Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1520

أَخْبَرَنَا بْنِ سَلْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إلى العوالي فيأتي العوالي والشمس مرتفعة1.

۱۵۲۰۔حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جب کہ سورج ابھی بلند اور چمک دار ہوتا تھا پھر کوئی شخص (عوالی) کی طرف جاتا وہ (عوالی) پہنچ جاتا تھا اور سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1520

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1521

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا بن وهب قال حدثنا يونس عن بن شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِیْ حُجْرَتِھَا لَمْ یظھر الفیء فی حجرتھا۔

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جبکہ سورج (یعنی دھوپ)سیدہ عائشہؓ کے حجرے میں ہوتی تھی،اور ان کے حجرے میں سے سایہ بلند نہیں ہوا ہوتا تھا۔

عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ ← بن شِهَابٍ ← يُونُسَ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← بن قتيبة

Hadith 1521

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1522

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ قَالَ حدثني الليث عن بن شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ حَیَّۃٌ فَیَذْھَبُ الذَّاھِبُ اِلَی الْعَوَالِی فَیَاْتِی الْعَوَالِی والشَّمْسُ مرتفعۃ۔

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جبکہ سورج ابھی بلند اور چمک دار ہوتا تھا پھر کوئی شخص عوالی جاتا اور وہ عوالی پہنچ جاتا تھا جبکہ سورج ابھی بلند ہی ہوتا تھا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← بن شِهَابٍ ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Hadith 1522

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1523

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وتوارت بالحجاب1.

حضرت سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا اور پردے کے پیچھے چھپ جاتا تھا۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وتوارت بالحجاب1. ← سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Hadith 1523

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1524

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ قَالَ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ كَانَ يُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ المغرب ثم يرجع إلى قومه فيؤمهم1.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں :حضرت معاز بن جبل ؓنبی اکرم ﷺ کی اقتدا میں مغرب کی نماز ادا کرتے تھے پھر وہ اپنی قوم کی طرف واپس جا کر ان لوگوں کی امامت کرتے تھے ۔

عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ،

Hadith 1524

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1525

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ الْحَافِظُ بِتُسْتَرَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ: "صَلِّ مَعَنْا هَذَيْنِ الْوَقْتَيْنِ" فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ صَلَّى الظُّهْرَ قَالَ وَصَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ وَصَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ وَصَلَّى الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّى الْفَجْرَ بِغَلَسٍ قَالَ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ لِلظُّهْرِ فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ الَّذِي كَانَ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ لِلْمَغْرِبِ قَبْلَ مَغِيبِ الشَّفَقِ وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ بَعْدَمَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ: "أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ" قَالَ اَنَا یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَقْتُ صَلاتکم بین مارأیتم۔

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ہمارے ساتھ ان دو اوقات میں نماز ادا کرو جب سورج ڈھل گیا ، تو نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز ادا کی۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عصر کی نماز اس وقت ادا کی جب کہ سورج ابھی بلند اور چمک دار اور روشن تھا پھر آپ نے سورج غروب ہوجانے کے بعد مغرب کی نماز ادا کی شفق غروب ہو جانے کے بعد عشا کی نماز ادا کی اور فجر کی نماز آپ نے اند ھیرے میں ادا کی راوی بیان کرتے ہیں : اگلے دن آپ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا ۔ انہوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی اور ٹھنڈے وقت میں کہی پھر آپ کے حکم کے تحت عصر کے لئے اقامت اس وقت کہی جب سورج چکمدار تھا نبی اکرم ﷺ نے اس نماز کو اس سے ذرا تاخیر سے ادا کیا تھا ،جس وقت میں آپ نے اسے گزشتہ روز ادا کیا تھا پھر آپ کے حکم کے تحت مغرب کی نماز کے لئے اس وقت اقامت کہی جب شفق غروب ہونے والی تھی۔ آپ کے حکم کے تحت انہوں نے عشا کی نماز کے لئے اقامت ایک تہائی رات گزر جانے کے بعد کہی اور آپ کے حکم کے تحت انہوں نے فجر کے لیے اقامت روشنی ہو جانے پر کہی پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے عرض کی :میں ہوں،یا رسول اللہ !نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے ، جو تم نے دیکھا ہے۔

وَقْتِ الصَّلاةِ. ← أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← الثَّوْرِيُّ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← اَحْمَدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ زُھَیْرٍ الْحَافِظُ، بِتُسْتَرَ،

Hadith 1525

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1526

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ يَعْنِي الْعِشَاءَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ القمر لثالثة1.

حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں : میں اس نماز (راوی کہتے ہیں یعنی عشا کی نماز ) کے وقت کے بارے میں لوگوں سے زیادہ علم رکھتا ہوں نبی اکرم ﷺ اس کو اس وقت ادا کرتے تھے جب تیسر ی رات کا چاند غروب ہو جاتا تھا۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1526

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1527

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم یُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الْاٰخِرَۃَ

حضرت جا بر ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ عشا کی نماز کو تاخیر سے ادا کرتے تھے۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ یُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الْاٰخِرَۃَ ← جَابِرٍ ← سِمَاكٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1527

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1528

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ قَالَ: سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَالْمَغْرِبَ حِينَ تَغِيبُ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ رُبَّمَا عَجَّلَهَا وربما أخرها وكان الناس إذا جاؤوا عجلها وإذا لَمْ یَجِیْئُوا اَخَّرَھَا وَکَانُوا یُصَلُّوْنَ الصُّبْحَ بَغَلَسٍ۔

محمد بن عمرو بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے نبی اکرم ﷺ کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا آپ ظہر کی نماز سورج ڈھل جانے کے بعد ادا کرتے تھے اور عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج ابھی روشن ہوتا تھا اور مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا اور عشا کی نماز کو آپ بعض اوقات جلدی ادا کر لیتے تھے اور بعض اوقات تاخیر سے سے ادا کرتے تھے جب لوگ پہلے آ جاتے تھے ، تو آپ اسے جلدی ادا کر لیتے تھے اور جب لوگ (پہلے) نہیں آ تے تھے ، تو آپ اسے تاخیر سے ادا کرتے تھے جبکہ آپ صبح کی نماز اندھیرے میں ادا کیا کرتے تھے۔

صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ ← سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَسَنٍ ← سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Hadith 1528

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1529

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلٰی اَصْحَابِہٖ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَّھُمْ یَنْتَظِرُوْنَ الْعِشَاءِ فَقَالَ صَلَّی النَّاسُ وَرَقَدُوْا وَاَنْتُمْ تَنْتَظِرُوْ نَھَا اَمَا اِنَّکُمْ فِیْ صَلَاۃٍ مَا انْتَظَرْ تُمُوْ ھَا ثُمَّ قَالَ لَوْلَا ضَعْفُ الضَّعِیفِ اَوْ کِبَرُ الْکَبِیرِ لَاَخَّرْتُ ھٰذِہِ الصَّلَاۃَ اِلٰی شَطْرِ اللیل۔

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم ﷺ اپنے اصھاب کے پاس تشریف لائے وہ لوگ اس وقت عشا کا انتظار کر رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: لوگوں نے نماز ادا کر بھی لی ہے ، اور وہ سو بھی گئے ہیں اور تم لوگ اس کا انتظار کر رہے ہو تم جب سے اس کا انتطار کر رہے ہو۔ اس وقت سے نماز کی حالت میں شمار ہو گئے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر کمزور شخص کی کمزوری (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں )عمر رسیدہ شخص کی عمر کا خیال نہ ہوتا ، تو میں اس نماز کو نصف رات تک موخر کرتا ۔

جَابِرٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1529

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1530

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ عَنْ زِرِّ بن حبيش عن بن مَسْعُودٍ قَالَ أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاۃَ الْعِشَاءِ ثُمَّ خَرَجِ اِلَی الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ یَنْتِظِرُوْنَ الصَّلَاۃَ فَقَالَ: اَمَا اِنَّہٗ لَیْسَ مِنْ اَھْلِ الْاَدیَانِ اَحَدٌ یَذْکُرُ اللہَ ھٰذِہِ السَّاعَۃَ غَیْرُکُمْ ثُمَّ نَزَلَتْ عَلَیْہِ لَیْسُوا سَوَاءً مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ اُمَّۃٌ قَائِمَۃٌ یَتْلُوْنَ آیَاتِ اللہِ إلی یَسْجُدُونَ (آل عمران:113)۔

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے عشا کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لائے لوگ نماز کا انتظار کر رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس وقت تمہارے علاوہ کسی بھی دین کا ماننے والا کوئی بھی شخص اللہ تعالی کا ذکر نہیں کر رہا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ، وہ لوگ برابر نہیں ہیں ۔ اہل کتاب سے تعلق رکھنے والی ایک امت ایسی ہے ،جو قیام کی حالت میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں (یہ آیات یہاں تک ) وہ سجدہ کرتے ہیں ۔

أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَاۃَ الْعِشَاءِ ثُمَّ خَرَجِ اِلَی الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ یَنْتِظِرُوْنَ الصَّلَاۃَ ← بن مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← شَيْبَانَ ← الْوَلِیْدُ ← صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1530

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1531

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ مَعَ الْوُضُوءِ وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ شَطْرِ اللَّيْلِ" 1.

حضرت ابو ہریرہؓ ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں ۔ اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ، تو میں انہیں وضو کے ہمراہ مسواک کرنے کا حکم دیتا اور میں عشا کی نماز کو ایک تہائی رات تک (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں )نصف رات تک موخر کرتا ۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← يَحْيَى الْقَطَّانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Hadith 1531

chevron_left Previous
1…456…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr