Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2851

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ لَا نَسْمَعُ له صوتا1. [34:5]

حضرت سمرہؓ بیان کرتے ہیں : آپ نے ہمیں کسوف کے موقع پر نماز پڑھائی ہم نے آپﷺ کی آواز نہیں سنی۔

صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ فِي الْكُسُوفِ لَا نَسْمَعُ له صوتا1. ← سَمُرَةَ ← ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ الْعَبْدِيِّ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2851

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2852

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: [ص:95] حَدَّثَنِي ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ، أَنَّهُ شَهِدَ خِطْبَةَ يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ سَمُرَةُ: بَيْنَا أَنَا يَوْمًا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ قَدْرَ رُمْحَيْنِ - أَوْ ثَلَاثَةٍ - فِي عَيْنِ النَّاظِرِ مِنَ الْأُفُقِ اسْوَدَّتْ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلَقَ بِنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَاللَّهِ لَتُحْدِثَنَّ هَذِهِ الشَّمْسُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي أُمَّتِهِ، حَدِيثًا قَالَ: فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا هُوَ بَارَزٌ حِينَ خَرَجَ إِلَى النَّاسِ قَالَ: «فَتَقَدَّمَ، فَصَلَّى بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ بِنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ سَجَدَ كَأَطْوَلِ مَا سَجَدْنَا فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا، ثُمَّ قَعَدَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ» قَالَ: فَوَافَقَ تَجَلِّي الشَّمْسُ جُلُوسَهُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَسَلَّمَ «

ثعلبہ بن عباد عبدی کے بارے میں یہ بات منقول ہے ‘ وہ حضرت سمرہ بن جندب ؓ کے خطبے میں موجود تھے ‘ تو انہوں نے اپنے خطبے میں نبی اکرمﷺ کے حوالے سے ایک حدیث بیان کی حضرت سمرہؓ نے یہ بات بیان کی نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک مرتبہ میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا نشانے بازی کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج دو نیزوں جتنا یا شاید تین نیزوں جتنا ہو گیا دیکھنے والے کو افق سیاہ محسوس ہونے لگا ( یعنی سورج گرہن ہو گیا ) تو ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم مسجد کی طرف چلتے ہیں اللہ کی قسم! سورج کی یہ حالت نبی اکرمﷺ کی امت کے حوالے سے نبی اکرمﷺ کی طرف سے کوئی نیا حکم لے کر آئے گی ۔ راوی کہتے ہیں : ہم لوگ مسجد کی طرف آئے وہاں ہمیں نبی اکرمﷺ ملے آپﷺ لوگوں کی طرف تشریف لائے ۔ نبی اکرمﷺ آگے بڑھے آپﷺ نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی جو سب سے طویل نماز تھی جو آپﷺ نے ہمیں پڑھائی تھی لیکن ہم نے آپﷺ کی آواز سنائی نہیں دی پھر آپﷺ نے سجدہ کیا جو سب سے طویل سجدہ تھا جو ہم نے کسی بھی نماز میں کیا تھا لیکن ہمیں آپﷺ کی آواز سنائی نہیں دی پھر دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کرنے کے بعد آپﷺ بیٹھ گئے۔ راوی کہتے ہیں : آپﷺ کے دوسری رکعت میں بیٹھنے کے ساتھ ہی سورج روشن ہو گیا تو آپﷺ نے سلام پھیر دیا۔

سمرة: بَيْنَا ← فِي خُطْبَتِهِ حَديثاً ← ثَعْلَبَةُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ، أَنَّهُ شَهِدَ خِطْبَةَ يَوْمًا لِسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ← الْفَضْلُ بْنُ دُکَيْنٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2852

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2853

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ زَيْدِ1 بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عن بن عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَامَ طَوِيلًا نَحْوًا مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوْلِ ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوْلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوْلِ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوْلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْنَاكَ تَنَاوَلْتَ شَيْئًا في مَقَامِکَ ھٰذَا ، ثُمَّ رَاَیْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ ، فَقَالَ: اِنِّیْ رَاَیْتَ الْجَنَّۃَ اَوْ اُرِیتُ الْجَنَّۃَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْھَا عُنْقُودًا ، وَلَوْا اَخَذْتُہٗ لَاَکَلْتُمْ مِنْہُ مَا بَقِیَتِ الدُّنْیَا: وَرَاَیْتُ النَّارَ فَلَمْ اَرَکَالْیَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ، وَرَاَیْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا النِّسَاءَ قَالُوْا: بِمَ یَا رَسُوْلَ اللہِ ؟ قَالَ بِکُفْرِھِنَّ قِیلَ: یَکْفُرْنَ بِاللہِ ؟ قَالَ یَکْفُرْنَ الْعِشَیرَ ، وَیَکْفُرْنَ الْاِحْسَانَ ، لَوْ اَحْسَنْتَ اِلٰی اِحْدَاھْنَّ الدَّھْرَ ، ثُمَّ رَاَتْ مِنْکَ شَیْئًا قَالَتْ: وَاللہِ مَا رَاَیْتُ مِنْکَ خَیْرًا قَطُّ

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا نبی اکرمﷺ نے نماز ادا کی لوگوں نے آپﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی نبی اکرمﷺ نے طویل قیام کیا جو سورہ بقرہ کی تلاوت جتنا تھا ‘ پھر آپﷺ نے طویل رکوع کیا ‘پھر آپﷺ نے سر اٹھایا اور طویل قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا ‘ پھر آپﷺ رکوع میں چلے گئے اور آپﷺ نے طویل رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کم تھا ‘ پھر آپﷺ نے سجدے میں چلے گئے پھر آپﷺ کھڑے ہوئے اور آپﷺ نےطویل قیام کیا لیکن یہ پہلے قیام سے کم تھا ‘پھر آپﷺ نے طویل رکوع کیا لیکن یہ پہلے رکوع سے کم تھا ‘ پھر آپﷺ سجدے میں چلے گئے پھر آپﷺ نے نماز مکمل کی تو سورج روشن ہو چکا تھا نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’ بے شک سورج اور چاند گرہن کسی کے مرنے یاجینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ‘ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں جب تم انہیں (گرہن کی حالت میں) دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو ‘‘۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ( ﷺ ) ! ہم نے آپﷺ کو دیکھا ‘ آپﷺ اپنی جگہ سے کوئی چیز پکڑنے کے لئے ( آگے ہوئے تھے ) پھر ہم نے آپﷺ کو دیکھا ‘ آپﷺ پیچھے ہٹے تھے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے جنت کو دیکھا تھا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھے جنت دکھائی گئی تو میں نے اس میں سے انگوروں کا ایک گچھا پکڑنے کی کوشش کی اگر میں اسے پکڑ لیتا تو تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے رہتے اور میں نے جہنم کو دیکھا میں نے آج جیسا ( ہیت ناک ) منظر کبھی نہیں دیکھا میں نے دیکھا ‘ اس میں اکثریت خواتین کی تھی لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اس کی وجہ کیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس کی وجہ کفر ہے عرض کی گئی : کیا وہ اللہ کا کفر کرتی ہیں ؟ آپﷺ نے فرمایا: وہ شوہر کی ناشکری کرتی ہیں اور احسان کا انکار کرتی ہیں ‘ اگر تم ان میں سے کسی ایک کے ساتھ ایک زمانے تک اچھائی کرتے رہو پھر اسے تمہاری طرف سے کوئی ناگوار صورت حال دیکھنی پڑے تو وہ یہ ہی کہے گی : اللہ کی قسم! میں نے کبھی تمہاری طرف سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔

بن عباس أنه ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 2853

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2854

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: كُنَّا نَرَى الْآيَاتِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بركات وأنتم ترونها تخويفا1. [34:5] قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ: خَبَرُ حَبِیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ عَنْ طَاؤسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، صَلّٰی فِیْ کُسُوْفِ الشَّمْسِ ثَمَانِیَ رَکَعَاتٍ وَاَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ، لَیْسَ بِصَحِیْحٍ لِاَنَّ حَبِیْبًا لَمْ یَسْمَعْ مِنْ طَاوٗسٍ ھٰذَا الْخَبَرَ ، وَکَذٰلِکَ خَبَرُ عَلِیٍّ رِضْوَانُ اللہُ عَلَیْہِ ، اَنَّہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، صَلّٰی فِیْ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ ھٰذَا النَّحْوَ، لَاَنَا لَا نَحْتَجَّ بِحَنَشٍ وَاَمْثَالِہٖ مِنْ اَھْلِ الْعِلْمِ ، وَکَذٰلِکَ اَغْضَیْنَا عَنْ اِمْلَائِہِ

حضرت عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ( ظاہر ہونے والی ) نشانیوں کو برکت کا نشان سمجھتے تھے جبکہ تم انہیں خوف دلانے والی چیز سمجھتے ہو۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) حبیب بن ابو ثابت نے طاؤس کے حوالے سے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے سورج گرہن کی نماز میں آٹھ رکوع کیے تھے۔ چار سجدے کیے تھے۔ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ حبیب نے طاؤس کے حوالے سے یہ روایت نہیں سنی ہے۔ اسی طرح حضرت علی ؓ کے حوالے سے منقول یہ روایت کہ نبی اکرمﷺ نے نماز کسو ف اس طرح ادا کی تھی وہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ ہم حنش اور اس جیسے راویوں کی احادیث سے استدلال نہیں کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم ان کی املاء کروائی ہوئی روایت سے بھی چشم پوشی کرتے ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوْسٍ ← اَبُوْ حَاتِمٍ خَبَرُ حَبِیْبِ بْنِ اَبِیْ ثَابِتٍ ← كُنَّا نَرَى الْآيَاتِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ بركات وأنتم ترونها تخويفا1. ← عَبْدُ اللَّهِ ← عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 2854

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2855

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنِ أَسْمَاءَ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلَاةِ الكسوف1. [67:1]

سیدہ اسماء ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے نماز کسوف ( کے بعد والے خطبے ) کے دوران غلام آزاد کرنےکا حکم دیا تھا۔

كَانَ النَّبِيُّ يَأْمُرُ بِالْعَتَاقَةِ فِي صَلَاةِ الكسوف1. ← أَسْمَاءَ ← فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زَائِدَۃَ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2855

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْکُسُوْفِ · حديث 2856

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَامَ يَوْمًا خَطِيبًا فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَمُرَةُ: بَيْنَا أَنَا وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى1 إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَكَانَتْ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ اسْوَدَّتْ فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ: انْطَلَقَ بِنَا2 إِلَى مَسْجِدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَاللَّهِ لَتُحْدِثَنَّ هَذِهِ الشَّمْسُ الْيَوْمَ لِرَسُولِ اللَّهِ3 فِي أُمَّتِهِ حَدِيثًا قَالَ: فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَوَافَقْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجَ فَاسْتَقَامَ فَصَلَّى فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ فِي صَلَاةٍ قَطُّ لَا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ بِالرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ثُمَّ جَلَسَ فَوَافَقَ جُلُوسَهُ تَجَلِّي الشَّمْسِ فَسَلَّمَ وَانْصَرَفَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ثُمَّ قَالَ: "يَا أَيُّهَا الناس إنما بَشَرٌ رَسُولٌ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ بِتَبْلِيغِ رِسَالَاتِ رَبِّي

حضرت سمرہ بن جندب ؓ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ وہ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے ‘ تو انہوں نے اپنے خطبے کے دوران نبی اکرمﷺ کے حوالے سے حدیث بیان کی حضرت سمرہ ؓ نے یہ بات بیان کی‘ ایک مرتبہ میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں نشانے بازی کر رہے تھے اسی دوران سورج طلوع ہوا ‘ تو وہ دیکھنے والے کو ایک نیزے جتنا یا دو نیزے جتنا محسوس ہو رہا تھا باقی سیاہ تھا ہم میں نے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا : ہم اللہ کے رسول کی مسجد کی طرف چلتے ہیں اللہ کی قسم! سورج کی یہ حالت نبی اکرمﷺ کے لیے کوئی نیا حکم لے کر آئے گی ہم لوگ مسجد کی طرف آئے‘ تو نبی اکرمﷺ اس وقت گھر سے تشریف لائے تھے آپﷺ کھڑے ہوئے نماز ادا کرنا شروع کی آپﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی اور آپﷺ نے ہمیں جتنی بھی نمازیں پڑھائی تھیں وہ ان میں سے سب سے طویل تھی ہم نے آپﷺ کی آواز نہیں سنی پھر آپﷺ کھڑے ہوئے اور آپﷺ نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی پھر جب آپﷺ بیٹھے تو آپﷺ کے بیٹھنے کے دوران ہی گرہن ختم ہو گیا ‘ آپﷺ نے سلام پھیرا نماز مکمل کی پھر اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا ء بیان کی اور اس بات کی گوہی دی ‘ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور آپﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں پھر آپﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں ایک انسان ہوں ‘ جسے رسول کے طور پر مبعوث کیا گیا ‘ میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں ‘ اگر تم لوگ یہ بات جانتے ہو ‘ میں نے اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ میں کوئی کوتاہی کی ہے ‘ تو تم مجھے اس بارے میں بتاؤ لوگوں نے عرض کی: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں آپﷺ نے اپنے پروردگار کے پیغام کو پہنچا دیا ہے اور اپنی امت کی خیر خواہی کی ہے اور جو چیز آپﷺ کے ذمے تھی آپﷺ نے اسے ادا کر دیا ہے ‘ پھر نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں ‘ سورج کا گرہن ہونا چاند کا گرہن ان ستاروں کا اپنے مطلع سے گرنا زمین سے تعلق رکھنے والے کسی بڑے آدمی کے انتقال کی وجہ سے ہوتا ہے یہ لوگ غلط سمجھتے ہیں ‘ بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں ‘ جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عبرت دلاتا ہے ‘ تاکہ وہ لوگ توبہ کی طرف آئیں۔ اللہ کی قسم ! تم نے اپنے دنیا اور آخرت کے معاملے میں جس بھی صورت حال کا سامنا کرنا ہے وہ میں نے ابھی یہاں نماز ادا کرنے کے دوران کھڑے ہوئے دیکھ لی ہے اللہ کی قسم! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس کذابوں کا ظہور نہیں ہو گا جن میں سے ایک کانا دجال ہو گا اس کی بائیں آنکھ نہیں ہو گی وہ ابو تحیٰی کی آنکھ کی مانند ہو گی یہ انصار کا ایک بوڑھا تھا اس کے اور سیدہ عائشہ ؓ کے حجرے کے درمیان ایک لکڑی تھی۔ دجال کا جب بھی ظہور ہو گا ‘ تو وہ ہی دعویٰ کرے گا ‘ وہ اللہ ہے اور جو اس کی تصدیق کرے گا پیروی کرے گا ‘ تو اس کے پہلے کا کوئی بھی نیک عمل اسے فائدہ مسلمانوں کو بیت المقدس کی طرف جانے پر مجبور کر دے گا وہ لوگ شدید محاصرہ کریں گے۔ اسود نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ‘ اسی دوران حضرت عیسٰی بن مریم ؑ ان کےک درمیان آئیں گے تو اللہ تعالیٰ دجال کو اور اس کے لشکر وں کو پسپا کر دے گا ‘ یہاں تک کہ دیوار کی بنیاد اور درخت کا تنا بھی یہ پکار کر کہیں گے : اے مومن! یہ کافر ہے ‘ جو میرے پیچھے چھپا ہوا ہے تم آگے آؤ اور اسے قتل کرو اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا ‘ جس وقت تک تم عظیم امور نہیں دیکھو گے ‘ جو تمہیں پریشان کر دیں گے تم ایک دوسرے سے پوچھو گے ‘ تمہارے نبی نے اس کا ذکر تمہارے سامنے کیا تھا وہ ایسی آزمائش ہو گی ‘ پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : پھر اس کے بعد قبض ہو گا۔ پھر انہون نے اپنی انگلیوں کے کناروں کو بند کیا ‘ پھر انہوں نے دوسری مرتبہ یہ کہا نبی اکرمﷺ نے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ میں نے دیکھی ہے ‘ پھر انہوں نے یہی چیز ذکر کی اور اس میں کوئی ایک لفظ بھی اپنی جگہ سے پہل یا بعد میں بیان نہیں کیا۔

سمرة: بَيْنَا ← فِي خُطْبَتِهِ حَديثاً ← قَامَ يَوْماً خَطِيباً ← سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ← الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2856

chevron_left Previous
123
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr