Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4026

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَكِيمُ بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ نَمْشِي بِالْمَدِينَةِ، قَالَ: فَلَقِيَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ قَالَ: فَقَامَا وَتَنَحَّيْتُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا رَأَى عَبْدُ اللَّهِ أَنْ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ يَسِرُّهَا، قَالَ: ادْنُ عَلْقَمَةُ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَلَا نُزَوِّجُكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ جَارِيَةً لَعَلَّهَا أَنْ تُذَكِّرَكَ مَا فَاتَكَ؟ قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَئِنْ قُلْتَ ذَلِكَ، فَإِنَّا قَدْ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، شَبَابًا، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَصُمْ، فَإِنَّهُ لَهُ وَجَاءٌ»، وَهُوَ الْإِخْصَاءُ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «الْأَمْرُ بِالتَّزْوِيجِ فِي هَذَا الْخَبَرِ وَسَبَبُهُ اسْتِطَاعَةُ الْبَاءَةِ، وَعِلَّتُهُ غَضُّ الْبَصَرِ وَتَحْصِينُ الْفَرْجِ، وَالْأَمْرُ الثَّانِي هُوَ الصَّوْمُ عِنْدَ عُدْمِ السَّبَبِ، وَهُوَ الْبَاءَةُ، وَالْعِلَّةُ الْأُخْرَى هُوَ قَطْعُ الشَّهْوَةِ»

علقمہ بن قیس بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں کہیں جا رہے تھے، تو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا راوی کہتے ہیں: یہ دونوں صاحبان اٹھے اور ذرا ایک طرف ہو گئے جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ن عے (دور جا کر ) یہ بات نوٹ کی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان سے کوئی ایسا کام نہیں ہے، جسے پوشیدہ رکھا جائے، تو انہوں نے فرمایا: علقمہ تم آگے آجاؤ راوی کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا توحضرت عثمان رضی اللہ عنہ یہ کہہ رہے تھے: اے عبداللہ ! ہم آپ کی شادی کسی لڑ کی سے نہ کر وا دیں تا کہ وہ آپ کو گزرے ہوئے (جوانی کے زما نے ) کی یاد دلا دے۔ راوی کہتے ہیں، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آ پ یہ بات کہتے ہیں( تو میں آ پ کو بتاتا ہوں ) ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کےزمانہ اقدس میں نو جوان تھے۔ نبی اکرم ﷺ نےہم سے فرمایا: تم میں سے جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے شادی کر لینی چاہئے، کیونکہ یہ نگا ہ کو زیادہ جھکا کے رکھتی ہے اور شرم گا ہ کی زیادہ حفاظت کرتی ہے اور تم میں سے جو شخص شادی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اسے روزے رکھنے چاہئیں، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو ختم کر دیں گے۔ ( راوی کہتے ہیں : روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ ) وجاء سے مراد شہوت کو ختم کرنا ہے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں شادی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کا سبب شادی کرنے کی استطاعت ہے اور اس کی علت نکاح کو جھکا نا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنا ہے ، جبکہ دوسرا حکم یہ ہے: جب یہ سبب موجود نہ ہو، تو روزے رکھے جائیں اور وہ سببب شادی کی استطاعت نہ ہونا ہے اور اس کی دوسری علت شہوت کو ختم کرنا ہے۔

فَلَقِيَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ ← وَابْنُ مَسْعُودٍ نَمْشِي ← بَيْنَا ← عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ← إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← حَكِيمُ1 بْنُ سَيْفٍ الرَّقِّيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْقَطَّانُ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The Marriage Book · Hadith 4026

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4027

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: «أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ» قَالَ سَعْدٌ: «فَلَوْ أَجَازَ لَهُ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَاخْتَصَيْنَا»

سعید بن مسیّب بیان کرتے ہیں: حضرت سعد بن ابو وقاص رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے مجرد رہنے کا ارادہ کیا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس سے منع کر دیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم خود کو خصی کر وا لیتے۔

سَعْدٌ: «فَلَوْ أَجَازَ لَهُ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ لَاخْتَصَيْنَا» ← «أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ، فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ عَنْهُ» ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The Marriage Book · Hadith 4027

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4028

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسحَاق الثَّقَفِيّ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَة، عَنْ حَفْص بن أَخِي أَنَس بن مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُر بِالباءَةِ، وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْياً شَدِيداً، وَيَقُولُ: «تَزَوَّجُوا الوَدُودَ الوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ الأنبِياءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نکاح کرنے کا حکم دیتے تھے اور مجر درہنے سے سختی سے منع کرتے تھے۔ آپ یہ فرماتے تھے: محبت کرنے والی اور اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی خواتین کے ساتھ شادی کرو۔ کیونکہ میں قیامت کے دن انبیاء کے سامنے تمہاری کثرت پر فخر کر وں گا۔

