Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4170

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْوَلِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تَصُومَ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَلَا تَأْذَنُ لِرَجُلٍ فِي بَيْتِهَا وَهُوَ لَهُ كَارِهٌ، وَمَا تَصَدَّقَتْ مِنْ صَدَقَةٍ فَلَهُ نِصْفُ صَدَقَتِهَا، وَإِنَّمَا خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " کسی بھی عورت کیلئے اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اور نہ ہی وہ عورت اپنے گھر میں کسی ایسے مرد کو آنے کی اجازت دے سکتی ہے، جسے اس کا شوہر ناپسند کرتا ہو اور عورت جو بھی صدقہ کرتی ہے، تو اس صدقے کا نصف ثواب مرد کو ملے گا ، عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے"۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ← أَبِيهِ ← مُسْلِمِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← ابْنِ الْھَادِ ← حَيْوَةُ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4170

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4171

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: لَمَّا قَدِمَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مِنَ الشَّامِ سَجَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا هَذَا؟ » قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدِمْتُ الشَّامَ فَرَأَيْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِبَطَارِقَتِهِمْ، وَأَسَاقِفَتِهِمْ فَأَرَدْتُ أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ بِكَ قَالَ: «فَلَا تَفْعَلْ فَإِنِّي لَوْ أَمَرْتُ شَيْئًا أَنْ يَسْجُدَ لِشَيْءٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى قَتَبٍ لَمْ تَمْنَعْهُ»

ابن ابو اوفیٰ بیان کرتے ہیں: جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام سے تشریف لائے ، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے سجدہ کیا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! میں شام گیا وہاں میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ اپنے بڑوں اور مذہبی پیشواؤں کو سجدہ کرتے ہیں، تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں آپﷺ کے ساتھ ایسا کروں گا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو اگر میں نے کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا تو میں عورت کو یہ حکم دیتاکہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عورت اپنے پروردگار کے حق کو اس وقت تک مکمل طور پر ادا نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے شوہر کے حق کو ادا نہیں کرتی، یہاں تک کہ اگر مرد عورت سے قربت کا مطالبہ ایسی حالت میں کرے کہ وہ عورت پالان پر موجود ہو، تو وہ عورت پھر بھی اسے منع نہ کرے۔

رَسُولُ اللَّهِ «مَا هَذَا؟ ← لَمَّا قَدِمَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مِنَ الشَّامِ سَجَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ ← ابن اَبِیْ اَوْفٰی ← الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ يَزِيدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4171

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4172

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدٌ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَيُّمَا رَجُلٍ دَعَا امْرَأَتَهُ فَلَمْ تُجِبْهُ فَبَاتَ سَاخِطًا عَلَيْهَا حَتَّى يُصْبِحَ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جو شخص اپنی بیوی کو (اپنے پاس )بلائے اور وہ عورت اس کی بات کو قبول نہ کرے اور شوہر ناراضگی کے عالم میں رات بسر کرے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← سُلَیْمَانَ ← زيد1 ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4172

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4173

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا دَعَا أَحَدُكُمِ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ عورت آنے سے انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں"۔ اس بات کے بیان کاتذکرہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان" یہا ں تک کہ صبح ہو جائے" اس سے آپ ﷺ کی مرادیہ ہے: جب وہ عورت رات کے کسی حصے میں اس کی بات پر عمل نہیں کرتی اور ایسا وقت تک ہوتا ہے، جب تک وہ عورت اس کی فرمانبرداری نہیں کرتی

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← سُلَیْمَانَ ← شُعْبَةُ، ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4173

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4174

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، [ص:482] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " جب کوئی عورت اپنے شوہر کے بستر سے علیحدگی اختیار کرتی ہے، تو فرشتے اس وقت تک اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ واپس نہیں آ جاتی"۔ اس بات کی اطلاع کا تذکرہ ، آدمی پر یہ بات لازم ہے، وہ اپنے ذمے اپنی بیوی کے حقوق کو ادا کرے

«إِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، [ص:482] ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4174

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4175

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَزْعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ؟ قَالَ: «يُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمَ وَيَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَى، ثُمَّ لَا يَضْرِبُ الْوَجْهَ، وَلَا يُقَبِّحُ، وَلَا يَهْجُرُ إِلَّا فِي الْبَيْتِ»

حکیم بن معاویہ اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : عورت کا شوہر پر کیا حق ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب وہ کھانا کھائے ، تو اسے بھی کھلاے جب وہ خودکپڑا پہنے تو اسے بھی پہنائے اور اس کے چہرے پر نہ مارے اور اسے قبیح قرار نہ دے اور اس کے ساتھ صرف گھر میں لا تعلقی اختیار کرے۔

أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ؟ ← حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← أَبِي قَزَعَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4175

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4176

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ایمان کے اعتبار سے اہل ایمان میں سب سے زیادہ کامل وہ لوگ ہیں، جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں اور تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو اپنی بیویوں کے حق میں بہتر ہوں"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4176

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4177

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَيَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُكُمْ خَيْرَكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي، وَإِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » فَدَعُوهُ «يَعْنِي: لَا تَذْكُرُوهُ إِلَّا بِخَيْرٍ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "تم میں زیادہ بہتر وہ شخص ہے، جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو، میں اپنی بیوی کے بارے میں تم سب سے زیادہ بہتر ہوں اور جب تمہارا کوئی ساتھی فوت ہو جائے، تو تم اسے (اس کے حال پر ) چھوڑ دو (یعنی اس کی برائیاں بیان نہ کرو )"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان "تم اسے چھوڑ دو " اس سے مراد یہ ہے: اس کا ذکر صرف بھلائی کے حوالے سے کرو۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← الثَّوْرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَيَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4177

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4178

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ فَإِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا فَدَارِهَا تَعِشْ بِهَا»

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا ہے: " بےشک عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کر و گے تو اسے توڑ دو گے تم اس کا خیال رکھتے ہوئے اس کے ہمراہ زندگی بسر کرو"۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبِي رَجَاءٍ، ← عَوْفٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَرْوَزِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4178

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4179

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ وَلَنْ تَصْلُحَ لَكَ عَلَى طَرِيقَةٍ، وَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ بِهَا اسْتَمْتَعْتَ بِهَا وَبِهَا عِوَجٌ وَإِنَّ تُرِدْ إِقَامَتَهَا تَكْسِرْهَا وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " بے شک عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے تم اسے کسی بھی طریقے سے سیدھا نہیں کر سکتے اگر تم اسے کسی بھی طریقے سےسیدھا نہیں کر سکتے اگر تم اس کے ٹیڑ ھے پن سمیت اس سے نفع حاصل کر سکتے ہو، تو کر لو اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کر و گے تو اسے تو ڑ دو گے (یا کسی راوی نے شاید یہ وضاحت کی ہے ) اسے توڑنے سے مراد اسے طلاق دینا ہے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← أَبِي الزِّنَادِ، ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4179

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4180

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ الْمَرْأَةِ كَالضِّلَعِ إِنْ أَرَدْتَ إِقَامَتَهَا كُسِرَتْ، وَإِنَّ تَسْتَمْتِعْ بِهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا، وَفِيهَا عِوَجٌ فَاسْتَمْتِعْ بِهَا عَلَى مَا كَانَ مِنْهَا مِنْ عِوَجٍ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "عورت کی مثال پسلی کی طرح ہے، اگر تم اسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی اور اگر تم اس کے ٹیڑھے پن سمیت اس سے نفع حاصل کرنا چاہو، تو نفع حاصل کر لو گے اس لیے تم اس کے ٹیڑھے پن سمیت اس سے نفع حاصل کرو"۔اس بات کا تذکرہ، آدمی کے لیے یہ بات مستحب ہے وہ اپنی بیوی کے ساتھ کھائے اور پیئے اور عورت کے بے وقعت ہونے کا اظہار کر کے انفرادی طور پر (نہ کھائے پیئے)

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4180

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4181

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:488] عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «إِنْ كُنْتُ لَآتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْإِنَاءِ فَآخُذُهُ فَأَشْرَبُ مِنْهُ فَيَأْخُذُهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ فَاهُ مَوْضِعَ فِيَّ وَإِنْ كُنْتُ لِآخُذُ الْعَرْقَ مِنَ اللَّحْمِ فَآكُلُهُ فَيَأْخُذُهُ فَيَضَعُ فَاهُ مَوْضِعَ فِيَّ فَيَأْكُلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات میں کوئی برتن لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی میں وہ برتن لے کر پہلے اس میں سے پی لیتی پھرنبی اکرم ﷺ اس برتن کو لیتے اور اپنا منہ اسی جگہ پر رکھتے جہاں میں نے اپنا منہ رکھا ہوتا تھا بعض اوقات میں گوشت کی کوئی ہڈی لیتی اور اسے کھا لیتی، تو نبی اکرم ﷺ اس ہڈی کو لے کر اپنا منہ اسی جگہ پر رکھتے تھے جہاں میں نے منہ رکھا ہوتا تھا اور آپﷺ اسے کھا لیتے تھے حالانکہ میں اس وقت حیض کی حالت میں ہوتی تھی۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ، ← مِسْعَرٍ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4181

chevron_left Previous
1…1213141516
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr