Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1484

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ صَلَّى مِنَ الصُّبْحِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ لَمْ تَفُتْهُ الصَّلَاةُ وَمَنْ صَلَّى مِنَ الْعَصْرِ رَكْعَةً قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ لَمْ تَفُتْهُ الصلاة" 1.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص صبح کی نماز کی ایک رکعت سورج نکلنے سے پہلے پالے اس کی نماز فوت نہیں ہوئی جو شخص عصر کی ایک رکعت سورج غروب ہونے سے پہلے پالے اس کی وہ نماز فوت نہیں ہوئی"۔

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي صَالِحٍ وَبُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1484

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1485

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادٍ بِبُسْتَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حدثنا بن إِدْرِيسَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أدرك الصلاة كلها" 1.

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "جو شخص نماز کی ایک رکعت پالے اس نے اس مکمل نماز کو پالیا"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← بن إدريس، ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادٍ بِبُسْتَ

Hadith 1485

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1486

أَخْبَرَنَا مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الْأَنْطَاكِيُّ حدثنا غصن بن إسماعيل حدثنا بن ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَمَكْحُولٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةِ رَكْعَةٍ فَقَدْ أَدْرَكَهَا وَلْيُتِمَّ ما بقي" 1.

۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص نماز کی ایک رکعت پالے اس نے اسے پالیا وہ باقی رہ جانے والی نماز کو مکمل کرلے"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ وَمَكْحُولٍ ← أَبِيهِ ← بن ثَوْبَانَ، ← غصن بن إسماعيل ← مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الْأَنْطَاكِيُّ ← مَكْحُولٌ بِبَيْرُوتَ

Hadith 1486

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1487

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم، قَالَ: مَنْ اَدْرَکَ مِنْ صَلَاۃٍ رَکْعَۃً فَقَدْ اَدْرَکَ قَالُوْا مِنْ ھُنَا قِیلَ وَمَنْ اَدْرَکَ من الجمعۃ رکعۃ صلی إلیھا اخری۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جو شخص نماز کی ایک رکعت کو پالے اس نے اس (نماز کو) پالیا"۔ لوگ یہ کہتے ہیں، اس بنیاد پر یہ بات کہی جاتی ہے، جو شخص جمعہ کی نماز کی ایک رکعت کو پالے وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ادا کرلے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مالک بن أنس ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Hadith 1487

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1488

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ زَوْجِي صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ1 يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ وَيُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ وَلَا يُصَلِّي صَلَاةَ الْفَجْرِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ وَصَفْوَانُ عِنْدَهُ فَسَأَلَهُ عَمَّا قَالَتْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا قَوْلُهَا يَضْرِبُنِي إِذَا صَلَّيْتُ فَإِنَّهَا تَقْرَأُ بِسُورَتِي وَقَدْ نَهَيْتُهَا عَنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَوْ كَانَتْ سُورَةً وَاحِدَةً لَكَفَتِ النَّاسَ". قَالَ وَأَمَّا قَوْلُهَا يُفَطِّرُنِي إِذَا صُمْتُ فَإِنَّهَا تَنْطَلِقُ فَتَصُومُ وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ وَلَا أَصْبِرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يومئذ: "لا تصوم امرأة إلا بِاِذْنِ زَوْجِھَا ۔ قَالَ وَاَمَّا قَوْلُھَا لَا اُصَلِّی حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَاِنَّا اَھْلُ الشَّمْسُ فَاِنَّا اَھْلُ بَیْتٍ لَا نَکَادُ نَسْتِیْقِظُ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فإذا استیقظت فصل۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے شوہر حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ تعالیٰ عنہ (کا یہ حال ہے) کہ جب میں نماز پڑھتی ہوں، تو وہ مجھے مارتے ہیں اور جب میں نفلی روزہ رکھتی ہوں، تو وہ میرا روزہ تڑوا دیتے ہیں اور وہ خود فجر کی نماز اس وقت تک ادا نہیں کرتے جب تک سورج نکل نہیں آتا۔ راوی بیان کرتے ہیں: حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس خاتون کے بیان کے بارے میں دریافت کیا، تو حضرت صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! جہاں تک اس کا یہ کہنا ہے، جب میں نماز پڑھتی ہوں، تو یہ مجھے مارتے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے یہ دو سورتوں کی تلاوت کرتی ہے، تو میں اسے اس بات سے منع کرتا ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر ایک سورت ہوتی، تو وہ بھی لوگوں کے لئے کفایت کرجاتی۔ حضرت صفوان نے عرض کی: جہاں تک اس عورت کے یہ کہنے کا تعلق ہے، جب میں روزہ رکھتی ہوں، تو یہ میرا روزہ تڑوا دیتے ہیں، تو یہ مسلسل روزے رکھتی رہتی ہے میں نوجوان آدمی ہوں مجھ سے صبر نہیں ہوتا۔ اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: "کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے"۔ حضرت صفوان نے عرض کی: جہاں تک اس عورت کے یہ کہنے کا تعلق ہے، میں اس وقت تک نماز ادا نہیں کرتا جب تک سورج نکل نہیں آتا تو ہمارے گھر میں یہ صورت حال ہے، ہم اس وقت تک بیدار نہیں ہوتے جب تک سورج نکل نہیں آتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم بیدار ہوجاؤ تو نماز ادا کرلو۔

جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ فَقَالَتْ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1488

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1489

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ القطان عن بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّكُمْ كُلَّمَا أَصْبَحْتُمْ بِالصُّبْحِ كَانَ أَعْظَمَ لِاُجُورِ رِکُمْ اَوْلِاَجْرِھَا۔

حضرت رافع بن خدیج، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "تم لوگ صبح کے ہمراہ صبح کرو، کیونکہ تم لوگ جب بھی صبح کے ہمراہ صبح کرو گے تو یہ تمہارے اجر کے لئے زیادہ فضیلت رکھے گا۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اس کے اجر کےلئے"۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں: ) یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کو روشنی کرنے کا حکم دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حکم میں علت پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب صبح اندھیرے میں ہی نماز ادا کرنا شروع کر دیتے تھے، تو چاندنی راتوں میں جب انسان صبح کی نماز صبح صادق کے وقت اندھیرے میں ادا کرنے کا ارادہ کرلے گا، تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کی نماز رات میں ہی ( یعنی صبح صادق ہونے سے پہلے ہی) شروع ہوجائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی روشنی کرنے کا حکم دیا، جس سے یہ بات یقینی طور پر ثابت ہوجائے کہ صبح صادق طلوع ہوچکی ہے اور آپ نے ارشاد فرمایا: "تم لوگ جب صبح کرو"

"أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّكُمْ كُلَّمَا أَصْبَحْتُمْ بِالصُّبْحِ كَانَ أَعْظَمَ لِاُجُورِ رِکُمْ اَوْلِاَجْرِھَا۔ ← النَّبِيِّ ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← بن عَجْلَانَ ← يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 1489

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1490

أَخْبَرَنَا حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْفِرُوا بِالْفَجْرِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ». [1: 45]

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: "فجر کو روشن کرکے پڑھو، کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے"۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ،

Hadith 1490

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1491

أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حدثنا بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "أَسْفِرُوا بِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ" أَوْ قَالَ: "أَعْظَمُ لِأُجُورِكُمْ" 1. قال أبو حاتم رضى الله تعالى عنه أراد النبي صلى الله عليه وَسَلَّمَ بِقَوْلِہِ اَسْفِرُوا فِی اللَّیَالِی الْمُقْمَرَۃِ الَّتِیْ لَایَتَبَیَّنُ فِیْھَا وُضُوحُ طُلُوْعِ الْفَجْرِ لِئَلَّا یُؤَدِّی الْمَرْءُ صَلَاۃَ الصُّبْحِ اِلَّا بَعْدَ التَّیَقُّنِ بِالْاِسْفَارِ بِطُلُوْ۴ِ الْفَجْرِ فَاِنَّ الصَّلَاۃَ اِذَا اُدِّیَتْ کَمَا وَصَفْنَا کَانَ اَعْظَمَ لِلْاجْرِ مِنْ اَنْ تُصلّٰی عَلٰی غَیْرِ یَقِینٍ مِنْ طُلُوْعِ الْفَجْرِ۔

حضرت رافع بن حدیجؓ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: صبح کی نماز روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے۔راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں،تمہارے اجور کو زیادہ کرنے کا باعث ہے۔ (امام ابن حبانؒ فرماتے ہیں :) نبی اکرم ﷺ نے اپنے اس فرمان کو ، تم روشنی کرو، اس سے مراد چاندنی راتیں ہیں ، جن میں صبح صادق کا طلوع ہونا واضح نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی صبح کی نماز اس وقت ادا کرے جب اسے صبح صادق طلوع ہونے کی وجہ سے روشنی ہو جانے کا یقین ہو جائے کیو نکہ جب نماز اس طریقے سے ادا کی جائے گی جو ہم نے بیان کی ہے ، تو یہ اس کے مقابلے میں زیادہ اجر کا باعث ہو گی کہ آدمی صبح صادق طلوع ہونے کا یقین نہ ہونے کے ہمراہ نماز ادا کرے۔

"أَعْظَمُ لِأُجُورِكُمْ" ← "أَسْفِرُوا بِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ" أَوْ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُفْيَانَ، ← بْنِ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ

Hadith 1491

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1492

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ اَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَالَہٗ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاۃِ فَقَالَ: صَلِّ مَعَنْا ھٰذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ فَلَمَّا زَالَتٍ الشَّمْسُ صَلَّی الظُّھْرَ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ بَیْضَاءُ حَیَّۃٌ وَصَلَّی الْمَغْرِبَ حَیْنَ غَابَتِ الشَّمْسَ وَصَلَّی الْعِشَاءَ حَیْنَ غَابَ الشَّفَقُ وَصَلَّی الْفَجْرَ بَغَلَسِ فَلَمَّا کَانَ مِنَ الْغَدِ بِلَالًا فَاَبْرَدَ بِالظُّھْرِ فَاَنْعَمَ اَنْ یُبْرِدَ بِھَا وَاَمَرَہٗ فَاَقَامَ الْعَصْرَ وَاشَّمْسُ حَیَّۃٌ اَخَّرَھَا فَوْقَ الَّذِیْ کَانَ اَوَّلَ مَرّۃٍ وَّاَمَرَہٗ فَاَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ مَغِیبِ الشَّفَقِ وَاَمَرَہٗ فَاَقَامَ الْعِشَاءَ بَعْدَ مَا ذَھَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ وَاَمَرَہُ فَاَقَامَ الْفَجْرَ فَاَسْفَرَ بِھَا ثُمَّ قَالَ اَیْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاۃِ قَالَ اَنَا یَا رَسُوْلَ اللہِ قَالَ وقت صلاتکم بین مارأیتم۔

سلیمان بن بریدہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ۔ ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم ان دو اوقات میں ہمارے ساتھ نماز ادا کرو جب سورج ڈھل گیا ، تو نبی اکرم ﷺ ظہر کی نماز ادا کی پھر آپ نے عصر کی نماز اس وقت ادا کی جب سورج ابھی بلند روشن اور چکمدار تھا پھر آپ نے مغرب کی نماز سورج غروب ہو جانے کے بعد ادا کی اور عشا کی نماز اس وقت ادا کی جب شفق غروب ہو گئ۔ فجر کی نماز آپ نے اندھیرے میں ادا کر لی۔ جب اگلا دن آیا تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی نماز ( کے لیے اقامت) ٹھنڈے وقت میں کہی اور اچھی طرح ٹھنڈے وقت میں کہی پھر آ پ کے حکم کے تحت انہوں نے عصر کے لیے اقامت اس وقت کہی جب سورج ابھی چکمدار تھا نبی اکرم ﷺ نے اس نماز کو اس وقت سے ذرا تاخیر سے ادا کیا، جس وقت میں آپ نے پہلے دن اسے ادا کیا تھا ۔ آپ کے حکم کے تحت حضرت بلالؓ نے مغرب کے لیے اقامت شفق غروب ہونے سے کچھ پہلے کہی اور آپ کے حکم کے تحت انہوں نے عشا کے لیے اقامت ایک تہائی رات گزر جانے کے بعد کہی۔ آپ کے حکم کے تحت انہوں نے فجر کے لیے اقامت روشنی ہو جانے کے بعد کہی پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: نماز کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہوں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہاری نمازوں کا وقت ان کے درمیان ہے ، جو تم نے دیکھا ہے۔

وَقْتِ الصَّلاةِ. ← أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ بِتُسْتُرَ،

Hadith 1492

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1493

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَغَلَّسَ بِهَا ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ: "أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فيما بين صلاتي أمس واليوم" 1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے (ایک دن ) ہمیں صبح کی نماز پڑھائی ۔ آپ نے اسے اندھیرے میں ادا کیا پھر اگلے دن آپ نے اسے روشنی میں ادا کیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : نماز کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟( اس نماز کا وقت ) ان دو نمازوں کے درمیان ہے ، جو ہم نے گزشتہ کل اور آج ادا کی ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1493

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1494

أَخْبَرَنَا بن خزيمة حدثنا الربيع بن سليمان أخبرنا بن وهب أخبرني أسامة بن زيد أن بن شِهَابٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ شَيْئًا فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم بوقت الصلاة فقال له عمر اعلم مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ فَقَالَ عُرْوَةُ سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ"، فَحَسَبَ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ وَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلَاةِ فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الْأُفُقُ وَرُبَّمَا اَخَّرَھَا حَتّٰی یَجْتَمِعُ النَّاسُ وَصَلَّی الصُّبْحُ بِغَلَسٍ ثُمَّ صَلّٰی مَرَّۃً اُخْریٰ فَاَسْفَرَ بِھَا ثُمَّ کَانَتْ صَلَاتُہٗ بَعْدَ ذٰلِکَ بِالْغَلَسِ حَتّٰی ماتَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَعُدْ اِلٰی اٗن یسفر۔

اسامہ بن زید نامی راوی بیان کرتے ہیں :ابن شہاب نے انہیں یہ بات بتائی ہے ۔ ایک مرتبہ عمر بن عبدا العزیز منبر پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ انہوں نے نماز ادا کرنے میں کچھ تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر نے یہ کہا کہ آپ یہ بات نہیں جانتے ہیں،حضرت جبرائیل ؒ نے نبی اکرم ﷺ کو نمازوں کے وقت کے بارے میں خبر دی تھی، تو عمر بن عبدا لعزیز نے ان سے کہا :اے عروہ! آپ دھیان کریں کہ آپ کیا کہ رہے ہیں ، تو عروہ نے کہا میں نے بشیر بن ابو مسعود کو یہ بیان کرتے سنا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت ابو مسعود انصاری ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، وہ کہتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے:جبرائیل نازل ہوئے انہوں نے مجھے نماز کے وقت کے بارے میں بتایا تو میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی پھر میں نے ان کے ہمراہ نماز ادا کی۔ راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے اپنی انگلیوں پر گنتی کر کے پانچ نمازوں کے بارے میں یہ بات بیان بتائی۔ (حضرت ابو مسعود انصاری ؓ بیان کرتے ہیں ) میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا ہے آپ ظہر کی نماز اس وقت ادا کرتے جب سورج ڈھل جاتا تھا اور جب گرمی شدید ہوتی تھی، تو آپ بعض اوقات اسے تاخیر سے بھی ادا کرتے تھے ۔ میں نے آپ کو دیکھا ہے آپ عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب ابھی سورج بلند اور چمک دار ہوتا تھا اور اس میں زردی داخل نہیں ہوئی تھی ، اور کوئی شخص یہ نماز ادا کرنے کے بعد سورج غروب ہونے سے پہلے ذوالحلیفہ تک جا سکتا تھا آپ مغرب کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج غروب ہو جاتا تھا اور عشا کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے جب افق سیاہ ہو جاتا تھا ۔ بعض اوقات آپ اس نماز میں تاخیر کر دیتے تھے،یہاں تک کہ جب لوگ اکھٹے ہو جاتے (تو آپ اس وقت اسے ادا کرتے تھے ) صبح کی نماز آپ اندھیرے میں ادا کر لیتے تھے پھر بعد میں کئی مرتبہ آپ نے اسے روشنی میں بھی ادا کیا ۔ اس کے بعد آپ یہ نماز اندھیرے میں ہی ادا کرتے رہے، یہاں تک آپ کا وصال ہو گیا۔ آپ نے دوبارہ یہ نماز روشنی میں نہیں ادا کی۔

«نَزَلَ جِبْرِيلُ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيَّ ← بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ ← عُرْوَةَ ← له عمر اعلم مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا بوقت الصلاة ← أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ شَيْئًا، ← أسامة بن زيد أن بن شهاب ← بن وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Hadith 1494

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1495

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَلَّسَ بِهَا ثُمَّ صَلَّى الْغَدَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ؟ فِيمَا بَيْنَ صَلَاتِي أمس واليوم" 1.

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی ۔ آپ نے اسے اندھیرے میں ادا کیا پھر اگلے دن آپ نے نماز پڑھائی تو اسے روشنی میں ادا کیا پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے ۔(اس نماز کا وقت وہ ہے)جو ہم نے گزشتہ کل اور آج ادا کی ہیں۔

وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ؟ فِيمَا بَيْنَ صَلَاتِي أمس واليوم" ← "أَيْنَ السَّائِلُ ← صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ فَغَلَّسَ بِهَا ثُمَّ صَلَّى الْغَدَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبِي ← سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 1495

chevron_left Previous
1234…10
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr