندگی میں پہلے دے دی گئی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت کرتا ہوں۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) نبی اکرمﷺ نے اپنی ازواج سے اس وجہ سے علیحدگی اختیار کی تھی آپﷺ نے ان ازواج پر شدید ناراضگی کی وجہ سے یہ کہا تھا کہ میں ایک ماہ تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پر تنبیہ کی اور جب انتیس دن گزر گئے، تو آپﷺ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے آپﷺ سب سے پہلے ان کے پاس گئے تھے ۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ کی خدمت میں عرض کی یا رسول اللہﷺ! آ پنے تو یہ قسم اٹھائی تھی کہ آپﷺ ہمارے پاس ایک ماہ تک تشریف نہیں لائیں گے ابھی تو صرف انتیس دن گزرے ہیں میں نے ان کی گنتی کی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: مہینہ کبھی 29 دن کا بھی ہوتا ہے مہینہ کبھی 29 دن کا بھی ہوتا ہے۔

لَمْ أَزَلْ حَرِيصًا عَلَى ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْد اللَّهِ بْنِ أَبِي ثَوْرٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4187

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4188

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ سِمَاكٍ أَبِي زُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ قَالَ: لَمَّا اعْتَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ وَالنَّاسُ يَنْكُتُونَ بِالْحَصَى وَيَقُولُونَ: طَلَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ، وَذَلِكَ قَبْلُ أَنْ يُؤْمَرْنَ بِالْحِجَابِ، فَقَالَ عُمَرُ: لَأَعْلَمَنَّ ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ لَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنِكِ أَنْ تُؤْذِيَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَتْ: مَالِي وَمَالَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَلَيْكَ بِعَيْبَتِكَ، فَدَخَلْتُ عَلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ فَقُلْتُ لَهَا: يَا [ص:497] حَفْصَةُ لَقَدْ بَلَغَ مِنْ شَأْنُكِ أَنْ تُؤْذِيَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُحِبُّكِ وَلَوْلَا أَنَا لَطَلَّقَكِ، فَبَكَتْ أَشَدَّ الْبُكَاءِ فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: هُوَ فِي خِزَانَتِهِ فِي الْمَشْرُبَةِ فَدَخَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبَاحٍ غُلَامٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَاعِدٍ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْمَشْرُبَةِ مُدَلٍّ رِجْلَيْهِ عَلَى نَقِيرٍ مِنْ خَشَبٍ وَهُوَ جِذْعٌ يَرْقَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَنْحَدِرُ فَنَادَيْتُ: يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عِنْدَكَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى الْغُرْفَةِ ثُمَّ نَظَرَ إِلَيَّ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا، فَقُلْتُ: يَا رَبَاحُ اسْتَأْذِنْ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أَظُنُّ رَسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَنَّ أَنِّي جِئْتُ مِنْ أَجْلِ حَفْصَةَ وَاللَّهِ لَئِنْ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَرْبِ عُنُقِهَا لَأَضْرِبَنَّ عُنُقَهَا وَرَفَعْتُ صَوْتِي فَأَوْمَأَ إِلَيَّ بِيَدِهِ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى حَصِيرٍ قَالَ: فَجَلَسْتُ فَإِذَا عَلَيْهِ إِزَارٌ لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ وَإِذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَنَظَرْتُ بِبَصَرِي فِي خِزَانَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا بِقَبْضَةٍ مِنْ شَعِيرٍ نَحْوَ الصَّاعِ وَمِثْلُهَا قُرْظٌ فِي نَاحِيَةِ الْغُرْفَةِ وَإِذَا أَفِيقٌ، قَالَ أَبُو حَفْصٍ: الْأَفِيقُ: الْإِهَابُ الَّذِي قَدْ ذَهَبَ شَعْرُهُ وَلَمْ يُدْبَغْ فَابْتَدَرَتْ عَيْنَايَ، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ »، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَمَا لِي لَا أَبْكِي وَهَذَا الْحَصِيرُ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِكَ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ وَلَا أَرَى فِيهَا إِلَّا مَا أَرَى وَذَلِكَ قَيْصَرُ، وَكِسْرَى فِي الثِّمَارِ وَالْأَنْهَارِ وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَصَفْوَتُهُ وَهَذِهِ خِزَانَتُكَ، قَالَ: «يَا ابْنَ الْخَطَّابِ أَلَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَنَا الْآخِرَةُ وَلَهُمُ الدُّنْيَا؟ »، قُلْتُ: بَلَى فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَأَنَا أَرَى فِي وَجْهِهِ الْغَضَبَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَشُقُّ عَلَيْكَ مِنْ شَأْنِ النِّسَاءِ فَإِنْ كُنْتَ [ص:498] طَلَّقْتَهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ وَجِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ وَأَنَا وَأَبُو بَكْرٍ مَعَكَ وَقَلَّمَا تَكَلَّمْتُ وَأَحْمَدُ اللَّهَ بِكَلَامٍ إِلَّا رَجَوْتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ يُصَدِّقُ قُولِي وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ آيَةُ التَّخْيِيرِ {عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ} [التحريم: 5]، {وَإِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلَاهُ} [التحريم: 4] الْآيَةَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ، وَحَفْصَةُ تُظَاهِرَانِ عَلَى سَائِرِ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلَّقْتَهُنَّ؟ قَالَ: «لَا»، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَنْزِلُ فَأُخْبِرُهُنَّ أَنَّكَ لَمْ تُطَلِّقْهُنَّ؟ قَالَ: «نَعَمْ إِنَّ شِئْتَ»، فَلَمْ أَزَلْ أُحَدِّثُهُ حَتَّى تَحَسَّرَ الْغَضَبُ عَنْ وَجْهِهِ وَحَتَّى كَشَّرَ فَضَحِكَ وَكَانَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ ثَغْرًا، فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَزَلْتُ أَتَشَبَّثُ بِالْجَذَعِ وَنَزَلَ كَمَا يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ مَا يَمَسُّهُ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتَ فِي الْغُرْفَةِ تِسْعًا وَعِشْرِينَ فَقُمْتُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَنَادَيْتُ بِأَعْلَى صَوْتِي: لَمْ يُطَلِّقِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نِسَاءَهُ وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمَرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ} [النساء: 83] إِلَى قَوْلِهِ {لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ} [النساء: 83] فَكُنْتُ أَنَا اسْتَنْبَطْتُ ذَلِكَ الْأَمْرَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّخْيِيرِ «

