Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1532

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عمرو1 بن اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ عَاصِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا بن جُرَیْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَاءٍ اَیُّ حَیْنٍ اَحَبُّ اِلَیْکَ اَنْ اُصَلِّیَ الْعَتَمَۃَ اِمَّا اِمَامًا خَلْوًا فَقَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ یَقُوْلُ اعْتَمَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَتَمَۃَ حَیْنِ رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتِیْقَظُوا وَرَقَدُوْا وَاسْتَیْقًظُوا فَقَالَ عُمَرُ الصَّلَاۃَ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی کَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَیْہِ الْاٰنَ یَقْطُرْ رَاْسُہُ مَاءً وَاضِعًا یَدَیْہِ عَلٰی رَاْسِہِ فَقَالَ:

ابن جریج کہتے ہیں میں نے عطا سے دریافت کیا : آپ کے نزدیک کونسا وقت زیادہ پسندیدہ ہے،جس میں ، میں عشا کی نماز ادا کروں ، خواہ میں امام ہوں ، یا تنہا نماز ادا کرہا ہوں ، تو انہوں نے فرمایا:میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے ایک رات نبی اکرم ﷺ نے عشا کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کردی۔ یہاں تک کہ لوگ سو گئے پھر وہ بیدار ہوئے ۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : پھر نبی اکرم ﷺتشریف لائے یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے ، آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔ آپ نے اپنے ہاتھ اپنے سر پر رکھے ہوئے تھے آپ نے ارشاد فرمایا: اگر مجھے اپنی امت کی مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا ، میں ان لوگوں کو یہ حکم دیتا کہ وہ اس نماز کو اس وقت میں ادا کریں۔

اعْتَمَّ رَسُوْلُ اللہِ الْعَتَمَۃَ حَیْنِ رَقَدَ النَّاسُ وَاسْتِیْقَظُوا وَرَقَدُوْا وَاسْتَیْقًظُوا ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← قُلْتُ لِعَطَاءٍ اَیُّ حَیْنٍ اَحَبُّ اِلَیْکَ اَنْ اُصَلِّیَ الْعَتَمَۃَ اِمَّا اِمَامًا خَلْوًا ← بن جُرَيْجٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، ← عمرو بن ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1532

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1533

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ حدثنا بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ اعْتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَشَاءِ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةَ فَقَدْ رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً وَهُوَ يَقُولُ: "لَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ لَاَمَرْتُھُمْ اَنْ یُصَلُّوا ھذہ الصلاۃ۔

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم ﷺ نے عشا کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی حضرت عمر بن خطاب ؓ (حجرہ مبارک کے قریب)آئے اور بولے : نماز (کا وقت ہو گیا ہے )خواتین اور بچے سو چکے ہیں ، نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا: اگر مجھے اہل ایمان کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں انہیں یہ حکم دیتا کہ وہ یہ نماز (یعنی اس وقت یہ نماز ) ادا کریں ۔

اعْتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعَشَاءِ فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بِبُسْتَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1533

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1534

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الآخرة.1

حضرت جابر بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ عشا کی نماز کو تاخیر سے ادا کرتے تھے ۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ یُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الْاٰخِرَۃَ ← جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1534

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1535

أخبرنا بن قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ بِعَسْقَلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وهب قال أخبرنا يونس عن بن شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ اعْتَمَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ مِنَ اللَّيَالِي بِصَلَاةِ الْعِشَاءِ وَهِيَ الَّتِي تُدْعَى الْعَتَمَةَ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ حِينَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ: "مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ1 مِنْ أهل الأرض غيركم" وذلك قبل أن يفشوا الإسلام في الناس. قال بن شِهَابٍ وَذَكَرُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تبدروا2 رسول الله صلى الله عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الصَّلَاۃِ وَذٰلِکَ حَیْنَ صَاحَ عمر بن الخطاب۔

سیَدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : ایک رات نبی اکرم ﷺ نے عشا کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی۔ یہ وہ نماز ہے جسے (عتمہ) کہا جاتا ہے نبی اکرم ﷺ (مسجد) میں تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے (بلند آواز میں کہا ) خواتین اور بچے سو چکے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ نے تشریف لانے کے بعد اہل مسجد سے فرمایا ۔ اس وقت تمہارے علاوہ روئے زمین پر اور کوئی شخص اس کا انتظار نہیں کر رہا۔(سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں ) یہ لوگوں کے درمیان اسلام کے پھیل جانے سے پہلے کی بات ہے۔ابن شہاب بیان کرتے ہیں : راویوں نے یہ بات ذکر کیہے نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی۔ تمہارے لئے یہ بات مناسب نہیں ہے تم نماز کے حوالے سے اللہ کے رسول سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔یہ بات آپ نے اس وقت ارشاد فرمائی تھی جب حضرت عمر بن خطاب ؓ نے بلند آواز میں (آپ کی خدمت میں گزراش کی تھی )۔

عُرْوَةَ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قُتَيْبَةَ اللَّخْمِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1535

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1536

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عتيبة عن نافع عن بن عُمَرَ قَالَ مَكَثْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ نَنْتَظِرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ بَعْدَهُ فَقَالَ حِينَ خَرَجَ: "إِنَّكُمْ تَنْتَظِرُونَ صَلَاةً مَا يَنْتَظِرُهَا أَهْلُ دِينٍ غَيْرُكُمْ وَلَوْلَا أَنْ تَثْقُلَ عَلَى أُمَّتِي لَصَلَّيْتُ بِھِمْ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ قَالَ ثُمَّ أمر المؤذن فأقام ثم صلی۔

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں : ایک دن ہم عشا کی نماز کے لئے نبی اکرم ﷺ کا انتظار کرتے رہے، آپ اس وقت ہمارے پا تشریف لائے جب ایک تہائی رات گزر چکی تھی یا شاید اس کے کچھ بات کی بات ہے، جب آپ تشر یف لائے تو آپ نے ارشاد فرمایا:تم لوگ نماز کا انتظار کر رہے ہو تمہارے علاوہ کسی بھی دین کے ماننے والے اس کا انتظار نہیں کر رہے۔ اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ بات میری امت کے لئے مشکل ہو گی تو میں انہیں یہ نماز اس گھڑی میں پڑھاتا ۔راوی بیان کرتے ہیں :پھر آپ نے مئوذن کو حکم دیا انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھائی

بن عُمَرَ ← نَافِعٍ ← الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1536

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1537

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ أَنَّهُمْ قَالُوا لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ هَلْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ فَقَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: "إِنَّ النَّاسَ قَدْ صلوا1 وإنكم لن تزالوا في الصلاة مَا انْتَظَرْ تُمُ الصَّلَاۃَ قَالَ اَنَسٌ فَکَانِّیْ اَنْظُرْ اِلٰی وَبِیصِ خَاتَمِہِ مِنْ فِضَّۃٍ قَالَ وَرَفَعَ أنس یدہ الیسری۔

ثابت بیان کرتے ہیں : لوگوں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے دریافت کیا : کیا نبی اکرم ﷺ کی انگوٹھی تھی ، تو انہوں نے بتایا ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے رات کے وقت عشا کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی ، یہاں تک کہ نصف رات گزر گی تو پھر آپ تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : لوگ نماز ادا کر چکے ہیں اور تم لوگ جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو ۔ اس وقت سے نماز کی حالت میں شمار ہو گے۔ حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی چاندی کی انگو ٹھی کی چمک کا منظر گویا آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں :حضرت انس ؓ نے اپنا بایاں ہاتھ اٹھا کر یہ بات کہی۔

ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1537

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1538

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ الْمَقْبُرِیِّ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلٰی اُمَّتِیْ لَاَخَّرْتُ الْعِشَاءَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں عشا کی نماز کو ایک تہائی رات تک موخر کرتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ الْمَقْبُرِیِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1538

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1539

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إلى ثلث الليل أو شطر الليل" 1.

حضرت ابو ہریرہؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں عشا کو ایک تہائی رات تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) نصف رات تک مئوخر کرتا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← أَبُو عَرُوبَةَ بِحِرَّانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1539

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1540

أَخْبَرَنَا الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابُورَ الرُّومِيُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَوْلَا اَنْ اَشُقَّ عَلٰی اُمَّتِیْ لَاَمَرْتُھُمْ بِالسِّوَاکِ الْوُضُوءِ وَلَاَخَّرْتُ الْعِشَاءَ اِلٰی ثُلُثِ اللَّیْلِ أونصف اللیل۔

حضرت ابو ہریرہؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں انہیں وضو کے ہمراہ مسواک کرنے کا حکم دیتا اور عشا کی نماز کو ایک تہا ئی رات تک (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں ) نصف رات تک موخر کرتا ۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَابُورَ الرُّومِيُّ، ← الْقَطَّانُ بِالرَّقَّةِ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1540

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1541

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حدثني بن أبي لبيد عن أبي سلمة عن بن عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لا تغلبنكم العراب عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْعِشَاءِ يُسَمُّونَهَا الْعَتَمَةَ لِإِعْتَامِ الإبل" 1.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ،نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :دیہاتی لوگ تمہاری نماز عشا کے نام کے حوالے سے تم پر غالب نہ آ جائیں وہ لوگ اسے عتمہ کہتے ہیں ،کیو نکہ وہ اونٹوں (کی دیکھ بھال کے حوالے سے ) تاخیر کرتے ہیں ۔

"لا تغلبنكم العراب عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمُ الْعِشَاءِ يُسَمُّونَهَا الْعَتَمَةَ لِإِعْتَامِ الإبل" ← النَّبِيِّ ← بن عُمَرَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← بن أبي لبيد ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1541

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1542

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الشَّطَوِيُّ1 بِبَغْدَادَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا بن أَبِي فُدَيْكٍ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ قَالَ: "مَا هُوَ" قَالَ هَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ قَالَ: "نَعَمْ إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَدَعِ الصَّلَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ لِقَرْنِ الشَّيْطَانِ ثُمَّ صَلِّ وَالصَّلَاۃُ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتّٰی تَسْتَوِیَ الشَّمْسُ عَلٰی رَاْسِکَ کَالرُّمْحِ فَاِذَا کَانَتْ عَلٰی رَاْسِکَ کَالرُّمْحِ فَدَعِ الصَّلَاۃَ فَاِنَّھَا السَّاعَۃُ الَّتِیْ تُسْجَرُ فِیْھَا جَھَنَّمَ وَیُغَمُّ فِیْھَا زَوَایَاھَا حَتّٰی تَزِیغَ فَاِذَا زَاغَتْ فَالصَّلَاۃُ مَحْضُورَۃٌ مُتَقَبَّلَۃٌ حَتّٰی تُصَلِّیِ الْعَصْرَ ثُمَّ دع الصلاۃ حتی تغرب الشمس۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ۔ حضرت صفوان بن معطل ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں آپ سے ایک ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں جس کے بارے میں آپ جانتے ہیں اور میں اس سے ناواقف ہوں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیا چیز ہے ۔ انہوں نے عرض کی : کیا رات اور دن کے اوقات میں کوئی گھڑی ایسی ہے ، جس میں نماز ادا کرنا مکروہ ہو نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا: جی ہاں جب تم صبح کی نماز ادا کر لو تو نماز کو ترک کر دو یہاں تک کہ سورج شیطان کے سینگ سے طلوع ہو جائے پھر تم نماز ادا کر سکتے ہو اور نماز قبول کی جائے گی یہاں تک کے سورج تمہارے سر کے اوپر نیزے کی طرح بالکل برابر ہو جائے جب وہ تمہارے سر پر نیزے کی طرح ہو جائے ، تو تم نماز کو ترک کر دو ، کیونکہ یہ ایک ایسی گھڑی ہے ، جس میں جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے ، اور اس کے گوشوں کو ملایا جاتا ہے ، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے جب وہ ڈھل جائے ، تو نماز میں (فرشتوں کی حاضری ) بھی ہوتی ہے اور وہ قبول بھی ہوتی ہے ، یہاں تک کہ جب تم عصر کی نماز ادا کر لو تو پھر نماز ادا کرنے سے رک جائو یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے

هَلْ مِنْ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تُكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةُ ← مَا هُوَ؟ ← بِهِ جَاهِلٌ ← أَمْرٍ أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ ← يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي سَائِلُكَ ← سَأَلَ صَفْوَانُ بْنُ الْمُعَطَّلِ رَسُولَ اللَّهِ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، ← بن أبي فديك ← أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ الْمَخْزُومِيُّ ← مُحَمَّد بن أَحْمد الشطوي بِبَغْدَاد

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1542

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1543

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَعَنِ الصَّلَاةِ بعد الصبح حتى تطلع الشمس1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عصر کی نماز کے بعد سورج غروب ہونے تک اور صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْأَعْرَجِ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of prayer timings · Hadith 1543

chevron_left Previous
1…567…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr