Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1508

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ بيان عن قيس بن حازم عَنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ شُعْبَۃَ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَالْھَاجِرَۃِ فَقَالَ اَبْرِدُوْا بِالصَّلَاۃِ فَاِنَّ شَِّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَھَنَّمَ۔

حضرت مغیرہ بن شبہ ؓ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ دوپہر کے وقت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا : نماز کو ٹھنڈے وقت پر ادا کرو ، کیو نکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے ۔(امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں ) اس روایت کو نقل کرنے میں اسحاق ازرق نامی راوی منفرد ہے۔

اَبْرِدُوْا بِالصَّلَاۃِ فَاِنَّ شَِّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَھَنَّمَ۔ ← کُنَّا مَعَ رَسُوْلُ اللہِ بَالْھَاجِرَۃِ ← الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ ← قيس بن حازم ← بَيَانٍ ← شَرِيکٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، ← أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Hadith 1508

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1509

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْحَسَنِ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِالظُّهْرِ فَقَالَ لَهُ لنبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَبْرِدْ" ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ فَقَالَ لَهُ: "أَبْرِدْ" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثلاثا حتى رأينا في التُّلُولِ وَقَالَ: "إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جهنم فإذا اشتد الحر فأبردوا بالصلاة "1

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت ابو ذر غفاری ؓ کو یہ بیان کرتے سنا ہے۔ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کہ ہمراہ سفر کر رہے تھے۔مئوذن نے ظہر کی نماز کے لیے اذان دینے کا ارداہ کیا ،تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا:ٹھنڈک ہو لینے دو پھر اس نے اذان دینے کا ارداہ کیا،تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : ٹھنڈک ہو لینے دو ایسا دو مرتبہ شاید تین مرتبہ ہو یہاں تک کے جب ہم نے ٹیلوں کے سائے دیکھ لیے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے ، تو جب گرمی شدید ہو ، تو تم (ظہر کی )نماز ٹھنڈے وقت میں ادا کرو۔

لَهُ: "أَبْرِدْ" مَرَّتَيْنِ أَوْ ثلاثا حتى رأينا في التُّلُولِ ← لَهُ لنبي "أَبْرِدْ" ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ ← كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ بِالظُّهْرِ ← أَبَا ذَرٍّ ← أَنَّهُ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبُو الْحَسَنِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Hadith 1509

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1510

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ اَبِیْ بَکْرٍ عَنْ مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بْنِ یَزِیْدَ مَوْلٰی اَسْوَدَ بْنِ سُفْیَانَ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: اَنَّ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اِذَا کَانَ الْحَرُّ فَاَبْرِدُوْا بِالصَّلَاۃِ فَاِنَّ شِدَّۃَ الْحَرِّ مِنْ فَیْحِ جَھَنَّمَ وَذُکِرَ اَنَّ النَّارَ اسْتَکَتْ اَلٰی رَبِّھَا فَاَذِنَ لَھَا بَنَفَسَیْنِ: نفس فی الشتاء ونفس فی الصیف۔

حضرت ابو ہریرہؓ ،نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جب گرمی ہو،تو تم (ظہر کی)نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ذکر کی کہ جہنم نے اپنے پرودگار کی بارگاہ میں شکایت کی ، تو اس کے پرودگار نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی ایک سانس گرمی کے موسم میں ہوتی ہے، اور ایک سانس سردی کے موسم میں ہوتی ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← عَبْدِ اللہِ بْنِ بْنِ یَزِیْدَ مَوْلٰی اَسْوَدَ بْنِ سُفْیَانَ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Hadith 1510

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1511

أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الجمعة وليس للحيطان فيء يستظل به1.

حضرت سلمہ بن اکوعؓ بیان کرتے ہیں :ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی اقتدا میں جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے جب کہ دیواروں کا سایہ نہیں ہوتا تھا ۔ کہ اس کے سائے میں آیا جا سکے۔

كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ يَوْمَ الجمعة وليس للحيطان فيء يستظل به1. ← أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← أَبُو خَلِيفَةَ،

Hadith 1511

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1512

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ قَالَ سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ثم نرجع نتتبع الفيء1.