التَّبَتُّلِ نَهْياً شَدِيداً، وَيَقُولُ: «تَزَوَّجُوا الوَدُودَ الوَلُودَ، فَإِنِّي مُكَاثِرٌ الأنبِياءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ← «كَانَ رَسُولُ اللهِ يَأْمُر بِالباءَةِ، وَيَنْهَى ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَفْص بن أَخِي أَنَس بن مَالِكٍ، ← خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The Marriage Book · Hadith 4028

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4029

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيِّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِهِ: ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ لَا [ص:339] تَعُولُوا، قَالَ: «أَنْ لَا تَجُورُوا»

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) " یہ اس بات کے زیادہ لائق ہے، تم عول نہ کرو"۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں اس سے مراد یہ ہے: تم ظلم نہ کرو۔

«أَنْ لَا تَجُورُوا» ← النَّبِيِّ فِي قَوْلِهِ: ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ لَا [ص:339] تَعُولُوا، ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ الْعُمَرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The Marriage Book · Hadith 4029

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4030

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «ثَلَاثَةٌ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ يُعِينَهُمُ: الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَالنَّاكِحُ يُرِيدُ أَنْ يَسْتَعِفَّ، وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الْأَدَاءَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تین لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے یہ بات ہے، وہ ان کی مدد کرے اللہ کی راہ میں جہادد کرنے والا مجاہد اور نکاح کرنے والا ایسا شخص جو پاک دامنی اختیار کرنا چاہتا ہو اور ایسا مکاتب غلام جو ادائیگی کرنے کا ارادہ کرے۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The Marriage Book · Hadith 4030

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4031

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ - وَذَكَرَ ابْنُ خُزَيْمَةَ آخَرَ مَعَهُ - قَالَا: حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الدُّنْيَا كُلَّهَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ»

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " دنیا ساری کی ساری سازو سامان ہے دنیا کے سازو سامان میں سب سے بہترین چیز نیک بیوی ہے"۔

«إِنَّ الدُّنْيَا كُلَّهَا مَتَاعٌ، وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ» ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ← شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ، أَنَّهُ ← حَيْوَةُ وَذَكَرَ ابْنُ خُزَيْمَةَ آخَرَ مَعَهُ ← الْمُقْرِئُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The Marriage Book · Hadith 4031

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4032

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَرْبَعٌ مِنَ السَّعَادَةِ: الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ، وَالْمَسْكَنُ الْوَاسِعُ، وَالْجَارُ الصَّالِحُ، وَالْمَرْكَبُ [ص:341] الْهَنِيءُ، وَأَرْبَعٌ مِنَ الشَّقَاوَةِ: الْجَارُ السُّوءُ، وَالْمَرْأَةُ السُّوءُ، وَالْمَسْكَنُ الضِّيقُ، وَالْمَرْكَبُ السُّوءُ»

اسمٰعیل بن محمد اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا ( حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے: " چار چیزیں خوش بختی کی (علامت ) ہیں نیک بیوی ، کشادہ گھر ، اچھا ہمسایہ اور اچھی سواری اور چار چیزیں بد بختی کی (علامت ہیں) برا ہمسا یہ ، بری بیوی ، تنگ گھر اور بری سواری۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The Marriage Book · Hadith 4032

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4033

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ، فَفِي الرَّبْعِ، وَالْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ» يَعْنِي: الشُّؤْمَ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: " اگر وہ ( نحوست ) کسی چیز میں ہو، تو یا گھر میں ہو گی یا گھوڑے میں ، یا بیوی میں ( راوی کہتے ہیں) نبی اکرم ﷺ کی مراد نحوست تھی"۔

«إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ، فَفِي الرَّبْعِ، وَالْفَرَسِ، وَالْمَرْأَةِ» يَعْنِي: الشُّؤْمَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى بِعَسْكَرِ مُكْرَمٍ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The Marriage Book · Hadith 4033

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4034

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ رَجَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُهُنَّ أَيْسَرُهُنَّ صَدَاقًا»

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " ان (بیویوں میں ) سب سے بہتر ہو ہے، جس کا مہر کم ہو"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← رَجَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← أَبُو عَمَّارٍ، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The Marriage Book · Hadith 4034

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4035

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، [ص:343] عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ: أَنَّ جُلَيْبِيبًا كَانَ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَى النِّسَاءِ، وَيَتَحَدَّثُ إِلَيْهِنَّ، قَالَ أَبُو بَرْزَةَ: فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: لَا يَدْخُلَنَّ عَلَيْكُمْ جُلَيْبِيبٌ، قَالَ: فَكَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ لِأَحَدِهِمْ أَيِّمٌ لَمْ يُزَوِّجْهَا حَتَّى يَعْلَمَ أَلِرَسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا حَاجَةٌ أَمْ لَا؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: «يَا فُلَانُ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ»، قَالَ: نَعَمْ وَنُعْمَى عَيْنٍ، قَالَ: «إِنِّي لَسْتُ لِنَفْسِي أُرِيدُهَا»، قَالَ: فَلِمَنْ؟، قَالَ: «لِجُلَيْبِيبٍ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ أُمَّهَا، فَأَتَاهَا، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ابْنَتَكِ، قَالَتْ: نَعَمْ وَنُعْمَى عَيْنٍ، قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَتْ لِنَفْسِهِ يُرِيدُهَا، قَالَتْ: فَلِمَنْ يُرِيدُهَا؟، قَالَ: لِجُلَيْبِيبٍ، قَالَتْ: حَلْقَى أَلِجُلَيْبِيبٍ؟، قَالَتْ: لَا لَعَمْرُ اللَّهِ، لَا أُزَوِّجُ جُلَيْبِيبًا، فَلَمَّا قَامَ أَبُوهَا لَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتِ الْفَتَاةُ مِنْ خِدْرِهَا لِأُمِّهَا: مَنْ خَطَبَنِي إِلَيْكُمَا قَالَا: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَتَرُدُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ ادْفَعُونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّهُ لَنْ يُضَيِّعَنِي، فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: شَأْنُكَ بِهَا، فَزَوَّجَهَا جُلَيْبِيبًا قَالَ حَمَّادٌ: قَالَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ: هَلْ [ص:344] تَدْرِي مَا دَعَا لَهَا بِهِ قَالَ: وَمَا دَعَا لَهَا بِهِ؟ قَالَ: «اللَّهُمَّ صُبَّ الْخَيْرَ عَلَيْهِمَا صَبًّا، وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهُمَا كَدًّا» قَالَ ثَابِتٌ: فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، قَالَ: «تَفْقِدُونَ مِنْ أَحَدٍ؟ »، قَالُوا: لَا، قَالَ: «لَكِنِّي أَفْقِدُ جُلَيْبِيبًا، فَاطْلُبُوهُ فِي الْقَتْلَى»، فَوَجَدُوهُ إِلَى جَنْبِ سَبْعَةٍ، قَدْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقَتَلَ سَبْعَةً، ثُمَّ قَتَلُوهُ ? هَذَا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ»، يَقُولُهَا سَبْعًا، فَوَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سَاعِدَيْهِ، مَا لَهُ سَرِيرٌ إِلَّا سَاعِدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى وَضَعَهُ فِي قَبْرِهِ، قَالَ ثَابِتٌ: وَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا

حضرت ابو بر زہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جلییب ایک انصاری تھا وہ خواتین کے ہاں جا یا کرتا تھا اور ان کے ساتھ بات چیت کیا کرتا تھا حضرت ابو بر زہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اپنی بیوی سے کہا جلییب تمہارے پاس نہ آئے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کا یہ معمول تھا کہ جب ان کے ہاں کی خواتین میں سے کوئی بیوہ یا طلاق یافتہ ہو جاتی، تو وہ اس خاتون کی آگے شادی اس وقت تک نہیں کرتے تھے جب تک یہ بات نہیں جان لیتے تھے کہ نبی اکرم ﷺ تو اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتے؟ ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ایک انصاری سے کہا: اے فلاں شخص تم اپنی بیٹی کی شادی کروا دو اس نے عرض کی؛ جی ہاں! سر آنکھوں پر۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں خود اس کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتا اس انصاری نے دریافت کیا: پھر کس کے ساتھ کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جلییب کے ساتھ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ( آپ مجھے موقع دیں ) تا کہ میں لڑکی کی ماں کے ساتھ مشورہ کر لوں پھر وہ شخص اس عورت کے پاس آیا اور یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے تمہاری بیٹی کیلئے نکاح کا پیغام بھجوایا ہے اس عورت نے کہا: ٹھیک ہے سر آنکھوں پر ۔ اس شخص نے کہا: نبی اکرم ﷺ نے اپنے لیے پیغام نہیں دیا: تو عورت نے دریافت کیا: پھر نبی اکرم ﷺ نے کس کے لیے نکاح کا پیغام بھجوا یا ہے اس شخص نے بتا یا: جلییب کیلئے۔ اس عورت نے کہا: اس نالائق جلییب کیلئے پھر اس عورت نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! میں جلییب کے ساتھ ( اپنی بیٹی کی ) شادی نہیں کروں گی۔ جب لڑکی کا باپ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں جانے کیلئے اٹھنے لگا، تو لڑکی نے پر دے کے پیچھے سے اپنی ماں سے کہا میری شادی کے بارے میں آپ کو نکاح کا پیغام کس نےبھجوا یا ہے؟ ان دونوں نے جواب دیا: اللہ کے رسول نے، اس لڑکی نے دریافت کیا: تو کیا آپ لوگ اللہ کے رسول کے حکم پر عمل نہیں کریں گے آپ مجھے اللہ کے رسول کے سپر د کر دیں وہ مجھے ضائع نہیں کریں گے پھر اس بچی کا باپ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: اس بچی کا معاملہ آپ کے سپر د ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے اس بچی کی شادی جلییب سے کروا دی۔ حماد نامی راوی کہتے ہیں: اسحاق بن عبداللہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: کیا تم جانتے ہو کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے بچی کیلئے کیا دعا کی تھی۔ راوی نے دریافت کیا: نبی اکرم ﷺ نے اس کے لیے کیا دعا کی تھی، تو اسحاق نے بتایا: ( نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا کی تھی) " اے اللہ ! ان دونوں پر بھلائی کو اچھی طرح انڈیل دے اور ان کی زندگی میں کوئی سختی نہ آنے دینا"۔ یہاں ثابت نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے اس لڑکی کی شادی ان صاحب سے کر وا دی ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کسی جنگ میں حصہ لینے کیلئے تشریف لے گئے ، تو آپ نے دریافت کیا: کیا تم کسی کو غیر موجود پاتے ہو ان لوگوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ، لیکن مجھے جلییب غیر موجود محسوس ہو رہا ہے، تو تم لوگ مقتو لین میں اسے تلاش کرو تو ان لوگوں نے جلییب کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ سات مشرکین کے پاس موجود تھے انہوں نے ان سات مشرکین کو قتل کیا تھا اور خود شہید ہوئے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا اس نے سات آدمیوں کو قتل کیا ہے اور پھر خودشہید ہوا ہے یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں یہ بات نبی اکرم ﷺ نے سات مرتبہ ارشا د فرمائی پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنے بازوؤں پر اٹھا لیا ان کی چارپائی نبی اکرم ﷺ کے صرف بازو ہی تھے، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں خود ان کی قبر میں اتارا۔ ثابت نامی راوی بیان کرتے ہیں: انصار میں کوئی بیوہ عورت ایسی نہیں ملی تھی جو اس (جلییب کی اہلیہ ) سے زیادہ خرچ کرنے والی ہو (یعنی ان سےزیادہ مال دار ہو)

أَبِي بَرْزَةَ الأَسْلَمِيِّ ← كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، ← ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The Marriage Book · Hadith 4035

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4036

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ [ص:345] لِأَرْبَعٍ: لِجَمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فر مان نقل کرتے ہیں: " عورت کے ساتھ شادی چار باتوں کی وجہ سے کی جاتی ہے اس کی خوبصورتی کی وجہ سے ، اس کے نسب کی وجہ سے، اس کے مال کی وجہ سے یا اس کے دین کی وجہ سے تو تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں تو تم دین دار عو رت کو تر جیح دو"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The Marriage Book · Hadith 4036

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ كِتَابُ النِّكَاحِ · حديث 4037

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، وَهُوَ الْفِطْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَمَّتِهِ قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى مَالِهَا، وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى جَمَالِهَا، وَتُنْكَحُ [ص:346] الْمَرْأَةُ عَلَى دِينِهَا، خُذْ ذَاتَ الدِّينِ، وَالْخُلُقِ تَرِبَتْ يَمِينُكَ» عَمَّتُهُ زَيْنَبُ بِنْتُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فر مایا ہے:"عورت کے ساتھ شادی یا تو اس کے مال کی بنیاد پر کی جاتی ہے یا اس کی خوبصورتی کی بنیاد پر کی جاتی ہے یا اس کے دین کی وجہ سے کی جاتی ہے، تو تم دین اور اچھے اخلاق کو اختیار کرو تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں"۔ ( امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں) سعید بن اسحاق نامی راوی کی پھوپھی سے مراد حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی صاحب زادی زینب ہے۔

أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ← عَمَّتِهِ ← سَعِيدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى، وَهُوَ الْفِطْرِيُّ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ النَّسَوِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › The Marriage Book · Hadith 4037

chevron_left Previous
1234…16
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr