Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
صیح ابن حبان

Sahih Ibn Hibban

by محمد بن حبان بن أحمد بن حبان بن معاذ بن مَعْبدَ، التميمي، أبو حاتم، الدارمي، البُستي

7,494 Hadith385 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 73

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَا حَبَّانُ قَالَ اَخْبَرَنَا عَبْدُ اللہِ حَدَّثَنَا یزید بن اِبراھیم التستری قال حدثنی بن اَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائشَۃَ: اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَلَاَ قَوْلَ اللہِ( ھُوَالَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ اٰیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ) اِلٰی اٰخِرِ ھَافَقَالَ: اِذَا رَاَیْتُمُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ فَاعْلَمُو اَنَّھُمُ الَّذِیْنَ عَنَی اللہُ فَاحْذَرُوْھُمْ ۔ (2:3)

حضرت عایشہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تلاوت کی۔ ’’ وہی وہ ذات ہے ‘ جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے ‘ جس میں سے بعض محکم آیات ہیں ‘‘۔ یہ آیت آپ ؓ نے آخر تک تلاوت کی پھر ارشاد فرمایا : ’’ جب تم ان لوگوں کو دیکھوں ‘ جو اس کی متشابہ آیات کی تلاوت کرتے ہیں ‘ تو تم یہ بات جان لو ! یہ وہ لوگ ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ نے مراد لئے ہیں ‘ تو تم ان سے بچو‘‘۔

عَائِشَةَ ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← بن أبي مليكة ← یزید بن اِبراھیم التستری ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 73

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 74

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْشَمَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا اَنَسٌ بْنُ عِیَاضٍ عَنْ اَبِیْ حَازِمٍ عَنْ اَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ: اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اُنْزِلَ الْقُرْآنِ عَلٰی سَبْعَۃِ اَحْرُفٍ وَالْمِرَاءُ فِی الْقُرْآنِ کُفْرٌ ثَلَاثًا مَا عَرَفْتُمْ مِنْہُ فَاعْمَلُوْا بِہٖ وَمَا جَھِلْتُمْ مِنْہُ فَرُدُّوہُ اِلٰی عَالِمِہِ۔ (1:27)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’مجھ پر قرآن سات حروف میں نازل کیا گیا ہے۔ ‘‘ قرآن کے بارے میں بحث کرنا کفر ہے۔ (یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘ پھر فرمایا : ) ’’ تمہیں اس میں سے جو چیز سمجھ آ جائے ‘ تم اس پر عمل کرو اور جس چیز کے بار ے میں تمہیں علم حاصل نہ ہو سکے ‘ تم اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو ‘‘۔ (امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ) نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان : ’’ تمہیں اس میں سے جو چیز سمجھ آ جائے ‘ تم اس پر عمل کرو‘‘۔ اس میں اتطاعت کے مطابق عمل کرو۔ روایت کے یہ الفاظ : ’’ اور جس چیز کے بارے میں تمہیں علم حاصل نہ ہو سکے ‘ تم اسے اس کے عالم کی طرف لوٹا دو ‘‘۔ اس میں اس حکم کی خلاف ورزی کی ممانعت ہے اور وہ حکم یہ ہے : لوگ ایسے شخص سے مسائل دریافت نہ کریں جو علم نہیں رکھتا

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي حَازِمٍ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← اَبُوْ خَیْشَمَۃَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 74

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 75

اَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْھَمْدَانِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْحَاقُ بْنُ سُوَیْدٍ الرَّمْلِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ قَالَ حَدَّثَنِیْ اَخِی عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ عن أبی الاحوص عَنِ ابْنِ مسعود رَاضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُنْزِلَ الْقُرْآنُ عَلٰی سَیْعَۃِ اَحْرُفٍ لِکُلِّ اٰبَۃٍ مِّنْھَا ظَھْرٌ وَّبَطْنٌ۔ (1:27)

حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قرآن کو سات حروف پر نازل کیا گیا ہے ۔ ہر آیت کا ایک ظاہری مفہوم ہے ‘ اور ایک باطنی مفہوم ہے ‘‘۔

ابْنِ مسعود رَاضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← أَخِي ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← اِسْحَاقُ بْنُ سُوَیْدٍ الرَّمْلِیُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Hadith 75

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 76

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ الشَّیْبَابِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّصْرِ الْاَحْوَلُ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أیوب یحدث عَنِ ابْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ عَنْ عَائشَۃَ اَنَّھَا قَالَتْ: قَرَاَنَبِیُّ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ( ھُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ اٰیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ ھُنَّ اُمُّ الْکِتَابِ وَاُخَرُ مُتَشَابِھَاتٌ إلی قولہ: (أولی الْاَلْبَابِ) قَالَتْ؛ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اِذَا رَاَیْتُمُ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوَْ فِیْہِ جَھُمُ الَّذِیْنَ عَنَی اللہُ فَاحْذُوْھُمْ قَالَ مَطَرٌ: حَفِظْتُ اَنَّہٗ قَالَ: لَاتُجَالِسُوْ ھُمْ فَھُمُ الَّذِیْنَ عَنَی اللہُ فَاحْذَرُوْھُمْ ۔ (2:3)

سیّدہ عایشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے یہ آیت تلاوت کی ۔ ’’ وہی وہ ذات ہے ‘ جس نے ہم پر کتاب نازل کی ہے ‘ جس میں بعض محکم آیات ہیں اور دوسری متشابہ ہیں ‘‘۔ ( یہ آیت یہاں تک ہے ) ’’ سمجھدار لوگ‘‘۔ سیّدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’جب تم اس لوگوں کو دیکھوں جو اس بارے میں بحث کرتے ہیں ‘ تو یہ وہ لوگ ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ نے مراد لئے ہیں ‘ تو تم ان لوگوں سے بچو‘‘۔ مطر نامی راوی کہتے ہیں : مجھے یہ بات یاد ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ۔ ’’ تم ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھنا ‘ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ نے مراد لئے ہیں ‘ تو تم ان سے بچنا‘‘۔ امام ابن حبان ؓ فرماتے ہیں : ایوب نے یہ روایت مطروراق اور ابن ابو ملیکہ دونوں سے سنی ہے۔

عَائِشَةَ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← أَيُّوبَ، ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَاصِمُ بْنُ النَّصْرِ الْاَحْوَلُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ الشَّیْبَابِیُّ

Hadith 76

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 77

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیْدٍ الْمَرْوَزِیُّ بِالْبَصْرَۃِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا بن اَبِیْ مَرْیَمَ عَنْ یَّحْیَی بْنِ اَبُّوْبَ عَنِ جُرَیْجِ عَنْ اَبِیْ الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ للہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَعَلَّمُوا اَلْعِلْمَ لِتُبَاھُوا بِہِ الْعُلَمَاءَ وَلَا تُمَارُوْابِہٖ السُّفَھَاءَ وَلَا تَخَیَّرُوْابِہِ الْمَجَالِسَ فَمَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ فَالنَّارُ اَلنَّارُ۔ (2:109)

حضرت جابرؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’تم علم اس لئے حاصل نہ کرو‘ تاکہ اس کی وجہ سے علماء کے سامنے فخر کا اظہار کرو‘ اور تم لوگ اسکے ذریعے بے وقوفوں کے ساتھ بحث کرو ‘ اور اس کے ذریعے خود کو محفل میں نمایاں کرنے کی کوشش کرو‘ جوشخص ایسا کرے گا ( تو اس کی انجام ) جہنم ہے‘‘۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← جُرَيْجٍ، ← یَّحْیَی بْنِ اَبُّوْبَ ← بن اَبِیْ مَرْیَمَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَھْلِ بْنِ عَسْکَرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَرْوَزِيُّ بِالْبَصْرَةِ