ایاس بن سلمہ بن اکوع اپنے والد کا بیان نقل کرتے ہیں :ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی اقتدا میں سورج ڈھل جانے کے بعد جمعے کی نماز ادا کرتے تھے اور پھر واپس آتے ہوئے سایہ ڈھونڈا کرتے تھے۔

كُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ النَّبِيِّ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ ثم نرجع نتتبع الفيء1. ← أَبِيهِ ← إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، ← يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ ← وَكِيعٌ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Hadith 1512

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1513

أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا فَقُلْتُ أَيَّةُ سَاعَةٍ تِلْكَ قَالَ زَوَالُ الشمس1.

امام جعفر صادق اپنے والد (امام محمد باقر) کے حوالے سے حضرت جابر بن عبداللہ ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی اقتدا میں جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے پھر ہم واپس آ کر اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو آرام کرواتے تھے۔(امام باقر بیان کرتے ہیں ) میں نے دریافت کیا: یہ کون سی گھڑی ہوتی تھی ، انہوں نے بتایا سورج ڈھلنے کی ۔

جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← الْحَسَنِ بْنِ عَيَّاشٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ← الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ،

Hadith 1513

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1514

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ عَنْ خَلَّادِ بْنِ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَوْمًا ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ قَائِمًا يُصَلِّي فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْنَا: يَا أَبَا حَمْزَةَ أَيُّ صَلَاةٍ صَلَّيْتَ؟ قَالَ: الْعَصْرَ فقلنا: اِنَّمَا انْصَرَفْنَا الْاٰنَ مِنَ الظُّھْرِ صَلَّیْنَا ھَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَذِیزِ فَقَالَ اَنَسٌ اِنِّیْ رَاَیْتٌ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یصلی ھٰکذا فلا أتوکھا أبدا۔

خلاد بن خلاد انصاری بیان کرتے ہیں : ہم نے عمر بن عبدالعزیز کی اقتدا میں ایک دن نماز ادا کی پھر ہم حضرت انس بن مالک ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو ہم نے انہیں کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے پایا جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو ہم نے دریافت کیا:اے ابو حمزہ ! یہ آپ نے کون سی نماز ادا کی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : عصر کی ہم نے کہا ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر آ رہے ہیں جو ہم نے عمر بن عبدالعزیز کی اقتدا میں اد کی، تو حضرت انس ؓ نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ہے، وہ اس نماز کو اسی(وقت میں ) طرح ادا کرتے تھے میں تو اس کھبی ترک نہیں کروں گا۔

خَلَّادِ بْنِ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيِّ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ← أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 1514

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1515

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ: كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَكُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَیَنْصَرِفُ اَحَدُنَا وَاِنَّہٗ لَیَنْظُرُ اِلٰی موقع نبلہ۔

حضرت رافع بن خدیج ؓ بیان کرتے ہیں :ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی اقتدا میں عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے، پھر اس کے بعد اونٹ کو قربان کیا جاتا اور اسے دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا اور پھر پکا دیا جاتا ، تو پھر ہم سورج غروب ہونے سے پہلے وہ پکا ہو گوشت کھا لیتے تھے۔ اور ہم نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں مغرب کی نماز ادا کرتے تھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد کوئی شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتا تھا (یعنی اس وقت اتنی روشنی ہوتی تھی)۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← أَبُو النَّجَاشِيِّ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1515

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1516

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ قال أخبرنا بن يحيى قال حدثنا بن وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیبٍ اَنَّ مُوْسیٰ بْنِ سَعَدٍ الْاَنْصَارِیَّ حَدَّثَہُ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ اَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ بَنِیْ سَلِمَۃَ فَقَالَ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّا نُرِیْدُ اَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا وَنَحْنُ نُحِبُّ اَنْ تَحْضُرَہٗ قَالَ: نَعَمْ فَانْطَلَقَ وَاَنْطَلَقْنَا فَعَہُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَلمْ یُنْحَرْ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قُطِعَتْ ثُمَّ طُبِخَ مِنْھَا ثم أکلنا قبل أن تغیب الشمس۔

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو بنو سلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ! ہم اپنے اونٹ کو قربان کرنا چاہتے ہیں ، آپ بھی وہاں تشریف لائیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا :جی ہاں پھر نبی اکرم ﷺ روانہ ہوئے آپ کے ساتھ ہم بھی روانہ ہو گئے تو ہم وہاں یہ صورت حال پائی کہ اونٹ ابھی قربان نہیں ہوا تھا پھر اسے قربان کیا گیا پھر اس کا گوشت کاٹا گیا پھر اسے پکایا گیا اور سورج غروب ہونے سے پہلے ہم نے اسے کھا بھی لیا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَزِيدَ بْنِ اَبِیْ حَبِیبٍ اَنَّ مُوْسیٰ بْنِ سَعَدٍ الْاَنْصَارِیَّ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← بن وَهْبٍ ← بن يحيى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Hadith 1516

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1517

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا اُمَامَۃَ بْنَ سَھْلِ بْنِ حُنَیْفٍ یَقُوُْ: صَلَّیْنَا مَعَ عُمَرَ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ الظُّھْرَ ثُمَّ خَرَجْنَا حَتّٰی دَخَلْنَا عَلٰی اَنَسِ بقنِ مَالِکٍ فَوَجَدْنَاہُ یُصَلِّی الْعَصْرَ فَقُلْتُ یَا عَمُّ مَا ھٰذِہِ الصَّلَاۃُ الَّتِیْ صَلَّیْتَ ؟ قَالَ: الْعَصْرُ قُلْتُ وَھٰذِہِ صَلَاۃُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ھٰذِہِ صَلَاۃُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الَّتِیْ کُنَّا نصلی معہ۔

حضرت ابو امامہ بن سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں:ہم نے عمر بن عبدالعزیز کی اقتدا میں ظہر کی نماز ادا کی پھر ہم وہاں سے نکلے اور حضرت انس بن مالک ؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو ہم نے انہیں عصر کی نماز ادا کرتے ہوئے پایا میں نے کہا: اے چچا یہ کون سی نماز ہے ، جو آپ نے ادا کی ہے انہوں نے جواب دیا : یہ نبی اکرم ﷺ کی نماز ہے وہ نماز جو ہم آپ ﷺ کی اقتدا میں ادا کیا کرتے تھے۔ (امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں )عمرو بن یحیٰ ما زنی نے خالد بن خلاد کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے جس کا تعلق بنو نجار سے ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز کی اقتدا میں ظہر کی نماز ادا کی ، پھر میں حضرت انس بن مالک ؓ کی خدمت میں حاضر ہو ا تو میں نے انہیں عصر کی نماز ادا کرتے ہوئے پایا ۔ انہوں نے نماز مکمل کی تو میں نے کہا آپ نے کون سی نماز ادا کی ہے؟ تو انہوں نے کہا عصر کی ۔ میں نے کہا ہم تو ابھی عمر بن عبدالعزیز کی اقتدا میں ظہر کی نماز ادا کر کے آ رہے ہیں ، تو انہوں نے کہا میں نے نبی اکرم ﷺ کو اسی طرح نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، تو میں اسے کبھی ترک نہیں کروں گا۔

أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 1517

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1518

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الحنفي قال حدثنا بن أَبِي ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيهَا والشمس مرتفعة1.

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جب کہ سورج ابھی روشن اور چمک دار ہوتا تھا پھر اس کے بعد کوئی شخص نواحی علاقے میں چلا جاتا اور وہاں پہنچ جاتا تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا ۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← بن أَبِي ذِئْبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الحنفي ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1518

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1519

أخبرنا بْنِ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فيأتي العوالی والشمس مرتفعۃ۔

حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جب کہ سورج ابھی بلند اور چمک دار ہوتا تھا پھر کوئی شخص (عوالی) کی طرف جاتا وہ (عوالی) پہنچ جاتا اور سورج ابھی بھی بلند ہوتا تھا۔

أَنَسٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← بن قتيبة

Hadith 1519

chevron_left Previous
12345…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr