صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ · حديث 1580
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ سِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ الله لو أمسسنا1 الْاَرْضَ فَنِمْنَا وَرَعَتْ رَکَائِبُنَا قَالَ: فَمَنْ یَّحْرُسُنَا: قَالَ قُلْتُ اَنَا فَغَلَبَتْنِیْ عَیْنِیْ فَلَمْ یُوْقِظْنِیْ اِلَّا وَقَدْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَلَمْ بَسْتَیْقِظْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَّا بِکَلَامِنَا قَالَ فَاَمَرَ بِلَالًا فَاَذَّنَ ثُمَّ اَقَامَ فَصَلّٰی بنا۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم رات کے وقت نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ہم نے عرض کی :یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں زمین کے ساتھ چھونے (یعنی رک کر آرام کرنے کی اجازت دیں اور ہم سو جائیں تو ہمارے جانور بھی آرام کر لیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا :(یعنی ہمیں نماز کے لئے بیدار کون کرے گا) راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی :میں ، پھر میری آنکھ لگ گی ۔ میں اس وقت بیدار ہوا جب سورج نکل چکا تھا ۔نبی اکرم ﷺ بھی ہماری بات چیت سن کر بیدار ہوئے پھر آپ نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا ۔ انہوں نے اذان دی پھر انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی۔
سِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ فَقُلْنَا ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← أَبِيهِ ← الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← سِمَاكٍ، ← زَائِدَۃَ، ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أَبُو يَعْلَى
Hadith 1580