Hadith 77

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 78

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَحْیَی بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوالرَّبِیْعِ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاؤدَ قال حدثنا وَھْبٍ قَالَ اَخْبَرَنِیْ اَبُوْ یَحْیَی بْنُ سُلَیْمَانَ الْخُزَاعِیُّ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْاَنْصَارِیِّ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ یَسَارٍ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا یبْتَغَی بِہٖ وَجْہُ اللہِ لَا یَتَعَلَّمُہُ اِلَّا لَیُصِیْبَ بِہٖ عَرَضًا مِنْ الدُّنْیَا لَمْ یَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ وَاَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُجَیْرٍ حَدَّثَنَا اَبُو الطَّاھِرِ بْنُ السَّرْحِ أَنْبَأَنَا بْنُ وَھَبٍ بِاسْمَادِہٖ ۔ (2:109)

حضڑت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: ’’جو شخص کوئی ایسا علم حاصل کرتا ہے ‘ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جا سکتی ہے ‘ لیکن وہ شخص اسے کی دنیاوی فائدے کے لئے حاصل کرتا ہے : تو وہ شخص قیامت کے دن جنت کی خوشبو کو بھی نہیں پا سکے گا ‘‘۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْاَنْصَارِیِّ ← اَبُوْ یَحْیَی بْنُ سُلَیْمَانَ الْخُزَاعِیُّ ← وَھْبٍ ← اَبُوالرَّبِیْعِ سُلَیْمَانُ بْنُ دَاؤدَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ یَحْیَی بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدٍ

Hadith 78

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 79

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ خَیْثَمَۃَ وَھَارُوْنُ بن معروف قالا حدثنا المقریء قَالَ حَدَّثَنَا سَعِیْدُ بْنُ اَبِیْ اَیُّوْبَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ شَرِیْکٍ عَنْ یَّحْیَی بْنِ مَیْمُوْنِ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ رَبِیْعَۃَ الْجُرَشِیِّ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّۃٗ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : لَا تُجَالِسُوْا اَھْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوْھُمْ۔ (1:23)

حضرت ابو ہریرہؓ حضرت عمر بن خطاب ؓ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’قدریہ فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نہ بیٹھو اور انہیں پہلے مخاطب نہ کرو‘‘۔

لَا تُجَالِسُوْا اَھْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوْھُمْ۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اَنَّۃٗ ← رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ ← یَّحْیَی بْنِ مَیْمُوْنِ الْحَضْرَمِیِّ ← حَکِیْمِ بْنِ شَرِیْکٍ ← عَطَاءِ بْنِ دِیْنَارٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← المقرىء ← اَبُوْ خَیْثَمَۃَ وَھَارُوْنُ بن معروف ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 79

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 80

اَخْبَرَنَا اَبُوْ یَعْلٰی حَدَّثَنَا خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا حُسَیْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصِیْنٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخْوَفُ مَا اَخَافُ عَلَیْکُمْ جِدَالُ الْمُنَافِقِ عَلِیْمُ اللِّسَانِ۔ (3:22)

حضرت عمران بن حصینؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’تم لوگوں کے بارے میں مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس بات کا ہے ‘ تم چرب زبان منافق کے ساتھ بحث کرو گے ‘‘۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← خَلِیفَۃُ بْنُ خَیَّاطٍ ← أَبُو يَعْلَى

Hadith 80

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 81

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ الْمُثَنّٰی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوْقٍ۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ عَنِ الصَّلْتِ بْنِ بَھْرَامَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا جُنْدُبٌ الْبَجَلِیُّ فِیْ ھٰذَا الْمَسْجِدِ اَنَّ حُذَیْفَۃَ حَدَّثَہٗ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إن مَا اَتَخَوَّفُ عَلَیْکُمْ رَجُلٌ قَرَاَ الْرُرْآنَ حَتّٰی اِذَا رُئیَتْ بَھُجَتُہٗ عَلَیْہِ وَکَانَ رِدْنًا لِلِْسْلَامِ غَیَّرَہُ اِلٰی مَاشَاءَ اللہُ فَانْسَلَخَ مِنْہُ وَنَبَذَہُ وَرَاءَ ظَھْرِہٖ وَسَعَی عَلٰی جَارِہٖ بِالسَّیْفِ وَرَمَاہُ بِالشِّرْکِ قُلْبُ یَا نَبِیَّ اللہِ اَیُّھُمَا اَوْلٰی بِالشِّرْکِ الْمَرْمِیُّ اَمِ الرَّامِی قَالَ بَلِ الرَّامِیْ۔(3:22)

حضرت حذیفہؓ ‘ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نےارشاد فرمایا ہے : ’’مجھے تم لوگوں کے بارے میں یہ اندیشہ ہے ‘ ایک شخص قرآن کا علم حاصل کرے گا ۔ یہاں تک کہ جب اس کا قرآن کا عالم ہونا معروف ہو جائے گا اور وہ شخص السلام ( کی تعلیمات) کا محافظ ہو گا ‘ تو وہ جو اللہ کو منظور ہو گا ‘ تو وہ اس میں کوئی تبدیلی کرے گا ‘ وہ اس سے کھسک جائے اور اسے اپنی پشت کے پیچھے رکھ دے گا۔ وہ اپنے پڑوسی کے پیچھے تلوار لے کر دوڑے گا اور اس پر شرک کا الزام عائد کرے گا‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ان میں سے کون مشرک ہونے کے زیادہ قریب ہو گا ‘ جس پر الزام عائد کیا گیا ہے ؟ یا وہ شخص جو الزام عادئد کر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا : جو الزام عائد کر رہا ہے۔

جُنْدُبٌ الْبَجَلِیُّ فِیْ ھٰذَا الْمَسْجِدِ اَنَّ حُذَیْفَۃَ ← الْحَسَنِ، ← الصَّلْتِ بْنِ بَھْرَامَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوْقٍ۔ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Hadith 81

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 82

اَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ یَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ حَدَّثَنَا وَکِیعٌ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسٓاَلُکَ عَلْمًا نَافِعًا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ لَا یَنْفَعُ۔(5:12)

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں ‘ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے : ’’اے اللہ ! میں تجھ سے نفع دینے والے علم کا سوال کرتا ہوں اور میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ‘ جو نفع نہ دے ‘‘۔

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسٓاَلُکَ عَلْمًا نَافِعًا وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ لَا یَنْفَعُ۔(5:12) ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← وَكِيعٌ، ← اَبُوْ یَکْرِبْنُ اَبِیْ شَیْبَۃَ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Hadith 82

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 83

اَخْبَرَنَا اَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوْفِیُّ قَالَ حَدَّثَنَا اَبُوْ نَصْرٍ التَّمَّارُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِک اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُوْلُ: اَلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ وَعَمَلٍ لَا یُرْفَعُ وَقَلَبٍ لَا یَخْشَعُ وَقَوْلٍ لَا یُسْمَعُ ۔ (5:12)

حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺیہ دعا مانگا کرتے تھے: ’’اے اللہ ! میں ایسے علم سے تیری پناہ مانگتا ہوں‘ جو نفع نہ دے اور ایسے عمل سے جو بلند نہ ہو ‘ اور ایسے دل سے ‘ جو ڑرے نہیں اور ایسی بات سے ‘ جو سنی نہ جائے۔ (ان سب سے تیری پناہ مانگتا ہوں )‘‘۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ

Hadith 83

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 84

اَخْبَرَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ اِسْحَاقَ الْاَنْمَاطِیُّ الزَّاھِدُ قَالَ حَدَّثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ عَنِ الْاَعْمَشِ عَنْ اَبِیْ صَالِحِ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ من سَلَکَ طَرِیْقًا یَطْلُبُ فِیْہِ عَلْمًا سَھَّلَ اللہُ بِہٖ طَرِیْقًا مِنْ طُرُقِ الْجَنَّۃِ وَمَنْ اَبْطَاَبِہٖ عَمَلُہٗ لَمْ یُسْرِعْ بِہٖ نَسَبُہٗ(1:2)

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’جو شخص علم کے حصول کے راستے پہ چلتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے ‘ اور جس شخص کا عمل اسے سست کر دے۔ اس کا تسب اسے تیز نہیں کر سکتا‘‘۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← اِبْرَاھِیْمُ بْنُ اِسْحَاقَ الْاَنْمَاطِیُّ الزَّاھِدُ

Hadith 84

chevron_left Previous
123456
Next chevron_right
All Chapters
1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
    1. Bab Maja in Alaptda praise Allہ Almighty
2. 2- Al-Hamzah with Faa'a
    1. The Book of Revelation
3. The Night Journey
    1. The Night Journey
4. The Science Book
    1. The Science Book
5. The Book of Faith
    1. Chapter of breakfast2. Commissioning section3. Chapter of the virtue of faith4. O for the obligation of faith5. Chapter on what came about the characteristics of the believers6. Chapter on polytheism and hypocrisy7. Chapter comes in the attributes
6. The Book of Righteousness and Kindness
    1. The chapter on charity and enjoining good and forbidding what is wrong2. A door that comes within obedience, and the yoke thereof3. The door of salvation and the work of secret4. Chapter on the right of parents5. The door of joining the womb, and cutting it off6. The gate of the womb7. Chapter Hassan Al-Khakak8. Section of pardon9. Chapter of unveiling of peace and food10. Neighbor's door11. A chapter of righteousness and kindness12. The door of compassion13. Chapter of companionship and encounters
14. The door to sitting on the road
16. The isolation door
7. The Cheat Book
    9. The door is not inviting10. The section of E-mail
7. The Cheat Book
    1. The door of the living2. Chapter of repentance3. Chapter Good thinking of God Almighty4. The door of fear and piety5. Chapter of poverty, asceticism and persuasion6. The door of godliness and trust7. Chapter Recitation of the Qur’an8. Remembrance section
8. The Cheat Book
    1. The section of E-mail2. Chapter on the obligatory ablution3. Chapter on the obligatory ablution4. The door that breaks ablution5. Laughing door6. The door of the pot of washing water7. Chapter of rulings of the side8. The Friday Laundering Door9. The door of washing an unbeliever when he becomes Muslim10. Water gate11. The door of ablution, by virtue of the ablution of a woman12. Door of used water13. The section of the vessels14. Chapter of the skins of the dead15. Captivity section16. The door of tayammum17. The door of sackcloth on the two soles and the like18. Chapter of menstruation and menstruation19. The door of uncleanness and its purification20. Chapter of the purification of uncleanness21. Chapter of redness
9. The Cheat Book
    1. prayer book2. Chapter on the promise of neglecting prayer3. Chapter of prayer timings5. Chapter of the intercourse between the two prayers6. The door of the mosques7. The door to the ears8. Chapter of the terms of prayer9. Chapter of the merit of the five daily prayers10. Chapter of the description of prayer
9. The Book of Prayer
    10. The Book of Prayer11. A chapter in Qunoot12. Chapter of the front and the intercourse13. Chapter: Assuming following the Imam14. The chapter on the event in prayer15. Chapter of what is to be disliked for a worshiper, and what is not honored16. The door of returning prayer17. The door of the tendon18. Bab Al-Nafil19. A chapter in prayer on the bear20. A chapter in the sacrifice’s prayer21. A chapter in Taraweeh22. A chapter in the rising of the night23. Chapter of lost lenders24. The door of prostration for negligence25. The traveler's door26. A chapter on Mari travel27. A chapter in prayer prayer28. The door of the prostration of the Talaw29. The door of Friday prayer30. Gate of the servants31. The door of the lilac prayer32. The door of the prayers of rain33. The door of prayer of fear
10. The funeral book
    1. Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms2. 2 - The door of the sick and what is related to it3. A chapter in the ages of this nation4. A chapter on the remembrance of death mentioning a command to a person to multiply from a remembrance that is distressed by pleasures We ask God for the blessing of5. A chapter in hope6. A chapter on wishing for death7. A chapter in the dying person reciting Surat "Yaseen" to those who attended8. A chapter on the shroud that mentions the matter to one who has ordered his Muslim brother to shroud him well9. A chapter in carrying the funeral and its saying10. A chapter on standing up for funeral11. A chapter in prayer over funeral12. Chapter in the burial13. A chapter on the conditions of the dead in his grave14. A chapter in wanah and its like15. Separation in the graves16. A class on visiting the graves17. A chapter in the martyr