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضر ت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی کہ جب نبی اکرمﷺ نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار کی تو میں مسجد میں داخل ہوا وہاں لوگ کنکریوں کو کرید رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے نبی اکرمﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (میں نے سوچا) میں آج اس بارے میں ضرور معلومات حاصل کروں گا میں سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا میں نے کہا: اے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی! اب آپ کا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے، آپ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاتی ہیں۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے خطاب کے صاحب زادے! میرا اور آپ کا کیا واسطہ آپ اپنا گھر سنبھالیں پھر میں حفصہ بنت عمر کے پاس آیا میں نے کہا: اے حفصہ اب تمہارا معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے، تم اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچاؤ مجھے یہ بات پتہ ہے نبی اکرمﷺ کو تم سے محبت نہیں ہے اور اگر میں نہ ہوتا تو نبی اکرمﷺ نے تمہیں طلاق دے دینی تھی اس پر حفصہ زور وشور سے رونے لگیں میں نے دریافت کیا: نبی اکرمﷺ کہاں ہیں انہوں نے بتایا: نبی اکرمﷺ بالا خانے میں آرام فرما رہے ہیں میں وہاں آیا، تو وہاں نبی اکرمﷺ کا غلام رباح موجود تھا وہ بالا خانے کی سیڑھیوں پر بیٹھا ہوا تھا اس نے تختے پر پاؤں پھیلائے ہوئے تھے جو کھجور کے تنوں سے بنا ہوا تھا۔ نبی اکرمﷺ اس پر چڑھ کر اوپر تشریف لے جاتے تھے اور اسی کے ذریعے نیچے تشریف لایا کرتے تھے میں نے اسے مخاطب کیا اے رباح تم نبی اکرمﷺ سے میری حاضری کی اجازت مانگو اس نے بالا خانے کی طرف دیکھا پھر میری طرف دیکھا اور کوئی جواب نہیں دیا میں نے کہا: اے رباح! تم نبی اکرمﷺ سے میری حاضری کی اجازت مانگو مجھے یہ لگتا ہے، شاید نبی اکرم ﷺ یہ سمجھ رہے ہوں کہ میں حفصہ کی وجہ سے آیا ہوں حالانکہ اللہ کی قسم ! اگر اللہ کے رسول مجھے حکم دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں ، تو میں اس کی گردن بھی اڑا دوں گا میں نے بلند آواز میں یہ بات کہی (اس لڑکے نے اوپر جا کر اجازت مانگی) اور پھر میری طرف اشارہ کیا، تو میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ نبی اکرمﷺ اس وقت چٹائی پر لیٹےہوئے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں وہاں بیٹھ گیا نبی اکرمﷺ نے صرف تہبند باندھا ہوا تھا اس کے علاوہ کوئی اور چیز آپ کے جسم پر نہیں تھی اور آپ کے پہلو پر چٹائی کا نشان موجود تھا جب میں نے نبی اکرمﷺ کے کمرے کا جائزہ لیا تو وہاں تقریباً ایک صاع جو موجود تھے اور ایک صاع کے قریب درخت کے پتے تھے اور وہاں افیق موجود تھی۔ ابو حفص نامی راوی کہتے ہیں: افیق سے مراد وہ کھال ہے،جس کے بال اتار دئیے گئے ہوں ، لیکن ابھی اس کی دبا غت نہ کی گئی ہو۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتےہیں) میری آنکھوں میں آنسو جاری ہو گئے نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: اے خطاب کے صاحب زادے! تم کیوں رو رہے ہو میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی میں کیوں نہ روؤں اس چٹائی نے آپﷺ کے پہلو پر نشان ڈال دیا ہے اور آپﷺ کے اس کمرے میں مجھے وہ چیزیں جو نظر آ رہی ہیں حالانکہ قیصر اور کسریٰ پھلوں اور نہروں کے اندر (یعنی نعمتوں کے اندر) رہ رہے ہیں، جبکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول اور اس کے محبوب ہیں اور آپ ﷺ کا سازو سامان اتنا ستا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اے خطاب کے صاحب زادے کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا ہو۔ میں نے عرض کی: جی ہاں (حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) جب میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے نبی اکرمﷺ کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ ان خواتین کے حوالے سے پریشان نہ ہوں، کیونکہ اگر آپﷺ انہیں طلاق دے دیتے ہیں، تو اللہ تعالیٰ اس کے فرشتے جبرائیل، میکائیل اور میں اور ابوبکر آپ ﷺ کے ساتھ ہیں۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں) کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی حمدبیان کرتے ہوئے کو ئی کلام کیا اور میں نے یہ امید رکھی کہ اللہ تعالیٰ اس بات کی تصدیق کر دے گا، تو اختیار دینے سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ ”اور اگر وہ (رسول) تم (یعنی ازواج مطہرات) کو طلاق دے دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسی بیویاں دیدے گا ، جو تم سے بہتر ہوں گی “۔ (ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: ) ”اور اگر وہ دونوں (اس رسول) پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتی ہیں، تو بے شک اللہ اس کا مددگار ہے “۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیّدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نبی اکرمﷺ کی دیگر تمام ازواج کے حالے سے دباؤ ڈالنا چاہتی تھیں۔ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کیا آپ نے انہیں طلاق دے دی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ! میں واپس جا کر ان لوگوں کو بتا دوں کہ آپﷺ نے انہیں طلاق نہیں دی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی ہاں اگر تم چاہو تو (بتا دو) اس کے بعد میں مسلسل نبی اکرمﷺ کے ساتھ بات چیت کرتا رہا، یہاں تک کہ آپﷺ کا غصہ ختم ہوگیا اور آپ ﷺ کے چہرے پر مزاج ٹھیک ہونے کے آثار نمودار ہوئے آپﷺ ہنسنے لگے آپﷺ کی مسکراہت بہت خوبصورت تھی۔ نبی اکرم ﷺ بالا خانے سے نیچے تشریف لائے میں نے نیچے آتے ہوئے تنے کا سہار لیا حالانہ نبی اکرم ﷺ اس طرح اترے تھے جس طرح ہم عام زمین پر چلتے ہیں اور آپﷺ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اسے چھوا بھی نہیں تھا میں نے عرض کی: یار سول اللہ ﷺ! آپ انتیس دن سے بالا خانے میں مقیم ہیں پھر میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو ا میں نے بلند آواز میں اعلان کیا نبی اکرمﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق نہیں دی ہے۔ تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ ”اور جب ان کے پاس امن یا خوف سے متعلق کوئی معاملہ آتا ہے ، تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں “۔ یہ آیت یہاں تک ہے: ”تو وہ لوگ اس بارے میں جان لیتے ہیں جوان میں سے استنباط کرتے ہیں “۔(حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) تو میں وہ شخص ہوں جس نے اس معاملے میں استنباط کیا، تو اللہ تعالیٰ نے اختیار دینے سے متعلق آیت نازل کر دی۔

عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، ← سِمَاكٍ أَبِي زميل، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4188

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4189

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ» قَالَ: فَذَئِرَ النِّسَاءُ وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ذَئِرَ النِّسَاءُ وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ مُنْذُ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِهِنَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَاضْرِبُوا» فَضَرَبَ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَأَتَى نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ أَصْبَحَ: «لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ وَايْمُ اللَّهِ لَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارُكُمْ»

حضرت ایاس بن ابوذیاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ کی کنیزوں (یعنی اپنی بیویوں کو) نہ مارو ، راوی کہتے ہیں: اس پر عورتیں شیر ہو گئیں اور اپنے شوہروں کے حوالے سے ان کے اخلاق خراب ہو گئے، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: عورتیں شیر ہو گئیں اور اپنے شوہروں کے ساتھ ان کے اخلاق خراب ہو گئے ہیں جب سے آپﷺ نے ان کی پٹائی کرنے سے منع کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ان کی پٹائی کر دیا کرو۔ لوگوں نے اس رات اپنی بیویوں کی اتنی پٹائی کی کہ اگلے دن پٹائی کی شکایت لے کر بہت سی خواتین نبی اکرمﷺ کے پاس آ گئیں۔ نبی اکرمﷺ نے اس وقت یہ ارشاد فرمایا: گزشتہ رات محمد کے گھر پر 70 خواتین آئیں ان سب نے یہی شکایت کی کہ ان کی پٹائی ہوئی ہے اللہ کی قسم ! تم ان لوگوں کو اپنے میں سے بہترین نہیں پاؤ گے (جو اپنی بیویوں کی پٹائی کرتے ہیں)

إِيَاسِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4189

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4190

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ زَيْدٍ الْخَطَّابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:501] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَامَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الْعَبْدِ ثُمَّ يُجَامِعُهَا فِي آخِرِ الْيَوْمِ»

حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ”کیا وجہ ہے، کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طرح مارتا ہے، جس طرح غلام کو مارا جاتا ہے اور پھر وہ دن کے آخری حصے میں اسی عورت کے ساتھ صحبت بھی کر لیتا ہے “۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ← أَبِيهِ، [ص:184] ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الثَّوْرِيُّ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ زَيْدٍ الْخَطَّابِيُّ، ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4190

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْعَزْلِ · حديث 4191

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ: أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ خَيْبَرَ فَكُنَّا نُرِيدُ الْفِدَاءَ فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ: «لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا ذَلِكُمْ فَإِنَّمَا هُوَ الْقَدْرُ» اسْمُ أَبِي الْوَدَّاكِ: «جَبْرُ بْنُ نَوْفٍ قَالَهُ الشَّيْخُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر ہمیں کچھ قیدی ملے ہم نے فدیہ لینے کا ارادہ کیا ہم نے نبی اکرمﷺ سے عزل کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا اگر تم یہ نہ کرو، کیونکہ یہ تقدیر کے مطابق ہے۔ ابووداک والا کا نام جبر بن نوف ہے یہ بات شیخ نے بیا کی ہے۔

الْعَزْل ← أَصَبْنَا سَبْيًا يَوْمَ خَيْبَرَ فَكُنَّا نُرِيدُ الْفِدَاءَ فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ ← أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← اَبُوْ اِسْحَاقِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ بْنُ كَثِيرٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The isolation door · Hadith 4191

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْعَزْلِ · حديث 4192

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ حَرْمَلَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَكَ فِي جِمَاعِ زَوْجَتِكَ أَجْرٌ» فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَفِي شَهْوَةٍ يَكُونُ مِنْ أَجْرٍ قَالَ: «نَعَمْ أَرَأَيْتُ لَوْ كَانَ لَكَ وَلَدٌ قَدْ أَدْرَكَ ثُمَّ مَاتَ أَكُنْتَ مُحْتَسِبَهُ؟ » قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «أَنْتَ كُنْتَ خَلَقْتَهُ؟ » قَالَ: بَلِ اللَّهُ خَلَقَهُ قَالَ: «أَنْتَ كُنْتَ هَدَيْتَهُ؟ » قَالَ: بَلِ اللَّهُ هَدَاهُ قَالَ: «أَكُنْتَ تَرْزُقُهُ؟ » قَالَ: بَلِ اللَّهُ كَانَ رَزَقَهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَضَعْهُ فِي حَلَالِهِ وَجَنِّبْهُ حَرَامَهُ وَأَقْرِرْهُ فَإِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحْيَاهُ وَإِنْ شَاءَ أَمَاتَهُ وَلَكَ أَجْرٌ»

حضرت ابو ذرغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتے ہو اس کا بھی تمہیں اجر ملے گا عرض کی گئی یا رسول اللہﷺ! کیا خواہش نفس پوری کرنے پر بھی اجر ملے گا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جی ہاں تمہارا کیا خیال ہے، اگر (اس صحبت کے نتیجے میں ) تمہارے ہاں بچہ ہو جاتا ہے، جو بڑا ہوتا ہے پھر اس کا انتقال ہو جاتا ہے کیا تمہیں اس پر (صبر) کرنے کی وجہ سے ثواب کی امید ہو گی اس شخص نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تم نے اس بچے کو پیدا کیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا : بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اس ہدایت نصیب کی ۔ انہوں نے جواب دیا : بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ہدایت نصیب کی۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تم نے اسے رزق دیا۔ انہوں نے عرض کی: بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے رزق دیا۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس لیے تم اسے حلال طریقے سے استعمال کرو اور حرام سے اجتنا ب کرو اور تم سے برقرار رکھو اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا، تو اسے زندگی دے گا اگر چاہے گا اسے موت دے اور تمہیں اجر مل جائے گا۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبِي هِلَالٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← ابْنُ حَرْمَلَةَ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The isolation door · Hadith 4192

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ الْعَزْلِ · حديث 4193

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ الْعَطَّارُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ بَعْضَ النَّاسِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَأْنِ الْعَزْلِ وَذَلِكَ فِي غَزْوَةِ بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَكَانُوا أَصَابُوا سَبَايَا وَكَرِهُوا أَنْ يَلِدْنَ مِنْهُمْ فَقَالَ [ص:505] رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا فَإِنَّ اللَّهَ قَدَّرَ مَا هُوَ خَالِقٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگوں نے نبی اکرمﷺ سے عزل کے بارے میں دریافت کیا: یہ غزوہ بنو مصطق کے دوران کی بات ہے ان لوگوں کو کچھ قیدی ملے تھے اور ان لوگوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ قیدیوں میں سے خواتین ان کے بچوں کو جنم دیں ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشا د فرمایا: اگر تم ایسا کرتے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن تک جسے پیدا کرنا ہے اس تقدیر میں (طے ) کر دیا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ بَعْضَ النَّاسِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ ← ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمِنْهَالِ الْعَطَّارُ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The isolation door · Hadith 4193

chevron_left Previous
1…13141516
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr