صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ الْعِبْدَیْنِ · حديث 2823
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عابس، قال: سمعت بن عَبَّاسٍ وَقِيلَ لَهُ: أَشَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْعِيدِ؟ قَالَ: نَعَمْ وَلَوْلَا مَكَانِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مَعَهُ مِنَ الصِّغَرِ، خَرَجَ حَتَّى أَتَى الْعِلْمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ، فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ أَتَى النِّسَاءَ وَمَعَهُ بِلَالٌ، فَوَعَظَهُنَّ، وَذَكَّرَهُنَّ، وَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ، فَرَأَيْتُهُنَّ يَرْمِيَنَّ بِأَيْدِيهِنَّ، وَيَقْذِفْنَهُ فِي ثَوْبِ بِلَالٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وبلال إلى بيته1. [4:5]
عبد الرحمٰن بن عابسؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کو سنا ان سے دریافت کیا گیا: کیا آپ عید کے دن نبی اکرمﷺ کے ہمراہ شریک ہوئے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ! اگر مجھے نبی اکرمﷺ کا قرب خاص حاصل نہ ہوتا تو کم سن ہونے کی وجہ سے میں آپ کے ساتھ شریک نہ ہو پاتا نبی اکرمﷺ تشریف لے گئے یہاں تک کہ آپ کثیر بن صلت کے گھر کے پاس موجود نشان تک آئے وہاں آپ نے نماز ادا کی پھر آپ نے خطبہ دیا ‘ پھر آپ خواتین کے پاس تشریف لائے آپ ﷺ کے ساتھ بلا لؓ تھے آپ نے خواتین کو وعظ و نصیحت کی آپ نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا ‘ تو میں نے خواتین کو دیکھا ‘ وہ اپنے ہاتھوں کے ذریعے صدقے کی چیزیں حضرت بلالؓ کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں ‘ پھر نبی اکرمﷺ اور حضرت بلالؓ گھر کی طرف تشریف لے گئے۔
بن عَبَّاسٍ وَقِيلَ لَهُ: أَشَهِدْتَ الْخُرُوجَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ يَوْمَ الْعِيدِ؟ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← أَبُو خَلِيفَةَ،
Hadith 2823
