صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1532
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عمرو1 بن اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا بن جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ اَیُّ حَیْنٍ اَحَبُّ اِلَیْکَ اَنْ اُصَلِّیَ الْعَتَمَۃَ اِمَّا اِمَامًا خَلْوًا فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ اعْتَمَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَتَمَۃَ حَیْنِ رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتِیْقَظُوا وَرَقَدُوْا وَاسْتَیْقًظُوا فَقَالَ عُمَرُ الصَّلَاۃَ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ الْاٰنَ یَقْطُرْ رَاْسُہُ مَاءً وَاضِعًا یَدَیْہِ عَلٰی رَاْسِہِ فَقَالَ:
ابن جریج کہتے ہیں میں نے عطا سے دریافت کیا : آپ کے نزدیک کونسا وقت زیادہ پسندیدہ ہے،جس میں ، میں عشا کی نماز ادا کروں ، خواہ میں امام ہوں ، یا تنہا نماز ادا کرہا ہوں ، تو انہوں نے فرمایا:میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے ایک رات نبی اکرم ﷺ نے عشا کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کردی۔ یہاں تک کہ لوگ سو گئے پھر وہ بیدار ہوئے ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : پھر نبی اکرم ﷺتشریف لائے یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے ، آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔ آپ نے اپنے ہاتھ اپنے سر پر رکھے ہوئے تھے آپ نے ارشاد فرمایا: اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا ، میں ان لوگوں کو یہ حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اس وقت میں ادا کریں۔
اعْتَمَّ رَسُوْلُ اللہِ الْعَتَمَۃَ حَیْنِ رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتِیْقَظُوا وَرَقَدُوْا وَاسْتَیْقًظُوا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ اَیُّ حَیْنٍ اَحَبُّ اِلَیْکَ اَنْ اُصَلِّیَ الْعَتَمَۃَ اِمَّا اِمَامًا خَلْوًا ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← عمرو بن ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،
Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1532
