Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2780

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: "من اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَأَحْسَنَ غُسْلَهُ وَلَبِسَ مِنْ صَالِحِ ثِيَابِهِ وَمَسَّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ أَوْ دُهْنِهِ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى وَزِيَادَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الَّتِي بَعْدَهَا" 1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں‘ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اچھی طرح غسل کر ے پھر عمدہ کپڑے پہنے اپنے گھر میں موجود خوشبو لگائے یا تیل لگائے ‘تو اس شخص کے اس جمعے اور اگلے جمعے کے درمیانی مزید اس کے بعد تین دن کے ( گناہوں ) کی مغفرت ہو جاتی ہے‘‘؎

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سُھَیْلِ بْنِ اَبِیْ صَالِحٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2780

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2781

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ غَسَّلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ بَکَّرَ ، وَمَشَی فَدَنَا ، وَاسْتَمَعَ ، وَاَنْصَتَ ، وَلَمْ یَلْغُ کَتَبَ اللہُ لَہٗ بِکُلِّ خُطْوَۃٍ یَخْطُوھَا عَمَلَ سَنَۃٍ صِیَامَھَا وَقِیَا مَھَا

حضرت اوس بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’جو شخص جمعہ کے دن غسل کرتے ہوئے اچھی طرح غسل کر ے پھر وہ جلدی جائے اور پیدل چل کر جائے اور ( امام کے ) قریب ہو اور غور سے خطبہ سنے اور خاموش رہے اور کسی لغو حرکت کا مرتکب نہ ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر ایک قدم کے عوض میں اسے ایک سو سال کے ( نفلی ) روزوں اور نوافل کا ثواب عطا کرتا ہے‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں :)نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان ’’ جو شخص غسل دے ‘‘ اس سے آپ کی مراد یہ ہے ۔ کہ وہ شخص اپنے سرکو دھوئے ۔ اور وہ شخص غسل کرتے اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ وہ شخص اپنے جسم کو دھوئے کیونکہ لوگوں کے بال بڑے ہوتے تھے ۔ تو انہیں اہتمام کے ساتھ ان کو دھونے کی ضرورت پیش آتی تھی اور نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان کہ وہ شخص جلدی جائے اور جلدی کرے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ غسل کے لئے جلدی کرے اور جمعے کے لئے جلدی جائے۔

اَوسِ بْنِ اَوْسٍ ← أَبُو الْأَشْعَثَ الصَّنْعَانِيُّ، ← حَسَّانُ بْنُ عَطِیَّۃَ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ،

Hadith 2781

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2782

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عن بن إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: زَعَمُوا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "اغتسلوا يوم الجمعة واغسلوا رؤوسكم إِلَّا أَنْ تَكُونُوا جُنُبًا 1، وَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ". قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَمَّا الطِّيبُ فَلَا أدري، وأما الغسل فنعم2. [2:1]

طاؤس یمانی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ سے کہا: لوگ یہ کہتے ہیں نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’’ تم لوگ جمعہ کے دن غسل کرو اور اپنے سر کو دھو لو‘ ماسوائے اس کے ‘ تم جنبی ہو اور تم خوشبو بھی لگاؤ تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا : جہاں تک خوشبو کا تعلق ہے اس کے بارے میں مجھے معلوم نہیں ہے جہاں تک غسل کا تعلق ہے تو یہ بات ٹھیک ہے ‘‘۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کایہ فرمان ہے کہ ’’ ماسوائے اس کے کہ تم جنبی ہو ‘‘ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جمعہ کے دن غسل جنابت کرنا جبکہ وہ صبح صادق ہو جانے کے بعد ہو یہ جمعہ کے لئے غسل کرنے کی جگہ کافی ہو گا۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ جمعہ کے دن غسل کرنا فرض نہیں ہے کیونکہ اگر یہ فرض ہوتا تو ان دونوں میں سے کوئی ایک غسل دوسرے کی جگہ کافی نہ ہوتا۔

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: زَعَمُوا ← طَاوُسٍ الْيَمَانِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2782

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2783

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَبِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ليلى عَنْ عُمَرَ ، قَالَ : صَلَاۃُ السَّفَرِ ، وَصَلَاۃُ الْفِطْرِ ، وَصَلَاۃُ الْاَضْحٰی ، وَصَلَاۃُ الْجُمُعَۃِ تَمَامٌ، غَیْرٌ قَصْرٍ عَلٰی لِسَانِ نَبِیِّکُمْ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ

حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں: سفر کی نماز ‘ عید الفطر کی نما ز‘ عید الاضحٰی کی نماز اور جمعہ کی نماز دو رکعات ہوتی ہیں اور یہ مکمل نماز ہے اس میں قصر نہیں ہے یہ بات تمہارے نبی ﷺ کی زبانی ثابت ہے۔

عُمَرَ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← زُبَيْدٍ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2783

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2784

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:24] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْدَ أَنَّهُمْ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهُمْ، فَهَذَا يَوْمُهُمُ الَّذِي فُرِضَ عَلَيْهِمْ، فَاخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَدَانَا اللَّهُ لَهُ، فَهُمْ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ، الْيَهُودُ غَدًا، وَالنَّصَارَى بَعْدَ غَدٍ».

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں ‘ نبی اکرمﷺنے ارشاد فرمایا ہے: ’’ ہم قیامت کےدن سبقت لے جانے والے ہوں گے اس کی وجہ یہ ہے ‘ ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی اور یہ وہ دن ہے ‘ جو ان لوگوں پر فرض قرار دیا گیا تو انہوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف ہماری رہنمائی کی تو اس دن کے حوالے سے وہ لوگ پیروکار ہیں۔ یہودیوں کا دن کل کا ( یعنی ہفتے کا ہے ) اور عیسائیوں کا دن پرسوں کا ( یعنی اتوار کا ہے ) ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، [ص:24] ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Hadith 2784

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2785

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سلام، عن الحكم بن ميناء عن بن عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: "لَيَنْتَهِيَنَّ قَوْمٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، وَلَيَكُونُنَّ من الغافلين" 1. [73:1]

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نبی اکرمﷺ کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات بیان کرتے ہیں آپ نے منبر پر یہ بات ارشاد فرمائی : ’’ یاتو لوگ جمعےکو ترک کرنے سے باز آ جائیں گے یا پھر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ لوگ غافلین میں شامل ہو جائیں گے‘‘۔

وَدْعِهِمُ الْجُمُعَاتِ، أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ، وَلَيَكُونُنَّ من الغافلين" ← وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: "لَيَنْتَهِيَنَّ قَوْمٌ ← بن عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُ ← الحكم بن ميناء ← أَبِي سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2785

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2786

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ إِمْلَاءً قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ ـ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ـ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَهَاوُنًا بها، طبع الله على قلبه" 1. [109:2]

حضرت ابو جعد ضمری ؓ صحابی رسول ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نےا رشاد فرمایا : ’’ جو شخص جمعےکو کم تر سمجھتے ہوئے اسے تین مرتبہ ترک کر دے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دے گا ‘‘۔

أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ← عُبَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سِنَانٍ الْقَطَّانُ إِمْلَاءً

Hadith 2786

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2787

أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ1 بْنِ وَرْدَانَ بِالْفُسْطَاطِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عن بن عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّ الْعَبْدَ إذا أخطأ خطيئة نكتت فِي قَلْبِهِ نُكْتَةٌ، فَإِنْ هُوَ نَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ وَتَابَ، صُقِلَتْ، فَإِنْ عَادَ 2 زِيدَ فِيهَا، وَإِنْ عَادَ زِيدَ فِيهَا حَتَّى تَعْلُوَ فِيهِ، فَهُوَ الرَّانُ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: {كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ} [المطففين: 14] " 3. [109:2]

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جب بندہ کوئی غلطی کرتا ہے‘ تو اس کے دل پر ایک نکتہ لگا دیا جاتا ہے اگر وہ اس سے الگ ہو جائے اور مغفرت طلب کرلے اور توبہ کر لے‘ تو وہ نکتہ صاف ہو جاتا ہے البتہ اگر وہ دوبارہ یہی غلطی کرتا ہے‘ تو اس میں اضافہ ہو جاتا ہے اگر وہ غلطی دوبارہ کرتا ہے ‘ تو اس میں اضافہ ہو جاتاہے یہاں تک ( وہ سپاہی ) اس کے اندر غالب آ جاتی ہے یہ وہ ان ( زنگ ) ہے ‘ جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ ’’ بلکہ ان کے دلوں پر زنگ لگ گیا ہے اس وجہ سےجو وہ کماتے ہیں ‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ← بن عَجْلَانَ ← اللَّيْثُ ← عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ وَرْدَانَ

Hadith 2787

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2788

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي قُدَامَةُ بْنُ وَبَرَةَ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُجَيْفٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ، فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَبِنِصْفِ دِينَارٍ»

حضرت سمرہ بن جندبؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ’’ جس شخص کا جمعہ فو ت ہو جائے ایک دینار صدقہ کرنا چاہئے اگر وہ بے تاب نہ ہو ‘ تو نصف دینار کرنا چاہئے ‘‘۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← قُدَامَةُ بْنُ وَبَرَةَ، رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُجَيْفٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← وَكِيعٌ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 2788

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2789

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ بْنِ عُبَيْدٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دينار" 1.

حضر ت سمرہ بن جندب ؓ روایت کرتےہیں ‘ نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے : ’’جو شخص کسی عذر کے بغیر جمعےکو ترک کر دے اسے ایک دینار صدقہ کرنا چاہئے اگر وہ دستیاب نہ ہو ‘ تو نصف دینار کر نا چاہئے ۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ بْنِ عُبَيْدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 2789

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2790

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، [ص:30] عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَجَاءَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ»

حضرت عبد اللہ بن بسر ؓ بیان کرتے ہیں : میں جمعہ کے دن منبر کے پہلو پر بیٹھا ہوا تھا اسی دوران ایک شخص آیا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگنے لگا نبی اکرمﷺ لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے نبی اکرمﷺ نے اس سے فرمایا :تم بیٹھ جاؤ تم نےاذیت پہنچائی ہے اور تم دیر سے آئے ہو۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ، ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 2790

صیح ابن حبان · کِتَابُ الصَّلوٰۃِ ‹ بَابُ صَلَاۃِ الْجُمُعَۃِ · حديث 2791

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسٍ، حَدَّثَنَا [ص:31] عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ، قَالَ: قَالَ أَبُو وَائِلٍ، خَطَبَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، فَأَوْجَزَ وَأَبْلَغَ، فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا: يَا أَبَا الْيَقْظَانِ، لَقَدْ أَبَلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ، فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ، وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ، وَإِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا»

ابو وائل بیان کرتے ہیں : حضرت عمار بن یاسر ؓ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے مختصر اور بلیغ خطبہ دیا جب وہ منبر سے اترے تو ہم نے کہا : اے ابو یقظان ! آپ نے بلیغ اور مختصر خطبہ دیا ہے اگر آپ مزید ( خطبہ ) دیتے ( تو مناسب ہوتا ) تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ ’’ آدمی کا نماز کا طویل ادا کرنا اور خطبے کو مختصر دینا آدمی کے سمجھدار ہونے کی نشانی ہے ‘تو تم لوگ نماز کو طویل ادا کرو اور خطبہ محتصر دیا کرو کیونکہ بعض بیان جادو ہوتے ہیں ‘‘۔

وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 2791

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr